آشنا

(Mona Shehzad, Calgary)

آج پھر ماہا کو اپنا میاں،بچے، گھر سب زہر لگ رہے تھے. غصہ سے پھنکتے ہوئے اس نے سوچا "میری زندگی یہی چولہا چوکی کرتے گزر جائے گی. اس آدمی میں ترقی کرنے کا کوئی جذبہ نہیں ہے. اوپر سے یہ بچوں کی لائن لگا دی ہے. "
وھ من ہی من میں کلس رہی تھی.
وھ تو تین بچے پیدا کرنے کے حق میں ہی نہیں تھی. مگر اس کے میاں نے اسقاط حمل کروانے سے اسے سختی سے منع کردیا تھا.
اس کو اللہ نے شکل صورت تو درمیانی ہی دی تھی مگر ناز و ادا کے ایسے جال اس نے فلموں سے سیکھے تھے کہ مردوں کو بسمل کرنا جانتی تھی. مگر اس کے سیدھے سادے میاں پر ان واروں کا کوئی اثر نہیں تھا. وہ اپنی تعریف سننا چاہتی تھی. بڑی بڑی گاڑیوں میں پھرنا چاہتی تھی. ریسٹورنٹ کے نت نئے کھانے کھانا چاہتی تھی. بڑی بڑی زیورات کی دکانوں کے پاس سے گزرتے ہوئے اکثر اس کا دل للچاتا اور اس کا میاں بڑے رسان سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے سمجھاتا :
"نیک بختے ہم جیسے لوگ ایسے زیورات افورڈ نہیں کرسکتے. "
اس کا جی جل جاتا.
آج کل اس نے میاں سے جھگڑا ڈالا ہوا تھا کہ اب اسے تین بچوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھتے ہوئے شرم آتی ہے اگر اس نے گاڑی نہ خریدی تو وہ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوجائے گی. اس کا میاں اس کے پیار میں ہار کر آج اسے لے کر سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں کے شوروم پر لے گیا. شوروم کا مالک ایک عیاش انسان تھا. اس نے ماہا کی آرزوئیں بڑی آسانی سے محسوس کرلیں اور اپنا جال بچھا دیا. اس نے ان کو گاڑی بڑی مناسب قیمت پر دے دی. نکلتے نکلتے ماہا سے دوبارہ آنے کا بھی کہا. ماہا سجاد کی پر وجاہت سراپا دیکھ کر مچل گئی. وہ سمجھی کہ اس کے ناز و انداز نے کام دکھا دیا ہے. اگلے دن ہی وہ دوپہر کے وقت سجاد کے شوروم پہنچ گئی. سجاد اسے کھانا کھلانے کے لیے فائیو اسٹار ہوٹل لے گیا. کھانے کی میز سے کمرے تک کا سفر بڑی آسانی سے طے ہوگیا. اب تو ماہا کو اپنے میاں میں ہزاروں عیب نظر آنے لگے. سجاد کے دئیے ہوئے زیورات نے اس کی بینائی کو خیرہ کر دیا تھا. وھ گناہ، ثواب سے قطع نظر اس اندھی رھ پر بھاگی جارہی تھی.
سجاد کا والہانہ پن اس کو پاگل کیا جارہا تھا. اس نے آخر کار اپنے میاں سے خلع لے لیا. بچے اس نے دنیا دکھاوے کے لئے اس خیال سے رکھ لئے تھے کہ کچھ عرصہ کے بعد اس کا سابقہ میاں ان کو لے ہی جائے گا.
سجاد نے اس کو ایک چھوٹا سا فلیٹ کرائے پر لے دیا تھا. وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سجاد کا رویہ تبدیل ہونے لگا تھا. اب وھ ہفتہ ہفتہ اس کی طرف نہ آتا. ماہا اس کی بے التفاتی سے پریشان ہوگئی. ایک دن اس نے سجاد سے شادی کا مطالبہ کیا تو وہ ہنس کر بولا :
"میرا دماغ تو خراب نہیں کہ میں تین بچوں کی ماں سے شادی کرلوں. "
ماہا پر دیوانگی سی طاری ہو گئی اس نے سجاد کا منہ اپنے لمبے ناخنوں سے چھیل دیا. سجاد اس کو دھکہ دے کر نکل گیا.
ماہا کے تن بدن میں آگ لگی ہوئی تھی. اس کو اپنے بچے اپنی خوشیوں کے قاتل لگ رہے تھے.
جب اس کو ہوش آیا تو وہ پولیس کی حراست میں تھی اور پولیس والے اس سے بار بار ایک ہی سوال کررہے تھے کہ اس نے اپنے بچوں کو کیوں مارا؟
اس پر جب یہ حقیقت واضع ہوئی کہ اس کے بچوں کی موت کی زمہ دار وھ خود ہے تو وہ ہوش و حواس سے عاری ہوگئی.
لوگ اکثر اب جیل میں اس عورت کو دیکھ کر تاسف کا اظہار کرتے ہیں جو ہر وقت اپنے فرضی بچوں سے کھیلتی رہتی ہے.
سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک مسلمان معاشرے میں زنا کیوں فروغ پارہا ہے. اگر قرآن کو سمجھ کر پڑا جائے تو ہر حکم قرآن میں موجود ہے.
يَآ اَيُّھا النَّبِىُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلٰٓى اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّھِ شَيْئًا وَّلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِيْنَ وَلَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَھنَّ وَلَا يَاْتِيْنَ بِبُھتَانٍ يَّفْتَـرِيْنَھٝ بَيْنَ اَيْدِيْھنَّ وَاَرْجُلِھنَّ وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِىْ مَعْرُوفٍ ۙ فَبَايِعْھنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَھنَّ اللّھَ ۖ اِنَّ اللّھَ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ (12)
"اے نبی جب آپ کے پاس ایمان والی عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کو آئیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ بہتان کی اولاد لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان (نطفہٴ شوہر سے جنی ہوئی) بنا لیں اور نہ کسی نیک بات میں آپ کی نافرمانی کریں گی تو ان کی بیعت قبول کر اور ان کے لیے اللہ سے بخشش مانگ، بے شک اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے."
اللہ تعالٰی ہم سب کو قرآن اور احادیث کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا کرے آمین.

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
26 Mar, 2018 Total Views: 441 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More

Read More Articles by Mona Shehzad: 101 Articles with 62012 views »
Reviews & Comments
THANKS. I am happy you liked it.
By: Mona Shehzad, Calgary on Apr, 01 2018
Reply Reply
0 Like
Thanks Farah.
By: Mona Shehzad, Calgary on Apr, 01 2018
Reply Reply
0 Like
Thanks Farah for your comments.
By: Mona Shehzad, Calgary on Apr, 01 2018
Reply Reply
0 Like
Mona Shehzad:
bohat ache or sabak amooz tahreer ha...main ye tahreer parh kar yehi kahounga kay insan kay pass jo kuch bhi ho.us per shukar ada krna chaeya khuda ka.nashukri insan se wo bhi chen leti hay jo us ky pass hota hay... jesay is tahreer main likha ha..paisa hi sub kuch nhi hota ..khuda ki sub se barhi naemat sehat o tandurusti ha.ager sehat na ho to paisa gari kise km ki nhi ..or sehat paisy se nhi kharidi ja sakti ..is lia ager ap ky pass kuch bhi nhi ha. bus ap kay pass ager sehat bhi ha to samjh jao ALLAH ki bohat anmol naemat ha ap ky pass.ALLAH pak reham farmae or hamain har pal ALLAH pak k shukar ada karty rehnay ki tohfiq ata farmae ameen ...
By: shohaib haneef , karachi on Mar, 28 2018
Reply Reply
0 Like
Mona Shehzad:
thanks you for happy my detailed reply .main yaha ek bat or kehna chahounga ky ..jaha bhi jes bhi insan ki tahreer parhain, to usy zaroor like kijiya ager ap ko passand na bhi ho wo tahreer to kam ez kam us tahreer per reply zaoroor kijiya .is se bohat hosla or himat milti ha insan ko or likhne ki or apne ap ko behtr se behtr banay ki ...na janay keteney log mere tarha apni soch ko yaha tahreer karty houngay ..jese mere soch hay main apnay article yaha jo bhi post krta hon un ky likhnay ka maksad mera yahi hota hay kay mere soch se mere tahreer se kise k faida ho...or ek khas bat jo main kehna chaounga wo ye kay apni tahreer kay sath ager hum sub log apna email Address likhe lain to is se tahreer main ek dusary ko behtr se behtr samjhaya ja sakta ha.misal kay toor per mere kise tarhreer main article main koi ase galti ha jo mujhe nhi dikhae de rahi .ager yaha baqi likhne waloun ko dikhy to wo bajae reply main is galti ko point out karain behtr hay ise email kay zarea us insan tk ye bat poucha dain..ye mere soch hay ..hosakta hay ap logoun kay hisab se galt bhi ho. but mujhe btaeyaga ky kia ye email communication theak tariqa kay ek likhne waly ko dusary likhene walay tak us ki tahreer or galti se agha karna... shukria
By: shohaib haneef, karachi on Apr, 01 2018
0 Like
Thanks for your detailed comments. I am really happy that you liked it. God bless you.
By: Mona Shehzad, Calgary on Apr, 01 2018
1 Like
bohoth hi sabuq amooz kahani hay
By: farah ejaz, Karachi on Mar, 27 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB