مسلمان خاتون کو تھپڑ اور تیر کے ثواب کا خریدار

(KMR, Karachi)

یعقوب بن جعفر بن سلیمان بیان کرتے ہیں کہ عموریہ کی جنگ میں وہ معتصم کے ساتھ تھے. عموریہ کی جنگ کا پس منظر بھی انتہائی دلچسپ ہے. ایک پردہ دار مسلمان خاتوں عموریہ کے بازار میں خریداری کے لیے گئی. ایک عیسائی دوکاندار نے اسے بے پردہ کرنے کی کوشش کی اور خاتوں کو ایک تھپڑ رسید کیا لونڈی نے بے بسی کے عالم میں پکارا.’’وا معتصما !!!! ‘‘ہائے معتصم ! میری مدد کے لیے پہنچو.سب دکاندار ہنسنے لگے،اس کا مذاق اڑانے لگے کہ سینکڑوں میل دور سے معتصم تمہاری آواز کیسے سنے گا؟

ایک مسلمان یہ منظر دیکھ رہا تھا اس نے خود کلامی کے انداز میں کہا: میں اس کی آواز کو معتصم تک پہنچاؤں گا، وہ بغیر رکے دن رات سفر کرتا ہوا معتصم تک پہنچ گیا اور اسے یہ ماجرا سنایا. یہ سننا تھا کہ معتصم کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا. وہ بے چینی سے چکر لگانے لگا اور اپنی تلوار ہاتھ میں لے کر اونچی آواز میں چلانے لگا: میری بہن میں حاضر ہوں.میری بہن میں حاضر ہوں.

اس نے فوراً لشکر تیار کرنے کا حکم دے دیا. مسلمانوں کی آمد سے خوفزدہ ہو کر رومی قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے. ایک بدبخت رومی ہر روز فصیل پر نمودار ہوتا اور رسول اکرم ﷺکی شان میں گستاخی کرتا. مسلمانوں میں شدید اشتعال پھیل گیا. وہ اتنے فاصلے پر تھا کہ مسلمانوں کے تیر وہاں تک نہ پہنچ پاتے.مجبورا ٰاسے اس کے انجام سے دوچار کرنے کے لیے قلعہ فتح ہونے کا انتظار کرنا پڑا. جبکہ مسلمانوں کی خواہش تھی کہ اسے ایک لمحے سے پہلے جہنم رسید کر دیا جائے.یعقوب بن جعفر کہنے لگے: ان شا اللہ میں اسے واصل جہنم کروں گا. انہوں نے تاک کر ایسا تیر مارا جو سیدھا اس کی شاہ رگ میں گھس گیا.وہ تڑپا، گرا اور وصل جہنم ہو گیا.

مسلمانوں نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا اور ان میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی. معتصم بھی بہت خوش ہوا.اس نے کہا: تیر مارنے والے کو میرے پاس لایا جائے. یعقوب بن جعفر معتصم کے پاس پہنچے تو اس نے کہا:گستاخ رسول کو جہنم رسید کرنے کے عمل کا ثواب مجھے فروخت کر دیں.میں نے کہا: امیرالمومنین ! ثواب بیچا نہیں جاتا.وہ کہنے لگا: اگر آپ آمادہ ہوں تو میں ایک لاکھ درہم دینے کے لیے تیار ہوں. میں نے کہا میں ثواب نہیں بیچوں گا.وہ مالیت بڑھاتا رہا یہاں تک کہ اس نے مجھے پانچ لاکھ درہم کی پیشکش کر دی.میں نے کہا اگر آپ ساری دنیا بھی دے دیں تب بھی میں ثواب فروخت نہیں کروں گا البتہ میں آپ کو اس نصف ثواب تحفے میں دیتا ہوں اور اس بات کی گواہ اللہ پاک کی ذات ہے. معتصم کہنے لگا: اللہ آپ کو اس کا اعلیٰ بدلہ عطا فرمائے میں راضی ہوں.

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
08 Jul, 2018 Total Views: 4206 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB