قومی اسمبلی حلقہ242کراچی ایسٹ 1 ۔ تجزیہ اور تبصرہ

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

قومی اسمبلی حلقہ242کراچی ایسٹ 1 ۔ تجزیہ اور تبصرہ
*
ڈاکٹررئیس احمد صمدانی
حلقہ این اے 242کراچی ایسٹ1 ، کراچی کے ضلع شرقی کے قومی اسمبلی کے 4 حلقوں میں سے ایک اہم حلقہ ہے۔ یہ کراچی کے آبادیوں ،قدیم گوٹھوں، بلوچ و سندھی آبادیوں کے ساتھ ساتھ اسکیم 33 کے جدید علاقوں پر مشتمل ہے۔اس میں سابقہ قومی اسمبلی کے حلقے 253 کے زیادہ علاقے شامل ہیں۔ نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے نئے حلقے وجود میں آئے اور ان کے علاقوں میں بھی کافی ردو بدل ہوا۔ جن حلقوں میں ردو بدل ہوا ان میں سے ایک قومی اسمبلی کا حلقہ242بھی ہے ۔ یہ حسب ذیل علاقوں پر مشتمل ہے، تمام علاقوں کے نام لکھنا مشکل تاہم معروف علاقوں میں’’ گڈاپ ٹاؤن ،حاجی رمضان گوٹھ، حاجی رمضان گوٹھ،ایوب گوٹھ،لاسی گوٹھ،گبول گوٹھ کالونی،خان محمد گوٹھ ،دوست محمد جونجھار گوٹھ،مخدوم بلاول گوٹھ،سچل گوٹھ،گجر و،جنت گل ٹاؤن،الا آصف اسکوائر، کے ڈی اے سوسائیٹی، کوئٹہ کالونی پر مشتمل ہے اس کے علاوہ اسکیم 33 کے علاقے نیو رضویہ، حارث بنگلوز، ہارون بنگلوز، سنلے ، سنلے سفاری بنگلوز،چیپل سن سٹی، گل ہومز ، گلشن نور،رم جھم ٹاور، مسلم سوسائیٹی،مدراس سوسائیٹی، اسٹیٹ بنک سوسائیٹی، پنجابی سوداگران سوسائیٹی، الا اظہرگارڈن، کے ای ایس سی سوسائیٹی، روفی بنگلوز، ملک سوسائیٹی، اکاؤٹ سوسائیٹی،رضوان سوسائیٹی، ڈاؤ یونیورسٹی کے ارد گرد کے علاقے، کرن اسپتال اور میمن اسپتال کے چاروں جانب کے علاقے شامل ہیں۔اس کے علاوہ گودھرا سوسائیٹی،حسن نعمانی کالونی،نیو سبزی منڈی، عباس ٹاؤن،ابوالحسن اصفہانی روٹ،میمن نگر،گلزار ہجری،گلشن کنیز فاطمہ،جیوانی ہائٹس،پرنس علی خان اپارٹمنٹس،سپارکو،احسن آبادبھی حلقہ242میں شامل ہیں‘‘۔
حلقہ این اے242 کی کل آبادی 7لاکھ34ہزار 410ہے ۔ جب کہ ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 83ہزار373ہے۔ ان میں مرد ووٹرز کی تعدادایک لاکھ 10ہزار 111اور خواتین ووٹرز کی تعداد 73ہزار 264ہے۔ اس حلقے کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ یہ رقبے کے اعتبار سے وسیع جب کہ ووٹرز کی تعدادکے اعتبار سے سب مختصر حلقہ ہے۔ اس حلقہ میں میڈل اور لوئر میڈل کلاس آبادی رہتی ہے۔اس حلقہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس حلقے میں اردو، سندھی، بلوچی، گبولی، سرائیکی، پنجابی، پشتو، میمنی، گجراتی بولنے والے آباد ہیں۔ پاکستان الیکشن کمیشن کی جانب سے اس حلقے میں98پولنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے۔ قومی اسمبلی کے لیے آزاد امیدواروں کے علاوہ 8امیدوار میدان میں ہیں، پاکستان کی تمام ہی بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدوار یہاں ایک دوسرے کے مقابل الیکشن لڑ رہے ہیں۔ان میں ایم کیو ایم (پی) کی کشور زہرہ (خواتین کی مخصوص نشست پر 2008 ء سے رکن قومی اسمبلی رہ چکی ہیں)، پی ایس پی کے عدنان صابر، تحریک انصاف کے سیف الرحمٰن،پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں اقبال ساند، ایم ایم اے کی جانب سے اسد اللہ بھٹو امیدوار ہیں(بھٹو صاحب بھی رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں، پاکستان مسلم لیگ نون کے امیدوار حاجی شرافت خان ہے، اے این پی کی جانب سے نور اللہ اچک زئی، تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار علامہ وقاص ہاشمی ہیں۔ قومی اسمبلی کے اس حلقے میں گزشتہ انتخابات یعنی2013,2008,2002میں ایم کیو ایم کے امیدوار کامیاب ہوتے رہے ہیں
2018میں ہونے والے انتخابات میں امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کی سیاسی پوزیشن کا تجزیہ جو اہل فکر و دانش اور تجزیہ کار کر رہے ہیں اس کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار سیف الرحمٰن اپنی پارٹی کے ساتھ اپنی ذاتی حیثیت میں مقبول ہیں ۔ تحریک انصاف کے ووٹرز کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں ایسا ووٹر بھی اس حلقے میں موجود ہے جو سیف الرحمٰن کے سابقہ دنوں کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ اس کے ساتھ عمران کی چاہت کا ووٹ، تحریک انصاف کاووٹ پی ٹی آئی کو کامیابی دلا سکتا ہے۔نقیب اللہ محسود قتل کیس اور اس کے حوالے سے احتجاجی تحریک میں سیف الرحمٰن نے اہم کردار ادا کیا جس کے باعث وہ علاقے میں معروف بھی ہوئے۔ ان کی سماجی خدمات بھی انہیں علاقے میں نمایاں کرتی ہیں۔سابقہ انتخابات میں متحدہ کے امیدوار کو فتح ملی تھی لیکن اس وقت بھی تحریک انصاف کو ہزاروں میں ووٹ ملے تھے اور وہ دوسرے نمبر پر رہی تھی جس کے باعث یہ کہا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کے لیے اس علاقے میں چاہت پائی جاتی ہے۔ تحریک انصاف کے امیدوار بہت پر امید ہیں ان کا کہنا ہے کہ عوام سابقہ حکمرانوں سے تنگ آچکے ہیں،وہ تبدیلی چاہتے ہیں، عمران خان کی صورت میں انہیں تبدیلی نظر آرہی ہے۔
اس حلقے میں متحدہ مجلس عمل کے امیدوار اسد اللہ بھٹو ہیں ۔ وہ اپنی شخصیت کے اعتبار سے محترم ہیں ۔ امیر جماعت اسلامی سندھ ہیں ، پیشہ کے اعتبار سے وکیل ہیں ، سوشیالوجی میں ماسٹر ڈگری رکھتے ہیں۔ مفکرین سیاست کا خیال ہے کہ اسد اللہ بھٹو کی پوزیشن بھی مستحکم ہے وہ سابقہ ادوار2002سے2007ء کے درمیان رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں۔ جماعت اسلامی کا ووٹ بنک اس حلقے میں بڑی تعداد میں موجود ہے، مولانا فضل الرحمٰن کے چاہنے والے بھی اس حلقہ میں بڑی تعداد میں مقیم ہیں۔ اسد اللہ بھٹو نیک ، خوش اخلاق، ملنسار، سلجھی ہوئی طبیعت اور بے داغ کردار کے مالک ہیں۔بھٹو صاحب پر امید ہیں کہ کامیابی انہیں حاصل ہوگی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار اقبال ساند ہیں۔ یہ حلقہ بڑی تعداد میں قدیم گوٹھوں ، کچی آبادیوں کی بڑی تعداد پر مشتمل ہے اس لیے یہ بھی خیال کیا جارہا ہے کہ یہاں پی پی کی پوزیشن بھی مستحکم ہے۔ سندھی زبان بولنے والے بڑی تعداد میں یہاں آباد ہیں، اس حلقے میں پی پی کی سیاسی و سماجی سرگرمیاں زیادہ نظر آتی ہیں خاص طور پر اسکیم 33 ۔ اس کی وجہ یہاں سے پی پی کے بلدیاتی امیدواروں کا کامیاب ہونا بھی ہے۔اگر آپ اس علاقے سے گزریں تو عام تاثر یہی ملتا ہے کہ یہاں پر پی پی کے حمایت کر نے والے زیادہ تعداد میں موجود ہیں۔ تاہم اقبال ساند پیپلز پارٹی کے حلقوں میں متعارف ہوسکتے ہیں لیکن دیگر علاقوں میں ان کا نام نیا ہے۔اس تاثر کی وجہ یہ بھی دکھائی دیتی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے دور اقتدار کے آخری مہینوں میں اس حلقے میں کچھ ترقیاتی کام کرایا جس کے نتیجے میں کراچی یونیورسٹی روڈ از سر نو تعمیر ہوسکی، سڑک کے دونوں جانب لائٹس لگائی گئیں، اس حلقے میں شہر سے آنے والی یہ اہم سٹرک ہے۔ اس سڑک کی حالت گزشتہ کئی سالوں سے خستہ حالی کا شکار تھی۔ اسکیم 33تک پہنچنے والوں کے لیے یونیورسٹی روڈ سے سفر کرنا بے انتہا مشکل بنا ہوا تھا، آخر کار پی پی کو حلقہ پر ترس آہی گیا اور اس سڑک کو از سر نو تعمیر کر کے پی پی نے اس حلقے کے ووٹرز کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کی ہے اور وہ اس میں کامیاب بھی دکھائی دیتی ہے۔پی پی کے امیدوار ساند کا کہنا ہے کہ کیونکہ بلدیاتی انتخابات میں اس حلقے میں موجود 8یونین کونسلوں میں سے 6یونین کونسلوں میں پیپلز پارٹی کے کونسلرز کی اکثریت حاصل رہی ، اس وجہ سے موجودہ انتخابات میں پی پی کے امیدوار کی کامیابی یقینی ہے۔میدان میں اترنے والا ہر کھلاڑی جیت کے لیے پرامیدہوتاہے۔
متحدہ قومی مومنٹ (پاکستان ) کی جانب سے محترمہ کشور زہرہ امیدوار ہیں۔ کشور زہرہ ایم کیو ایم کی کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشست پر 2008 اور پھر2013کے انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوچکی ہیں۔ لیکن یہ حلقہ ان کے لیے نیا اور اس حلقے کے ووٹرز کے لیے وہ اجنبی ہیں۔ بہتر ہوتا کہ انہیں پاکستان پیپلز پارٹی کی شہلہ رضا کے مقابلے میں میدان میں اتارا جاتا۔ اس حلقے میں 2008ء سے اب تک متحدہ کا امیدوار ہی میدان مارتا رہا ہے ۔ اس بار کیا ہوتا ہے کچھ کہنا قبل از وقت ہے ۔ اگر متحدہ تقسیم در تقسیم نہ ہوتی تو ممکن تھا کہ سابقہ انتخابات کا نتیجہ سامنے آجاتا ۔ اب سیاسی جماعتوں سے مقابلہ اور پھر آپس میں مقابلے کی صورت پیدا ہوچکی ہے ۔ جس نے ووٹرز کو بھی گوما گو کی کیفیت میں مبتلاکر دیا ہے۔ اس کے باوجود متحدہ کی پوزیشن اس حلقے میں کمزور نہیں۔ اس کی ایک وجہ اس حلقہ میں شامل اردو بولنے والوں کے علاقے بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ لیکن صورت حال اب وہ نہیں جو سابقہ ادوار میں تھی۔ ایم کیو ایم کیاامیدوارکشور زہرہ کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم مشکل حالات میں انتخابات میں حصہ لے رہی ہے، وسائل کی کمی ہے، دفتروں کا نہ ہونا، گاڑیوں کی عدم موجود گی کے باوجود ایم کیو ایم اس حلقے سے اپنی جیت کے لیے پر امید ہے۔
دیگر جماعتوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حاجی شرافت خان ہیں۔ نون لیگ جن حالات سے گزر رہی ہے ان کے پیش نظر شہباز شریف کے لیے بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کراچی سے قومی اسمبلی کی سیٹ حاصل کر پائیں گے۔ اس حلقے میں نون لیگ مقابلہ ضرور کرے گی۔ پی ایس پی کے امیدوار عدنان صابر ہیں۔ متحدہ کا ووٹ انہیں ملے گا، نئی جماعت ہے، ایم کیو ایم سے تعلق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، پی ایس پی اس حلقے میں محنت کر رہی ہے۔پی ایس پی کے سربراہ پر امید ہیں کہ ان کی جماعت بھاری اکثریت سے جیتے گی۔ اسی طرح اے این پی کی جانب سے اچکزئی میدان میں ہیں۔ اس حلقے میں پختون علاقے بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ اس لیے اے این پی دیگر جماعتوں کو ٹف فائٹ دے سکتی ہے۔حال ہی میں اے این پی کے امیدوار ہارون بلور پر خوش کش حملہ اور اس میں ان کی شہادت پارٹی کے لیے بڑا نقصان ہے۔ اس حادثہ کے بعد اے این پی نے میدان نہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ یقیناًاے این پی کے ورکرز اس حلقے سے میدان مارنے کی پوری کیوشش کریں گے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوسکتے ہیں۔
تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار علامہ وقاص ہاشمی ہیں انہیں ملی مسلم لیگ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ دینی جماعتوں کا ووٹ تقسیم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ فضل الرحمٰن کے پیروکار ، جماعت اسلامی کا ووٹر ، ملی مسلم لیگ کا ووٹر اور دیگر مذہبی جماعتوں کا ووٹ بنک آپس میں تقسیم ہوگا۔ 2013ء میں اس حلقے سے جب حلقہ 253تھا متحدہ قومی موومنٹ نے 1,66,746ووٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ جب کے دوسرے نمبر پر تحریک انصاف تھی جس نے 10,800ووٹ لیے تھے ، تیسرے نمبر پر پاکستان مسلم لیگ(ن)تھی جس نے 9259ووٹ لیے تھا، جمعیت علماء اسلام کے امیدوار نے 5655ووٹ لیے تھے اور پاکستان پیپلز پارٹی 2287ووٹ لے کر پانچویں نمبر پر تھی۔ اس بار یہاں کے ووٹرز کسے اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں، کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔نئی حلقہ بندی نے اس حلقے کی صورت کو بدل دیا ہے، یہاں کے ووٹرز کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہاں سخت مقابلہ متوقعہ ہے۔
سیاسی سرگرمیوں کے اعتبار سے یہ پر رونق حلقہ ہے۔ جگہ جگہ مختلف جماعتوں کے کیمپس لگے ہوئے ہیں ، اسپیکر پرمتعلقہ جماعت کے نغمے گونج رہے ہیں۔ علاقے میں جابجا مختلف جماعتوں کے بینرز آویزاں ہیں۔مختلف جماعتوں کی جانب سے مزدہ ٹرک کے تین جانب پارٹی پرچم، انتخابی نشان اور امیدوار کی فوٹو، پارٹی کے سربراہ کی فوٹو کے ساتھ علاقے میں گھوم رہی ہوتی ہیں۔ رات میں اندر روشنی کے باعث پارٹی کی تشہیر خوب نمایاں ہوتی ہے۔ بعض پارٹیوں کی جانب سے کاریں پارٹی کے پرچم اور انتخابی نشان اور امیدوار کی تصاویر، جماعت کے سربراہ کی تصاویر سے رنگی ہوئی علاقے میں دوڑتی نظر آتی ہے۔ مقابلے کا پر امن ماحول ہے ابھی تک باہم تصادم یا لڑائی جھگڑے کی صورت پیدا نہیں ہوئی جو کہ ایک اچھی روایت ہے۔ اسے الیکشن کے اختتام تک اسی طرح برقرار رہنا چاہیے ۔ اس حلقے کے سابقہ نتائج کو سامنے رکھا جائے تو یہی تصویر سامنے آتی ہے کہ ایم کیو ایم گزشتہ تین انتخابات میں بہت بڑی فرق سے تمام سیاسی حریفوں کو شکست دیتی چلی آرہی ہے لیکن اب نقشہ بدل چکا ہے، ایک کال پر کراچی کو بند کر دینے کی روایت دم توڑ چکی ہے۔ نئی حلقہ بندیوں نے بھی سیاسی جماعتوں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صاف شفاف انتخابات کے لیے اپنی پوری کوشش کی ہے۔ ا س کے لیے پاکستان آرمی کا تعاون بھی انتخابات میں الیکشن کمیشن کو حاصل رہے گا۔ ڈی جی، آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس سے بہت سے ابہام دورہوگئے ہیں۔انتخابات کو صاف شفاف بنانے میں فورسیز اپنا بھر پور کردار ادا کریں گی۔پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر فوجی جوان موجود ہوں گے۔ امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان کے عوام اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کر یں گے ۔ میَں کیونکہ خود اس حلقے کا ووٹر بھی ہوں ، اس لیے میری ذاتی خواہش بھی یہی ہے کہ اس حلقے سے عوام کا خیال کرنے والا منتخب ہو، انتخابات کے بعد بھی وہ اپنے حلقے میں دکھائی دے، یہاں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
11 Jul, 2018 Total Views: 163 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 554 Articles with 328896 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB