جڑواں بہن بھائی ہونے کے فائدے اور نقصانات دونوں

 

جڑواں بھائی ہوں یا بہنیں دیکھنے والوں کے لیے کافی کشش رکھتے ہیں، لیکن خود ان کی زندگی کتنی پُرکشش ہوتی ہے یہ وہ خود ہی جانتے ہیں۔ جڑواں ہونے کے جہاں کئی فائدے ہیں تو نقصانات بھی ہیں۔

ہم شکل بھائی کرکٹ ٹیم میں ہوں تو اچھے بلے باز سے 2 مرتبہ بیٹنگ کروائی جاسکتی ہے۔ ایک بھائی بیمار ہو تو دوسرا اُس کی جگہ امتحان دے سکتا ہے جبکہ دوسری جانب اگر ایک نے کسی کے پیسے کھائے ہیں تو دوسرا اُس کی جگہ مار بھی کھا سکتا ہے!

یہ مشاہدات جھاڑنے کی ٹھوس وجہ یہ ہے کہ ہم خود جڑواں بھائی Identical Twins ہیں۔ بچپن سے لڑکپن تک ایک ہی جیسے کپڑے پہنے، ایک ہی اسکول بلکہ ایک ہی کلاس میں پڑھے۔ پھر ایک ہی کرکٹ ٹیم میں کھیلے اور ایک ساتھ ہی بیمار ہوتے تھے۔
 


کسی تقریب میں جاتے تو ایسا لگتا ابّا جان نے ہم پر ٹکٹ لگادیا ہے، جسے دیکھو ہم دونوں بھائیوں کے نقوش پر تبصرہ شروع کردیتا، ’ارے! ان کے تو دانت بھی ایک جیسے ہیں، واہ بھائی ان کی تو آواز بھی ایک ہی ہے، یہ تو ہنستے بھی ایک طرح سے ہیں۔‘ سچ پوچھیے ہم بھائیوں کو اپنی اس نمائش پر بہت کوفت ہوتی۔ ایک جیسے لباس کی وجہ سے ہم بہت جلد ہی لوگوں کی نظروں میں آجاتے تھے۔

جڑواں بچے 2 طرح کے ہوتے ہیں، آئیڈینٹیکل (ہم شکل) اور نان آئیڈینٹیکل (غیر ہم شکل)۔ دنیا بھر میں ایک ہزار بچوں میں 13 جڑواں پیدا ہوتے ہیں جبکہ ان میں غیر ہم شکل کی شرح زیادہ ہے۔ پی ایل او ایس ون (PLOS One) نامی عالمی ادارے کے جڑواں بچوں پر کیے گئے ایک سروے کے مطابق افریقی ملک بینن (Benin) میں جڑواں بچوں کی شرح پیدائش سب سے زیادہ ہے۔ بینن کو لینڈ آف ٹوئنز (جڑواں بچوں کی سرزمین) بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں ایک ہزار میں 28 جڑواں بچے جنم لیتے ہیں۔

ماہرینِ صحت کے مطابق 1980ء کے بعد دنیا بھر میں جڑواں بچوں کی پیدائش میں تیزی آگئی ہے، صرف امریکا میں ہی 2014ء میں ایک لاکھ 35 ہزار 336 جڑواں بچے پیدا ہوئے، جب کہ ہر سال ان میں اضافہ ہورہا ہے۔

یونیورسٹی آف واشنگٹن کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جڑواں بچے عام بچوں کے مقابلے میں زیادہ لمبی عمر پاتے ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جڑواں بچوں کو جنم دینے والی مائیں دیگر ماؤں کے مقابلے میں زیادہ صحت مند ہوتی ہیں۔

امریکی ادارے ناسا نے حال ہی میں خلاء کی زندگی کے انسانوں پر اثرات کے بارے میں جاننے کے لیے جڑواں بھائیوں سے مدد لی ہے۔دی انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق اسکاٹ کیلی نامی خلا نورد کو خلاء میں بھیجا گیا جبکہ اس کا بھائی مارک کیلی زمین پر موجود رہا۔

سائنسدانوں نے اسکاٹ کیلی کو اس لئے خلاء میں بھیجا تاکہ اس کے جینز میں ہونے والی تبدیلیوں کا اس کے بھائی کے جینز کے ساتھ موازنہ کیا جاسکے کیونکہ جڑواں ہونے کی وجہ سے دونوں کے جینز کا موزانہ کرکے تبدیلیوں کا پتہ چلانا آسان تھا۔

خلاء میں تقریباً ایک سال گزارنے کے بعد اسکاٹ کیلی کے معائنے کے بعد تیار کی گئی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ان کے جڑواں بھائی کی نسبت ان کے جینز کے ٹیلو میئر لمبے ہوچکے ہیں۔ ٹیلو میئر کروموسوم کے سروں پر موجود خول ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کے لیے یہ بات انتہائی حیران کن ہے کیونکہ کسی انسان کے ٹیلو میئرز لمبے ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسے بڑھاپا دیر سے آئے گا اور عمر نسبتاً طویل ہوگی۔ خلاء میں ایک سال گزارنے کے دوران ٹیلومیئرز لمبے ہونے کا بظاہر یہ مطلب نظر آتا ہے کہ خلاء میں انسان کی زندگی زمین پر اس کی زندگی کی نسبت طویل ہوگی۔

میدان کھیل کا ہو یا شوبز کا، جڑواں بہن بھائی ہر جگہ توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں بھی کئی نامور جڑواں اداکار اور اداکارائیں ہیں، جن میں آج کل ہر دوسرے ڈرامے میں مرکزی کردار ادا کرنے والی ایمن بھی شامل ہیں جن کی ہم شکل بہن منال بھی اداکاری کے جوہر دکھارہی ہیں۔

گزشتہ سال کے کامیاب ترین ڈرامے ’اڈاری‘ کے مرکزی کردار احسن خان بھی جڑواں ہیں، ان کے ہم شکل بھائی یاسر خان برطانیہ میں رہتے ہیں۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے اداکار و ماڈلز حماد فاروقی اور فراز فاروقی بھی جڑواں بھائی ہیں۔ اسی طرح مشہور اداکارہ عینی جعفری کی بھی جڑواں بہن ہیں جن کا نام مہر جعفری ہے اور وہ پروڈیوسر ہیں۔ ڈراموں میں چائلڈ اسٹار کی حیثیت سے مشہور ہونے والی عریشہ اور سارہ بھی ہم شکل بہنیں ہیں۔
 


کرکٹ کی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کرنے والے آسٹریلوی آل راونڈر اسٹیو وا اور اوپنر مارک وا بھی ہم شکل بھائی ہیں جبکہ نیوزی لینڈ کے مارشل برادرز بھی جڑواں تھے گوکہ وہ زیادہ نامور نہیں، لیکن مارشل برادرز انتہائی حیران کن طور پر ایک دوسرے کے مشابہہ تھے۔ سابق آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ کہتے ہیں کہ انہیں دونوں بھائیوں کو پہچاننے میں بہت مشکل ہوتی تھی، اگر وہ الگ الگ برانڈز کے بلے استعمال نہ کرتے تو ان دونوں میں تمیز کرنا انتہائی مشکل ہوجاتا۔
 


جڑواں بچوں کی شرح پیدائش کے حوالے سے حال ہی میں بھارت کا ایک گاؤں سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ الٰہ آباد کے محمد پور عمری گاؤں میں جڑواں بچوں کی شرح پیدائش حیران کن حد تک زیادہ ہے۔ اس گاؤں میں پیدا ہونے والے ہر 10 بچوں میں ایک پیدائش جڑواں بچوں کی ہوتی ہے اور حیرانی اس بات کی ہے کہ یہ جڑواں بچے ہم شکل یعنی آئیڈینٹیکل ٹوئن ہوتے ہیں۔ عام طور پر کسی عورت کے ہاں ایک جیسے جڑواں بچوں کی پیدائش کا امکان 300 میں سے ایک ہوتا ہے۔

بھارت میں ہی ایک ایسا انوکھا اسکول ہے جہاں زیرِ تعلیم طلبا میں سے 28 جڑواں بہن بھائی ہیں۔ آندھرا پردیش کے اس اسکول میں یہ جڑواں بچے گریڈ ون سے ہائی اسکول کی کلاسز میں زیرِ تعلیم ہیں۔ ان جڑواں بہن بھائیوں میں 10 لڑکیوں اور 12 لڑکوں کے جوڑے شامل ہیں جبکہ 6 جوڑے ملے جلے ہیں۔ اسکول پرنسپل مہیش کمار کے مطابق اساتذہ کو تدریسی عمل کے دوان کافی دقت کا سامنا رہتا ہے۔ بچے بھی اکثر جڑواں ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

(بشکریہ: فرحان محمد خان - ڈان نیوز)

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
29 Apr, 2018 Total Views: 4964 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
This would seem like not much of a big deal, but trust me, to most twins it is. You spend your whole life trying to build up your identity, who you are to other people. Then the day comes when someone says that you’re your sister. People state that "they wish they were a twin," but they don't really know the many benefits and drawbacks of being one.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB