سائنس کے سادھو

(Sidra Subhan, )

جن صاحب سے ہماری میٹینگ تھی وہ ہمارے سپروائیزر ہونے کیساتھ ساتھ Vice president of the University, Dean of sciences and research projecs, Dean of construction work and projects and Head of the department of chemical engineering and processessing industry بھی تھے۔ مجھے لگا کہ موصوف کسی لمبی چوڑی گاڑی میں تھری پیس پہن کہ آئیں گے ، آگے پیچھے گارڈز ہونگے، چہرے پر بلا کی رعونت ہو گی اور نجانے ہمیں کتنا انتظار کرنا پڑے گا لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو وہ شارٹس پہنے پہلے سے ہی لنچ ٹیبل پر ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ رسمی دعا سلام تو لنچ کے دوران ہو گئی اور پھر نہایت ہی دھیمے پر وقار لہجے میں لیب کے متعلق کچھ ضروری بریفینگ دے کر چھتری اٹھائے پلاسٹک کے چپل پہنے سائیکل پر آفس چلے گئے۔ برستی گرمی میں ایک ہاتھ میں چھتری پکڑے دوسرے ہاتھ سے سائیکل چلاتی اس خاتون کو میں نے بارہا ڈیپارٹمنٹ میں دیکھا ۔ وہ کئی کئی دنوں تک ایک ہی قسم کا لباس پہنتی تھی۔ اکثر تو چپل پہن کر ہی آجاتی تھیں۔ شکل و صورت اور انداز و اطوار کے لحاظ سے بھی ایک عام سی عورت ہی لگتی تھیں ۔ آپس کی بات ہے کہ ایک خاتون ہو کر بھی کپڑوں اور جوتوں پر توجہ نہ دینے والی خواتین کے متلق جو جذبات ہم پاکستانیوں کے ہیں اس سے اندازہ کر لیں کہ انہیں دیکھ کرمیرا کیا حال ہوا ہو گا یہ اور بات کہ چائینہ آکر استری کی شکل ہی بھول گئی ہے۔ ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ موصوفہ vice presidentکی بیگم اور چائینہ کی مایہ ناز پروفیسر ہیں جنکا شمار دنیا کے بہترین سائنس دانوں میں ہوتا ہے۔ بے شمار ریسرچ پیپرز لکھ چکی ہیں اورکئی cover papers بین الاقوامی جریدوں میں شامل ہیں جبکہ سائنس پر متعدد کتابیں بھی لکھ چکی ہیں۔ ایک اور پروفییسر کم میکنک جنکے پروفیسر ہونے کا پتہ تب چلا جب پانچویں دفعہ ایک مشین کی مرمت کے بعد انہوں نے کلاس میں جانے کی اجازت چاہی۔ اصلیت معلوم ہونے کے بعد جب ہم نے انہیں مطلوبہ عزت دینی چاہی تو وہ ناراض ہونے لگے کہ جیسے یہ کوئی اتنی خاص بات نہیں ۔ پروفیسر Zhao کو لیب والے مشین کہتے ہیں۔ ایک سال میں کم از کم دس ریسرچ پیپرز شائع کرواتی ہیں ۔ انکے منہ سے شاید ہی ریسرچ کے علاوہ کوئی بات سنی ہو کسی نے۔ ایک دفعہ کسی کام سے انکے ساتھ ہسپتال جانا ہوا۔ رپورٹس لینے میں ابھی خاصا وقت تھا اور دو عورتیں بغیر بات کیے کیسے رہ سکتی تھیں سو بات شروع ہوئی پاکستان کے نظام تعلیم اور ریسرچ کے معیار پر۔ میں نے جوابی بات شروع کی تو مذہب ، سیاست،، معاشرت سے اور پھر اخلاقیات سے لدی انگریزی کے ہچوکے لگاتی نثر اور شاعری سے گزرتی ہوئی بالآخر تعلیم تک جب پہنچی تو دیکھا کہ وہ تو حیرانی کی انتہا پر کھڑی ہیں کہ کیسے لوگ ہیں آپ اتنا زیادہ کچھ ایک ساتھ کیسے کر لیتے ہیں ؟ یا تو انتہائی جنیئس ہیں یا پھر ریسرچ کے معاملے میں انتہائی غیر سنجیدہ، کیونکہ سائنس دانوں کے پاس ماسوائے سائنس کے کسی اور کام کیلیئے وقت ہی کہاں بچتاہے۔ اور میں نے ریسرچ کے باقی پول کھلنے کے ڈر سے جلدی جلدی بات گول مول کر کے رپورٹس اٹھا ئیں اور الٹے پاؤں واپس آگئی ورنہ توبتانے کو اور بھی کافی کچھ تھا ۔ یہاں کا ماحول ہی پڑھائی اور ریسرچ سے لدا پھدا ہے، یعنی اگر کوئی نہ بھی پڑھے تو سب کو دیکھ کر مجبورا پڑھنے لگ جاتا ہے۔ ہمارے لیب فیلوزرات ۹ بجے تک لیب ہوتے ہیں اور اسکے بعد ۱۱ نجے تک لائبریری ۔ یہاں کی لیبارٹریاں ہمہ وقت کھلی رہتی ہیں حتی کہ فروری کے مہینے میں جب پورا چائینہ نئے سال کی تیاریوں میں جت جاتا ہے اسس وقت بھی لیبارٹریاں بند نہیں ہوتیں نہ ہی کہیں لیب اسسٹنٹ کا کوئی رواج ہے۔ لیب آ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے کسی نے ان تمام مزدوروں کو سائنس کی مزدودری پر لگا دیا ہو۔بلکہ مزدور بھی کیا یہ تو سائنس کے درویش لگتے ہیں جنہیں سائنس کے علاوہ کوئی دوسری بات ہی نہیں آتی۔ اشفاق احمد صاحب اپنے مشہور زمانہ ناول من چلے کا سودا میں کہتے ہیں کہ اگر تمہیں مذہب کو سمجھنا ہے ہ تو سائنس سے لو لگانا ہو گا، کیونکہ دنیا میں دو طرح کے صاحبان علم ایسے ہیں جو عمل کے اکھاڑے میں اتر کر علم حاصل کرتے ہیں، ایک سائیں اور دوسرا سائنس دان۔ دونوں کو اپنے لیبارٹری میں قلعہ بند ہو کر علم حاصل کرنا ہوتا ہے کسی کتاب ، اخبار، رسالے یا کالم سے نہیں۔پھر جب لیبارٹری میں ان پر حقیقت منکشف ہوتی ہے اور علم حاصل ہوتا ہے تو الفاظ انکا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور انکا بیان رک جاتا ہے البتہ سائنس دانوں پر اﷲ کا کرم یہ ہے کہ وہ ہندسوں میں بات کر لیتے ہیں فارمولے انکی بات کا مفہوم بتا دیتے ہیں۔ یہاں کی ہر لیبارٹری میں آپکو سائنس کے سادھو نظر آئیں گے۔نجانے یہ اساتذہ کا فیضان نظر ہے یا کہ مکتب کی کرامت کہ نہ تو انہیں کپڑوں کا شوق نہ خوراک کی ضرورت، نہ کوئی بیماری لگتی ہے نہ بارش کا بہانہ چلتا ہے۔ نہ سیاست کا پتہ ہے نہ معاش کی فکر، بس سائنس کی دھن میں مست لیبارٹری میں قلعہ بند رہتے ہیں کسی صلے اور انعام کی تمنا سے ماورآء۔ نہ تعریف کا سہارا لیتے ہیں نہ ہی تنقید سے گھبراتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انکی زندگی بس سائنس کی خدمت کیلیئے وقف کر دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ۸۱۰۲ میں چائینہ کا ریسرچ پرافائل باقی دنیا میں سب سے ہائی ہے۔ دنیا انہیں ٹیکنالوجی کا بے تاج بادشاہ سمجھتی ہے جبکہ یہ خود کودرویش سے اگلا درجہ دینے کو تیار نہیں۔ جبکہ ہماری لیبارٹریوں کا حال تو آپ سب کو معلوم ہے۔ نہ ہم سے سائنس کی خدمت ہوتی ہے نہ ہی حکومت ہمیں خدمت کرنے کیلیئے موقعے فراہم کرتی ہے۔ اور اگر وہ بھی ہو جائیں تو ہمارے پاس سوچنے کو اور بہت کام ہوتے ہیں۔ سیاست پر بھی نظر ہوتی ہے، مذہب کے معاملات بھی دخل اندازی کرنا اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں، فیشن کا بھی از حد شوق ہے ۔ ہمارا کوئی گھنٹہ بغیر خبریں سنے اور ایک دوسرے پر طنز کیے نہیں گزرتا۔پچھلے دنوں کسی دوست نے قاسم علی شاہ صاحب کی ایک وڈیو دکھائی جسمیں انہوں نے پاکستانی سٹوڈنٹ کیساتھ چائینیز پروفیسر کے رویے کی بات کی تھی جو کہ رات ۱۱ گیارہ بجے کسی ریسرچ کے موضوع پر بحث کرنے جاتی ہے تو اسکے پروفیسر اپنے بیوی بچوں کو نیند سے جگا کر کہتے ہیں کہ سلام کرو اس قوم کو کہ جو کہ رات دن کا ہوش کیے بغیر ریسرچ میں جتی رہتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں بہت ہی کم اساتذہ ایسے ہیں جو اپنے طالب علموں کو سائنس دان بننے کی ترغیب دیتے ہیں ورنہ اکثر تو بس ڈگری مکمل کرنے اور اچھی نوکری حاصل کرنے پر ہی زور دیتے ہیں
شکایت ہے مجھے یا رب خداوندان مکتب سے سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا،

اور پھرہمارا کوئی پروفیسر کسی دن سائیکل پر آجائے یا پھر کوئی خاتون بغیر استرے کے کپڑے پہن لے تو ہمارا پورا دن ا نہیں ڈسکس کرنے میں گزر جاتا ہے۔ ہمارا دین ہمیں عاجزی سکھاتا ہے لیکن ہمارا معاشرہ نمود و نمائش کی دکان بن گیا ہے ار یہ کلچر ہمارے تعلیمی اداروں میں عام ہے یعنی ہمارے ملک میں تعلیم کا اندازہ قابلیت سے کم اور انگریزی فیشن کی چرب زبانیوں سے زیادہ لگایا جاتاہے یہی وجہ ہے کہ ہماری توجہ سائنس سے ہٹ کر باقی امور پر زیادہ ہو گئی ہے اور ہمارے جرنلز کی کرینکنگ گرتی جا رہی ہے۔ہم سائنس کو اپنی میراث تو سمجھتے ہیں لیکن اسکی دیکھ بھال کی ذمہ داری چائینہ جیسے باقی ممالک کو سونپ دی ہے۔ ہمارے وہی سائنس دان جو اپنے ملک کی لیبارٹریوں میں سائنسی تجربوں سے زیادہ اہمیت سیاسی مذہبی اور معاشرتی تجربوں کو دیتے ہیں وہی دوسرے ممالک جا کر ہائی ایمپیکٹ فیکٹرز میں اپنی تحقیقیں جمع کرواتے ہیں۔ خدا نے ہمیں عقل اور صلاحیت دونوں سے مالا مال کیا ہے لیکن ہم انہیں بے مصرف چیزوں میں صرف کر کے اپنے خدا اور اپنے ملک کیساتھ بد دیانتی کرتے ہیں۔ کاش ہم بھی ان سائنس کے سادھووں سے کچھ سیکھ لیں اور سادھو نہ سہی ریسرچرز ہی بن جائیں۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
08 May, 2018 Total Views: 299 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Sidra Subhan

*Hafiz-E-Quraan

*Columnist at Daily Mashriq (نگار زیست)

*PhD scholar in Chemistry
School of Chemistry and Chemical Engineering,
Key Laborator
.. View More

Read More Articles by Sidra Subhan: 18 Articles with 6398 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB