اساتذہ کی محنتوں کو بھی سراہا جائے

(Muhammad Saqlain Raza, )

ایک بہت ہی خوش کن خبر یہ سامنے آئی ہے کہ بھکر مسلسل دوسری بار پنجاب بھر میں تعلیمی رینکنگ کے حوالے سے دوسرے نمبر پررہا ہے 'چھتیس اضلاع کی فہرست میں ترقی کے حوالے سے نچلے نمبروں پررہنے والے ضلع بھکر کے باسیوں کیلئے یقینا یہ بہت بڑی خوشخبری ہے یقینا ہمیں خوش بھی ہوناچاہئے کہ ترقی کالفظ بھی ہمارے جیسے پسماندہ ضلع کے باسیوں کیلئے خوش کن ہوتا ہے چہ جائیکہ ہم ترقی کے اصل معنوں یا عمل درآمد کوہوتادیکھ پائیں خیر صاحبان اقتدار کی نظر صرف اورصرف لاہور پرپڑی نظرآتی ہے اس سے نظر ہٹے توپھر اپرپنجاب کے ترقی یافتہ اضلاع فیصل آباد 'سیالکوٹ 'گوجرانوالہ سمیت دیگر کی باری آتی ہے اوراگر کبھی جنوبی پنجاب پر نظر پڑہی جائے تو پھرملتان ہی نظر میں رہ جاتا ہے گویا بھکرتک نظرپہنچنے سے قبل ہی ان کی آنکھیں نیند کے مارے بندہونے لگتی ہیں۔ خیر گلے شکوے پہلے بھی تھے اور اس وقت تک رہیں گے جب تک کہ محرومیاں اورمحرومیوںکے ذمہ دار ختم نہیں ہوتے۔

صاحبو! جیسا کہ ابتداًعرض کیا ہے کہ بھکر تعلیمی رینگنگ میں دوسرے نمبر پر آیا ہے ' یہ ایک طرح سے معیاررہا 'اساتذہ 'طلبہ کی حاضریوں سے لیکرتعلیمی کارکردگی تک ' یقینا اس میں ضلع کے سب سے بڑے انتظامی افسر یعنی ڈپٹی کمشنر' سی ای او تعلیم 'افسران تعلیم (ڈی ای اوز' ڈپٹی ڈی ای اوز' اے ای اوز ) کا بھی کردار رہا ہے اور یقینا اسے سراہاجاناچاہئے لیکن باعث افسوس فعل یہ ہے کہ اس معاملے میں محکمہ اور ضلعی انتظامیہ 'پنجاب حکومت ہمیشہ تنگ نظر ی سے کام لیتے رہے ' وہ کردار یقینا اساتذہ کا ہے جو صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامی افسران کی طرف سے موصول ہونیوالے احکامات پر عمل درآمد بھی کراتے ہیںا ورپھر تعلیمی معیار کو برقراررکھنے کی ذمہ داری سے بھی خوب عہدہ برا ہوتے ہیں۔ یقینا آج کا ہرباشعور شہری جانتا ہے کہ آج کے استاد کے ذمہ صرف بچے کو الف ب یا اے بی سی سمیت دیگر مضامین کی تعلیم دینا نہیں بلکہ اب اس کے کاندھوں پر کئی طرح کے اضافی بوجھ لاد دئیے گئے کہ بچوں کی حاضری پوری ہو' حکومتی ہدایات کے مطابق نئے داخلوں کا ہدف بھی پوراکریں یہ حکم خاص طورپر دیہاتی علاقوں میں تعیناتی اساتذہ خصوصاًخواتین اساتذہ کیلئے نہایت تکلیف دہ ہوتا ہے ۔ خیر اس ضمن میں ہم پہلے بھی تفصیل سے لکھ چکے ہیں اورمسلسل لکھ بھی رہے ہیں لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ مانیٹرنگ کرنیوالے اداروں کے اہلکاران' افسران تعلیم 'ضلعی انتظامی افسران سمیت دیگر ارباب اختیار کو خبر کیوں نہیں ہوتی کہ اس معاملے میں جن مسائل سے اساتذہ دوچارہوتے ہیں ان کاحل کس طرح ممکن ہے؟

حکومت کی طرف سے آئے روز لاگو ہونیوالی پالیسیوں کا ذکر خیر آئے روز سننے اور دیکھنے کو ملتاہے' ابھی حال ہی میں حکومت پنجاب نے LNDکے نام سے ایک ڈرائیو لانچ کرائی ہے جس کا بنیادی مقصد تیسری جماعت کے بچوں کی تعلیم ہے انہیںحروف تہجی کی پہچان' لفظوںکے جوڑ توڑ سے واقف کرناہے' گویا سرکاری اداروںمیں جو کام تیسری جماعت سے شروع ہوتا ہے وہ کام پرائیویٹ تعلیمی ادارے نرسری جونیئر سے لیکر سینئر تک اورپھرپریپ 'ون تک ہی کرادیتے ہیں۔ گویا یہ ایک فرق ضرورسامنے آیا ہے ۔خیر اس معاملے میں عجیب سارویہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ حکومت کی طرف سے ہرماہ کتابچے (سلیبس نما) ارسال کئے جاتے ہیں جن میں انگلش 'ریاضی 'اردو کے سوال دئیے جاتے ہیں جنہیں مہینہ بھر یاد کرایاجاتاہے اور پھر آرمی مانیٹرنگ اہلکاران آکر ان کاٹیسٹ لیتے ہیں یہ ٹیسٹ بذات خود اساتذہ کیلئے بھی امتحان ہوتاہے۔ اب ایک اورامتحان بھی اساتذہ کیلئے یوں سامنے آیا ہے کہ اب طلبہ کی سو فیصد حاضری سے ہی اساتذہ کی چھٹیاں جوڑ دی گئی ہیںگویا یہ عجب کہانی ہوگئی کہ چھٹی بچے کریں اور عذاب اساتذہ بھگتیں' ساتھ ساتھ یہ کیا کم ہے کہ اساتذہ بچوں کو کمی بیشی پرجزا سزا کے روادا ر بھی نہیں ۔صوبائی حکومت کی طرف سے آنیوالے احکامات میں سے ابھی چند ماہ قبل ہی یہ حکم نامہ بھی شامل تھا کہ اپنے کلاس رومز کو ڈیکوریٹ کیاجائے سجایا'سنواراجائے یہ ذمہ داری بھی کلاس انچارجوں پر تھی' بس جی اس کے بعدطرح طرح کے حکم نامے جاری ہوتے رہے اساتذہ کی توجہ بٹ گئی لیکن یہ بھی خیر ہی ہوئی کہ تعلیمی معیارپر اثر نہیں پڑا اور بھکر ایک بارپھر تمام امورمیں دوسرے نمبر پرآگیا

صاحبو! جن کٹھنائیوں کاذکر ہم نے کیا وہ بہت ہی تھوڑی اور بہت ہی کم ہیں لیکن اصل کہانی سنانہیں سکتے ' شاید ان جذبات کو'ان اذیتوں کولفظوں کاروپ دیکر ان صفحات پرلانا ہمارے بس کی بات نہیں ' سوال یہ پیداہوتاہے کہ ایک محکمہ سے لاعلم شخص اگر اتنی تکلیف محسوس کرسکتاہے تو کیا پالیسیاں مرتب کرنے والے اور ان پر عمل درآمد کیلئے بھاگ دوڑ کرنے والے کیا ان مسائل' ان مشکلات سے آگاہ نہیں؟؟ یقینا انہیں بھی خبر ہوگی ' اساتذہ کی محنتوں 'اذیتوں کا انہیں بھی پتہ ہوگا توپھر جب جزا کامعاملہ آئے تو پھر انتظامی افسران ہی کیوں ہمیشہ سرخروٹھہرائے جاتے ہیں؟ کیا ریٹنگ مقرر کرنے والے' صوبائی' ضلعی انتظامیہ کے احکامات پر عمل کرانیوالے افسران کو پتہ نہیں ہوتا کہ ضلع کو اس رینکنگ تک لانے والوںمیں اساتذہ کا ساٹھ سے ستر فیصد کردار ہے۔ یقینا احکامات کو آگے پہچانا اور اس پرعمل کی راہ متعین کرنا قابل تحسین لیکن جس کے ذمہ عمل کراناہواس کی محنتوں کو بھی سلام پیش کیاجائے انہیں بے شک آپ اعزاز سے نہ نوازیں لیکن انہیں خراج تحسین تو ضرور پیش کریں۔ خاص طورپر ڈپٹی کمشنر سے ہمیں توقع تھی کہ وہ کم ازکم دولفظ اساتذہ کی محنتوں کے حوالے سے بھی اداکریں گے کیونکہ انہوں نے بھکر آتے ہی شاندار تعلیمی ریکارڈ رکھنے والے بچوں اوراساتذہ کو بیرون اضلاع اوربیرون ممالک کورسز کی خوشخبری بھی سنائی تھی اور بہترین نتائج کے حامل اساتذہ اور بچوں کواپنے گھر پرکھانے کی دعوت بھی دی تھی مگر اب وہ رویہ عنقا نظرآتاہے۔ یقینا آج پھرڈپٹی کمشنر اسی روئیے کامظاہر ہ کرکے اساتذہ کی ضرور حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں کیونکہ یہ طبقہ انعام واکرام سے زیادہ حوصلہ افزائی کامنتظر ہے

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
12 Jan, 2018 Total Views: 285 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Muhammad Saqlain Raza

Read More Articles by Muhammad Saqlain Raza: 22 Articles with 4790 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB