چور پولیس

(Qasim Raza Naqvi, Nairobi)

Desribes corrupt police culture in Pakistan

پولیس کسی بھی معاشرے کا بنیادی ستون ہے، پولس کا مقصد لوگوں کے جان، مال، عزت کا تحفظ اور مملکت خدادا کے قانون کی حکمرانی قائم کرنا ہے۔ یہ کسی بھی معاشرے میں طاقت کے توازن کوبرقرار رکھنے اور قانون کی پاسداری کے ضامن ہیں، کسی بھی معاشرے کا وجود ان کے بغیر جنگل کی مانند ہے۔یہ بہادر سپوت اپنا آرام، سکون، گھر بار سب اس قوم کی خاطر داءو پر لگا دیتے ہیں اور بوقت ضرورت اپنی جان کا نزرانہ مادر ملت کو پیش کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ہم اپنی قوم کے ان عظیم سپوتوں کو سلام پیش کرتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ ہماری دھرتی کی کوکھ سے ایسے عظیم سپوت پیدا ہوتے رہیں گے۔ آمین ۔

ایک مشہور کہاوت ہے پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، بلکل اسی طرح پولیس کے محکمہ میں بھی کچھ ایسے سپوت پائے جاتے ہیں جن کا ذکر کیے بنا پولیس کا لفظ کچھ ادھورا سا لگتا ہے، میرے کچھ دوست ابھی تک ورطہ حیرت میں مبتلا ہیں کہ میں شاید کسی اور دنیا کی پولیس کی بات کر رہا تھا ، چلیں کوئی بات نہیں اب آپ کو ہم اپنی اصل والی پولیس سے ملواتے ہیں۔

جی مادر وطن کے وہی سپوت جو دن رات ایک کرکے تن ، من سے دھن کو پکڑنے کیلئے اپنی زندگی تک کو داوء پر لگانے سے گریز نہیں کرتے، میرے آج کے اس موضوع کے ہیرو یہی جا نثار ہیں۔ان سے آپ کی ملاقات منہ اندھیرے سڑک کنارے بیچارے ڈرائیورز، دودھ فروش، ریڑھی بان حضرات کو گالیاں بکتے اور پیسے بٹورتے ہوئے ہوتی ہے، معزرت بتانا بھول گیا کبھی کبھا ر یہ حضرات رات کی تاریکی میں سردی گرمی کی پرواہ کئے بغیر اپنا فریضہ برائے وصولی خراج ادا کرنے میں کسی کوتاہی کے مرتکب نہیں ہوتے۔جی بالکل صحیح پہچانا وہی مرد مجاہد جو کسی بھی نہتے مرد، عورت، بچے پر اپنی مردانگی جھاڑتے ہوئے ایوبی اور قاسم کی یاد تازہ کر دیتے ہیں۔ ان مجاہدین کے سوشل ورک کا یہ عالم ہے کہ بے سکونی، دباءو تلے دبی اس قوم کےذہنی سکون کا انتظام و انصرام اپنا فریضہ دین سمجھ کر ادا کرتے ہیں منشیات فروش حضرات کو بھاگنے کا موقع فراہم کئے بغیر اسی طرح قوم کی تفریح طبع بھی میرے ان بھائیوں کے مضبوط کاندھے پر ہے ، پھر بھلے وہ کسی وزیر کی داشتہ کی حفاظت ہو یا کسی طوائف کا کو ٹھہ بے راہ روی کا خاتمہ کئے بغیر یہ مجاہد کہیں نہیں جاتے روز شام مہم پر باقاعدگی سے شمولیت اختیار کرتے ہیں۔

آج کل ناقص ، ملاوٹ شدہ غذاءوں کا استعمال دائمی قبض کا باعث ہے، اکثر حکماء اپنے مریضوں کو تھانے کے قریب سے گزرنے کا نسخہ تجویذ کرتے ہیں مکمل گارنٹی کے ساتھ بہت سے بھائی تو نسخہ سنتے ہی روبصحت ہو جاتے ہیں ، باقی ایک آدھ چکر کے بعد مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ یہ نسخہ تو مجھ آپ جیسے لوگوں کیلیئے ہے وگرنہ حد سے زیادہ شریف لوگوں کی تو قضائے حاجات میری قوم کے. ان سپوتوں کے ذمہ ہیں اور یہ بڑی تندہی سے یہ خدمات صبح شام بغیر ناغہ اس تندہی سے سر انجام دیتے ہیں کہ مغلیہ کنیزیں بھی شر ما جائیں۔

ان کے ڈرائنگ روم کے بھی کیا کہنے ،

بقول شاعر

یہ کرتے ہیں خدمت ذرا ہٹ کے سب سے
کہ بھولے ہے پہچان تھانے میں جاکر

محترم قارئین میرا مقصد کسی کی تذلیل کرنا ہر گز نہیں صرف شعور بیدار کرنا ہے۔ ایک التجا کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ خدارا اپنے حقوق کو پہچانئے اور اپنے حق کیلئے آواز اٹھائیں۔

ہم سب جانتے ہیں ایک اکیلے انسان کو دیکھ کر کتا بھی شیر بن جاتا ہے، وہی انسان جب ایک چھوٹا سا پتھر اسکی طرف پھینکتا ہے تو وہ چند لمحے پہلے کا شیر دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔

قانون کا احترام ہم سب پر لازم ہے، ہمارے محافظ ہمارا فخر ہیں ان سے پیار کریں مگر وہ کالی بھیڑیں جو عوام کی خدمت کے بجائے عوام پر غرائیں ان کو کیف. . . . . . . کردار تک پہنچانا ہمارا فرض ہے۔. . . . . . . پاکستان پائندہ باد!!!!!!

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
26 Mar, 2018 Total Views: 407 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Qasim Raza Naqvi

Read More Articles by Qasim Raza Naqvi: 9 Articles with 2172 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Bhut alla!
By: Ghazanfer joiya, Faisalabad on Mar, 27 2018
Reply Reply
0 Like
I am big fan of your articles, waiting for next.
By: Palwasha, Islamabad on Mar, 27 2018
Reply Reply
0 Like
Achi Tehreer, tell us some thing about you.
By: Gul Nawaz, Quetta on Mar, 27 2018
Reply Reply
0 Like
Maza agaya, likhtey raho.
By: Salim Sheikh, Islamabad on Mar, 27 2018
Reply Reply
0 Like
Impressed with writing style, lot of applauds. Carry on Good work.
By: Sania , Karachi on Mar, 27 2018
Reply Reply
1 Like
Saheeh Pehchan Tullon ka Pakistan
By: Qadir, Karachi on Mar, 27 2018
Reply Reply
1 Like
Bhut Acha article
By: khurshid, Sukkur on Mar, 27 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB