آگے سوچنے کی ضرورت ہے

(Shoukat Ullah, Banu)

ملک خداداد اس وقت بد ترین مسائل میں گھرا ہوا ہے جن میں سرفہرست داخلی ، خارجی اور معاشی مسائل ہیں۔ انتخابات سے قبل تیرہ جولائی کو بنوں اور مستونگ میں شدت پسندوں کی جانب سے مذموم کاروائیاں کی گئیں جن میں ایک سو پچاس سے زائد ہلاکتیں ہوئیں اور دوسو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ خیبر پختون خوا کے ضلع بنوں میں سابق وزیر اعلیٰ محمد اکرم خان درانی کے قافلے کو شدت پسندوں نے اُس وقت نشانہ بنایا جب وہ علاقہ ہوید سے انتخابی مہم کے دوران واپس آرہے تھے ۔ یہ دھماکہ موٹر سائیکل میں نصب ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے کیا گیا۔ اس حملے میں اگرچہ سابق وزیر اعلیٰ بال بال بچ گئے تاہم پانچ افراد ہلاک اور سینتیس کے قریب زخمی ہوئے۔ دھماکے کی ذمہ داری شدت پسندی تنظیم اتحاد المجاہدین نے قبول کی۔ اسی روز یعنی تیرہ جولائی کو صوبہ بلوچستان کے شہر مستونگ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سراج رائیسانی کے جلسے میں خود کش حملہ ہوا جس میں سراج رائیسانی سمیت 148 ہلاکتیں ہوئیں اور دوسو کے قریب افراد زخمی ہوئے۔ ان اندوہناک واقعات سے قبل ایک خود کش حملے میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ہارون بلورسمیت درجنوں افراد ہلاک اور پینتالیس زخمی ہوئے تھے۔ اس ساری داخلی صورت حال سے اُن قیاس آرائیوں کو تقویت مل رہی تھی جن کے مطابق انتخابات التوا کا شکار ہو جائیں گے۔ ایسے نازک وقت میں الیکشن کمیشن اور اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے بار بار یہ یقین دہانی کروائی جارہی تھی کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے اور اعلیٰ فوجی قیادت بھی پُرعزم تھی کہ انتخابات پچیس جولائی کو ہوں گے تاکہ اقتدار کی منتقلی جمہوری انداز میں ہو۔ انتخابات کے دن اگرچہ کوئٹہ میں شدت پسندوں نے پولیس وین کو نشانہ بنایا لیکن مجموعی طور پر انتخابات کا انعقاد سخت سکیورٹی کے انتظامات کی وجہ سے پُرامن ماحول میں ہوا۔ پاکستان کے بہادر عوام تمام خاطر ات کے باوجود پولنگ ڈے پر گھروں سے نکلے اور شدت پسند عناصر کے مذموم مقاصد کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ باؤن فیصد ٹرن آؤٹ نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی قوم ایک بہادر اور نڈر قوم ہے اور انہیں بزدلانہ کاروائیوں کے ذریعے کوئی اپنے حق سے محروم نہیں رکھ سکتا ہے۔ اَب اگلے آٹھ ، دس دن کے اندر نئی جمہوری حکومت اقتدار سنبھال لے گی جن کو ایسے ٹھوس اقدامات اُٹھانے ہوں گے کہ جس سے دہشت گردی کا مکمل قلع قمع ممکن ہو سکے کیوں کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات یہ عندیہ دے رہے ہیں کہ شدت پسندوں کا مکمل صفایا نہیں ہوا ہے۔ پس بیرونی سرمایہ کاری کے لئے داخلی طور پر مستحکم اور پُر امن پاکستان کی ضرورت ہے اور سی پیک کا عظیم منصوبہ جو پاک دشمن کی آنکھوں میں اول روز سے کھٹک رہا ہے وہ تب ہی معیشت کو تقویت بخشے گا۔

جہاں تک اس وقت ملکی معیشت کا تعلق ہے وہ قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے ۔نڈھال قومی معیشت پر قرضوں کا مجموعی بوجھ ریکارڈ 29 ہزار 290 ارب روپے ہو چکا ہے ۔ مقامی قرضوں کا بوجھ 17 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے جب کہ غیر ملکی قرضوں کا حجم ریکارڈ دس ہزار سات سو ارب روپے سے زیادہ ہو چکا ہے ۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق آئی ایم ایف کا قرض 732 ارب 70 کروڑ روپے ہے جب کہ سرکاری اداروں کے قرضے 996 ارب 40 کروڑ روپے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں ڈالر کی اونچی اُڑان جاری ہے جس کے مقابلے میں روپے کی قدر بے قدری کی سطح پر پہنچ چکی ہے ، یعنی ڈالر کی قیمت 128روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس تشویش ناک اور خطرناک صورت حال سے وطن عزیز پر غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 300 ارب روپے ہوگیا ہے۔ معاشیات کے اُصولوں کی روشنی میں کسی ملک کے قرضوں کی حد ملکی گراس ڈومیسٹک پراڈکٹ ( جی ڈی پی ) کے ساٹھ فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے جب کہ اس وقت ملک میں قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 83 فیصد کے برابر پہنچ چکا ہے۔زبوں حال اور نڈھال ملکی معیشت نئی برسر اقتدار آنے والی جماعت کو حکمرانی کے تاج کے ساتھ ملے گی۔

بد قسمتی سے ملک خدادادکی خارجہ پالیسی شروع دن سے نہایت کمزور رہی ہے۔ اگرچہ جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے ہماری اہمیت مسلمہ ہے لیکن اَب تک اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم اُٹھا چکے ہیں لہٰذا مضبوط ،خود مختار اور مربوط خارجہ پالیسی بنانا اشد ضروری ہے ۔ امریکہ سے تعلقات استوار کرتے وقت چین ، بھارت اور افغانستان سے تعلقات کا جائزہ لینا پڑے گا۔ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے لئے بنائی جانے والی خارجہ پالیسی میں شام ، فلسطین اور یمن میں جاری جنگوؤں کے اثرات و مضمرات کا عمیق جائزہ لینا پڑے گا۔ اسی طرح ہمسائیہ ملک ایران کے ساتھ تعلقات میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مد نظر رکھنا ہوگا۔ پس ہماری خارجہ پالیسی جتنی مضبوط اور مربوط ہوگی ، اُتنی دنیا بھر میں ہماری عزت و وقار میں اضافے کا سبب بنے گی۔ یہ وہ تمام خطرات ہیں جو نئی حکومت کو اقتدار میں ملیں گے اور ان سے نمٹنے کے لئے ہمیں باہمی چپقلشوں اور رنجشوں کو بھولا کر آگے کا سوچنا ہوگا اور یہ تب ہی ممکن ہو گا کہ جب حکومت اور حزب اختلاف کو مل کر کام کریں۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
10 Aug, 2018 Total Views: 152 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 113 Articles with 30863 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB