نواز شریف جھوٹ کی کشتی پر سوار پار ہونا چاہتے ہیں

(Mir Afsar Aman, Islamabad)

نواز شریف جب کرپشن میں پھنسے تو جھوٹ کی کشتی پر سوار ہو کر پار ہونا چاہتے ہیں جو اس بار کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ اس لیے کہ اب ملک کی اعلی عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے۔دوسرا نواز شریف کے ملک کے خلاف اتنے زیادہ اقدامات سامنے آ گئے ہیں کہ شاید اﷲ بھی مثل مدینہ مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان پر رحم کھا کر نواز شریف سے ناخوش ہو گیا ہے۔

کہانی کچھ اس طرح ہے کہ نواز شریف نے خود سپریم کورٹ کو خط لکھا کہ ان کے خلاف کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کرے۔ سپریم کورٹ نے پرانے قانون کے بدلے ،نئے ٹی او آر بنانے کا حکم دیا تاکہ مقدمہ سنے۔ دو تہائی والی نواز شریف کی پارلیمنٹ نے ٹی او آر نہ بنا سکی۔ اس پراپوزیشن نے نواز شریف کے خلاف کرپشن میں ملوث ہونے پر سپریم کورٹ میں مقدمہ قائم کیا۔عدالت عالیہ نے نواز شریف سے منی ٹرئیل مانگی۔ اگر نواز شریف کے پاس ثبوت ہوتے تو وہ پیش کرتے؟ صرف قطری شہزادے کا ایک مہمل سا خط پیش کیا۔ نہ قطری شہزادہ ان کے حق میں بیان دینے پاکستان کی عدالت میں پیش ہوا نہ ہی قطر کے اندر پاکستانی سفارخانے میں بیان دینے کے لیے آیا۔ نواز شریف کے پارلیمنٹ کے بیان کے مطابق نواز شریف خاندان نے پہلے دبئی میں اسٹیل مل لگائی۔پھر اسے فروخت کیا۔ اس کے بعد سعودی عرب کے شہر جدہ میں دوسری اسٹیل مل لگائی۔ بقول نواز شریف کے جدہ کی اسٹیل مل نے منافع دیا۔ ان کے والد صاحب نے قطر میں پراپرٹی کا کاروبار کیا۔ پھر اُس منافع سے لندن کے فلیٹ خریدے۔چلو جی یہ سب کچھ مان لیا۔ مگر اسٹیل مل کے فروخت کرنے سے کتنا پیسا ملا۔پہلی اسٹیل مل لگاتے ہوئے کتنا پیسا پاکستان سے باہر گیا۔کتنا پیسا دبئی کی مل کے فروخت ہونے پر ملا۔کتنے پیسے سے سعودی عرب جدہ میں اسٹیل قائم ہوئی۔ اس کے فروخت ہونے سے کتنا پیسا ملا۔ کتنے پیسے سے لندن کے فلیٹ خریدے گئے۔ ان سب کی عدالت عالیہ نے منی ٹرئیل مانگی تھی۔

منی ٹرئیل دینے کے بجائے نواز شریف،ان کی بیٹی اور داماد، اور ان کے حواریوں نے کہا کہ ملک کے خلاف سازش ہو گئی ہے۔ فوج جمہورت کا تختہ الٹنا چاہتی ہے۔مارشل لالگانا چا ہتی ہے۔ عدالت نے کرڑوں ووٹ لے آنے والے نواز شریف کو گھر بیج دیا ہے۔بھائی آپ پر ملک کی اپوزیشن نے اپنا حق جمہوریت ادا کرتے ہوئے کرپشن کا الزام لگایا ہے۔ اس کا سیدھا سادھا عدالت عالیہ کے اندر جواب دو۔ اس کے علاوہ ،نہ فوج نے مارشل لا لگایا نہ جمہورت ختم ہوئی۔ نواز لیگ کا شاہد خاقان عباسی صاحب وزیر اعظم منتخب کر لیا گیا۔ سینیٹ کی خالی ہونے والی سیٹوں پر سینیٹ کے ممبران اور سینیٹ کا چیئر مین منتخب ہو گیا۔ فوج نے بیان دیا فوج ملک کے آئین کے مطابق سول حکومت کے ہر حکم کے مطابق کام کرنے کی پابند ہے۔فوج کے سپہ سالار نے خود سینیٹ میں پیش ہوئے اور منتخب لوگوں کے سامنے ان کے سوالات کے جواب دیے۔ ملک کی اعلی عدلیہ نے انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے، تحریک انصاف کے سیکر ٹیری جنرل کو کرپشن پر ثبوت نہ پیش کرنے پر نا اہل قرار دے دیا۔
 
اس کے علاوہ عدلیہ کے پاس پارلیمنٹ کا منظور کیا ہوا قانون ہوتا ہے۔وہ آئین پاکستان میں دیے گئے اختیارات استعمال کرمقدموں کے فیصلے کرتی ہے۔جب پارلیمنٹ نے خو قانون پاس کیا کہ عدالت آئین کی شق نمبر ۶۲ اور ۶۳ میں کسی بھی ممبر پارلیمنٹ کے جھوٹا ہونے پر اسے سزا دے سکتی ہے۔ تو پھر اس میں عدلیہ کا کیا قصور ہے کہ نواز شریف جھوٹ کا سہارا لے کر ملک کے عوام کو اپنے ہی ملک کے ان اہم اداروں ،فوج اور عدلیہ کو عوام کے سامنے بدنام کر رہے ہیں۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے اپنے اپنے دور حکومت میں ملک کے سارے اداروں میں اپنے نا اہل اور سفارشی لوگوں کو لگایا۔ ان اداروں کے سفارشی سربراؤں نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو کرپشن کرنے کی کھلی چھٹی دی رکھی ۔ پارلیمنٹ کی کمیٹی نے جب ان ادروں کے سربراؤں کو کرپشن نہ پکڑنے کی وضاحت کرنے کے کمیٹی میں طلب کیا۔ پہلے تو یہ صاحبان تشریف نہیں لائے۔ جب آئین میں دیے گئے اختیارا استعمال کرتے ہوئے ان کو کمیٹی نے فائنل نوٹس دیے تو یہ حاضر ہوئے۔ کمیٹی کے سامنے ان کے بیانات سے عوام نے نتیجہ اخذ کیا کہ واقعی انہوں نے حق نمک حلالی ادا کرتے ہو ئے اپنے منصب سے انصاف نہیں کیا ۔ سپریم کورٹ نے کرپشن کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ملک کے ادارے جن کا کام کرپشن پکڑنا ہے۔ انہوں نے اپنی ذمہ داری کما حق ہو پوری نہیں کی۔پھر سپریم کورٹ کے حکم پر ۱۵۰؍ میگا کرپشن کے کیس لامنے لائے گئے۔ مگر اس پر بھی انہوں نے کاروائی نہیں کی۔ پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری سے ملک کے عوام کالوٹاہوئے پیسے پر قائم مقدمہ یہ کہہ کر بند کر دیا کہ فوٹو اسٹیٹ پر مقدمہ نہیں چلا سکتے۔ اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئے ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے نواز شریف کے خلاف اپنے پہلے فیصلہ، جس میں دو جج صاحبان نے نواز شریف کو نا اہل قرار دیا تو تین جج صاحبان نے نواز شریف کو انصاف کے تقاضے پورا کرتے ہوئے کہ ساٹھ دن کی مذید مہلت دیتے ہیں ۔ اس کے لیے جے آئی ٹی بنائی ۔ دیے وقت کے اندر اندر مزید تحقیقات کرنے حکم صادر کیا۔جے آئی ٹی کی تحقیقات کی روشنی میں،اور سارےمقدمے کی از سرے نو جانچ پڑتال کے بعد سپریم کورٹ کے سارے کے سارے پانچ ججوں پر مشتمل بینچ نے نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا۔ پہلے ٹی او آر بناتے ہوئے تو پھرتی نہیں دکھائی۔ اب پھرتی دکھاتے ہوئے ملک کی اعلی عدلیہ کے فیصلہ کے خلاف عمل کرتے ہوئے، دو تہاتی کا سہارا لیتے ہوئے نا اہل نواز شریف کو اہل قرار دے کرپارٹی کا صدر بنا دیا۔ اعلی عدلیہ آئین پاکستان پر عمل کرتے ہوئے اس غلط قانون کو منسوخ کر دیا۔

نواز لیگ اورسپریم کورٹ کے پہلے فیصلہ سے لیکر اب نیب میں مقدمے میں پیری تک مسلسل جھوٹ بولرہے ہیں۔ان کے خیال اور ان کومشورے دینے والے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ عدلیہ اور فوج کے خلاف عوام کو اُکسا کرحالات کو اپنے حق میں تبدیل کر لیں مگر یہ ممکن نہیں۔پہلے جب دو ججوں نے نا اہل قرار دیا تولوگوں کو جھوٹ کا سہارا لے کرمٹھائیاں تقسیم کیں۔جبکہ کسی جج نے بھی نواز شریف کو اہل نہیں کہا تھا۔ فوج کے لیے جھوٹ بولتے رہے کہ مارشل لگانے والی ہے۔مارشل لا کوئی بھی نہیں لگا۔ جھوٹ بولاکہ پارلیمنٹ ٹوٹنے والی ہے۔ پارلیمنٹ نہیں ٹوٹی بلکہ پارلیمنٹ اپنا کام کر رہی ہے۔لندن کے تصدیق کرنے والے نے نیب میں بیان دیا کہ کاغذات میں دو صفحے تبدیل کیے ہیں جو فراڈ ہے۔ ہاں اس نے یہ بھی کہا فونٹ بعد میں زیراستعمال رہا۔لوگوں میں صفحے تبدیل کرنے والے فراڈ کے بجائے فونٹ کا کہتے رہے کہ دیکھو یہ فونٹ صحیح ہے ۔ اب نواز شریف یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ رہے ہیں کہ جن کو پہلے سے معلوم ہے کہ مجھے اڈیالہ جیل جانا ہے وہ اڈیالہ جیل کی صاف صفائی کرا رہے ہیں۔ بھائی حکومت ن لیگ کی ہے۔جیل خانے والے ان کو جواب دہ ہیں۔ یہ تو نواز شریف کو معلوم ہے کہ اسے اپنے اعمال کی وجہ سے جیل جانا ہے۔ شاہد نواز شریف جھوٹ کی کشتی پر سوار پار ہونا چاہتے ہیں مگر موجودہ حالات میں یہ ممکن نہیں۔

 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
16 Apr, 2018 Total Views: 182 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Mir Afsar Aman

born in hazro distt attoch punjab pakistan.. View More

Read More Articles by Mir Afsar Aman: 710 Articles with 255546 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB