لقمان حکیم؛انسان کامل(آخری قسط)

نصیحت
بیٹا !تم لوگوں سے نصیحت حاصل کرو اس سے قبل کہ لوگ تم سے عبرت حاصل کریں اور تم لوگوں کے لئے سامان عبرت قرار پاؤ ۔(اختصاص مفید صفحہ ؍ ۳۳۱)
بیٹا !اوروں کو نصیحت کرنے سے پہلے خود بھی عمل پیرا ہو۔(تفسیر جلالین :علامہ جلال الدین محلی و علامہ جلال الدین سیوطی ،جلد ۵ صفحہ ؍۶۹مکتبہ ،دارالاشاعت اردو بازار ایم اے جناح روڈ ،کراچی ،پاکستان )
نفس پر قابو
بیٹا !اگر تم چاہتے ہو کہ سرداری ،عزت اور دنیا تمہارے پاس رہے تو لوگوں کے مال و دولت سے منھ موڑلو اور لالچ کی جڑ کو کاٹ دو ۔اس لئے کہ ااﷲ تبارک و تعالیٰ کے پیغمبر اور سچے اولیاء جہاں کہیں بھی پائے گئے (زندگی کے ہر لمحہ میں )وہ لالچ کو دور کرنے کے در پے رہے ہیں (بحارالانوار جلد۱۳صفحہ ؍۴۱۹)۔
بیٹا !اپنے نفس کو خواہشات اور لالچ سے روکو ۔اس لئے کہ اگر تم نے ایسا نہیں کیاتو نہ بہشت میں جاؤ گے اور نہ ہی اس کا چہرہ دیکھ سکو گے ۔(اختصاص مفید صفحہ ؍۳۳۴)
نماز
بیٹا !نماز قائم کرو۔(سورہ لقمان ؍۱۷)
بیٹا !نما ززیادہ پڑھو۔(تفسیر نمونہ زیر نظر آیۃ․․․ناصر مکارم شیرازی جلد ۹صفحہ ۴۲۳ناشر مصباح القرآن ٹرسٹ)
بیٹا !کبھی بھی نماز کو اول وقت کی تاخیر کے ساتھ نہ پڑھو ۔(تفسیر نمونہ زیر نظر آیۃ․․․ناصر مکارم شیرازی جلد ۹صفحہ ۴۲۳ناشر مصباح القرآن ٹرسٹ)
بیٹا !جماعت کے ساتھ نماز پڑھو خواہ تم سخت ترین حالت میں ہو ۔(تفسیر نمونہ زیر نظر آیۃ․․․ناصر مکارم شیرازی جلد ۹صفحہ ۴۲۳ناشر مصباح القرآن ٹرسٹ)
نوٹ:(آیۃ اﷲ ․․․ناصر مکارم شیراز ی آیت ’’اقم الصلوٰۃ‘‘کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ جناب لقمان مبدا و معاد کو محکم کرنے کے بعد جوکہ مذہب کے تمام اعتقادات کی بنیاد ہے ،اہم اعمال یعنی نماز کے بارے میں فرماتے ہیں :بیٹا! نماز قائم کرو۔اس لئے کہ نماز خالق سے بہترین اور اہم رابطہ کی چیز ہے ۔نماز تمہارے دل کوبیدار ،روح کو صاف اور زندگی کو روشن کرتی ہے ۔تمہاری جان سے گناہوں کو دھودیتی ہے ۔تمہارے دل کی دنیا میں ایمان کانور پھیلاتی ہے اور برائی سے روکتی ہے ۔)(تفسیر نمونہ ،زیر نظر آیۃ ا․․․ناصر مکارم شیرازی جلد ۹ صفحہ ۵۲)

بیٹا !نماز قائم کرو۔اس لئے کہ نماز خدا کے دین میں خیمہ کے ستون کے مانند ہے ۔اگرستون باقی رہے تو خیمہ باقی ہے ۔اس کی رسی ،میخ ،کھونٹی اور سایہ خیمہ بھی مفیدرہے گا۔لیکن اگر ستون اورخیمہ ہی باقی نہ رہے تو کھونٹی ،رسی اورسایہ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاسکتا۔(بحارالانوار جلد ۱۳صفحہ ۴۳۵)
یتیم
بیٹا !یتیم کامال نہ کھاؤ ۔ورنہ روز قیامت رسوا ہوجاؤ گے اور اس دن اس مال کا نقصان یتیم کی طرف پلٹانے پر مجبو کئے جاؤ گے ۔(اختصاص شیخ مفید صفحہ ؍۱۳۴)