ھماری عسکری اور

(Muhammad Zeshan Ali, Islamabad)

should we allow them to cross border and kill 150

نواز شریف نے ایسی بات کی کہ جس کا تھریٹ وہ پچھلے کافی دنوں سے دے رہے تھے۔نواز شریف اصل میں خود بوکھلاٹ کا شکار ہیں،جب سے انکو نااہل کیا گیا ہے،تب سے وہ جمہوری اور عسکری قیادت کو ایسے بیانات سے نقصان پہنچانے کے درپئے ہو گئے ہیں۔ ٹھیک ہے کہ پرویز مشرف،درانی اور رحمان ملک وغیرہ نے اس بارے کئی بار کہاکہ دہشتگرد پاکستان کے ہی صوبہ سندھ سے گئے تھے ،لیکن انھوں نے نوازشریف کی طرح یوں نہیں کہا،کہ(should we allow them to cross border and kill 150 peoples)کیا ہمیں بمبئی حملے کے لیےیا150 لوگ مارنے کے لئے اجازت دینی چاہیے تھی؟

یہ سوال ہے یا جواب؟؟

سب نے اپنا اپنا حصہ ڈالا،چاہے وہ اس وقت کی ہماری عسکری قیادت تھی، یا جمہوری۔لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ اس حملہ کو ہماری طرف سے پلین کیا گیا تھا۔نوازشریف صاحب اپنی بات پہ قائم ہیں،اور قومی کمیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔لیکن کمیشن کیوں اور کس لئے بنایا جائے؟جب ہر بات واضع ہے کہ حملہ میں خود را ملوث ہے، پاکستان کو آج تک انکوائری کے لئے اجمل قصاب تک رصائی نہیں دی گئی۔ اور معاملہ ختم یا لیٹ بھارت کی طرف سے ہوا تھا۔تو کوئی وجہ نہیں بچتی،مجھ ناقص العقل کو جہاں تک سمجھ آئی ہے تو عمران خان کی بات میں دم لگا کہ خود کو بچانے کے لیے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ سے مدد مانگنے کے لیے پاکستان کو داوء پہ لگایا جارہا ہے۔ن لیگ پوری تقریبا صدرشہبازشریف اور وزیر اعظم عباسی نوازشریف کا دفاع کرنے میں لگے ہوئے ہیں،کہ نواز شریف نے کان کو سامنے سے نہیں پیچھے سے ہاتھ لگایا ہے۔شعر یاد آیا اسی بات پہ،"کہ ابھی تو ابتداء عشق ہے روتا ہے کیا،آگے آگے دیکھ ہوتا ہے کیا۔"

میرا جہاں تک خیال ہے کہ اگر نوازشریف اپنے موقف پہ ڈٹے رہے تو یہ جتنی بھی قومی سلامتی کے اجلاس ہوتے رہے ہیں،نوازشریف نے ان سب کے کٹھے چھٹے کھول کے رکھ دینے ہیں۔چاہے اگلی باری کادگل کی ہو یا کسی اور ڈان لیکس کی۔باہر یہ اب تھمنے والا نہیں کیوں کہ ہمارے جو سیاستدان ہیں،وہ ملک کا مفاد نہیں دیکھتے،بلکہ صرف اپنا،بچوں اور پراپرٹی کا سوچتے ہیں،جو ان میں سے کوئی نہیں پاکستان میں۔صرف ہم جیسے 22 کروڑ عوام کو ہی داو پہ لگایا جا رہا ہے،اور پتہ نہیں کب تک لگایا جائے گا۔فرانس میں پاکستان کے سفیر نے ایک بار اپنی قیادت سے کہا تھا،کہ جب بھی مثال کے طور پر اگر کشمیر کا مسئلہ اٹھایا جائے،تو کوئی بھی ہماری بات نہیں سنتا،وہ کہتے ہیں کہ ہم نے نان سٹیٹ ایجنسیوں کو پناہ دی ہوئی ہے۔113 ایسی دہشتگرد تنظیمیں ہیں جو پاکستان میں ہیں۔ہمارے عسکری لیڈر جناب پرویز مشرف صاحب فرماتے ہیں کہ لشکر طیبہ ہوں یا حافظ سعید کا گروپ ہو،یہ میرے اچھے دوست ہیں اور یہ پاکستان کی فرنٹ لائن ہیں،او بھائی اگر وہ فرنٹ لائن ہیں تو ہمارا فخرپاک آرمی نہیں کیا؟آپ بھی جب میڈیا پہ بیٹھ کے ایسی باتیں کرو تو انٹر نیشنلی طور پر پاکستان کا کیا امیج جائے گااور آج کی برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو بھی دہشتگر ملکوں میں شامل کر دیا ۔اس بات سے ایک سمجھ تو آگئ کہ ضیاالحق صاحب نے جو قدم اٹھایا تھا وہ صرف پاکستان کی عوام نے ہی بگھتنا تھا،ہماری چاہے عسکری قیادت ہو یا جمہوری۔یہ دور اندیشی کی بجائے وقتی جان چھڑواتی ہیں۔بچے ہوئے ہیں تو کسی معاجزے کی وجہ سے،ورنہ ہمارے لیڈران نے ہمارے ساتھ پوری کی ہوئی ہے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
15 May, 2018 Total Views: 67 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Muhammad Zeshan Ali

Read More Articles by Muhammad Zeshan Ali: 3 Articles with 207 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB