خاتون اول،فلمی سکرپٹ اور کنٹینر والے عمران

(Arshad Sulahri, )

فلمی دنیا میں ایک ٹرم استعمال کی جاتی ہے ۔لپسنگ ،جس کامطلب یہ ہوتا ہے کہ گیت یا کوئی ڈائیلاگ پہلے سے ریکارڈ ہوتا ہے ۔پرفارمر نے صرف لب ہلانے کی ادا کاری کرنا ہوتی ہے۔دیکھنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ جو آوازیں وہ سن رہے ہیں ۔وہ پرفارمر ہی ادا کر رہا ہے ۔لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔پرفارمر صرف لپسنگ کر رہا ہوتا ہے۔محض آواز کی مناسبت سے لب ہلا رہا ہوتا ہے۔وہ اپنی خوبصورت اداکاری سے حقیقت کا رنگ بھر دیتا ہے۔جس سے دیکھنے والے لطف اندوز ہوتے ہیں اور واہ واہ بھی کرتے ہیں۔یہ کھیل بہت دلچسپ ہوتا ہے۔کئی بار گلوکاروں کو بھی یہ کام کرتے دیکھا ہے۔سامعین سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ گلوکار بذات خود گا رہا ہے ۔لیکن جب اس بات کا معلوم ہوتاہے کہ وہ محض لپسنگ کر رہا تھا ۔گانے کا ریکارڈ چل رہا تھا تو سارا مزہ خراب ہو جا تا ہے اور دوبارہ ایسے سنگر کو سننے کو دل نہیں کرتا ہے۔دیکھنے اور سننے والے بدظن ہوجاتے ہیں۔ہوٹنگ بھی ہوتی ہے ۔من چلے خالی بوتلیں بھی مارتے ہیں۔ایسی صورتحال میں کئی سنگروں کو اسٹیج چھوڑ کر بھاگتے بھی دیکھا ہے۔لپسنگ کا تماشا زیادہ تر ہردل عزیز اور مشہور سنگر ہی کرتے ہیں۔سنگر گانا چاہتا بھی ہو تو اس کے ستائش خواں اسے لپسنگ کا درس دینے لگتے ہیں۔بعض اوقات بصد مجبوری بھی یہ کار کرنا پڑ جاتی ہے۔ڈھولک بریگیڈ مجبور کردیتی ہے۔گانا نہیں بس پرفارم کرنا ہے۔جس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ بس لوگوں کو دیکھانا ہے کہ گا رہے ہو۔سیاست میں بھی یہ کام بڑی خوبصورتی سے کیا جاتا ہے۔دیکھایا جاتا ہے ۔ کیا نہیں جاتا ہے۔ نئی حکومت کے چالے بھی کچھ ایسے ہی ہیں ۔وزیراعظم کے اجلاس کی کارروائی اگر ٹی وی سکرین پر دیکھی جائے تو عمران خان کی حرکات و سکنات پر بھی یہی گمان گزرتا ہے کہ لپسنگ کر رہے ہیں ۔اجلاس کا سارا ماحول کیسی فلم کا سین لگتا ہے۔عمران حکومت نے بھی لگتا ہے یہ ٹھان رکھی ہے کرنا کچھ نہیں ہے اور دیکھانا بہت زیادہ ہے۔جیسے یہ دیکھانا کہ عمران خان نمازی وپرہیزی بندے ہیں۔ جہازسے ننگے پاوں مدینہ کی مقدس سرزمین پراترتے ہیں۔وزیراعظم ہاوس میں رہنے کی بجائے ملٹری سیکرٹری کے گھر رہتے ہیں۔خاتون اول نے بھی اپنے پہلے انٹرویو میں وزیراعظم کی عاجزی انکساری اور سادہ زندگی کا خوب ڈھول بجایا ہے کہ عمران خان کا ماضی جو بھی تھا لیکن آج کے وزیراعظم پاکستان علامہ اقبال کے حقیقی بندہ مومن بن چکے ہیں۔یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے جب وزیراعظم جی ایچ کیوں اور آئی ایس آئی کے آفس جاتے ہیں اور خطاب فرماتے ہیں۔قوم سے خطاب میں بھی قوم نے دیکھا اور اب ثابت ہوا ہے کہ جناب محض ریکارڈنگ پر لپسنگ ہی کر رہے تھے۔جبکہ عوام کو اور بالخصوص قوم یوتھ یہ توقع کر رہی تھی کہ پی ٹی آئی حکومت آتے ہی کپتان سب کچھ بدل دیں گے۔دبنگ انٹری دی جائے گی۔انقلابی صورتحال ہوگی۔کپتان کا ہر ہر قدم انقلاب کا غماض ہوگا۔ایک بڑا جشن فتح منایا جائے گا۔جس میں عمران خان ملک وقوم کیلئے انقلابی اعلانات کریں گے۔تھرتھریلی مچ جائے گی۔لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا بلکہ الٹا کپتان صاحب کیسی شاہی قیدی کی طرح ایوان اقتدار میں مقید نظر آتے ہیں۔کل ایک پی ٹی آئی کے بہت سرگرم کارکن سے بات ہوئی کہہ رہا ہے تھا کہ عمران خان کیخلاف شازش ہو رہی ہے۔انہیں کھل کر کام نہیں کرنے دیا جا رہا ہے۔پوچھا کون ہے جو عمران خان کے خلاف شازش کر رہا ہے۔پھٹ بولے۔جو لیکر آئے ہیں۔پوچھا کون لیکر آئے ہیں۔بولے ۔جاوید ہاشمی ٹھیک ہی کہتے تھے۔اب دیکھو نا موٹر سائیکل،رکشہ والوں پر اتنے بھاری جرمانے،پشاور یونیورسٹی میں طالب علموں پر تشدد ۔یہ عمران خان نہیں کر رہا ہے۔عمران خان کے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے۔وزیر اعظم تو بنادیا لیکن کام وہ اپنی مرضی کے مطابق ہی کروا رہے ہیں۔وزیراعظم کے پاس تو کھل کے بولنے کا اختیار نہیں ہے۔پی ٹی آئی کا دوست بہت رنجیدہ دل تھا۔مگر مایوس نہیں تھا۔اب بھی امید سے تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت برحال مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سے بہتر ہے۔کارکن تو کارکن ہی ہوتا ہے۔وہ کیا کر سکتا ہے۔بس نعرے،جلسوں کی رونق، قربانیاں کارکن کی یہی سیاست ہے ۔کارکن تو آج کنٹینر والے عمران خان کو ہی دیکھ رہے ہیں ۔مگر وزیراعظم ہاوس اور خاتون اول والا عمران خان مختلف ہے۔ یار دوست اور عمران خان کے مخالفین کہا کرتے تھے کہ کنٹینر پر کھڑا شخص سکرپٹ پڑھ رہا ہے۔سب غلط ثابت ہوا ہے۔اس کی باتوں میں تو دم تھا۔عوام کے دل کی باتیں تھیں۔سچی اور کھری باتیں۔جذبات تھے۔ولولہ تھا۔جوش تھا۔پاکستان جو بدل دینے کی امنگ تھی۔عام لوگوں ،غریب عوام کے دن بدلنے کا خواب تھا۔وہ سب کچھ تھا جو ایک سچے اور کھرے لیڈر کی پہچان ہوتی ہے۔کچھ تھا تو ترانے بجتے تھے۔نوجوان بھنگڑے ڈالتے تھے۔ذوالفقار علی بھٹو کے بعد کس کو نصیب ہوا کہ نوجوان نسل دیوانہ وار جلسوں کا رخ کرے۔یہ کنٹینر والے عمران خان کا ہی کرشمہ تھا۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
10 Oct, 2018 Total Views: 169 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Arshad Sulahri

I am Human Rights Journalist , columnist ,Songwriter .. View More

Read More Articles by Arshad Sulahri: 49 Articles with 12588 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB