امی جان آپ کب لوٹیں گیں؟ ۔۔۔رمضان المبارک پھر آیا ہے

(Naseem Ul Haq Zahidi, Lahore)

31دسمبر1998ء12رمضان المبارک جمعۃالمبارک کادن تھا تقریباًڈیڑھ ماہ سے سورج کامنہ تک نہیں دیکھا تھا کئی کئی دن دھند کا راج رہتا تھا اس وقت میں چودہ سال اور آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔الحمد اﷲ والدہ ماجدہ جو کہ احادیث کی کتب بخاری شریف اور مشکو ۃ شریف کی حافظہ تھیں کی تربیت کا نتیجہ یہ تھا کہ جب رمضان المبارک کی آمد آمد ہوتی تو ہم بھائی بہنیں ایسے خوش اور تیار ہوتے کہ جن کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔ہماری سب کی یہ کوشش ہوتی کہ ہم اس رمضان المبارک میں کوئی ایک روزہ یا نماز نہ چھوڑیں اور بڑھ چڑھ عبادت کریں ۔ خوب اپنے رب کو راضی کریں پھر جب رب راضی ہوتا تو امی جان فرماتیں کہ اﷲ تعالیٰ ہماری تمام مشکلات آسان کردیتا ہے ۔نئے کپڑوں کے لیے انکو پیسے دیتے ہیں اور پھر وہ کفایت شعاری میں بچے ہوئے پیسوں سے ہم سب بھائی بہنوں کو نئے کپڑے اور جوتے لیکر دیتیں۔ ایک ہی بیٹا ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ لاڈلہ تھا میری ہر خواہش اولین ترجیح سمجھ کر میری امی پورا کرتیں ۔ایک بار مجھے اچانک پیٹ میں درد ہوئی ڈاکٹر نے Appendix کی درد بتائی اور فوری آپریشن کا مشورہ دیا ۔امی جان فرمانے لگیں کہ میرا بیٹا اسی طرح ہی ٹھیک ہوگا ،اور مجھے گھر واپس لیکر آنے لگیں تو ڈاکٹرز نے واضح الفاظ میں کہا آپ غلط کررہی ہیں ہر قسم کے نقصان کی ذمہ دار آپ ہوں گی ۔انجکشن سے درد کچھ کم تو ہوا تھا مگر ابھی ختم نہیں ہوا تھا ماں مجھے گھر لائیں اور اپنی گود میں میرا سر رکھ کر بولیں کہ ’’اﷲ پاک اگر امام بخاری ؒکو انکی ماں کی دعا کی بدولت آنکھوں کا نور دے سکتا ہے تو میرے بیٹے کو شفاء کیوں نہیں میں نے اپنے بیٹے کا آپریشن نہیں کروانا‘‘ اس کے بعد مجھے ہوش نہیں آئی اس قدر پرسکون نیند اور جب میں سو کر اٹھا تو اس دن سے لیکر آج تک الحمد اﷲ کبھی مجھے دوبارہ درد نہیں ہوا ۔افطاری کے وقت میری امی جان میری پسند کی ہر چیز تیار کرتیں ۔اس وقت PTCLفون کہیں شاذوناظر ہی ہوا کرتے تھے ۔مگر ناجانے کیوں جب میں سکول یا کہیں اور جاتا تو وہ آیت الکرسی پڑھ کر مجھے دم کرتیں اوردروازے میں کھڑا ہوکر مجھے دیر تک دیکھتی رہتیں اورجب واپس گھر لوٹ کر آتا تھا تو ہمیشہ اپنی امی جان کو دروازے پر منتظر پاتا ایسا لگتا تھا کہ وہ بس میرے آنے جانے کے انتظار میں رہتیں ہیں۔میں اکثر ایک سوال پوچھتا کہ امی جان آپ کو کیسے علم ہوجاتا ہے کہ میں گھر آنے والا ہوں تو امی جان کہاکرتیں بیٹا ماں کو علم ہو جاتا ہے ۔سچ ماں کو علم نہیں ہوتا بلکہ ماں کے سب علم میں ہوتا ہے۔ ماں کی گودایک محفوظ اور مضبوط قلعے سے کم نہیں ہوتی ،ما ں سے بڑا مخلص اور مضبوط رشتہ کوئی اورنہیں ہوتا اسی لیے اﷲ تعالیٰ بھی اپنی محبت کوبھی ماں کی محبت سے تشبیح دیتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے ایک بندے سے ستر ماؤں جتنا پیار کرتا ہے۔اور ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی امی جان ہماری خوشیوں کی خاطر بہت سے دکھوں کو خوشیوں سے جھیل جایا کرتیں تھیں اور اف تک بھی نہیں کرتیں تھیں ۔وہ ہماری خواہشات پر اپنی ضروریات کو قربان کر دیتیں ۔وہ مجھے صبح ناشتے میں بادام اور ساتھ مکھن کبھی دیسی گھی میں بل والا پراٹھا گوشت کا میں اب تک بہت شوقین ہوں بہنا ہوا گوشت مجھے پکوڑے بہت پسند ہیں ۔میری ماں ہرروز پتہ نہیں کیسے میرے پسند کی ہر چیز بناتی وہ مجھے کھاتا ہوا دیکھ دیکھ کر خوش ہوتی میں کہتا امی جان آپ کیوں نہیں کچھ کھاتیں تو وہ فرماتیں جب تو کھاتا ہے تو میرا پیٹ بھر جاتا ہے۔وہ ہروقت قرآن اور احادیث پڑھنے میں مصروف رہتیں وہ دیر تک پڑھتیں رہتیں جب کبھی ماں سے پوچھتا کہ کیا پڑھتیں تو فرماتیں تمہاری طویل صحت والی عمر اور، کامیابیاں ۔ایک شب تیز آندھی چل رہی تھی ۔میں ٹیوشن سے لیٹ ہوگیا توامی جان چھوٹی بہن کے ہمراہ لالٹین لیے میری طرف چل پڑیں کہیں میرا بیٹا ٹھوکر کھاکر نہ گر پڑے۔یہ یکم جنوری 1999ء رات 2.30منٹ اور تیرہ رمضان المبارک کا ایک منحوس لمحہ تھا جب اچانک امی جان ایک دم اونچی آواز کلمہ طیبہ کا وردکرنے لگیں پھر سورۃ یٰس کی تلاوت کرنے لگیں ہم سب بھائی بہنیں جھاگ گئے امی جان عجیب سے کیفیت میں تھیں کلمہ کا ورد تیز کرتے کرتے اچانک انکے سانس روکنے لگیں میں نے جلدی سے روتے ہوئے امی جان سے کہا کہ مجھ سے نہیں بولنا تو سر ہلا کرکہتیں ہیں بولنا ہے پھر اچانک انہوں نے وعلیکم اسلام کہا میں ادھر ادھر دیکھنے لگا اتنے میں امی جان نے آخری سانس لیا اور اپنے خالق حقیقی سے جاملیں ۔اناﷲ واناﷲ الیہ راجعون مجھے احساس ہوگیا تھا کہ اب دعا کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے ساری دنیا خالی خالی سی لگ رہی تھیں اس دن صبح کے وقت سورج بھی خوب چمکا سہ پہر چار بجے امی جان کو قبر میں اتار دیا امی جان خود تو اپنے حقیقی گھر میں چلیں گئیں مگر مجھے سانحات،حوادثات کے حوالے کرگئیں ۔ہم بھائی بہن باپ کے ہوتے ہوئے یتیم تو پہلے ہی تھے مگر اب مسکین بھی ہوچکے تھے سارا زمانہ دشمن بن چکا تھا وہ عزیز واقارب جو امی جان کی موجودگی میں ہمارے پاؤں بھی زمین پر نہیں رکھنے دیتے تھے اب ان کو یہ خوف لاحق ہو گیا تھا کہ کہیں ہم انکے گھر نہ چلیں جائیں ۔پڑھائی کے ساتھ ساتھ زندگی کا بوجھ اٹھانے اور دوچھوٹی بہنوں کے لیے ایک بک ڈپو پر ملازمت کرنی پڑی ۔جب تھک کر گھر آتا تھا تو پوچھنے والاکوئی نہیں تھا کہ بیٹا روٹی بھی کھائی ہے کہ نہیں ؟ویڈیوگیمز پر ملازمت کی میڈیکل سٹوز پر کام کیا ۔لگتا ہے کہ سارا جگ بیگانہ ہوگیا ۔اب سمجھ میں آیا کہ زندگی بڑی مشکل چیز کا نام ہے اور ماں رب کا دوجہ نام ہے ۔اﷲ کی قسم یہ جو مائیں ہوتی ہیں ان کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا او ریہ اولاد کی زندگی ملک الموت کے ہاتھوں سے چھین لاتی ہیں ۔امی جان آج میں پھر سے بہت تھک گیا ہوں ،بہت اداس ہوں ۔امی جان آپ کس طرح ہم سب بھائی بہنوں کی خواہشات پوری کرتیں تھیں ؟اور میں بار بار پانی مانگتا تھا کھانا مانگتا تھا آپ بار بار اٹھ کر مجھے دیتی تھیں اور تھکتی بھی نہیں تھیں۔آج جب میں خود باپ بنا ہوں تو احساس ہوا کہ کس قدر محنت کرتیں تھیں اور شکوہ بھی نہیں کرتیں تھیں۔آج جب تھک ہار کر گھر آتا ہوں تو مجھے کوئی سینے سے لگا کر میرا ماتھا نہیں چومتا ،مجھے کھانے کا نہیں پوچھتا آج جب مہینے کا آخیر ہوتا ہے گھر کا کرایہ ،بجلی ،پانی اور گیس کا بل بچوں کے اخراجات پتہ ہے اﷲ تعالیٰ کے بعد کون یاد آتا ہائے میری ماں ۔امی جان کاش جانے والے واپس آتے ہوتے ۔امی جان کاش آپ واپس آجاتیں ۔امی جان خدارا واپس آجائیں آپ کا بیٹا بہت تھک جاتا ہے آپ جس بیٹے کے صبح اٹھنے کا انتظار کرتیں تھیں اور میرے اٹھنے پر مجھے بادام مکھن اور پراٹھے اور بھنے ہوئے گوشت کا ناشتہ دیتی تھیں ۔آج وہ بیٹا اگر دن بھر بھی بھوکا رہے تو کوئی آپ کی طرح خیال نہیں رکھتا کوئی بار بار کھانے کا نہیں پوچھتا آپ تو میرے جوتے تک پالش کرتیں تھیں ۔امی جان رمضان المبارک پھر آگیا ہے آپ نے واپس کب آنا ہے امی جان آپکو علم ہے کہ مجھے آپکے ہاتھ کا پراٹھا بہت پسند ہے امی جان مجھے پکوڑے آج بھی پسند ہیں ۔امی جان آپ کے ہاتھ کا ذائقہ نہیں ملتا ۔۔۔امی جان آپ واپس آجائیں میں آپ کی گود میں سر رکھ کر سونا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
16 May, 2018 Total Views: 129 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Naseem Ul Haq Zahidi

Read More Articles by Naseem Ul Haq Zahidi: 9 Articles with 5345 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB