فٹبال ورلڈ 2018: کون کھیلے گا اور کون نہیں؟

 

روس میں ہونے والے فٹبال کے عالمی کپ 2018 میں دنیا بھر سے 32 ٹیمیں شرکت کررہی ہیں۔ کلب فٹبال کے مداحوں کے لیے انٹرنیشنل فٹبال ایک لحاظ سے اچھی خبر ہوتی ہے اور کسی حد تک بری بھی۔

اچھی اس لیے کے کلبوں کے مداحوں کے پاس ان کے پسندیدہ کھلاڑیوں کو اپنی اپنی ٹیم کی طرف سے کھیلتے دیکھنا ایک مختلف اور معمول سے ہٹ کر تجربہ ہوتا ہے۔
 


میسی جیسا بڑا کھلاڑی 22ویں نمبر کی آئس لینڈ کی ٹیم کے خلاف کیا کرے گا یا پھر ایران جیسی اوسط ٹیم رونالڈو کو گول کرنے سے روکنے کے لیے کیا کرے گی۔ یہ ایسے لمحات ہیں جن کا فٹبال مداحوں کو عرصے سے انتظار رہتا ہے۔

لیکن کلب فٹبال کے برعکس انٹرنیشنل فٹبال میں کسی بھی کھلاڑی کے کھیلنے کا فیصلہ صرف مینیجر کا ہی نہیں ہوتا۔

وہ کھلاڑی جو ورلڈ کپ 2018 نہیں کھیلیں گے
مانچسٹر یونائیٹڈ کی طرف سے 20 ملین پاؤنڈ کی تنخواہ پر کھیلنے والے زلاٹان ابراہمووچ اِس وقت لون پر امریکی کلب ایل اے گیلیکسی کی طرف سے کھیل رہے ہیں۔

36 سالہ فٹبالر نے 2016 میں انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا تاہم انھوں نے بعد میں یہ بیان دیا تھا کہ اگر سویڈن نے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تو وہ ریٹائرمنٹ ختم کرنے کے بارے میں سوچیں گے لیکن سویڈش ٹیم کے کوچ نے انھیں سکواڈ میں شامل نہیں کیا۔
 


فٹبال کلب ریال میڈرڈ کو چیمپیئنز لیگ کے فائنل میں فتح دلوانے میں اہم کردار ادا کرنے والے کریم بینزیما بھی اپنے مداحوں کو اس بار عالمی مقابلوں میں میں دکھائی نہیں دیں گے۔

فرانسیسی کوچ ڈیڈیئر ڈسچامپس نے کریم بینزیما کو 2015 کے بعد سے فرانس کی قومی ٹیم کا حصہ بننے نہیں دیا ہے۔ بینزیما یہ بات متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ جب تک ڈیڈیئر ڈسچامپس کوچ ہیں ان کے خیال میں وہ ان کا انتخاب نہیں کریں گے۔

اسی طرح برطانوی فٹبال کلب مانچسٹر سٹی کی طرف سے کھیلنے والے سٹار جرمن کھلاڑی لیرواے سانے اور چیلسی کی طرف سے کھیلنے والے ہسپانوی سٹرائیکر ایلورو موراٹا بھی اپنی اپنی قومی ٹیم کے کوچز کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔

کن کن کھلاڑیوں کی شرکت مشکوک ہے؟
فٹبال ورلڈ کپ ٹیم میں منتخب نہ کیا جانا کسی بھی کھلاڑی کے کیریئر میں ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے، لیکن اس سے زیادہ مشکل اور ناقابلِ یقین صورتحال تب پیدا ہوجاتی ہے جب کھلاڑی مکمل فٹ ہو اور ورلڈ کپ کی تیاری کررہا ہو اور اچانک وہ زخمی ہوجائے۔
 


لیورپول کے سٹار سٹرائیکر اور مصری کھلاڑی محمد صلاح بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہیں۔

چیمپیئنز لیگ کے فائنل میں ریال میڈرڈ کے دفاعی کھلاڑی سرجیو راموس کی ٹیکل نے نہ صرف ان کو میچ سے باہر رکھا بلکہ اس سے ان کا ورلڈ کپ کھیلنا بھی غیریقینی ہو گیا۔

لیورپول کی میڈیکل ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کے پاس صلاح کو مکمل طور پر فٹ کرنے کے لیے وقت بہت کم ہے اور شاید صلاح پہلا میچ نہ کھیل پائیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو مصر کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔ کیونکہ مصر کا پہلا میچ یوروگوئے کے ساتھ ہے۔
 


اسی طرح فرانسیسی کلب پی ایس جی کی طرف سے کھیلنے والے برازیل کے نیمار ڈی سلوا بھی پوری طرح فٹ نہیں ہیں۔ انھوں نے کروئیشیا کے خلاف میچ میں تین ماہ بعد فٹبال کھیلی، نہ صرف یہ بلکہ انھوں نے میچ میں گول بھی کیا تاہم، وہ صرف 21 منٹ کے لیے میدان میں رہے۔ میچ کے بعد انھوں نے کہا کہ وہ پوری طرح تو نہیں لیکن ’80 فیصد‘ فٹ ہیں۔

برازیل کی ٹیم ویسے تو فٹبال سٹارز سے بھری پڑی ہے لیکن نیمار سے زیادہ تیز پھرتیلا سٹرائیکر اس وقت ان کے پاس نہیں ہے اور ماہرین نے نیمار کو تنبیہ کی ہے کہ ان کے صرف 80 فیصد فٹ ہونے کا فائدہ مخالف ٹیم کے ڈیفینڈر اٹھا سکتے ہیں۔

کروئیشیا کے خلاف تو وہ شاید 70 فیصد فٹنس پر بھی گول کر لیں لیکن اگر آگے چل کر سپین یا جرمنی سے اگر برازیل کا سامنا ہوا تو نیمار کو 100 فیصد فٹ ہونا ہی پڑِے گا۔


Partner Content: BBC URDU

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
06 Jun, 2018 Total Views: 2089 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Playing at the FIFA World Cup is a dream come true for most players but only 32 countries can participate in the tournament meaning many players go through their entire career without ever playing at the grandest stage. Some of the game’s all-time greats like Alfredo Di Stefano and Ryan Giggs are examples of such ill-fated men.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB