15 شعبان اور شب برات کی حقیقت:

(پلوشہ نیلم, کراچی)


السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،

سب طرح کی تعریف صرف اللہ سبحان و تعالی کے لئے ھے جس نے ھم سب کو پیدا کیا اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ھے۔نبیﷺ پر سلام ھو۔ اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ھوں نبیﷺ اور نیک بندوں پر۔

میں گواہی دیتی کہ نہیں کوئ معبود سوائے اللہ کے اور میں گواہئ دیتی ھوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اسکے رسول ھیں۔

ھم عرصہ درازسے سنتے آرہے ہیں کہ 15 شعبان کو شب براءت (نجات کی رات) کہا جاتا ھے اور لوگوں کے اقوال کے مطابق اس رات، تقدیر یعنی رزق و روزی اور موت وزندگی کے فیصلے ھوتے ھیں اور بھی بہت سی من گھڑت اور جھوٹی باتیں سینہ بہ سینہ چلی آرہی ھیں جنکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ھے۔ یہ دراصل ھمارے آباؤاجداد اور انکے بزرگوں کے عمل پر اندھی تقلید ھے جو ایک عرصہ سے چلتی چلی آرہی ھیں۔

حالانکہ تقدیر کا فیصلہ انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں ہی لکھ دیا جاتا ھے کہ وہ کیا کمائے گا، کیا کھائے گا؟ کب اور کہاں مرے گا۔یہ وہ تقدیر ھے جو اللہ تعالٰی اپنی حکمت اور اپنے علم کی بناء پر ہی تبدیل کر سکتا ھے۔

شعبان وہ مہینہ ھے کہ جسمیں نبیﷺ کی کثرت سے روزے رکھنے کے علاوہ کسی اور عمل کی کوئی سند نہیں ملتی ھے۔

شب براءت نہیں منانا چاہیے کیونکہ یہ قرآن وحدیث سے ثابت نہیں۔

💐حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے جو حدیث بیان کی جاتی ھے وہ شبعان المبارک کی نہیں ھے بلکہ ربیع الاول کی ھے، نبیﷺ کو وصال سے چند دن قبل جنت البقیع والوں کےلیے دعا کے لیے کہا گیا تھا اور نبیﷺ کا وصال ربیع الاول میں ھوا ھے شعبان میں نہیں۔

💐 جو لوگ شب براءت مناتے ہیں وہ غور کریں کہ وہ کتنا بڑا بہتان نبیﷺ کی ذات مبارک پر لگارہے ہیں
کہ نبیﷺ خاموشی سے جنت البقیع تشریف لے گئے۔۔۔۔۔۔اپنے اہل بیت کو کیوں نہیں جگایا؟؟
نعوذ باللہ
اگر اماں عائشہ رضی اللہ عنھا اٹھ کر نبیﷺ کو تلاش نہیں کرتیں تو یہ رات تو امت سے چھپ گئ تھی۔۔۔۔ نعوذ باللہ
نبیﷺ نے ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل جس کا اللہ نے حکم دیا ھم تک پہنچا دیا اور کوئ چھوٹی سے چھوٹی برائ جس سے اللہ نے منع کیا نبیﷺ نے ھمیں اس سے دور رہنا بتا دیا۔۔۔۔۔

ایک شب براءت کی عبادت تھی جو وہ خاموشی سے کر رہے تھےنعوذ باللہ۔۔۔۔۔۔کیوں؟؟

یہ بہت بڑا بہتان ھم امتی اپنے پیارے نبیﷺ کے اوپر لگا ریے ہیں۔
دوسرا اسلام میں ہر عبادت کے پیچھے اسکی روح موجود ھے ،بلا وجہ کوئ عبادت نہیں ھے۔

🌸جیسے سورة الفجر میں دس راتوں کا ذکر ھے وہ رمضان کی آخری دس راتیں ھیں اسکو قیام اللیل بھی کہتے ھیں اسمیں لیلتہ القدر کو ڈھونڈنے کو کہا گیا ھے اسلیئے ھم ان دس راتوں میں عبادت کرتے ھیں۔
سورة القدر میں بھی اسی رات کا زکر ھے۔
شب براءت کی کوئ وجہ نہیں،جو وجہ فٹ کی جاتی ھے وہ شب قدر کی ھے۔
قرآن کی سورة الدخان کی ابتدائ آیات میں بھی اس بڑی رات کا زکر ھے جسمیں قرآن اترا وہ بھی رمضان کی رات تھی، شعبان کی نہیں۔
غرض کہ 15ویں شعبان کے بڑی رات ھونے کی قرآن سنت کے حساب سے کہیں سند نہیں ملتی۔

دراصل یہ عمل ھم نے ہندؤں سے لیا ھے وہ اپنی دیوالی بلکل اسی طرح بناتے ھیں طرح طرح کے حلوے بناتے ھیں۔ پٹاخے اور پھلجھڑیاں جلاتے ھیں اور مندروں میں جا کر عبادت کرتے ھیں۔

کیا ھمارے لیئے ایک مخصوص دن رہ گیا ھے کہ ھم اپنے پیاروں کی قبر پر جائیں۔ اور باقی دنوں میں وہ ھماری دعا اور مغفرت کے محتاج رہیں۔
سخت افسوس کی بات ھے اللہ ھمیں عقل عطا کرے۔
یہ یاد رکھیں ھم جن لوگوں سے محبت کریں گے اور جنکے طور طریقوں پر عمل پیرا ھوں گے قیامت میں انہی کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔ اور ھمارا انجام بھی وہی ھوگا جو انکا ھو گا خواہ وہ یہود و نصارٰی ھوں یا ھندو۔۔۔۔۔۔

اللہ ھم سب کو صحیح بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
27 Apr, 2018 Total Views: 1440 Print Article Print
NEXT 
About the Author: پلوشہ نیلم

Read More Articles by پلوشہ نیلم: 15 Articles with 10799 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
محترم جناب بابر تنویر صاحب!آپ نے ’’مولوی آں باشد کہ چپ نہ باشد ‘‘ یعنی مولوی وہ ہے کہ خاموش نہ ہو بلکہ کچھ کچھ نہ کچھ بولے ضرور ،کے مصداق میرے کمنٹ کا جواب دیا ہے اور اس میں جو تحقیق انیق اور علمی جواہر پارے ودیعت کئے ہیں وہ صرف آپ ہی حصّہ ہے مگر اصل نقطہ آپ اس میں گول کر گئے جو کہ مدّعاء مقصود تھا شائد اہل حدیث حضرات کا یہی طریقہ ہے کہ مخا طب کو ادھر ادھر گھمائے رکھو اور اصل بات کی جانب نہ آؤ۔
وہ بات یہ ہے کہ بقول آپکے اگر محدّثین نے کسی حدیث کی اسناد میں تحقیق یا تفتیش کی یا ان پر کوئی حکم لگایا تو اسکی بنیاد کیا تھی یا اس بنیاد کی دین میں حیثیّت کیا تھی یا حدیث اور اسکے رواۃ کی تحقیق کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟
یا یہ کہ محدثین کی اسناد میں تحقیق یا تفتیش اور اسکے راویوں کے حالات کی تحقیق کہ کونسا راوی ضعیف ہے یا علم و تقوٰی یا حافظہ کے قوی ہونے میں بہتر ہے اور اسکی بیان کردہ حدیث قبول و رد کے کس درجہ میں ہے؟ یہ ایک الگ مسئلہ ہے اصل نقطہ جوآپ نے بیان نہیں کیا وہ یہ ہے
کہ محدّثین نے کسی حدیث کے بارہ میں جو حکم لگایا ہے اور اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اگر کوئی اس محدّث کی رائے یا قیاس کو اپنی طرف سے دلیل بنا کر پیش کرے گا تو یہ ان لوگوں کیلئے ایک قابل اعتراض چیزہے جو قیاس کرنے کو شیطانی فعل قرار دیتے ہیں یا تو وہ یہ تسلیم کریں کی قیاس بھی ایک شرعی ماخذہے پھر تو سارا جھگڑا ہی ختم ہو جاتا ہے، جیسا کہ اہل السنّت والجماعت کے نزدیک شریعت مطہّرہ کے چار ماخذ ہیں یعنی قرآن، حدیث،قیاس مجتہد اور اجماع امّت!
مگر اہل حدیث حضرا ت کے نزدیک شریعت کے ماخذ دو ہیں یعنی قرآن اور حدیث، قیاس کو وہ شیطانی فعل قرار دیتے ہیں۔پھر جب کسی امّتی کے قیا س کو وہ کار ابلیس سمجھتے ہیں تو اسے اپنی طرف سے دلیل بنا کر کیوں پیش کرتے ہیں؟ اس میں آپ کے اس اعتراض کابھی جواب ہے کہ ’’اسماء الرّجال‘‘ کی کتابوں مثلاًلسان المیزان،تہذیب الکمال اور تہذیب التّہذیب (جس کا آپ نے حوالہ دیا ہے) میں جن راویوں کی تحقیق کی گئی ہے اس تحقیق کو جن لوگوں نے قبول کیا ہے یا اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ان سب نے’’کار ابلیس ‘‘ والا کام کیا ہے۔
اسکا جواب یہ ہے کہ یہ بات تو تب صحیح ہوگی جب وہ لوگ بھی قیاس کو کار ابلیس سمجھتے ہوں؟ مثلاً امام بخاریؒ کے بارہ میں آپ نے لکھا ہے کہ انھوں نے حافظ ابن حجرؒ کی تحقیق کو قبول کیا ہے تو کیا آپ انکا کوئی ایسا قول دکھا سکتے ہیں جس میں انھوں نے کہا ہو کہ ’’میں قیاس کو کار ابلیس سمجھتا ہوں‘‘ ؟ اسی طرح باقی لوگوں کی مثال ہے۔
رہی آپ کی یہ بات کہ’’اور کیا ایسا نہیں ہے کہ کوئ بھی حدیث اسناد کے بغیر شروع نہیں ہوتی؟‘‘تو اسکا جواب یہ ہے کہ ہر حد یث میں کم ازکم ایک واسطہ صحابیؓ کا تو ضرور ہوتا ہے جو نبی پاکﷺ کے قول کو نقل کرتا ہے، باقی امام بخاری ؒ نے جو اپنی کتاب الجامع الصّحیح المعروف صحیح البخاری جو نبی پاکﷺ کی وفات کے دو سو سال کے بعد تالیف کی اس میں وہ کسی حدیث کے ثبوت میں صرف یہ تو نہیں کہ سکتے کہ’’کہ یہ حدیث ہے اورجب میں نے کہ دیا کہ یہ حدیث ہے تو پھر حدیث ہی ہوگی‘‘ بلکہ وہ ثبوت کے طور پر ان لوگوں کا ذکر کرتے ہیں جن سے انھوں نے حدیث لی ہے اور 200سال کا عرصہ cover کرتے ہیں اسی طرح باقی محدّثین نے بھی اپنی کتابوں میں اسکا اہتمام کیا ہے۔

By: Muhammad Rafique Etesame, Ahmedpureast on May, 03 2018
Reply Reply
0 Like
جناب محمد رفیق اعتصام صاحب، چلیےآپ سے حدیث کا علم ہی حاصل کر لیتے ہیں۔ آپ نے بندے کی حدیث کے دو حصوں کی جانب رہنمائ فرمائ۔ آب ذرا اس بات کی وضاحت فرمادیں کہ اگر کوئ حدیث بغیر اسناد کے بیان کی جاۓ تو اس کی کیا حیثیت ہوگي؟
اور کیا ایسا نہیں ہے کہ کوئ بھی حدیث اسناد کے بغیر شروع نہیں ہوتی؟
اور ایک اور بات کہ جن محدثین نے حدیث کے راویوں پر تحقیق کی اور ان پر حکم لگایا تو اس کی بنیاد کیا تھی ۔ اور اس بنیاد کی دین میں کیا حیثیت تھی؟
اور ایک محدث کسی حدیث کے بارے میں اپنی راۓ اور قیاس سے حکم کب اور کیوں لگاۓ گا؟
حدیث اور اس کے رواہ کی تحقیق کی ضرورت کیوں کر پیش آئ
دوسری بات یہ ہے کہ کیا آپ محدثین کو امّت مسلمہ میں شمار نہیں کرتے؟ کیا وہ نبی پاکﷺ کے امّتی نہیں ہیں؟))))))))))))))
لہٰذا یہ با ت ثابت ہوگئی کہ 15شعبان المعظّم کی فضیلت کے بارہ میں جس حدیث کو ضعیف کہا جارہاہے اسکی بنیاد واقعی کسی محدّث کے قول،ا سکی تحقیق، رائے یا اسکے قیاس پرہے اسکو اللہ یا اسکے رسولﷺ نے ضعیف نہیں کہا لہٰذا اہل حدیث کے اصول کے مطابق اس حدیث کواپنی طرف سے ضعیف کہنا’’کار ابلیس‘‘ ضمن میں ہی آتا ہے یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔))))))))))))
میں اسے احمقانہ فرمان تو نہیں کہتا مبادا آپ برا نہ مان جائيں۔ یہ کہہ دیتا ہوں کہ یہ میں نے آپ کا فرمان عالی شان پیش کیا ہے۔ اب ذرا نصف شعبان کے بارے میں ایک مشہور حدیث پیش کرتا ہوں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اِذَا کَانَ لَــیْلَۃُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُوْمُوْا لَـیْلَتَھَا وَصُوْمُوْا یَوْمَھَا فَاِنَّ اللّٰہَ یَنْزِلُ فِیْھَا بِغُرُوْبِ الشَّمْشِ اِلٰی سَمَائِ الدُّنْیَا فَیَقُوْلُ اَلاَ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَـہٗ؟ أَلَا مِنْ مُسْتَرْزِقٍ فَأَرْزُقَہٗ؟ أَلَا مُبْتَلًی فَأُعَافِیَہُ؟ أَلَا سَائِلٍ فَأُعْطِیَہٗ؟ أَلَا کَذَا وَکَذَا؟ حَتّٰی یَطَّلِعَ الْفَجْرُ (۲۱)
’’جب نصف شعبان کی رات ہو تو اس رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو ۔بے شک اللہ تعالیٰ اس رات میںغروبِ آفتاب کے وقت آسمانِ دنیا پر نزول فرماتاہے۔اللہ تعالیٰ طلوعِ فجر تک یہ آواز لگاتے رہتے ہیں کہ ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا کہ میں اس کو بخش دوں؟ ہے کوئی رزق طلب کرنے والاکہ میںاس کورزق دوں؟ہے کوئی آزمائش والاکہ میں اس کی آزمائش دُور کر دوں؟ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں اس کو عطا کروں؟ کیا ایسا ایسا کوئی نہیں ہے؟‘‘
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس حدیث میں ایک راوی ہے۔ ابن ابی سبرۃ
اس کے بارے میں محدثین کیا کہتے ہیں۔ صالح بن محمد اپنے والد سے بیان کرتے ہیں۔ کہ ابن ابی سبرۃ حدیث گھڑا کرتا تھا۔ ابن معین کہتے ہیں " اس کی حدیث کوئ چیز نہیں ہے، یہ حدیث میں ضعیف ہر۔ ابن المدینی کہتے ہیں : یہ حدیث میں ضعیف تھا،۔ مرۃ کہتے ہیں : منکر حدیث تھا۔ چوز جانی کہتے ہیں : اس کی حدیث میں ضعف ہے۔ امام بخاری اسے ضعیف کہتے ہیں۔ امام نسائ کہتے ہیں : متروک الحدیث تھا۔ حوالہ ( تھذیب التھذیب جلد 12 صفحہ 26-26۔
آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ یہ کار ابلیس کس کا ہے؟حدیث میں نے آپ کی خدمت میں پیش کی ہے۔ تحقیق ابن حجر کی ہے۔ اور حکم اس پر کبار محدثین بشمول امام بخاری نے لگایا ہے۔
یہ یہ سب کا مشترکہ کار ابلیس ہے یا کہ ہر ایک نے انفرادی طور پر اس میں حصہ لیا ہے۔
By: Baber Tanweer, Karachi on May, 02 2018
Reply Reply
0 Like
مندرجہ بالا آرٹیکل کے بارہ میں میرے Comments کا جواب محترم بابر تنویر صاحب نے دیا ہے اورمہذّب او ر شائستہ انداز اور دلیل سے بات کرنے کی بجائے اس میں’’حماقت اور گمراہی‘‘ جیسے الفاظ استعمال کئے ہیں شائد انکا دین و مذہب انہیں یہی سکھاتا ہے کہ جب دلیل سے جواب بن نہ پڑے تو’’کھسیانی بلّی کھمبا نوچے‘‘ کے مصداق اسے صلوٰتیں سنانا شروع کردیں۔
محترم تنویر صاحب! ا حادیث کے بارہ میں آپکی کم علمی کی انتہا یہ ہے کہ آپ کو اتنابھی پتہ نہیں کسی بھی حدیث کے دو حصّے ہوتے ہیں پہلا سند حدیث یا اور دوسرا متن حدیث ، سند حدیث میں ان راویوں کاذکر ہوتا ہے جن سے حدیث لی گئی ہے اور اس میں ان راویوں کے عدل،ضبط اور صحت و ضعف پر بحث کی جاتی ہے جسےChain of Narrationکہاجاتا ہے یعنی سلسلہء روات، اور دوسراحصّہ یعنی متن حدیث وہ ہے جس میں نبی پاکﷺ، صحابیؓ یا تابعی کا قول فعل یا تقریر بیان کی جاتی ہے۔
اب محدّث جس حدیث پر اسناد کی تحقیق و تفتیش کرنے کے بعد صحیح، حسن یا ضعیف ہونے کا حکم لگاتا ہے یااپنی رائے دیتا ہے اسے بھی آپ نے’’حدیث‘‘قرار دے دیا ہے ، یہ ہے آپکا علمی مقام!
مثلاً محدّث کسی حدیث کے بارہ میں یہ کہتا ہے کہ ’’ ھٰذا حدیث حسن صحیح‘‘ کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے یا’’ھٰذا حدیث ضعیف‘‘ کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ تو کیا اسکے یہ الفاظ بھی بعینہ حدیث شمار ہونگے؟ لا محالہ یہ اسکا قول، اسکی رائے یا اسکا قیاس ہے کیونکہ اسے اس بارہ میں کوئی خدائی الہام نہیں ہوا۔
دوسری بات یہ ہے کہ کیا آپ محدثین کو امّت مسلمہ میں شمار نہیں کرتے؟ کیا وہ نبی پاکﷺ کے امّتی نہیں ہیں؟
لہٰذا یہ با ت ثابت ہوگئی کہ 15شعبان المعظّم کی فضیلت کے بارہ میں جس حدیث کو ضعیف کہا جارہاہے اسکی بنیاد واقعی کسی محدّث کے قول،ا سکی تحقیق، رائے یا اسکے قیاس پرہے اسکو اللہ یا اسکے رسولﷺ نے ضعیف نہیں کہا لہٰذا اہل حدیث کے اصول کے مطابق اس حدیث کواپنی طرف سے ضعیف کہنا’’کار ابلیس‘‘ ضمن میں ہی آتا ہے یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔
اور سورۃ دخان کی آیات جمہور علماء کے نزدیک شب برأت کے بارہ میں نہیں ہیں ان سے مراد شب قدرہے جو مضان المبارک میں واقع ہوتی ہے کیونکہ یہ آیات مکّی ہیں۔ بعض علماء کاموقف یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس رات میں قرآن پاک کے نزول کی ابتداء ہوئی ہو اور شب قدر میں انتہاء، بہر حال یہ آپکے کمنٹ کا جواب ہے۔
By: Muhammad Rafique Etesame, Ahmedpureast on May, 01 2018
Reply Reply
0 Like
جناب محمد رفیق اعتصام صاحب، آپ نے تو پورے علم حدیث پر ہی خط تنسیخ پھیر دیا۔ اور جن محدثین نے احادیث پر صحیح ، حسن، ضعیف وغیرہ ہونے کا حکم لگایا ہے اسے آپ نے احادیث کے بجاۓ اس محدث کا قول قرار دے دیا۔ جناب جب دین کا علم نہ ہو تو پھر ایسی حماقت کرنے کے بجاۓ خاموش ہی رہنا بہتر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ صحیح مسلم کا دیباچہ ہی پڑھ لیں۔ تو آپ کو معلوم ہو جاۓ گا۔ کہ کسی حدیث کو صحیح، یا ضعیف کہنا محدث کا قول نہیں بلکہ اس کی اسناد کی تحقیق ہوتی ہے۔ اسے امتی کا قول کہنا حد درجے کی گمراہی ہے۔

دوسری بات یہ کہ نفلی عبادت کرنا اور روزے وغیرہ رکھنا یقینا ثواب کی بات ہے لیکن آپ لوگوں نے 15 دسمبر کو اس سب کی ایک خاص فضیلت بیان کی ہے۔ آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ نے 16 یا 17 شعبان کی رات کو نوافل پڑھنے اور دن میں روزے رکھنے کی ایسی فضیلت بیان کی ہے جیسی آپ 15 شعبان کی کرتے ہیں۔؟
تیسری بات یہ کہ جیسا کہ سسٹر پلوشہ نے کہا کہ آپ کہ آپ کے علماء سورہ دخان کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس سے مراد 15 شعبان کی رات ہے۔ لیکن قران کریم فرقان حمید اس بات کی نفی کرتا ہے۔
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ (سورہ بقرہ)۔
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ﴿١﴾۔
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ﴿٣﴾۔

پہلی آیت کہہ رہی ہے کہ قرآن رمضان کریم میں اتارا گیا۔ پھر سورہ قدر اور سورہ دخان کی مذکورہ آیات میں قران کے نازل ہونے کی رات کو لیلۃ القدر اور لیلۃ مبارکہ فرمایا گيا۔
ان آیات کے مقابلے میں آپ کوئ بھی حدیث پیش کریں گے تو وہ باطل ہوگي۔
اور پھر کتنے ستم کی بات ہے نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تہمت ہے کہ آپ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس بارے میں بتایا ہی نہیں اور امت بلکہ ازواج مطہرات سو رہی تھی اور آپ اکیلے قبرستان میں تشریف لے گۓ۔ جناب اگر 15 شعبان کی کوئ حقیقت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اپنی امت کو اس کی تلقین کرکے جاتے۔ شکریہ۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Apr, 29 2018
Reply Reply
0 Like
جزاک اللہ
بیٹی بہت اچھی حق بات کہی ھے
شب برات کے تمام آرٹیکل پڑھے لکھنے والوں کی کم علمی
اور جہالت پر بہت افسوس ہوا کہ لوگوں کو گمراہ کرنے میں لگے ھوئے ھیں۔
تمھارا آرٹیکل پڑھ کر میں یہ کہوں گا
حق آگیا اور باطل مٹ گیابیشک باطل مٹنے ھی کیلئے ھے
جزاک اللہ خیر
سید ابن صادق کراچی
By: سید ابن صادق , کراچی on Apr, 28 2018
Reply Reply
1 Like
ماشاءاللہ بہت خوب حقیقت کو بڑے اچھے انداز میں سمجھایا ھے اللّٰہ ھم سب کو صحیح بات اصل پیرائے میں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
By: رفیع, جدہ on Apr, 28 2018
Reply Reply
1 Like
شب برأت کو عبادت کر نے اور دن کو روزہ رکھنے پر دو اعتراضات کئے جاتے ہیں مثلاً:
(1) اس رات میں عبادت کرنے کی حدیث ضعیف ہے۔
(2) دن کو روزہ رکھنے کا بھی کوئی ثبوت نہیں لہٰذایہ بدعت ہے۔
بات یہ ہے کہ عبادت کرنا یا روزہ رکھنا ایک مستحب فعل ہے اور مطلوب شرع ہے اور سارا سال ہی جائز ہے یہ چاہے پندرہ شعبان کی رات کو ہو یا تیرہ شعبان یا بارہ شعبان یا ماہ شعبان یا کسی بھی اسلامی مہینے کی کسی بھی تاریخ کو ، یہ جائز اور مستحب ہے اور پھر جب سار ا سال ہی جائز ہے تو پھر پندرہ شعبان کی رات کی عبادت پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟
رہا اس حدیث کے ضعیف ہونے کااعتراض تو اس بارہ میں عرض ہے کہ اس حدیث کو ضعیف کس نے کہاکہا اللہ تعالیٰ نے یا اسکے رسولﷺ نے ؟یعنی کیا قرآن پاک میں اس حدیث کے ضعف کی خبر دی گئی ہے یا نبی پاکﷺ نے خود فرمایا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے؟ ظاہر ہے ایسی بات نہیں بلکہ اس حدیث شریف کو آئمہ حدیث نے یا ان لوگوں نے ضعیف کہاجو اصول حدیث کے فن سے واقف ہیں۔
تو سوال یہ ہے کہ غیر مقلدین اہل حدیث کے نزدیک شریعت میں کیا کسی امّتی کا قول معتبر ہے؟ کیونکہ .....
اہل حدیث کے دو اصول
قال اللہ و قال الرّسول
قیاس کا ر ابلیس ہے
تو پھر کسی حدیث کی صحت و ضعف کے بارہ میں کسی امّتی کے قول کو اپنی طرف سے ایک دلیل بنا کر پیش کرناکیا ’’کار ابلیس‘‘ کے ضمن میں نہیں آتا؟ امّید ہے کہ غیر مقلدین اہل حدیث اسکا جواب ضرور دیں گے۔
By: Muhammad Rafique Etesame, Ahmedpureast on Apr, 27 2018
Reply Reply
0 Like
محترم رفیق صاحب،
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نفلی روزہ رکھنا اور عبادت کرنا ایک مستحب فعل ہے مگر اس کو مخصوص کرنے کا حق صرف اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہے کوئی اگر سارا سال تہجد پڑھتا ہے تو اگر وہ ۱۵ شعبان کی رات بھی تہجد پڑھتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے مگر جو اس رات کو خاص کرکے عبادت کرے گا تو یہ مستحب فعل ممنوع ہو جائے گا اس کی مثال بڑی آسان ہے ظہر میں بارہ رکعت ہوتی ہیں اول چار سنت پھر چار فرض پھر دو سنت پھر دو نفل اب کیا کوئی اس دو نفل کے چار نفل پڑھے اور یہ فرمائے جو اپ فرما رہے ہیں کہ عبادت ایک مستحب فعل ہے تو اگر میں ظہر کے چار نفل پڑھ لوں تو کسی کو کیا اعتراض ہے اس طرح مغرب میں آخر کے دو نفل کی بجائے چھ نفل ادا کر لے تو کیا ثواب کمائے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی بارہ رکعت پڑھی اور بتائی ہے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی ہے اب چاہے وہ فرض عبادت ہو سنت یا نوافل،
دوسری مثال حج کی لیتے ہیں کوئی اپ کی طرح ہی عرض کرے کہ میں عبادت میں دوسروں کے مقابلے ذیادہ حریص ہوں اس لئے میں خانہ کعبہ کے طواف میں سات کے بجائے دس چکر لگاوں گا اس کا یہ عمل درست کہلائے گا
اور رہی بات کہ حدیث کو ضعیف نہ اللہ نے کہا اور نہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مگر اللہ نے حکم دیا ہے
اے ایمان والوں جب کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو"سورہ الحجرات"
تو یہ تو امام الانبیاء کی خبر ہے اس کی تحقیق تو بدرجہ اولی ہونی چاہیے آیا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے بھی یا نہیں کیونکہ اگر یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے تو دین ہے اور اگر نہیں ہے تو یہ لوگوں کے لئے گمراہی کا سبب نہ بن جائے اس لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر محدثین نے اس پر کام کیا تاکہ دین میں کوئی غلط بات نہ شامل ہو جائے اللہ ہدایت دے۔
By: tariq, karachi on Apr, 29 2018
3 Like
السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
جناب رفیق صاحب
آپ نے وضاحت طلب کی ھے کہ حدیث کا صحیح اور ضعیف ھونے کا کہ یہ اللّٰہ نے کہا ھے یا رسول نے کہا ھے؟
رہا قرآن کا معاملا تو قرآن میں ھر بات نہیں بتائی گئی ہے بلکہ بذریعہ وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زریعے ہمیں معلوم ھوئ ھیں۔۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا کوئی عمل 15ویں شعبان کی خصوصی عبادات کی نشاندھی نہیں کرتے ھیں۔ رہا آپ کا عبادت کرنا اور نفلی روزہ رکھنا تو آپ شوق سے رکھیں مگر اسکو اجتماعی طور سے ایک مخصوص دن کا اپنے طور پر مقرر کر لینا ایک بدعت و گمراھی کے سوا کچھ نہیں ھے۔
دراصل یہ ایک ابلیسی فعل ہے جو اس نے لوگوں میں پھیلا دیا۔
By: رفیع اللّٰہ, Jeddah on Apr, 28 2018
2 Like
جزاک اللہ خیرا سسٹر۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Apr, 27 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB