خوش آمدیدرمضان المبارک

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

یہ ماہ مقدس بے بہا اخلاقی و روحانی فیوض وبرکات لیے ہوئے ہوگا،اب ہمارا کام ہے کہ
ہم ان فیوض و برباکات سے اپنے آپ کو فیض یاب کریں

الحمد اﷲ رمضان ا لمبارک کی آمد آمد ہے، یہ مبارک ماہ ہمارے لیے بے بہا رحمتیں اور برکتیں لیے ہوئے سایۂ فگن ہورہا ہے۔ یہ ہمارے لیے بے بہا اخلاقی و روحانی فیوض وبرکات لیے ہوئے ہوگا۔ اب ہمارا کام ہے کہ ہم ان فیوض و برباکات سے اپنے آپ کو فیض یاب کریں یا اپنی کوتائی، سستی اور کاہلی کے سبب اس موقع کو اپنے ہاتھ سے گنواں دیں۔ رمضان ا لمبارک ایک بابر کت اور فضیلت والا مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوااور امت پر روزے فرض کیے گئے۔روزشعبان المعظم 2ھ میں فرض کیا گیا۔ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ نے اپنی زندگی میں9برس رمضام المبارک کے روزے رکھے۔ قرآن مجید کی سورۃ البقرہ آیت 185 میں اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’ (روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن (اول اول ) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں ) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل ) کو الگ الگ کرنے والا ہے، تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے‘‘۔جس مہینے میں ہمیں قرآن مجید جیسی عظیم کتاب ملی جو ہمارا دستور حیات ہے، ہمارا رہنما ہے اور ضابطۂ زندگی ہے چنانچہ جس مہینے میں ہمیں حکمت سے بھرا قرآن ملا ہو، دستور حیات ملا ہو، کلامِ خدا ملا ہو اس سے بڑھ کر مبارک مہینہ ہمارے لیے بھلا اور کون سا ہوسکتاہے۔یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں پر وردگار عالم نے روزے فرض کیے ، حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے کی امتوں پر بھی روزوں کا حکم تھا لیکن اﷲ تعالیٰ نے اپنے آخری بنی حضرت محمد ﷺ کی امت پر روزے کا حکم دیتے ہوئے قرآن مجید میں فرمایا ’’یٰاَ یَّھَاالَّذِیْنَ اٰ مَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِیَّا مُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِْینَ مِنْ قَّبْلِکُمْ تَتَّقُوْن(سورۃ البقرہ ، آیت 183)، تر جمہ ’’ اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کیے گئے تھے تاکہ تمہارے اندر تقویٰ اور پرہیز گاری پیدا ہو‘‘۔اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ روزہ ہمارے اندر تقویٰ اور پرہیز گاری پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ ساتھ ہی فرمایا گیا ’ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْ ن ‘یعنی اس کا مقصد یہ ہے کہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔اس ماہ مبارک کی ایک اور اہمیت اور فضیلت ’لیلتہ القدر‘ ہے ۔ اس ماہ کا آخری عشرہ اور اس عشرے کی طاق راتیں یعنی اکیس29,27,25.23,21ہیں ۔ لیلتہ القدر اکثر و بیشتر انہی طاق راتوں میں ہوتی ہیں۔ رسول اﷲ ﷺ ان طاق راتوں میں زیادہ عبادت کا اہتمام کیاکرتے ، مجاہدہ کرتے اور مشقت کیا کرتے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیا کرتے۔ صحیح بخاری کی حدیث ہے ، فرمایا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ شب قدر کو تلاش کرو رمضان کی آخری دس راتوں میں سے طاق راتوں میں‘۔سنن ابن ماجہ کی حدیث جسے معارف الحدیث میں بھی نقل کیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے بتائیے کہ اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کون سی رات شب قدر ہے تو میں اس رات اﷲ سے کیا عرض کروں اور کیا دعا مانگوں؟ آپ ﷺ نے عرض کیا ’اَ للّٰھُمَّ اِ نَّکَ عَفُوّ‘‘کَرِ یْم‘‘ تُحِبآُ الْعَفْو فَاعْفُ عَنِّیْ‘‘ ۔ترجمہ ’’اے میرے رب! تو بہت معاف کرنے والا اور بڑا ہی کرم فرما ہے اور معاف کردینا تجھے پسند ہے۔ پس تو میری خطائیں معاف فرمادے‘‘۔لفظ ’ رمضان‘ کے معنی گناہوں ، خطاؤں،کوتاہیوں ،خامیوں ، بے احتیاطی اور انسانی غفلت کو جلادینے کے بھی ہیں۔

ارکانِ اسلام میں روزہ کوایک اہم رکن کی حیثیت حاصل ہے ۔ اس کے فرض کرنے کا بنیادی مقصد اﷲ تعالیٰ نے تقویٰ، پرہیز گاری، ضبط نفس ، صبر و برداشت قرار دیا ہے۔تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جو انسان کو برائیوں، غلط کاموں، شیطانی خواہشات سے دور رکھتی ہے اور انسان کو نیک عمل کرنے کی جانب مائل کرتی ہے۔ روزہ ہمارے اندر ضبطِ نفس پیدا کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ یعنی اس مبارک ماہ کے بنیادی فلسفے پر عمل پیرا ہونے کے باعث یعنی اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق مکمل اخلاقی و روحانی پابندیوں پر عمل کرنے سے روزہ ہمارے اندر موجودمنفی خواہشات اورمنفی جذبات کوقابوں میں رکھنے کی استطاعت پیدا کر تاہے ۔ انسان کی خودی جو اس پر غالب رہتی ہے وہ شیطان اور شیطانی عمل سے اپنے آپ کو بچا نے اور محفوظ رکھنے کی طاقت اپنے اندر پیدا کرلیتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں روزے کو ’’صبر ‘‘ قرار دیا ہے ۔ روزہ انسان میں صبر ، برداشت، ثابت قدمی، اور استقلال پیدا کرتا ہے۔ حدیث مبارکہ ہے حضرت ابو ہریہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایاکہ ’’ جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں‘‘ ۔(صحیح بخاری ، صحیح مسلم)۔ رمضان المبارک ’روزوں کا مہینہ ‘ کہا گیا،اسے سحری اور افطار کا مہینہ کہا گیا، یہ بخشش کا مہینہ ہے، تقویٰ کا مہینہ ہے،صبر کا مہینہ ہے،اسے قرآن کا مہینہ کہا گیا، یہ دعا کا مہینہ ہے،ذکر کا مہینہ ہے،باہمی ہمدردی کا مہینہ ہے،صدقہ و خیرات کا مہینہ ہے،قیام کا مہینہ ہے۔ احتکام اس مہینے کی خاص سنت عبادت ہے، رمضان کے مہینے میں شب قدر مسلمانوں کے لیے خاص تحفہ ہے ،اسی رات قرآن مجید نازل ہوا ۔

حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ماہ شعبان کی آخری تاریخ میں ایک خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اے لوگو ! تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے جو بہت بڑا مہینہ ہے ، بہت مبارک ہے، اس مہینے کی ایک رات (شب قدر) ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ اس مہینے کے روزے اﷲ تعالیٰ نے فرض کیے ہیں اور اس کی راتوں میں اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے (یعنی نماز تراویح پڑھنے) کو نفل عبادت مقرر کیا ہے ( جس کا بہت بڑا ثواب رکھا ہے)جو شخص اس مہینے میں اﷲ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے غیر فرض عبادت(یعنی سنت یا نفل) ادا کرے گا تو دوسرے زمانے کے فرضوں کے برابر اس کو ثواب ملے گا، اور اس مہینہ میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے سترّ فرضوں کے برابر ملے گا۔یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ ہمدردی اور غمخواری کا مہینہ ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں مومن بندوں کے زرق میں اضافہ کیا جاتا ہے جس نے اس مہینے میں کسی روزہ دار کو (اﷲ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لیے) افطار کرایا تو یہ عمل اس کے لیے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔ آپ سے عرض کیا گیا یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہم میں سے ہر ایک کو تو افطار کرانے کا سامان میسر نہیں ہوتا (تو کیا غرباء اس عظیم ثواب سے محروم رہیں گے) آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اﷲ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گاجو دودھ کی تھوڑی سی لَسیّ پر یا پانی کے ایک گھونٹ پر کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرادے ( رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ) اور جو کوئی کسی روزہ دار کو پورا کھانا کھلادے اس کو اﷲ تعا لیٰ میرے حوض کوثر سے ایسا سیراب کرے گا جس کے بعد اس کو کبھی پیاس نہ لگے گی تاآنکہ وہ جنت میں پہنچ جائے گا۔اس کے بعد آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ماہ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آتش دوزخ سے آزادی ہے۔ (اس کے بعد آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا)جو آدمی اس مہینہ میں اپنے غلام و خادم کے کام میں تخفیف و کمی کردے گا اﷲ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادے گا، اور اسے دوزخ سے رہائی اور آزادی دے گا‘‘۔ (شعب الایمان للبیہقی، معارف الحدیث)

رمضاب المبارک کے روزے جو کہ فرض عبادت ہیں کے عناصر یا مقاصد میں جو چیزیں بطورِ خاص شامل ہیں ان میں ’غذا یاکم کھانا ، آرام یا کم سونا ، کم بولنا، جائز اور حلال خواہشات پر پابندی اور قدغن کو بھی برداشت کرنا شامل ہیں۔ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کم کھانے سے انسان صحت مند رہتا ہے، بیماریاں کم سے کم اُسے گھیرتی ہیں اور یہ بھی کہ کم کھانے سے بھوک کا احساس رہتا ہے جس سے دوسروں کی بھوک کا خیال رہتا ہے اور انسان غریبوں اور بھوکوں کی داد رسی کی جانب مائل ہوتا ہے، کم خوراکی انسان کی عمر میں اضافے کا بھی باعث ہوتی ہے جب کہ بسیار خور ی انسان کی شدید دشمن تصور کی جاتی ہے۔طب یونانی کے ماہرین پیٹ کی خرابیوں کو تمام امراض کی بنیاد قراردیتے ہیں۔روزہ رکھ لینے کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ روزہ رکھا اور جیسے تیسے وقت پورا بھی کر لیا ، افطار کے وقت دن بھر کی کسر نکالتے ہوئے ڈٹ کر کھایا،اِسی طرح سحری میں اس قدر کھایا کہ اﷲ کی پناہ، کھانے میں بھی اعتدال قائم رکھنے کو کہا گیا ہے۔روزہ صبرو برداشت کا نام ہے۔ بات بات پر خفا ہونا، غصہ میں رہنا، لڑائی جھگڑا کرتے رہنا، گھر میں ہیں تو بیوی اور بچوں پر غضب ڈایا جارہا ہے ، آفس یا باہر ہیں تو باہر والوں سے غصے کے عالم میں رہنے سے روزے کا مقصد جاتا رہتا ہے۔ روزے میں کم سونا اور عبادت کا حکم دیا گیا ہے اور اس ماہ میں فرض کا ثواب دگنا اور نفلی اور سنت کی ادائیگی کا ثوات ستر گناہ کردیا جاتا ہے، جو لوگ روزہ تو رکھ لیتے ہیں لیکن دن بھر سو کر گزاردیتے ہیں جوں ہی افطار کا وقت قریب آیا جلدی جلدی اٹھے اور شروع ہوگئے کھانے پینے۔ ایسے روزے اﷲ کے دربار میں قبول ہی نہیں ہوں گے۔ کم بولنا، روزہ کی حالت میں فضول، بیہودہ گفتگواور زیادہ بولنے سے ثواب جاتا رہتاہے، چاہیے کہ ہم روزہ رکھیں اس دوران کم سے کم بولیں ، فضول گفتگو سے پرہیز کریں، غیبت اور دروغ گوئی نہ کریں، مبالغہ آمیزی اور کذب سے دور رہیں۔ ہمیں چاہیے کہ رمضام المبارک کی فیوض و برکات کو ہر گز ہرگز اپنے ہاتھ سے نہ جانے دیں، نہیں معلوم ہمیں آیندہ زندگی میں یہ سعادت نصیب ہو گئی بھی یا نہیں۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
16 May, 2018 Total Views: 327 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 543 Articles with 293594 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB