وہ سعودی عرب جو ہم نے دیکھا

حج کا سفر

ہمارے ملک عزیز میں سرکاری طور پر حج کمیٹیاں قائم ہیں جہاں حج پر جانے کے لئے درخواست دی جاتی ہے اور قرعہ اندازی کے لئے عازمین حج کا انتخاب ہوتا ہے ۔چونکہ ہر ممالک سے عازمین حج کی تعداد سعودی عرب نے متعین کردیا ہے اس لئے اسی کے مطابق لوگوں کو حج کی اجازت ملتی ہے۔کئی طرح کی قانونی کارروائی کے بعد عازمین حج حج کرنے کے لئے سعودی عرب کے لئے کوچ کرتے ہیں ۔دوسری طر ف ہمارے ملک میں پرائیویٹ طور سے بھی حج پر جانے کا انتظام ہے ۔جو مختلف ٹراولس کے ذریعے جایا جا سکتا ہے ۔میں نے بھی اسی پروائیویٹ ایجنسیوں کا سہار ا لیا چونکہ حج ہاؤس کی دوڑ بھاگ میرے لئے ممکن نہیں تھا چونکہ میں ایک صحافی ہوں جس کی وجہ سے مصروفیت زیادہ رہتی ہے اس لئے میں نے کلکتہ کے الامین ٹور اینڈ ٹراولیس کا انتخاب کیا جو حج و عمرہ کے لئے لوگوں کو لے کر جاتے ہیں ۔دراصل اس ٹریولس کے ساتھ رانچی کے محمد شمیم صاحب منسلک ہیں انہیں کے ذریعے یہ حج آسانی سے ہونا ممکن ہوا ہے جو کلکتہ کے الامین ٹور اینڈ ٹریولس سے وابستہ کرایا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹراولس کے ذریعے بہترین انتظامات اور سہولیات مہیا کرائے گئے اس سہولیات کو دیکھتے ہوئے بار بار حج پر جانے کو جی چاہتا ہے ۔یہ بھی اتفاق ہوا کہ اسی سال سعودی حکومت نے الامین ٹور اینڈ ٹراولس کوحاجیوں کی بہتر خدمات انجام دینے کی عوض ایوارڈ سے نوازاہے۔میری روانگی کے وقت بہارکے رہنے والے عمان میں رہائش پذیررضی خان انجینئر ایک ساتھی ملے جو اپنی فیملی کے ساتھ سفر حج کے لئے میرے ہم سفر ہوئے ۔وہ کافی تجربہ کار تھے جس کا ہمیں براہ راست فائدہ حاصل ہوا اور کسی طرح کی کوئی پریشانی نہیں اٹھانی پڑی ۔کلکتہ سے پرواز کرتے ہوئے ابو ظہبی ہوتے ہوئے مکہ پہنچ گئے جہاں سے معلم کے ذریعے ہوٹل تک پہنچے ۔ہوٹل سعودی کلاک ٹاور میں تھا جو حرم شریف کے بالکل قریب واقع ہے،پانچوں وقت فرض نماز کا جماعت کے ساتھ ادائیگی کا حرم میں موقع ملا ،تہجد بھی مکہ میں پڑھنے کا موقع ملا اور جب جی چاہا طواف کے لئے نکل پڑے ۔میرے ساتھ میری اہلیہ محترمہ بھی تھی جو بار بار مجھے کہتی چلیں طواف کعبہ کر کے آتے ہیں ۔عمرہ کے بعدپہلی دفعہ طواف کعبہ الامین کے مالک محمد شمشاد صاحب نے بیت اﷲ کی زیارت کرائی ۔بہت ہی رقت آمیز منظر تھا ہر طرف خوف خدا سے لرزتے ہوئے انسانوں کا سمندر ٹھاٹھے مارتا ہوا رواں دواں تھا ۔میں بارگاہ خداوندی کے جاہ و جلال کے تصور سے لرزتا ہوا اندر داخل ہوا۔ صحن میں پاؤں رکھتے ہیں خانہ کعبہ پرپہلی نظر پڑی اور مجھے اچانک ایسا محسوس ہوا کہ اس کی چھت آسمان کو چھو رہی ہے !ہزار آدمی وہاں طواف کر رہے تھے۔ کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنا گوارا نہ تھا۔ جو طواف سے فارغ ہو چکے تھے ، ان میں کوئی حطیم کے اندر نفل پڑھ رہا تھا اور کوئی غلاف کعبہ تھام کر گریہ و زاری کر رہا تھا۔ کسی کو کسی کے ساتھ سروکار نہ تھا۔ کسی کو کسی کے ساتھ دلچسپی نہ تھی۔وہ مختلف سمتوں سے آئے تھے ، لیکن وہاں مشرقی و مغربی ، کالے اور گورے ، امیر اور غریب ، ادنیٰ اور اعلیٰ کی کوئی تمیز نہیں تھی۔ طواف شروع کیا ، میری خودفراموشی کا یہ عالم تھا کہ کبھی چلتے چلتے میری رفتار کم ہو جاتی اور کبھی میرے قدم تیز ہو جاتے ، لیکن دو تین چکر لگانے کے بعد میں سنبھل چکا تھا۔خانہ کعبہ کے گرد سات چکر پورے کرنے اور حجر اسود کو چھونے کے بعد باب الرحمۃ کے سامنے دعا شروع کی۔وہاں شائد پہلی بار یہ خیال آیا کہ میں کون ہوں؟ اور کہاں سے آیا ہوں؟ اور اس کے ساتھ ہی میری آواز بیٹھ گئی۔ میں بڑی کوشش کے ساتھ رک رک کر دعائیہ کلمات دہرا رہا تھا لیکن اچانک میری قوت گویائی جواب دے گئی اور آنسوؤں کا ایک سیلاب جو نہ جانے کب سے اس وقت کا منتظر تھا ، میری آنکھوں سے پھوٹ نکلا۔

سات دن ہمارا قیام مکہ میں رہا اور آٹھ دن مدینہ میں ۔ہمارے قافلے میں 148لوگ تھے جن میں مستورات 70تھیں ۔اتفاق سے حرم شریف کے قریب ہی رہائش کا انتظام تھا۔جس کی وجہ سے ہمیں کافی سہولیات میسر آئیں اور یہ الامین ٹور اینڈ ٹراولس کی مہربانی اور ایمانداری کا ثبوت تھا جو انہوں نے کہا اس سے بہتر سہولیات دے کر ثابت کیا۔انہوں نے ہمیں خانہ کعبہ کے نزدیک ہی رہائش دی جس سے ہمیں کافی خوشی ملی اور پانچوں وقت نماز حرم شریف میں پڑھنے کا موقع ملا۔اگر انتظامات اور سہولیات بہتر ہو تو حج کی ادائیگی میں کسی طرح کی کوئی دقت نہیں ہوتی ہے نہ کسی چیز کی فکر ہوتی ہے ۔جس عبادت کیلئے مسلمان اپنے اہل خانہ کو اﷲ کے حوالے کرکے جاتے ہیں اس کی ادائیگی بہتر طریقے سے ہونی ہی چاہئے ۔

مکہ سے مدینہ کے لئے روانگی ہوئی ،وہاں بھی مسجد نبوی کے نزدیک رہائش کا انتظام تھا جس سے کافی سہولیات میسر آئیں ۔وہاں بھی کئی طرح کے تجربات ہوئے جس کا ذکر آگے کریں گے ۔اس کے بعد۶ذی الحجہ کو مدینہ سے مکہ واپسی ہوئی ۔۸ ذی الحجہ کومکہ سے منی روانگی ہوئی۔

آج ہی کے دن سے حج کے اعمال کا آغاز ہوتا ہے، آج سورج طلوع ہونے کے بعد مکہ سے منی کے لئے روانہ ہواجہاں کھانے پینے کی تمام طرح کے انتظامات بہتر تھے ۔ پھر منی میں قیام کیا ، یہاں ظہر، عصر، مغرب، عشا اور نویں ذی الحجہ کی فجر کی نمازیں پڑہیں ،چونکہ آج کوئی خاص عمل نہیں کیا جائے گا ،اس لئے تلبیہ وتسبیح وتہلیل ودعا میں مشغول رہے۔

حج میں کھانے پینے کی بھی کافی اہمیت ہے ،چونکہ جسمانی طور پر مضبو ط اور چوک وچوبند رہیں گے تبھی بہتر طریقے سے حج کے ارکان کو پورا کرسکیں گے ورنہ بیمار ہو کر اگر کوئی غلطی ہوگئی تو بہت کفارہ واجب ہوجاتا ہے ۔اس لئے کھانے پینے کا ذکر بھی ضروری ہے ۔مدینہ میں معلم کے ذریعے کھانے کا جو انتظام کیا گیا وہ ٹھیک نہیں تھا ،بار بار شکایتیں کرنے کے باوجود اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ،روٹی سے لیکر سالن تک ٹھنڈی تھی ،جب کہ ان سب چیزوں پر معلم کی نگاہ ضرور ہونی چاہئے تھی۔

یوم عرفہ نویں ذی الحجہ:
یہاں کا ایک الگ منظر دیکھنے کو ملا ۴۸ڈگری کی گرمی میں لوگ کھلے آسمان کے نیچے بارگاہ الہی سے معافی مانگنے اور دعا کرنے میں مشغول تھے،زارو قطار رو رہے تھے جس کو بیان کرنے سے الفاظ بھی قاصر ہیں ۔چونکہ روزِ قیامت یہی حشر کا میدان ہوگا ،لوگ جہنم سے پناہ اور جنت کی تمنا اﷲ سے کررہے تھے۔اﷲ اس دن کی دعا کو فوراً قبول فرماتا ہے۔شدت گرمی اور تپش ہونے کے باوجود لوگ دعائیں مانگنے میں اس قدر مشغول تھے کہ انہیں کسی تکلیف کا احساس ہی نہیں ہورہا تھا ،وہ بس اپنی گناہوں کی معافی کی طلب گار زارو قطار رو رہے تھے اور بارگاہ الہی میں اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے تھے۔اﷲ تعالی تمام حاجیوں کی دعا قبول فرمائے۔آمین

حج کا سب سے اہم دن یہی ہے، عرفات ایک میدان کا نام ہے، اس میدان میں ٹھہرنا فرض ہے، خواہ تھوڑی ہی دیر کے لئے ہو، اگر یہ چھوٹ گیا تو حج فوت ہوگیا، نیز اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ عرفات میں ایک وادی ہے جس کا نام بطن عرنہ ہے ،یہ عرفات میں داخل نہیں ہے۔

مزدلفہ میں آمد:
عرفہ میں جب سورج غروب ہو گیا تو مزدلفہ کی طرف نکل پڑے، یہاں مغرب کی نماز پڑھنا ممانعت ہے ،آج مغرب اور عشا کی نماز مزدلفہ میں ایک ساتھ پڑھی جائے گی کہ یہی مشیت خداوندی ہے، جب مزدلفہ پہنچ گئے اور عشا کا وقت ہوگیا تو اذان کے بعد تکبیر کہی اور مغرب کی نماز ادا کی اور نیت سے پڑھی، مغرب کی فرض نماز سے فراغت کے فوراً بعد بغیر تکبیر کہے عشا ء کی نماز پڑھی، عشا ء کی نماز سے فراغت کے بعد مغرب اور عشا ء کی سنتیں اور وتر پڑھی،پھر ذکر ودعا میں مشغول ہوگئے، فجر کی نماز آج یہیں مزدلفہ میں پڑھنی ہے، یہاں وقوف کا وقت صبح صادق سے طلوع آفتاب تک ہے،اس لئے صبح صادق سے پہلے جانے پر روکا گیا ہے ،ورنہ دم واجب ہوگا،الا یہ کہ کوئی معذور ہو یا عورتیں ہوں تو صبح صادق سے پہلے یا صبح صادق کے بعد منی جانے کی گنجائش ہے،لیکن بہتر یہ ہے کہ صبح صادق کے بعد ہی منی کے لئے روانہ ہونا چاہئے ۔

یوم النحر :(دسویں ذی الحجہ)مزدلفہ سے فجر کی نماز پڑھ کر سورج نکلنے سے پہلے منی کے لئے روانہ ہوگئے۔مزدلفہ سے منی کی دوری پانچ کلومیٹر ہے جس میں اکثر لوگ پیدل سفر کرتے ہیں چونکہ پیدل چلنے والوں کی ہی اتنی بھیڑ ہوتی ہے کہ چلنے کے لئے جگہ نہیں ہوتی ہے اس لئے کوئی سواری کا انتظام نہیں کرتے ہیں۔فجر کے بعد سے لوگ چلنا شروع کرتے ہیں اور سورج نکلنے کے ساتھ ساتھ تپش اور دھوپ اس قدر سخت ہوتی ہے کہ حلق سوکھنے لگتا ہے ایسی حالت میں حجاج کرام جو اپنے ساتھ کچھ پانی کی بوتل لے کر چلتے ہیں وہ جلد ختم ہوجاتا ہے اور لوگوں کو مزید شدت پیاس ستانے لگتی ہے ۔حیرت ہے کہ ایسی جگہ سعودی حکومت نے جگہ جگہ پانی کا انتظام کیوں نہیں کیا جب کہ یہاں سب سے زیادہ پانی کی ضرورت ہے۔امید ہے آئندہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ وہاں جگہ جگہ پانی کا بندوبست کی جائیگی ۔منی پہنچ کر چار اعمال انجام دینے تھے: جمرہ عقبہ کی رمی، پھر قربانی، پھر سر کے بال کٹوانا، پھر مکہ آکر طواف زیارت کرنا، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ اعمال اسی ترتیب سے انجام دیئے تھے، اس لئے اسی ترتیب سے انجام دینا واجب ہے ،نیز خود سے رمی کرنا واجب ہے، اس لئے خود سے رمی کی، رمی کا انتظام اتنا بہتر کر دیا گیا ہے کہ اب کوئی بھیڑ نہیں ہوتی بلکہ آسانی سے لوگ رمی کرتے ہیں۔

آج یعنی دسویں تاریخ کو رمی کا مسنون وقت سورج نکلنے سے لیکر غروب تک ہے، غروب کے بعد سے لیکر پوری رات یعنی گیارہویں کے صبح صادق سے پہلے تک مکروہ وقت ہوتا ہے،رمی کے بعد قربانی کی جاتی ہے جس کا انتظام پہلے سے کرلیا جاتا ہے اور حجاج کرام کو قربانی کی اطلاع دے دی جاتی ۔ اس کے بعد ہم سر کے بال کٹواکر حلال ہوگئے، عورتوں کے لئے چوتھائی سر کے بال ایک انگلی کے بقدر کٹوانا ہوتا ہے۔

طواف زیارت:رمی، ذبح اورسر کے بال کٹوانے کے بعد احرام سے فارغ ہوگئے ،چونکہ احرام میں کئی چیزوں سے سخت احتیاط برتنا پڑتا ہے۔رات گزارنے کے بعد دوسرے دن طواف زیارت کے لئے سبھی کے ساتھ مکہ شریف کے لئے روانہ ہوگئے۔یہ طواف فرض ہے، طواف زیارت کا وقت دسویں تاریخ کے صبح صادق سے شروع ہوجاتا ہے، البتہ سنت یہ ہے کہ دسویں تاریخ کو رمی، ذبح اور بال کٹوانے کے بعد طواف زیارت کیا جائے ، طواف زیارت قربانی کے ایام ہی میں کرلینا واجب ہے۔

طواف زیارت کے بعد منی واپس ہوگئے، منی پہنچ کر گیارہویں اور بارہویں کو رمی کیا، گیارہ اور بارہ تاریخ کو تینوں جمرات کی رمی کیجاتی ہے ،رمی سے فارغ ہو نے کے بعد آخری تین دن میں مغرب سے پہلے پہلے منی کے حدود سے نکلنا ہوتا ہے ۔اگر نہیں نکلے تو چوتھے دن بھی رمی کرنا ہوتا ہے۔ مکہ واپس آگئے۔

طواف وداع رخصتی کا طواف:
اسی دن سبھوں نے وقت نہ ہونے کی وجہ سے طواف وداع بھی عشاء تک کرنے کے بعد اپنے رہائش منیٰ چلے گئے ۔اب ہم حج سے فارغ ہوگئے، وطن واپس جانے کی تیاری کی ،تواب طواف وداع اور طواف سے فارغ ہوکر دوگانہ نمازپڑھی اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے دعائیں مانگیں۔ایک دن مکہ میں رہنے کے بعد ہم سب اپنے وطن کے لئے روانہ ہو گئے ۔
ہم سب ساتھیوں نے23 دن سعودی عرب میں گزارے۔ اس دوران یہاں کے نظام کو سمجھنے اور پرکھنے کی کوشش کی۔ بہت سے لوگوں سے بات چیت ہوئی ،اور سعودی عرب کے لوگوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ہر طرف سے سعودی لوگ خوردنوش کی اشیا ء سمیت پانی اور ٹھنڈا کے ساتھ پینے کے کئی طرح کی مشروبات لیکر گھومتے تھے اور حاجی حاجی کہہ کر خوش دلی کے ساتھ دیتے تھے۔

یوں توسعودی عرب کے معاشرے کی خوبیاں اور خامیاں ہمارے سامنے آئیں۔ سعودی عرب میں خوبیاں زیادہ اور خامیاں کم ہیں۔ سعودیہ عالم اسلام کا مرکز کہلاتا ہے۔ یہیں پر کعبۃ اﷲ شریف اور روضہ رسول ؐہے۔ یہیں پر موجود غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تھی۔ یہیں پر تاریخِ اسلام کی پہلی مسجد واقع ہے۔ یہیں پر ہی جبل ابوقبیس ہے، مزدلفہ، جمرات اور جبل رحمت ہے۔ یہیں پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع دیا تھا جو عالمی منشور کا ابتدائی چارٹر سمجھا جاتا ہے۔ گویا ہر اعتبار سے سعودیہ مسلمانوں کی محبتوں اور عقیدوں کا مرکز ہے۔ سب سے اچھی خوبی یہ ہے کہ سعودیہ کے حکمران دنیا بھر سے آنے والے معتمرین، زائرین اور حجاج کرام کی بھرپور خدمت کرتے ہیں۔ انسانی وسعت کے مطابق زیادہ سے زیادہ سہولتیں دینے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ سعودی معاشرے کی دوسری خوبی سخاوت ہے۔ سعودی خاندان ایک دوسرے سے بڑھ کر سخاوت کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔سخاوت بھی ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ سخی شخص کو اﷲ تعالیٰ محبوب رکھتا ہے۔ ہم نے عربوں کو بہت سخی پایا۔ عرب معاشرے کی ایک بہت بڑی خوبی ایمانداری ہے۔ عرب لوگ ایماندار ہیں۔ عرب دکاندار ہو یا کمپنی مالک، ورکر ہو یا سیٹھ وہ بے ایمانی نہیں کرتے۔ سعودیہ میں جو لوگ بے ایمانی اور دھوکہ دہی کرتے ہیں وہ سعودی نہیں ہوتے، بلکہ وہ دیگر ممالک کے رہنے والے ہوتے ہیں۔اصل سعودی آپ کو بہت ہی بااخلاق، ایمان دار اور ہنس مکھ ملے گا۔ سعودی عرب معاشرے کی ایک خوبی صفائی ستھرائی اور طہارت و نظافت ہے۔ یہ خود بھی تہذیب، سلیقے، صفائی ستھرائی، طہارت، نظافت کو پسند کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے ہیں۔ جدہ سے لے کر طائف تک اور مکہ سے لے کر مدینہ تک ہر جگہ آپ کو اس کے مظاہر نظر آئیں گے۔ ویسے دینِ اسلام نے بھی ہمیں یہی حکم دیا ہے کہ ہم صفائی، طہارت اور سلیقے کا اہتمام کریں۔ عرب معاشرے کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ نماز کا بہت اہتمام کرتے ہیں۔ مرد، عورتیں، بوڑھے اور بچے سب نماز کے اوقات میں آپ کو نماز پڑھتے نظر آئیں گے۔ عرب حضرات اپنے ساتھ ہمیشہ مصلیٰ اور جائے نماز رکھے رہتے ہیں۔ اگر سفر میں یا قریب میں کوئی مسجد نہ ہو تو کسی بھی جگہ جائے نماز بچھاکر نماز پڑھنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ ایک بہت ہی اچھی صفت ہے۔ ہر مسلمان کو اپنانی چاہیے۔ نماز دینِ اسلام کا ایک اہم ترین بنیادی ستون ہے۔سعودی معاشرے کی چھٹی خوبی یہ ہے کہ وہاں پر آپ کو فحاشی و عریانی بالکل نظر نہیں آئے گی۔ ہر سعودی خاتون آپ کو حجاب، برقعے اور اسکارف میں نظر آئے گی۔

ہم چونکہ اپنی فیملی کے ساتھ حج کے مبارک سفر کے لیے سعودی گئے تھے، حج کے انتظامات کیسے تھے؟ اس پر بات کرتے ہیں۔ سعودی عرب حکومت نے انسانی وسعت کے مطابق بہت اچھے انتظامات کیے تھے۔ امسال 23 سے 24 لاکھ افراد نے حج کیا۔ یہ لاکھوں افراد دنیا بھر کے ممالک سے آئے تھے۔ 24 لاکھ افراد کی جملہ ضروریات کا انتظام کرنا اور پھر ایامِ حج میں منیٰ، عرفات، مزدلفہ، جمرات اور حرمِ مکی و مدنی میں حج کے ارکان کی ادائیگی کے لیے انتظام کرنا یقینا بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ ہر حاجی 20 سے 60 دن تک یہاں مقیم رہتا ہے۔ ہر شخص نے حج کے 5 دنوں میں حج کے تمام ارکان کی ادائیگی لازمی کرنی ہوتی ہے۔ ماشاء اﷲ! سعودی حکومت نے ہر سال بہتر سے بہتر انتظام کررہی ہے۔ اس سال تمام انتظامات مثالی تھے۔ کہیں پر بھیڑ، رَش اور ہجوم کی وجہ سے کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔اس کے علاوہ کئی حاجیوں کو شکوہ کرتے ہوئے سنا کہ حج کے 5 دنوں میں وہاں کے حجام اور ٹیکسی ڈرائیور اپنے کرایہ میں کئی گنا اضافہ کردیتے ہیں۔ مثال کے طور پر عام دنوں میں حلق 5 ریال میں ہوتا ہے، جبکہ حج کے ایام میں 30 سے 50 ریال میں ایک حاجی کا سر مونڈھتے ہیں۔ اسی طرح عام دنوں میں عزیزیہ سے حرم تک فی کس 5 ریال کرایہ ہوتا ہے، جبکہ حج کے دنوں میں 200 سے 500 ریال تک کرایہ کردیا جاتا ہے۔ اس قدراضافہ کرنا یہ ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔ حجاج کرام مجبوراً یہ ظلم سہنے پر مجبور ہوتے ہیں اور اس پر احتجاج بھی کرتے ہیں، لیکن ان کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی۔ سعودی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کا نوٹس لے اور حج کے ان دنوں کے نرخ متعین کردے۔میں پہلی بار گیا تھا اس لئے مجھے قیمت کا انداز ا نہیں ہوا لیکن دوسرے وہ لوگ کئی بار حج کر چکے ہیں یا پھر جن کا قیام مکہ میں ہی ہوتا ہے ان کے ذریعے اس طرح کی باتیں سننے میں آئی ہیں۔بہر کیف اس سال حکومت ہندنے بھی اپنے حجاج کرام کو بہت سہولیات دیں۔ پرائیویٹ گروپوں میں الامین گروپ بہت اچھے تھے۔ انہوں نے اپنے حجاج کرام کی جملہ ضروریات بلکہ سہولیات کا بہت خیال رکھا۔اﷲ تعالی ان کو اور زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کی توفیق دے ،اﷲ حاجیوں کے ساتھ ساتھ ان گروپ والوں کو بھی ان کا اجر دے گا ۔تمام عازمین حج نے عالمِ اسلام، مسلمانوں اورہندوستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے ہر جگہ دعائیں کیں۔ ہم پْرامید ہیں کہ ان شاء اﷲ عالمی سطح پر بھی، ملکی سطح پر بھی اور انفرادی سطح پر بھی خوشحالی ضرور آئے گی اور دنیا میں امن قائم ہوگا۔

Imtiaz Uddin
About the Author: Imtiaz Uddin Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.