پاکستان کا تعلیمی نظام یا پیسہ بنانے کی فیکٹریاں

(Sajid Habib Memon, )

ہم دیکھتے ہیں کہ ملک میں جو بھی حکومت آتی ہے وہ تعلیم کے فروغ کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرکے ہی اقتدار بناتی ہے مگر یہ حقیقت بعد میں آشکا رہوتی ہے کہ جب اس حکومت کے جانے کے دن ہوتے ہیں۔ اور صورتحال یہ ہوتی ہے کہ تعلیمی ایمرجنسی کا یہ نعرہ ان کے ووٹوں کے حصول کے لیے اور منشور کی کتاب میں چھپی ایک لائن سے بڑھ کا نہیں ہوتا ،یہ سب جانتے ہوئے بھی حکومتیں اپنی عوام سے ہاتھ کرجاتی ہیں کہ کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار اس کی شرح خواندگی پر منحصر ہوتاہے ،بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں تعلیم کی دیکھ بھال کا ذمہ ان لوگوں کے ذمے ہوتا ہے جو خود جعلی ڈگریوں کو حاصل کرکے ملکی ایوانوں میں بیٹھے ہوتے ہیں ،پاکستان میں سرکاری و پرائیویٹ اسکولوں کی ابتر صورتحال کے ذمہ دار کون لوگ ہوتے ہیں اس کا اندازہ لگانا اب کونسا مشکل کام رہ گیاہے مگر اس کی اصلاح کرنا مشکل کام اس لیے ہوچکاہے کہ ہم خود اس نظام کو ٹھیک کرنے کی بجائے وقتی خوشی کی خاطر اسے برباد کرنے والوں کے ساتھ ہی کھڑے ہوجاتے ہیں ۔اس وقت ملک میں اسکول جانے والے بچوں کی تعداد پانچ کروڑ سے زیادہ ہوچکی ہے مگر ان سب کو معیاری تعلیم دینے کی کوششوں میں اس ملک کے سرکاری پرائمری ،سیکنڈری اسکول وکالجز تقریبا ً ناکام ہوچکے ہیں ،بھلا جن تعلیمی اداروں میں بچوں کو تعلیم دینے کی بجائے پیسہ بنانے کی مشین یا فیکٹری سمجھ لیا جائے وہاں بھلا کیسی تعلیم اور کیسا نظام تعلیم ہوسکتاہے ،اس ملک میں کروڑوں بچے ایسے ہیں جو اس کشمکش کے باعث اسکولوں سے محروم ہوکر گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں کیونکہ ان کے والدین ان اسکولوں کی بھاری بھرکم فیسوں کو دینے سے قاصر ہوتے ہیں ،حکومت کے زیر انتظام اڈھائی لاکھ اسکولوں میں غیر معیاری سہولیات اور ٹیچرز نہ ہونے کے باعث ان سرکاری اسکولوں کی حیثیت اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ اب یہاں والدین اپنے بچوں کو پڑھانا وقت کا ضیاع سمجھنے لگے ہیں ،جبکہ پرائیویٹ اسکولوں میں والدین اور بچوں کا یہ حال ہوجاتاہے کہ وہ فیسوں میں اضافے ،مہنگی کتابوں اور کاپیوں کو خریدتے خریدتے وقت سے پہلے ہی بوڑھے ہوجاتے ہیں ،اس کے علاوہ بے شمار نجی تعلیمی اداروں نے ملک میں تعلیمی اداروں میں ہونے والی دہشت گردی کا بھی خوب فائدہ اٹھارکھاہے یعنی معصوم بچوں کے سہمے ہوئے والدین سے جہاں مختلف معاملات میں پیسے بٹورے جاتے ہیں وہاں ان سے سیکورٹی فراہم کرنے کے نام پر بھی الگ سے چارجز لیے جاتے ہیں ،تعلیمی اداروں کو اونچی دکان پھیکے پکوان کے محاورے کے طور پر لیا جائے تو درست ہوگا باہر سے رنگ برنگے اور مہنگی دیواروں اور تزین وآرائش سے آراستہ اسکولوں اور ائیرکنڈیشن کمروں کو دیکھ کر اکثر والدین کا دل للچاجاتاہے کہ کاش ان کے بچے بھی ایسے ہی اسکولوں میں زیر تعلیم ہو مگر جو لوگ اپنے پیٹ کاٹ کر ایسے اسکولوں میں اپنے بچوں کو پڑھانے ڈال بھی دیں تو انہیں یہ احساس جلد ہی ہوجاتاہے کہ یہاں صرف مہنگی فیسوں کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہاں قدم قدم پر مختلف کاموں کے لیے بچوں سے پیسے طلب کیئے جاتے ہیں،

،یعنی یوں کہاں جائے کہ اس وقت ملک میں ستر فیصد اسکولوں میں تعلیم کے نام پر دولت اکھٹی کرنے کا نظام چل نکلا ہے، یہاں کچھ لوگوں نے اپنے اپنے نجی تعلیمی اداروں کو نجی کاروبار بنا لیا ہے ،بعض لوگوں نے اسے منافع بخش کاروبار سمجھتے ہوئے اپنی ہی کشادہ کوٹھیوں کو اسکولوں کا نام دے دیاہے والدین اچھے اور معیاری اسکولوں میں پڑھانے کو اپنی مجبوری سمجھنے لگے ہیں کیونکہ ملک میں جو حال اس وقت سرکاری اسکولوں کا ہے اس سے توخدا کی پناہ ہی مانگی جاسکتی ہے،یہ ہی نہیں بچہ اگر کسی طرح سے پڑھ لکھ کر جب کالجز اور یونیورسٹیوں میں پہنچتا ہے تو اسے وہاں ہزاروں کی بجائے لاکھوں کے نیچے آنا پڑتاہے یعنی ان کالجز سالانہ فیسیں سا ت سے آٹھ لاکھ روپے تک ہوتی ہے اس کے علاوہ مہنگے ہوسٹل اور آنے جانے کے اخراجات اور مختلف فنڈز کا بخار یہاں بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔جبکہ سرکارتعلیمی اداروں کی اس بربادی کا بھرپور فائدہ اٹھانے والے پرائیویٹ اسکول مالکان کی اس ضمن میں چاندی ہوجاتی ہے اس طرح جوں جوں سرکاری اسکولوں کی حالت زارخراب ہوتی جارہی ہے اسی انداز میں پرائیویٹ اسکولوں کی فیسیں بھی بڑھتی چلی جاتی ہیں اس پر ملک میں پھیلا مہنگائی کا وہ طوفان جو کسی غریب تک بعد میں پہنچتا ہے پہلے پرائیویٹ تعلیمی اداروں تک ضرور آن پہنچتا ہے یعنی معلوم نہیں کہ ہر سال ہی فیسیوں میں اضافہ ہوتا ہے یا پھر ایک دو مہینے کا گیپ دیکر کیونکہ فیسوں میں مسلسل اضافہ بچوں کے بھاری بھرکم بیگوں سے بھی بڑھ چکاہے معصوم بچے حیران وپریشان جہاں روزانہ والدین کی دکھ بھری باتیں سن کا اسکولوں کا رخ کرتے ہیں یعنی بچے جب والدین کو کہتے ہیں کہ آج فلاح فلاح دن ہے اس کے لیے سب بچوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے گھروں سے اتنے اتنے پیسوں کو لیکر آئیں اس پر جب بچہ اسکول پہنچتاہے تو اس کو نئی پرچی تھما دی جاتی ہے یا پھر نئی پرچی کے لیے اگلی ڈیٹ دے دی جاتی ہے ان مختلف فنڈوں سے ہلکان والدین کا جہاں بیڑہ غرق ہوا ہوا ہوتا ہے وہاں ان معصوم بچوں کی زندگیاں بھی کچھ مختلف نہیں ہوتی بلکہ ہر وقت فنڈز کا رونے والے ان اسکولوں کا اندرونی تعلیمی معیارناقص ہوتا ہے جہاں دوچار انگریزی بولنے والی ٹیچرز کا رعب اور بغیر پلاننگ کے جاری کلاسز کا ایک طویل دور جنم لے چکاہوتا ہے ،اور جس میں ہر سال نہ ختم ہونے والا تیس سے چالیس فیصد فیسوں کا اضافہ ۔اس سارے معاملے میں ایک بڑاکردار ہماری ریاست کا ہوتاہے جو اس سارے کھیل میں مکمل طور پر مفلوج دکھائی دیتی ہے اربوں روپے کا تعلیم کے نام پر ملنے والا بجٹ زمین کھاجاتی ہے یا پھر آسمان کسی کوکچھ پتہ نہیں چل پاتا اسی طرح یوں کہاجاسکتا ہے کہ ملک کا اس وقت یہ حال ہے کہ جس کا جہاں داؤ لگتا ہے وہ وہی اپنا کام دکھا دیتاہے ،اپنی اپنی حکومتوں کوعلم دوست حکومت بتا کر غریب عوام اور اس ملک کے ہونہاروں کا جس انداز میں استحصال کیا جارہاہے یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات تو رہی نہیں ہے ۔ ملک میں تعلیمی ایمرجنسی کا نام دیکر جس انداز میں غریب لوگوں کے چولہے بجھا دیے جاتے ہیں یہ تمام تر انداز نجی تعلیمی اداروں کے مالکان اپنے سے اوپر کے لوگوں سے ہی سیکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت خود اس وقت دونوں ہاتھوں سے سمیٹ رہی ہے تو پھر وہ کس طرح سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں ۔
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
04 May, 2018 Total Views: 482 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Sajid Habib Memon

Read More Articles by Sajid Habib Memon: 15 Articles with 4969 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Correct,But sir we must also see the other side of the coin.Lets be straightforward and admit that the school owners are not the saints,They have also thier families to feed,Starting a school is not a small investment and money has its costs.If the school is running under a huge tree then cost will be much less but its not the case in reallity.Lets examin the situation reallistically.A small school in Lahore city usually, is situated in a one kanal house in a posh area.In Nawwab town my sister is paying 25000 monthly rent for a ground story of a ten marla house.One kanal kothi is usually availlable for 70000 rent plus 30000 Rs. in different bills.Lets assume one M.A. paas head teacher,s salary about 35000 Rs.Per month and ten more assistances including workers for minimum salary of 15000 Rs.per month.one lakh rent plus 185000 Rs. just for salaries and atleast 500 thousands for advance or deposit as the security of the rented house.Furniture costs can be assumed about 500 thousand,Lets assume 2% per month the cost of the initial investment which we keep it as low as one million,10 laakh.The minimum cost of the investment of ten lakh Rs. is 2 lakh plus 185000 salary per month including rent plus 15000 mislenious expences.This only brings the monthly expences to about 400 thousand Rs. The admin or the owner may have a monthly salary or profit which we assume 0ne lakh.The minimum costs are now 500 thousand Rs. monthly.If the school have lets say 250 students,The school will have to charge atleast 20000 Rs.per student just to meet the monthly minimum needs.
By: Manzoor Ahmad Chohan, Lahore on May, 14 2018
Reply Reply
0 Like
or in niji idaron my teacher ki salaries bhi intehai kam hony ki waja sy un ka b estehsal kia ja raha hy.5hazar sy lekar zyada sy zyada 15 hazar tak in ki tankhwaen hain, yahi sara ka sara maal malikan ky pait my ja raha hy or un ki tejoryan bhar rahi hain
By: asif, peshawar on May, 13 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB