مولویوں کے قہقہے جو سائنسدانوں نے سنے ـ

(سید ذیشان علی شاہ, کراچی)

اسٹیفن ہاکنگ اپنی تمام تر جسمانی معذوری، نیورون موٹر جیسی جسمانی طور پر تباہ کن حد تک اپاہج بنا دینے والی بیماری اور قوت گویائی سے محرومی کے باوجود نہ صرف ایک طرف اپنی زندگی کے لیے لڑتے رہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ اپنے نہایت طاقت ور دماغ کے ذریعے انہوں نے ریاضی اور طبعیات کی نہایت پیچیدہ گتھیوں کو سلجھانے میں بھی کارہائے نمایاں انجام دیے۔

مگر بدقسمتی سے چوں کہ وہ مسلمان نہیں تھے، اس لیے ہم نے طے یہی کیا ہے کہ وہ نوجوانی سے لے کر اپنی آخری سانس تک انسانی علم میں اضافہ کرنے، کائنات کے پیچیدہ راز کھوجنے اور پھر آنکھین بند کر لینے کے بعد جہنم میں جا پہنچے ہوں گے۔

سوال لیکن یہ ہے کہ مشکل سوالات میں سرکھپانے والے اسٹیفن ہاکنگ جنت اور جہنم کو کیا سمجھتے تھے ساری زندگی ؟

اس سوال کا جواب کم از کم انہوں نے بلیک ہول کے مرکزے میں سنگولیرٹی یا نکتہء یکتائیت میں ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی۔ وہ بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن (بلیک ہول کے باہر کی جانب موجود سیاہ چھلا، جس کو چھونے کے بعد کوئی شے واپس نہیں لوٹ سکتی، روشنی بھی نہیں) کو چھو کر اسپیگیٹی بننے کا عمل محسوس کر چکے تھے، نوڈلفیکیشن تک کو جذب کر چکے تھے۔

وہ بلیک ہول کو اس کائنات سے کسی دوسری کائنات کے اندر داخل ہونے کا دروازہ تک سمجھ رہے تھے، پھر وہ اس میں گر گئے۔ سنگولیرٹی میں مادے کے ہمیشہ باقی رہنے (قانون بقائے مادہ) کی دھجیاں اڑاتے، آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت پر قہقہے برساتے، بیلز بوہر کے کوانٹم مکینکس کا مذاق اڑاتے وہ موت کی سنگولیرٹی میں جا گرے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ انہیں موت کا خوف نہیں مگر انہیں موت کی کوئی جلدی بھی نہیں۔ وہ آخری لمحے تک سوچنا چاہتے تھے اور شاید یہی ان کے اور ہمارے درمیان کا اختلاف بھی تھا۔ اور امید کا عالم یہ کہ وہ اس مادے، خلا اور وقت کو نگلتے بلیک ہول کو بھی سب کچھ کھا جانے والے دائرہ کی بجائے اس کے منہ سے بھی تاب کار ذرے اگلوانے کے قائل تھے۔

اسٹیفن ہاکنگ خدا یا کسی غیرمرئی مخلوق یا اس کائنات کے خالق کے وجود سے مکمل طور پر انکاری تھے۔ وہ خدا بھی بے پناہ توانائی والے ’صفر‘ کو سمجھتے تھے، جو نہ ہو کر بھی قائم ہے اور جو کائنات کی ہر طاقت اور توانائی کا ماخذ ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ کا خدا سزا و جزا کا خدا نہیں تھا، کیوں کہ اس کا کوئی وجود نہیں تھا، وہ بس تھا، بغیر کسی وجود کے۔

اسٹیفن ہاکنگ کا خدا عجیب سا تھا، جو کوانٹم سے بھی کم جگہ پر تھا اور جہاں کچھ نہ ہوتا، مکمل صفر ہوتا، وہاں وہ آ جاتا۔ پوری توانائی کے ساتھ اور ایک لمحے میں بگ بیگ یا عظیم دھماکا کر کے ایک کائنات پیدا کر دیتا، یا بلیک ہول کی سنگولیرٹی میں ایک نئی کائنات کی تخلیق کر رہا ہوتا، کسی نئی کائنات میں کھل رہا ہوتا۔

مرنے کے بعد اس وقت (ہمارے بہت سے دوستوں کے مطابق) اسٹیفن ہاکنگ، اپنی پوری عمر کی فکر، سائنسی خدمات، انسانی علم میں اضافے، مشکل سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کی تگ دو میں دن اور رات برباد کرنے اور ایک ویل چیئر پر بیٹھ کر کمپیوٹر کی مدد سے بول کر اپنی سوچوں کو اظہاریہ پہناتے زندگی جیسا عذاب جھیل لینے کے بعد جہنم پہنچے ہوں گے۔ یہ وہی جہنم ہے جہاں انسانی تاریخ کے بہت بڑے بڑے دماغ پڑے سڑ رہے ہوں گے۔ ایک طرف آئن اسٹائن، گلیلیو اور نیوٹن تجاذبی قوت کے کائنات پر انطباق اور کوانٹم گریوٹی کے بے ہودہ مسئلے پر محو گفت گو ہوں گے۔ دوسری طرف شکیسکپئر، کافکا اور ووڈورتھ بیٹھے کسی فضول اظہاریے کا ماتم کر رہے ہوں۔کچھ فاصلے پر کارل مارکس، ہیگل، کانٹ اور نتشے انسانی تہذیب کے پیچ و خم کی گتھیوں میں پھنسے ہوں گے اور کسی اور سرے پر سگمنڈ فروئڈ خوابوں کے نفسیاتی یا جسمانی ہونے پر کسی ماہر اعصابیات سے جھگڑے میں مصروف ہو گا۔ جہنم میں ایدھی، رتھ فاؤ اور ٹیریسا اس بات پر ماتم کر رہے ہوں گے کہ عمر میں دو چار سال اور لگ جاتے، تو مزید دو چار انسانوں کا بھلا ہو جاتا۔

اسٹیفن ہاکنگ اس بے تحاشا جھلسا دینے والی آگ میں اپنی ویل چیئر کے ساتھ پہنچیں گے۔ ان کے پورے جسم میں توانائی فقط اتنی ہی ہو گی، جتنی ان کے ہونٹوں میں باقی ہے۔ وہ اپنے مڑی تڑی انگلیوں کے ساتھ جہنم کی آگ کو چھوئیں گے۔ ان کی آنکھوں کو انگارے جھلسائیں گے اور وہ باقی ماندہ بدن کے اندر دھنسے دماغ میں اس آگ کی ماہیت اور نوعیت سے سنگولیرٹی میں جا نکلیں گے۔

دیوار کے دوسری جانب بہت سے مولوی صاحبان حوروں اور شراب کے ساتھ دودھ کی نہر میں ہاتھ پھیر رہیں ہونگے اور اپنی عظمت پر سر اٹھا کر خدا کا شکر ادا کررہیں ہونگے کہ انہوں نے سائنس، انسانوں کی فلاح، کائناتی گتھیاں سلجھانے اور مشکل سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کی بجائے، سائنس کے بنائے ہوئے لاؤڈاسپیکر پر سائنس کی بنائے ہوئے مائیک کے ذریعے، سائنس کے ایجاد کردہ سیمنٹ اور ٹائل والے منبر پر بیٹھ کر سائنس جیسے فضول اور بے ہودہ مضمون کو گالی دی تھی اور دنیا پر لعنت بھیج کر اپنی جنت ہری کی تھی۔ مولوی صاحب جنت میں بیٹھ کر جہنمی دماغوں پر دوبارہ پوری قوت سے لعنت بھیج رہے ہونگے اور زور زور سے قہقہ لگا رہے ہونگے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
15 Mar, 2018 Total Views: 1542 Print Article Print
NEXT 
About the Author: سید ذیشان علی شاہ

Read More Articles by سید ذیشان علی شاہ: 25 Articles with 8272 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
The people, who do not reason, are those who do not make use of their intellect and their capacity of thought. Such people lack one of the main aspects of human beings. Since Allah has created this universe and invites us to ponder and be critical about the phenomena going around us, we should not condemn the one who does that. In contrast to the view of some religions that entail their followers to forget reasoning and focus solely on heart, the Quran expresses the importance of reasoning and frequently asks people to use their intellectual power to find the right way. Nearly in seventy verses the words from the root “Taa’qul” meaning “to reason” have been used. The Quran alerts lack of reasoning in a striking statement:
Indeed, the worst of living creatures in the sight of Allah are the deaf and dumb who do not use reason. (Quran al-Anfal 8:22) (https://www.onthesigns.com/quran-invites-to-thinking).
Moreover, who are we to decide who will be in hell or heaven; we should worry about ourselves.
Also, we need to understand the sarcasm present in the article. The term 'moulvi' in our culture is not used for well-versed islamic scholars, as I understand.
By: Umme Taha, muzaffarabad on Aug, 02 2018
Reply Reply
0 Like
Well knitted response Umme Taha, just a few points need to be elaborated...

1- When someone says that this person seems to go to hell or heaven, he does not put a decision rather just shares his/her sudden response and, of course, Allah Kareem is not bound by such words to do the same. Its same as we say that "this person will more likely get a TICKET", when we see that someone is not caring about the RED signal on the road. Here we do not put him/her behind the bars, its just a comment based on our informational knowledge of the traffic laws and to say such we do not need to be legal experts.

2- If there is SOME irony, it must have been for the Pakistani nation as a whole, not just Moulvis.

3- The term "Moulvi" is actually used for the well-wersed and degree holder Ulama's, in the Ulama comunity, its only WE whole mistune this word for any person having beard.
By: Shahid Alvi, Lahore on Aug, 07 2018
0 Like
کیا فائدہ ایسی سائنس کا اور اتنی علمیت کا کہ جب انسان اپنے خالق کو ہی نہ پہچان سکے۔ حالانکہ بگ بین کا نظریہ قرآن کی ایک آیت سے ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن بات وہی ہے نا کہ جب میں قرآن کو مانوں جب کی بات ہے
سائنس کہتی ہے کہ یہ کائنات اچانک ایک دھماکے کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ (بگ بین)
لیکن سائنس یہ بھی کہتی ہے کہ ہر عمل دراصل کسی عمل کا رد عمل ہے۔تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے ک کائنات جس دھماکے کے نتیجے میں وجود میں آئی وہ دھماکہ کس چیز کا رد عمل تھا یہاں سائنس فیل ہوجاتی ہے۔
اور صرف اس لیے فیل ہوجاتی ہے ک وہ خدا کو ماننا نہیں چاہتی
ورنہ جواب تو بہت سیدھا سادہ ہے
اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ
وہ(اللہ) تو جب کسی کام کے سر انجام دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔( سورہ مریم آیت 35)
اللہ نے کائنات تخلیق کا ارادہ کیا۔ اللہ نے کہا ہوجا ایک دھماکہ ہوا اور کائنات وجود میں آگئی۔
مسئلہ تو حل ہوچکا لیکن بس میں نہ مانوں
اسٹیفن ہاکنگ کہتا تھا کہ
There is no God
لیکن پھر وقت نے بتایا کہ
There is no Stephen Hawking
اسٹیفن ہاکنگ کے اس خدا مراموشی کے نظریے کے غلط ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ جس کو دنیا آج کا سب سے بڑا سائنسدان مانتی ہے۔ وہ اپنے جسم کو حرکت دینے پر قادر نہیں تھا
یہ چیز تمام مادہ کمیونسٹوں اور دین بیزاروں اور مغرب کے پروپیگنڈہ سے متاثرہ لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے اگر وہ بصیرت رکھتے ہوں تو
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Aug, 02 2018
Reply Reply
0 Like
سوچ کی غلطی یا کہہ لیں یا پروپیگنڈے کا اثر کہ مصنف نے اس مضمون کے ذریعے یہ بات کہنے کی کوشش کی ہے کہ مذہب سائنس سے دور لے جاتا ہے یا مذہب سائس کے خلاف ہے۔
یہ بات مولوی یا اسلام کے لحاظ سے بالکل غلط ہے۔ اس لیے کہ تاریخ اگر سائنسدانوں کو ان کے سائنسی نظریات کی بنیاد پر سزا کا مستحق ٹھہرایا ہے تو وہ عیسائی پادریوں نے نہ کہ مسلمان علما نے۔
اب مغرب کی سوچ یا پروپیگنڈے کا دوسرا رخ یہ دیکھیں کہ وہ پروپیگنڈا کرتا ہے کہ یورپ نے جب مذہب کا دامن چھوڑا تو اس نے ترقی کی حالانکہ یہ بات بھی بالکل غلط ہے۔ یورپ نے مشینی دور کا آغاز کیا تو ترقی کی ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ عیسائی پادریوں نے بھی کبھی مشینوں کی مخالفت نہیں کی۔
مخالفت کچھ باتوں پر کی گئی ہے۔ اور یہ وہ باتیں ہیں جن کا عام آدمی یا انسانیت کی بھلائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
کلوننگ ( اس کی مخالفت کی گئی اور عام آدمی کو اس سے کیا فائدہ ہوگا مادہ پرست سائنسدان آج تک یہ بتا نہیں سکے۔)
بہرحال میں مختصرا یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اسلام یا علما نے کبھی بھی سائنس کی مخالفت نہیں کی۔ اہل یورپ کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے عیسائی پادریوں کی مذہبی مخالفت کو بھی اسلام کے کھاتے میں ڈال دیا ہے۔ گلیلیو کی مخالفت مسلمانوں نے نہیں بلکہ پادریوں نے کی تھی۔ اور میں موصوف کے سارے نظریات کو رد رکرتا ہوں۔
اسٹیفن ہاکنگ کے نظریات، بلیک ہول پر تحقیق یا بگ بین پر تحقیق سے انسانیت کو یا عام آدمی کو کیا فائدہ ہوا؟؟؟ جواب ہے کہ کچھ نہیں
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Aug, 02 2018
Reply Reply
0 Like
I find myself forced to say that this is a biased article with no base, a stupid comparison has been made between scientists and Molvis while the fact is that they are not comparable.

Article could be worth if the writer would have compared scientists with scientists, or say muslim scientists.

Khalid Lahore, Khalid Karachi, Muzammil and Khan have commented accurately. Writer seems very much biased here and had made fun of Allah Kareem and Quran e Paak, Allah Paak clearly told that non-believers (Kuffar, Mulhideen) will go to hell for sure while the writer doubts it, is he really Syed?

He will more likely to be in the company of Stefan and others, in hell and will refuse to go to Jannah even if Allah Kareem allow him so.

I suggest writer and others who liked his bogus article, to think and accept the fact the being a Molvi (Aalim) is a specialty education and Ulama spend their lives to get this knowledge so they MUST not be expected to have a degree in science.

As writer will never accept and suggest a doctor, a lawyer or a scientist to spend more years and gain an Aalim degree because they already have specialized knowledge in their relevant fields, he must not think that Ulama should get a degree or learn science too.

Further, no Ulama make fun of science and negate it and they have a the right, like we all have, to use the benefits of science and latest inventions.

Please keep your biasedness apart and rethink, hope you will find comments guiding you for your future writings.
By: Shahid, Lahore on Aug, 01 2018
Reply Reply
0 Like
بس اپنی کم عقلی کو لے کر نام مولوی روتے ہی رہنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چلو مولوی نے کوئی تیر نہیں مارا تم ہی مار لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مولوی کو اگر دیکھا جائے مغربی دنیا لے پاردی کے برابر درجہ ہو گا کیا پادری نے ایجادات کی ہے ۔نہیں میرے اور تمھارے جیسے لوگوں نے کی ہے تم ہو کہ کچھ کرنے کے مولوی کے پیچھے پڑے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلام کے خلاف ہرزاہ اسرئی کی ہمت نہیں تو مولوی کو گالی دے کر خوش ہو جاتے ہو۔چ
By: Khalid, karachi on May, 25 2018
Reply Reply
0 Like
It is very wrong. I do not like it. It is bad as its writer. How do you know that newton, einstein , marx and other great personalities are in hell? May god they have do something in life that take them in paradise.
By: muzzammal, faisalabad on Apr, 06 2018
Reply Reply
0 Like
apne molwi nei balke islam ka mazaq urhaya hy
By: khan, karachi on Mar, 24 2018
Reply Reply
0 Like
Apne mazhab and Quran o hadees ka mazaq ura ker konsa achaa kam ker rahen hen???
Kia matlab he is fazool tehreer ka, ke molvi , jinhoon ne quran.o.hadees ki taleem hasil ki he , wo ghalat aor wo non-muslim ache log hen??? Ap ko kis ne bataya he ke jahanum men beth ker non-muslim scientists beth ker theories per discussion ker rahe hon ge??? Kia ap jahanum aor jannat ko aik mazaq samjh rahe hen???
By: khalid, Lahore on Mar, 19 2018
Reply Reply
1 Like
khalid آپ اپنے پاس سے بول رہے ہیں کوئی ایسا کچھ لکھا ہی نہیں ہے میں نے نہ کوئی مذہب اور کسی کا مذاق اڑایا ہے دوبارہ پڑھئے
By: Syed zeeshan Ali shah, Karachi on Mar, 20 2018
0 Like
آپ کا بہت شکریہ آپ نے بلکل سچ کہا ہے دراصل وہا جنت کا لفظ ۔آنا تھا مگر غلطی سے جہنم آگیا ہے Zohaib
By: سید ذیشان علی شاہ, کراچی on Mar, 18 2018
Reply Reply
0 Like
مجھے دلی طور پر خوشی ہوئی کے آپ لوگوں نے میری تحریر
مولویوں کے قہقہے پسند فرمائی، شکریہ
By: سید ذیشان علی شاہ, Karachi on Mar, 17 2018
Reply Reply
0 Like
Excellent
By: Zaheer Ahmed Burney, Karachi on Mar, 17 2018
Reply Reply
0 Like
Nice article. I understand what you are saying. But why you mentioned Edhi in hell? He was a great muslim . May Allah Bless him.
By: Zohaib, Lahore on Mar, 16 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB