گداگری ایک ناسور

(Adeel Moavia, Karachi)

بروز جمعرات مغرب کی نماز بنوری ٹاٶن مسجد میں ادا کرنے کی بعد شب جمعہ کےلیے مدنی مسجد عاٸشہ منزل جانے کا ارادہ کیا۔چنانچہ گرومندر سٹاپ سے بس W11 پہ سوار ہوا۔تھوڑا چل کر معلوم ہوا کہ تین ہٹی میں واقع دربار پر عوامی رش ہونے کی وجہ سے راستہ بلاک ہے۔اسی دوران ایک نوجوان گاڑی میں سوار ہوا روتے ہوۓ گویا ہوا۔"میں گرو مندر چوک کا مزدور ہوں،معدے میں السر کی وجہ سے کام نہیں کرسکتا، پتہ نہیں بچوں نے کچھ کھایا ہے کہ نہیں،جمعرات کا دن بڑی مراد کا دن ہوتا ہے،اللہ آپ کو خیریت سے لے جاۓ،میری مدد کرتے جاٸیں"

اسی طرح کے مزید کٸ جملوں کی گردان اس نے ایک ہی سانس میں پڑھ دی۔خواتین پورشن سے دس بیس اور پچاس کے نوٹ ملنے لگے۔البتہ مرد حضرات کی طرف دو اور پانچ کے سکے ہی نکلے اسی دوران میرے داٸیں پہلو میں بیٹھے ایک بابو جی نے اسے آواز دی اور بٹوے سے پانچ ہزار کا نوٹ نکال کر اس کی مٹھی میں ڈال دیا۔نوٹ ملتے ہی وہ شخص دوسروں کے سکوں کو نظر انداز کرتے ہوۓ رفو چکر ہوگیا۔پھر کیا تھا کہ بس میں گویا کہ گداگری پہ مذاکرے کا اہتمام کیا گیاہو۔کوٸ پانچ ہزار دینے والے کو ملامت کررہا ہے تو کوٸ انتظامیہ اور حکومت کی نااہلی اور ملی بھگت پہ تبصرے کررہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ گداگری ایک لعنت ہے جو بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں تیزی سے پھیلتی جارہی ہے۔اب گداگری نے باقاعدہ ایک پیشے کی شکل اختیار کرلی ہے۔گداگری قوم کو اجتماعی طور پر بہت زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ افراد کے اندر غیرت و حمیت کو ختم کر دیتی ہے۔ محنت اور کام کرنے کی صلاحیت برباد کر دیتی ہے، قوم کی ذہنی صلاحیتوں کو یکسر موقوف کردیتی ہے، قوام اور افراد میں سستی، سہل پسندی اور دولت کی ہوس بڑھ جاتی ہے۔ اخلاقی اور نفسیاتی جرائم عام ہو جاتے ہیں انسان گھٹیا اور ذلیل عادات کا غلام ہو جاتا ہے۔ انسانی رشتے اور اخلاقی اقدار پامال ہو جاتے ہیں۔ انسان انسان کا دست نگر ہو جاتا ہے، اجتماعی طور پر انسان اور معاشرہ غیروں کا محتاج ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر عزت و غیرت ختم ہو جاتی ہے۔انسان خالق حقیقی کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا سہارا اور رازق سمجھ بیٹھتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔

اسلام میں آفاقی نظام معاشرت گداگری سمیت تمام معاملات کا پختہ حل دیا گیا ہے۔ اسلام کا نظامِ زکوۃگداگری اور معاشی و معاشرتی نا ہمواریوں کا بہترین حل ہے۔ہر صاحب نصاب پر اڑھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ لاگو ہوتی ہے جس کے حودار ضرورت مند، مسافر، یتیم و بے آسرا ہیں۔ اسلام کے ابتدائی سالوں میں ہی صورت حال یہ ہوگئی کہ زکوۃ دینے والے مدینہ منورہ کی گلیوں میں صدا لگاتے پھرتے مگر کوئی زکوۃ لینے والا نہ ملتا۔ لیکن مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کا بنیادی اصول ہی یہ ہے کہ غریب کو مزید غریب اور امیر کو مزید امیر کیا جائے۔ سود اس کی بہترین مثال ہے جس سے دولت مند آدمی گھر بیٹھے غربت اور ضرورت مندلوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر را ت و رات خوب دولت اکٹھی کر لیتا ہے، لیکن اسلام کا منشاء یہ نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں کچھ تو واقعی ضرورت مند افراد ہیں جو بھیک مانگنے پر مجبور ہیں، ان کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔ سورۃ البقرہ میں ہے ”اے محمدﷺلوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ خدا کی راہ میں کس طرح کا مال خرچ کرنا کہہ دو جو چاہو خرچ کرو لیکن جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ کو اور قریب کے رشتے داروں کو اور یتیموں کو اور مسافروں کو (سب کو دو)اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے“۔ لیکن بد قسمتی سے بھیک مانگنے والوں میں ضرورت مند اور مستحق نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جن لوگوں نے گداگری کو بطور پیشہ اپنایا ہے۔ ان میں اکثریت دو تین سال کے بچوں سے لیکر 70/80 سال عمر کے مردوزن شامل ہیں۔ بعض بد کردار نوجوان عورتوں نے اسے فحاشی کے لائسنس کے طور پر اپنا رکھا ہے۔ بھیک مانگنے کی آڑ میں مردوں کو دعوت گناہ دی جاتی ہے۔پیشہ ور گداگروں نے عوام کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ بس اسٹینڈز، ریلوے اسٹیشن، پارکوں، مساجد، ہوٹلوں اور پبلک مقامات پر بھکاری مانگنے کی بجائے چھیننے کے موڈ میں ہوتے ہیں۔ گداگروں کی ایک قسم نے مساجد، مدرسوں اور خیراتی اداروں کے نام پر چندہ رسیدیں چھپوا رکھی ہیں اور مساجد کے نام پر گلیوں بازاروں میں دھڑے سے مانگا جارہا ہے اور ایسی مساجد اور مدرسے عرصے سے مکمل نہیں ہو سکے۔ایک اخباری رپورٹ کے مطابق بھیک مانگنے کے خلاف حکومت کا ڈر اور خوف نہ ہونے کی وجہ سے بھکاریوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہونے لگا ہے۔یہی وجہ ہے کہ صرف پنجاب میں بھکاریوں کی تعداد پونے دو لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اس کی وجہ سے عوام کا جینا مشکل ہوگیا ہے۔ ہر گلی محلے اور پبلک مقاما ت پر موجود یہ بھکاری پانچ، دس روپے لئے بغیر پیچھا نہیں چھوڑتے۔

گداگری ایک ایسا پیشہ سمجھا جاتا ہے جس میں بغیر کسی سرمایہ، بغیر کسی محنت اور خسارہ کے خدشہ کے بغیر معقول رقم اکٹھی کر لی جاتی ہے اور دیہاڑی دار مزدوروں کی طرح کام نہ ملنے یا موسم کی خرابی بھی اس کام پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ بڑے شہروں میں تو یہ کام باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا جاتا ہے اور ٹھیکدار مختلف بھکاریوں کو علاقاجات الاٹ کرتے ہیں اور ان سے باقاعدہ حصہ وصول کیا جاتا ہے اور جس طرح کوئی وکیل یا ڈاکٹر بغیر لائسنس پریکٹس نہیں کر سکتا اسی طرح ٹھیکیدار کے پاس رجسٹریشن کے بغیر کوئی آدمی بھیک بھی نہیں مانگ سکتا۔ اس کو وہ قابل دست اندازی جرم خیال کرتا ہے۔

پاکستان کے ہرشہر کی ہر سڑک ، ہر گلی، ہر محلے، ہر بازار میں گداگروں کی بے شمار تعداد دیکھنے میں آتی ہے۔کراچی کی تقریباً ہر بس میں ایک نہ ایک گداگر عورت ضرور نظر آتی ہے ۔ بس کے رکتے ہی یہ گداگر خواتین پھٹے پرانے کپڑے اور پاوٴں میں ٹوٹی چپل پہنے بس میں سوار ہوجاتی ہیں اور بلند آواز کے ساتھ اپنے مخصوص انداز میں بھیک مانگنے لگ جاتی ہیں ۔

ہمارے ملک میں یوں لگتا ہے جیسے سب کو مانگنے کی لت لگ گئی شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہائے زندگی ہو گا جو ترقی کی منازل اتنی تیزی سے نہیں طے کر رہا ہو گا جتنا کہ پاکستان میں گداگری کا شعبہ ترقی کر رہا ہے۔

گداگری اس وقت ایک ملکی سطح کا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے اور اس کو اب ہمیں محض نیکی کمانے اور دعا لینے کی بجائے دوسری نظر سے دیکھنا ہوگا ورنہ یہ لعنت ملکی معیشت کو لے ڈوبے گی۔

گداگری کے اسباب میں مہنگائی اور بیروزگاری جیسے عوامل شامل ہیں۔ والدین اپنے چھوٹے بچوں کو بھیک مانگنے کے لئے گروہوں میں شامل کر دیتے ہیں جو روزانہ بھیک کی رقم سے انہیں کمیشن دیتے ہیں۔ کئی بچے بچپن میں اغواء کر لئے جاتے ہیں۔ان کی شکلیں بگاڑ کر اور اپاہج بنا کر سڑکوں پر بٹھا دیا جاتا ہے جو گرمی سردی میں بیٹھے بھوک پیاس کی حالت میں آنے جانے والے راہگیروں سے خیرات مانگتے رہتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچے مرد عورتیں راہگیروں کے پیچھے خیرات مانگنے کیلئے دوڑ پڑتے ہیں۔ بیروزگاری سے تنگ نوجوان دل برداشتہ ہو کر منشیات کا استعمال شروع کر دیتے ہیں اور اپنے خرچ کی رقم بھیک مانگ کر پوری کرتے ہیں، مالی پریشانی کا شکار عورتیں مرد اپنے بچوں کے ہمراہ سڑکوں، چوراہوں پر کھڑے ہوکر بھیک مانگتے ہیں اس طرح گداگری کی بیماری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ لعنت ملک کے لئے خطرے کا باعث بن رہی ہے۔ گداگری سے اخلاقی اقدار بھی ختم ہو رہی ہیں اور ملکی سطح پر ریاست کی بد نامی بھی ہو رہی ہے۔ گداگری سے عالمی سطح پر ہمیں غریب کا خطاب دیا گیا ہے اور غریب ہونے کی حیثیت سے ہم اہنی غربت ختم کرنے کیلئے عالمی مالیاتی اداروں اور ترقی یافتہ ممالک سے مالی امداد کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ کئی سالوں سے عالمی اداروں سے امداد حاصل کرتے ہوئے بھی ہماری غربت ختم نہیں ہو رہی ہے بلکہ اس میں اضافہ جاری ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ حکومتی ادارے اس حوالے سے باقاعدہ قانون سازی کرکے اس ناسور کا خاتمہ کریں۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
12 Oct, 2018 Total Views: 76 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Adeel Moavia

Read More Articles by Adeel Moavia: 3 Articles with 318 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB