چند پاکستانیوں کی بیویاں کہاں گم ہو گئیں؟

 

پاکستان کے زیرانتظام گلگت بلتستان کے علاقے کے رہائشی چین میں ایغور نسل کی اپنی بیویوں سے رابطہ نہ ہونے پر تشوش کا شکار ہیں۔ ان افراد کو خدشات ہیں کہ چینی حکام نے ان کے خاندان کے افراد کو اپنی حراست میں لے رکھا ہے۔
 


روایت یہ رہی ہے کہ تاریخی شاہ راہِ ریشم کے قرارقرم ہائی وے کے پہاڑی حصے سے پاکستان کے زیرانتظام گلگت بلتستان کے چین میں مقیم رہائشی ہر برس موسم خزاں کی آمد پر اپنی ایغور بیویوں کو چھوڑ کر سرحد عبور کر کے دوبارہ اپنے آبائی علاقے میں آ جاتے ہیں اور موسم سرما گزار کر دوبارہ اپنے خاندانوں سے جا ملتے ہیں۔ ان خاندانوں کے درمیان رابطے کی واحد سبیل ٹیلی فون ہوتی ہے، تاہم متعدد افراد کا کہنا ہے کہ سینکیانگ میں ان کا اپنے بیوی بچوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ گزشتہ برس ان افراد کی جانب سے چین میں کی جانے والی ٹیلی فون کالز کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ان افراد کو فقط یہی کچھ معلوم ہوا ہے کہ ’سینکیانگ کی ایغور مسلم اقلیت‘ کو ’تعلیم نو کے مراکز‘ میں رکھا گیا ہے۔ ایغوروں کے علاقوں میں تیزی سے ایسے مراکز قائم کیے گئے ہیں، جن کا مقصد پاکستان سے سرحد عبور کر کے چین پہنچنے والے عسکریت پسندوں کا انسداد ہے۔

اقبال نامی ایک شخص نے اپنے نام کا دوسرا حصہ بتائے بغیر اے ایف پی کو بتایا، ’’میری بیوی کو گزشتہ برس مارچ میں چینی اہلکار اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ تب سے اب تک مجھے ان کی بابت کوئی معلومات نہیں۔‘‘

بہت سے افراد چین میں اپنے خاندانوں سے متعلق کوئی معلومات اس لیے بھی نہیں بتا رہے ہیں کیوں کہ انہیں خوف ہے کہ ایسی صورت میں ان کے اہل خانہ کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

گزشتہ برس جولائی میں اقبال نے اپنے خاندان کو ڈھونڈنے کے لیے چین کا رخ بھی کیا تھا، تاہم اسے سرحد عبور نہیں کرنے دی گئی۔ اس کا کہنا ہے کہ چینی حکام نے اسے بتایا کہ اس کی بیوی کو ’تربیتی مراکز‘ بھیج دیا ہے، جب کہ حکومت اس کے بچوں کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔
 


’’میں گڑگڑا گڑگڑا کر بھیک مانگتا رہا کہ مجھے میری بیٹیوں سے بات کرنے دو، مگر وہ نہیں مانے‘‘

اقبال گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ان درجنوں تاجروں میں سے ایک ہے، جنہیں ویزا مسائل کی وجہ سے سفری مشکلات ہیں یا جن کا چین میں اپنے اہل خانہ سے رابطہ متقطع ہے اور وہ وہاں نہیں جا پا رہے ہیں۔

رواں ماہ گلگت بلتستان کی اسمبلی نے ایک قرارداد کی متفقہ طور پر منظوری دی تھی، جس میں ایسے خاندانوں کی ’غیرقانونی حراست‘ پر احتجاج کیا گیا تھا اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ ان افراد کو ان کے اہل خانہ سے ملنے دیا جائے۔ ایک مقامی رکن اسمبلی جاوید حسین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہا، ’’چینی حکام کوکم از کم ان افراد کو ان کی بیویوں اور بچوں سے ملنے کی اجازت دینا چاہیے۔ چین ہمارا دوست ہے اور اس طرح کے واقعات اس دوستی پر منفی اثرات ڈالیں گے۔‘‘

چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے شہریوں کے ایسے مسائل کی بابت اسلام آباد حکومت سے بات چیت کی جا رہی ہے، جب کہ پاکستانی وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ اس سلسلے میں چینی حکومت سے بات چیت جاری ہے۔


Partner Content: DW

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
26 Mar, 2018 Total Views: 5212 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Every autumn on the mountainous Karakoram Highway, part of the ancient Silk Road, groups of Pakistani merchants living in China’s far west would wave goodbye to their Chinese wives and cross the border to spend winter in their home country.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB