گزارش

(Moiz Khan, )

"تم سگریٹ کیوں پی رہے ہو"
"اس کی بات سنتے ہی میں آنکھیں مچکا کر میں بولا کہ اس سے لڑکیاں متوجہ ہوتی ہیں،"
"لیکن مجھے تو تمہاری سگریٹ سے شدید الجھن ہو رہی ہے"
"تو تم بتاؤ سگریٹ پینے کا کیا نقصان ہے، جو تمہیں ناگوار گزر رہی ہے۔"
" اس میں ناگواری کی بات ہو نہ ہو لیکن تم بیمار ہو جاو گے اور ایک دن موت نقینی ہو جائے گی"
"موت تو ویسے بھی ایک دن یقینی ہے باخدا، لیکن تم ڈاکٹر ہو تو میرا تم سے یہ سوال کہ بیماری کیا ہے"
" یہ بہت آسان سی بات ہے، تم سگریٹ پی رہے ہو اور اگر تم نے اسے مسلسل جاری رکھا تو تمہارے پھیپھڑے سڑ جائیں گے اور تم مارے جاؤ گے۔"
"ہاں تمہاری بات ٹھیک ہے لیکن میں اسے کسی بھی صورت بیماری نہیں سمجھتا "
"چلو تم بتا دو بیماری کیا ہے، لیکن یہ بات یاد رکھنا میں ایک ڈاکٹر ہوں تو اپنی بات مکمل دلیل سے پیش کرنا"
"تم دلیل کی قائل کیوں ہو،؟؟ لیکن چلو ! پھر بھی میں تمہیں کہتا ہوں کہ تمہیں اگر میری بات سمجھ نہ آئے تو تم اسے رد کر سکتی ہو بلکہ میں یہ کہوں گا کہ تم اسے پاوں تلے روند سکتی ہو، لفظ بیماری درحقیقت زندگی کا دوسرا نام ہے، تم نے کہا کہ سگریٹ پینے سے میرے پھیپھڑے سڑ جائیں گے اور موت واقع ہو جائے گی، ہاں تمہاری بات سولہ آنے کھری اور سچی لیکن میں اسے دانستہ طور پر کی جانے والی خودکشی سے تشبیح دیتا ہوں، بلکل ایسے ہی جیسے اتفاقیہ حادثہ جس میں جان چلی جائے، یا پھر میں کلہاڑی کے وار سے اپنی ٹانگ خود کاٹ لوں یہ اتفاقیہ حادثہ یا دانستہ طور پر خودکشی کہا جاسکتا ہے لیکن بیماری نہیں ، بلکل ایسے ہی اور بھی بہت سے اعلانیہ اور اتفاقیہ حادثات جیسے گردے فیل ہو جانا یا پھر آج کل کچھ چیزیں بہت عام ہیں، جیسے دل کا اچانک رک جانا یا پھر شوگر لیکن یہ تمام حادثات ہیں، خواہ وہ اتفاقیہ ہوں یا اعلانیہ سگریٹ نوشی سے لیکن یہ کسی بھی صورت بیماری نہیں ہو سکتی بیماری خدا کی طرف سے ہوتی ہے، اس میں انسان کا کوئی چناو نہیں ہوتا درحقیقت میں بیماری اسے کہتا ہوں جب کسی زندگی کا وجود آپ کے جسم میں پروان چڑھنے لگتا ہے، پھر ہوتا کچھ یوں ہے کہ بیماری زندہ رہ سکتی ہے یا پھر آپ کیوں کہ دونوں زندگی کی جدوجہد میں آخری حد تک جانے کو تیار رہتے۔
" تم نے حادثے کی کافی لمبی دلیل دے دی میں ڈاکٹر ہوں لیکن چلو میں تمہاری اس بات کو قبول کر لیتی ہوں، میرے پاس وقت بہت مختصر ہے مجھے اپنے مریض کی دانتوں کی سرجری کرنے جانا ہے"
" اچھا اچھا میں بیماری پر مختصر دلائل دینے کی کوشش کرتا ہوں، مثال کے طور پر کسی مریض کو خونی سرطان کی شکایت ہے، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مریض کو اس بات کا الہام اس وقت ہوتا ہے، جب کینسر کو قابو کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ اور سو فیصد موت ہو جاتی ہے، میں صرف کینسر اور کچھ دیگر بیماریوں کو بیماری مانتا ہوں کیوں کہ یہ زندہ رہنے کے لئے بہت سیاست کرتی ہیں اور آخر وقت تک ظاہر نہیں ہوتی اور جب ظاہر ہوتی ہیں تو پھر ایک زندگی کا خاتمہ ہوتا ہے، مجھے خونی سرطان کا زیادہ نہیں معلوم لیکن اتنا پکا کہہ سکتا ہوں یہ جو بھی ہے یہ انسانی خون میں زندہ ہوتا ہے اور اس کا وجود ہماری موت پر منحصر کرتا ہے، میں نے ایک عزیز کو دیکھا ہے اس کے آخری لمحات میں رات کو اسے بے تحاشہ خون لگایا گیا لیکن اگلی صبح اس کا خون دوبارہ کم ہونے لگ گیا تھا، ہو سکتا ہے کینسر اس کا خون کھانے لگ گیا ہو، میں اسے بیماری کہتا ہوں، اور میں اس پر تحقیق کر رہا ہوں اور میں ایسی تمام بیماریوں کا بہت جلد بغیر کسی بھی دوا کے علاج ممکن بنا دوں گا کیوں کہ بیماری زندگی رکھتی ہے اور میں نے میدان میں جنگ ختم کرنے کے دو ہی طریقے دیکھے ہیں پہلا تو بہت عام سا ہے جس میں یوں ہوتا ہے کہ میدان میں دو میں سے ایک سر بچتا ہے اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ تم جنگ شروع ہونے سے قبل ہی خودساختہ طور پر زمین بوس ہو جاو، میں نے کبھی بھی ایسا نہیں دیکھا کہ کسی نے اپنے حریف کو زمین سے اٹھا کر اس سے جنگ کی ہو، وہ مسکراتے ہوئے گھڑی دیکھ رہی تھی تو میں نے بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ جس کی تم سرجری کرنے جارہی وہ مریض نہیں عین ممکن ہے اس کے ساتھ کوئی اتفاقیہ حادثہ ہوا ہو یا پھر کوئی اعلانیہ خودکشی۔
آپریشن ٹھیٹر سے باہر نکلتے مجھے اس بات کا اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ نظریں بچا کر مجھے کینٹین میں تلاش رہی تھی، چائے کا کپ تھامے میں اس تمام منظر سے محظوظ ہو رہا تھا ۔
"تم ، ابھی تک یہاں بیٹھے ہو "
"ہاں میرے پاس بھی کچھ کرنے کو نہیں تھا تو بیٹھ گیا، "
بنیادی طور پر میں ٓپریشن سے پہلے میں اس کی معصومیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ، اس کے ذہن پر حاوی ہونے میں کامیاب ہو چکا تھا لیکن میرا جانے انجانے میں بھی ایسا ویسا کوئی ارادہ نہیں تھا،
"تم فوجی بھی نا"
"بولو ، بولو تم رک کیوں گئی ، تم اپنی بات مکمل کرو ، اب میں حاضر سروس فوجی نہیں جو جوش میں آکر سیخپاہ ہو جاوں"
"میں یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ جنگ تو ہوتی نہیں تو بلاوجہ فوجیوں کی پر آسائش زندگی پر سرمائے کا لامحدود خرچ کسی بھی صورت دانشمندی نہیں"
"کیا کہا تم نے، پر آسائش ،"
"ہاں پر آسائش ،"
"لیکن کیسے ،"
"میں نے سنا ہے ، افسران کو لامحدود سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ، نیز ان کی تربیت پر ہی لاکھوں خرچ ہو جاتے ہیں ،"
"ہاں ،تمہاری بات سے کچھ حد تک میں اتفاق کرتا ہوں لیکن میں چاہوں گا کہ تم میری بات مکمل ہونے تک خاموشی اختیار کئے رہو، تاکہ میں اپنا موقف مفصل انداز میں بیان کر سکوں ،"
"ہاں ،ہاں تم بولو
"پہلی بات جو تمہارے ساتھ ساتھ لاکھوں لوگوں کے ذہن میں بلکل غلط گردش کر رہی ہوتی ہے کہ فوجی کو مراعات سے نوازا جاتا ہے ،
میں ایسا اس لئے کہہ رہا ہوں کیوں کہ میں خود ایک فوجی ہوں ، ہاں میں مانتا ہوں میں اب حاضر سروس نہیں ،لیکن تمہیں یہ بات قبولنی ہی ہوگی کہ زندہ ہاتھی لاکھ کا ہے تو مرا سوا لاکھ کا، اور فوجی کو ملنے والی مراعات کسی بھی دوسرے ادارے کی طرح ہی ہوتی ہیں بس فرق صرف اتنا ہوتا ہے وہ تمام مراعات سے فوجی کسی بھی طرح لطف اندوز نہیں ہو سکتا ، کیوں کہ وہ عہد میں جیتا ہے اور اس عہد کی پاسداری اس کا جینا مرنا ہووتا ہے ، اور سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ سب کو موت آنی ہے لیکن ہم میں سے صرف سزائے موت کے قیدی، اور حفاظت پر معمور اہلکار ہی اس موت کا ہر پل انتظار کرتے ہیں ہر لمحا مومن کی طرح موت کو یاد رکھنا پڑتا ہے اب تم اسے موت کا ڈر کہو یا حب الوطنی لیکن ہمیں تنخواہ اس بات کی نہیں ملتی، اس بات کے لئے ہی تو فوجی کو حصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے، میں نے بھی ایسے وقت دیکھے ہیں، جب نیند سے زیادہ زندگی پیاری لگی، میں کسی بھی صورت خود پر حب الوطنی کی مہر نہیں لگاوں گا لیکن مجھے اس وقت میں گزری اذیت کا ازالہ چاہئے مجھے کفارہ چاہئے ان لمحات کا جو میں نے اکثر جھیلے یا گزارے یا پھر اپنے لئے خود چنے
"بس بھی کرو، اب تم جزباتی ہو رہے ہو، اور تم کیوں پردہ پوشی کر رہے ہو، اتنی موٹی موٹی تنخواہ ادا ہوتی ہیں ہمارے قیمتی ٹیکس سے ،"
"بلکل ادا ہوتی ہیں ، اور یہ آج سے نہیں ہو رہی ، تم پیغمبری ادروار کا مطالعہ کر سکتی ہو، اور دوسری سب سے اہم بات جو عقل بھی تسلیم کرتی ہے کہ خالی بندوق اور خالی پیٹ کسی بھی صورت جنگ نہیں لڑی جاسکتی ،میں برملا کہتا ہوں اور مجھے یہ بات کہتے کبھی کوئی عار محسوس نہیں ہوتی کہ ہماری آرمی میں کھوتے بھرتی کئے جاتے ہیں جن کو بعد ازاں شیر بنایا جاتا ہے "
"کھوتے سے تمہارا کیا مطلب"
"کھوتے سے مراد گدھا، اور میرا تم سے سوال ہے کہ تنخواہ صرف فوجی کو اس کے کچھ ذاتی اور اپنے گھر کے اخراجات کے لئے ادا کی جاتی ہے ۔لیکن یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ جہاں جان دینے کی بات ہو ، وہ بھی اسی تنخواہ کے ایوض ہوتی ہے۔"
"اگر ہر بار جان جاتی تو تم آج اس طرح قصیدے نہیں سنا رہے ہوتے ۔"
"بات تو تمہاری ٹھیک ہے ، فوجی جان دینے کے لئے ہی تنخواہ لیتا ہے ۔ لیکن اس بات کو مان بھی لیا جائے تو میرا تم سے یہ سوال ہے کہ فوجی کو بھرتی کرتے ہی گولی کیوں نہیں مار دی جاتی میں نے بھی اپنی نوکری کے دوران بہت بار موت کی آرزو کی کیوں کہ ہر لمحہ ہر وقت موت کو ذہن میں رکھ کر خود کو تیار کرتے رہنا ایک ذہنی کرب سے زیادہ کچھ نہیں ، ہمیں پیسے جان دینے کہ ملتے لیکن کوئی ہمیں ان لمحات کے پیسے کیوں ادا نہیں کرتا جن میں ہمیں موت کو محسوس کرنا پڑتا ہے ، اس احساس کی قیمت کیا ہے ، تم ہی بتا دو ۔ کیا یہ صرف چوکیداری ہے ، اگر یہ چوکیداری ہے ؟ اگر یہ چوکیداری ہے تو پھر میں اپنے لئے ملنے والی تنخواہ تف سے زیادہ کچھ نہیں سمجھوں گا۔
"تم ڈاکٹر کیوں نہیں بن گئے ، ویسے بھی تو ہم دونوں ایک ہی کالج میں پڑھا کرتے تھے "
"ہاہاہا ! ہاں مجھے یاد ہے سب یاد ہے ، میں ان دنوں انتہائی بھونگا لڑکا ہوا کرتا تھا، اور ایک بار تو تمہیں محبت نامہ بھی لکھ بھیجا تھا ، تم معترض ہو گئی تھی۔ لیکن میں آج بھی مشکور ہوں کہ تم نے میرے گھر شکوہ نہیں کیا۔ اگر تم ایسا کرتی تو میری صحت کو شدید خطرات لاحق ہوجاتے ۔"
"تم بتاو تم کتنا کما لیتی ہو"
"کما لیتی ہو سے کیا مطلب تمہارا !، یہ پیغمبری پیشہ ہے ، ہم ڈاکٹر نہ ہوں تو تمہارا کوئی حال نہ ہو،اور جہاں تک پیسوں کی بات ہے تو ہمیں بھی ایک فوجی کی طرح گھر چلانا ہوتا ہے ۔"
"ہاں گھر چلانے تک تو ٹھیک ہے لیکن تم ہی گزشتہ دنوں مجھے بتا چکی ہو۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تم ہی نے ایک بار کہا تھا کہ دانتوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے پاس تو اپنے ذاتی جہاز ہوتے ہیں۔اور تم ہر آدمی کو دیکھنے کے بدلے ہسپتال کو ملنے والی فیس کا چالیس فیصد کی حصہ دار ہو اگر یہ بات سچ ہے تو تم اکیلی ملک کے سب سے بڑے منسب پر فائز انسان سے کہیں زیادہ کما لیتی ہو، اور میں نے جہاں تک تمہارا معیار زندگی دیکھا اس سے میں با آسانی یہ کہہ سکتا ہوں ۔یا تو تم بہت کرپشن کرتی ہو یا پھر یہ پیشہ تمہارے لئے محض کاروبار ہے ، کیوں کے خدمت کے ایوض اتنے ہی پیسے جائز بنتے ہیں جن سے شام کی لالی پھیلنے تک گزارہ ہوسکے ۔ کیوں کہ مجھے مرشدﷺ کی خوبصورت بات یاد ہے دولت پر انسان کا صرف اتنا حق جس سے بس ضرورت پوری ہوسکے اور ضرورت صرف وقتی ہوتی ہے۔ میں تو آج بھی اس بات پر قائم رہنے کی کوشش کرتا ہوں میرے بنک اکاونٹ خالی ہیں ، اور سب سے عمدہ بات جسے میں اپنی کل زندگی کا فخر مانتا ہوں وہ یہ کہ میرے گھر میں آج بھی پانی جمع کرنے کے واسطے پانی کا زمین دوز ٹینک نہیں موجود ۔ اور آ ج بھی وہی سکوٹر ہے جو ہمارے والد محترم نے میری پیدائش سے چند ماہ پہلے بنا سود کے آسان اقساط پر خریدہ تھا۔۔"
جو بھی ہے تمہیں میں بچپن سے جانتی ہوں بہت ہی دل پھینک تھے ،
"دل پھینک تو تھا لیکن میں نے آج دن تک پھر شادی کیوں نہیں ، تم اگر اس مخمسے کو حل کر دو تو میں جانوں!
"مجھ پر ایسی کونسی آفت آن پڑی جو میں اپنا سارا کام چھوڑ کر تمہاری بتائی ہوئی پہیلی پر اپنا دماغ وقت اور انرجی کا ضیاع کرتی رہوں۔"
"ہاں تم ٹھیک کہتی ہو، تم کیوں کر یہ سب کرو گی اور ویسے بھی یہ سب باتیں دل کی ہوتی ہیں ، کاروباری حضرات کے بس کی بات ہی نہیں ۔"
"میں ڈاکٹر ہوں ، مجھے مزید بحث میں نہیں پڑنا میں اب گھر جا رہی ہوں تم چاہو تو گھر جاو ورنہ اب یہ کینٹٰن والے تمہیں نکال باہر پھینکیں گے ، آفیت جان کر میں بھی گھر کو چل دیا۔


اگلی صبح کینٹین میں اس کے داخلے کے بعد عام لوگوں سے ہٹ کر میں صرف دلشاد کی آنکھوں پر غور کر رہا تھا ۔ جو ہمیشہ کی طرح مجھے تلاش رہیں تھیں ، لیکن مجھے دیکھ کر تسلی کرنے کے بعد انجان رہنے کی اداکاری کا جو لطف میں نے اس کے نہ دیکھنے میں دیکھا، ایسا سرور مجھے پہلے کبھی میسر نہیں آ یا ،
اچانک اس کے ٹیبل تھپ تھپانے پر میں نے بھی چونک جانے کی تھوڑی سی اداکاری کر ہی ڈالی ۔
"تم ہمیشہ کی طرح یہیں ملتے ہو ، کوئی اور کام نہیں کیا تمہارے پاس۔"
"نہیں تو میں نے تمہیں بتایا تو میں ایک فارغ فوجی ہوں۔"
"صرف فارغ نہیں بلکہ فارغ الوقت و دماغ بھی ہو آپ ۔"
"یہ جو آپ میرے لئے اتنے خلوص سے کبھی کبھی آپ استعمال کرتی ہیں یہ تکلف نہ کیا کریں۔"
"اوہ ! مجھے علم نہیں تھا کہ فوجی طنز بھی کرنا جانتے ہیں ۔"
"بلکل فوجی طنز بھی کرتے ہیں ، اور اکثر مزاح بھی کرتے ہیں۔ میں اس کے ساتھ باتوں میں مصروف ہی تھا کہ اچانک ایک ادھیڑ عمر کا فرد چہرے پر سنگین تاثرات تھامے ہماری ٹیبل پر پہنچا اور اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر صاحبہ یہ میری دل کی رپورٹ ہے۔ آپ دیکھ لیجئے مجھے ایک ڈاکٹر نے چیک کرنے کے بعد کہا ہے کہ مجھے دل کی بیماری ہے ۔"
"لیکن میں تو دانتوں کی ڈاکٹر ہوں میں کیسے دیکھ سکتی ہوں دل کی رپورٹ۔ "
"لیکن آپ ڈاکٹر تو ہیں نا ، "
"جی بلکل !"
"تو پھر آپ رپورٹ دیکھ کر بتائیں کہ میں کیا کروں اب۔"
"اوہ ! یہ بات تو میں بنا رپورٹ دیکھے بھی بتا سکتی ہوں کہ آپ کو کسی اچھے ماہر امراض قلب کو دکھانا چاہئے ،"
"دلشاد اور اس مریض کی گفتگو سنتے ہوئے مجھ سے رہا نہ گیا تو میں مجبورا بیچ میں کود پڑا
لاو میں دیکھ لیتا ہوں تمہاری رپورٹ میں دل کا ڈاکٹر ہوں، میری بات سنتے ہی اس کی آنکھیں چمک اٹھیں کہ مفت میں چیک اپ ہو جائے گا۔ دلشاد کا سٹیٹوسکوپ اپنے کانوں میں ٹھونستے ہوئے جب میں اس مریض کی چھاتی ٹٹولنے لگا تو دلشاد میری جانب عجیب انداز سے دیکھنے لگی جس پر میں نے اسے انگریزی میں کہا کہ مجھے ایسے مت دیکھو ورنہ مریض کو شک ہوجائے گا کہ میں ڈاکٹر نہیں ، اور وہ دوسری جانب دیکھنے لگ گئی۔مریض کی چھاتی ٹٹولتے ہوئے سٹیٹوسکوپ خلائی مخلوق کا احساس دلا رہا تھا ۔
میں نے تمہاری چھاتی کا بھی معائنہ کیا ہے اور رپورٹ بھی دیکھی ہے، لیکن مجھے ایسا کچھ بھی محسوس نہیں ہوا جس سے میں یہ کہہ سکوں کہ تم کسی امراض قلب میں مبتلا ہو۔ لیکن پھر بھی تمہیں یہ مشورہ نما حکم دیتا ہوں کہ روزانہ پانچ میل جاگنگ کرو اور اپنی خوراک میں کمی کے ساتھ ساتھ گھی کا استعمال ختم کردو اور سبزی کا استعمال زیادہ کرو۔اگر ایسا نہ کیا تو پھر کسی دن اچانک تم مریض بن جاو گے لیکن فلحال تم بلکل تندرست و توانہ ہو ۔
میری بات مکمل ہوتے ہی دلشاد نے میرے ہاتھ سے رپورٹ چھین کر پڑھنے لگی ، لیکن اس کے بعد خاموش ہی رہی ۔ اور میرا راز راز ہی رکھا۔ مریض کے جانے کے بعد وہ میری جانب پلٹ کر لمبے لمبے سانس لینے لگی پہلے پہل تو مجھے گمان ہوا کہ اسے دمہ کا اٹیک آیا ہے لیکن میرا یہ وہم جلد ہی دور ہوگیا۔"
"تم ایسا کیسے کر سکتے ہو، "
"میں نے ایسا کیا کر دیا آپ بتائیے "
"کیا تم نے اس مریض کی رپورٹ پڑھی ،"
"نہیں تو ! میں ایک فوجی ہوں ، مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں ،"
"تمہیں شائد یہ بات نہیں معلوم کہ اس مریض کا کولیسٹرول لیول بہت زیادہ ہے اور کسی بھی وقت سے دل کا دورا پڑ سکتا ہے ۔"
"لیکن میں تمہاری بتائی ہوئی پرہیز سے سو فیصد متفق ہوں اور اگر اس نے ایسا کیا تو یقینی طور پر اس مرض سے اس کی جان چھوٹ جائے گی"
"طنز کرتے ہوئے میں نے اسے کہہ دیا کہ جب میری بات اتنی وزن دار ہے تو پھر مجھ میں اور ایک ڈاکٹر میں کیا فرق رہا سوائے اس کے کہ جب یہ مریض ڈاکٹر سے ہو کر ہمارے پاس آیا تو شدید گھبرایا ہوا تھا اور شائد اس گھبراہٹ سے اس کا دل رک جاتا اور اس کی موت ہوجاتی البتہ ہم سے رخصت ہوتے ، اس کی آنکھوں میں زندگی سے محبت اور امید کی کرن ایک ساتھ جگمگا رہیں تھیں ۔ میں ذاتی طور پر فوجی ہوں لیکن طبیعت سے ایک ریسرچر ہوں اور ہر بات کو بہت باریکی سے دیکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں،جس پر اس نے جواباً کہا کہ ریسرچر کی جگہ اگر لفظ کھوجی کا استعمال کیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا ، جس پر مسکراتے ہوئے میں نے کہا کہ چلو ایسا ہی سہی ۔"
کچھ لمحات کی خاموشی پھیلنے کے بعد اس نے دوسرا سوال داغ دیا کہ تم دل کے بارے میں کیا جانتے ہو، میں جاننا چاہوں گی کہ تمہاری دل کتنی اور کس قسم کی ریسرچ ہے
"دل! میں ڈاکٹر تو نہیں لیکن ہاں میرا ایک الگ انداز اور زاویہ ہے، اور دل پر میں نے کافی ریسرچ کی ہے، میں آج کل دل کی بیماریوں اور نوجوان نسل میں ہارٹ فیل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر کافی غور کر رہا ہوں۔ اور میں نے کچھ خاص نتیجے اخذ کئے ہیں۔ جن میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نوجوان نسل نے دل کو صرف خون پمپ کرنے والہ ایک آلہ یا پھر ایک پمپ سمجھ لیا ہے۔ اور کسی بھی پمپ کی زندگی بہت کم ہوتی ہے۔ دل تک تو میری رسائی نہیں لیکن اس کے علاوہ میں نے گھر میں موجود پانی اور گاڑی کے پمپ پر کافی تجربے کئے ہیں ان کی زندگی بہت مختصر ہوتی ہے۔ بلکل اسی طرح دل کو بھی اگر پمپ کی طرح استعمال کیا جائے تو اس کی زندگی بھی بہت چھوٹی ہو جاتی ہے اور بہت جلد جام ہو جاتا ہے، یا کوئی دوسرا مسئلہ نکل جاتا ہے۔ مجھے معلوم ہے تمہارے ڈاکٹر دماغ میں اب یہ سوال گھوم رہا ہوگا کہ اگر دل خون پمپ کرنے کے لئے نہیں تو پھر کس کام ہے ہے؟؟ تمہارے اس سوال کے پوچھنے سے ہی میں جواب دے دیتا ہوں کہ جسے تم پمپ سمجھ کر استعمال کر رہے ہو وہ گوشت کا ایک سخت لوتھڑا ہے۔ دل وہ نہیں جو خون پمپ کرے، دل تو وہ جسے درد ہوتا ہے، دل تو وہ جو کسی کے بہتے آنسو دیکھ کر رو جائے، دل تو وہ جو کسی بری بات سن کر جلنے لگ جائے، دل تو وہ جو کسی محبت بھری باتیں سن کر پگھلنے لگے، دل تو وہ جو کسی کو درد میں دیکھے تو رونے لگے، ہاں دل دیکھتا بھی ہے ، سنتا بھی ہے ، محسوس بھی کرتا ہے، اور سب سے بڑی بات یہ کہ دل سوچتا بھی ہے، دل تو وہ جب ماں اپنے بچے کو خوش دیکھے تو اس کا دل مسکرانے لگے، میری باتیں تمہیں بے تکی سی لگ رہی ہوں گی، اسی لئے تمہاری آنکھیں پھیل رہی ہیں، اور ایک بات کے ساتھ اپنی بات ختم کروں گا کہ جسے خون رواں رکھنے کے لئے پمپ درکار ہے، سینے سے اس دل کو نکال کر دیوار پر پٹخ دے اور بازار سے ایک چھوٹا پمپ لے کر اس میں معمولی پھیر بدل کرکے استعمال کرے، وہ اتنی آسانی سے پاش پاش نہیں ہوگا۔ ہماری یہ بحث وقفے وقفے سے رات تک جاری رہی کیوں کہ وہ بار بار اپنے مریض بھی دیکھنے جاتی رہی۔



اگلی صبح ہمیشہ کی طرح میں تیار ہو کر گھر کے سامنے ہسپتال میں دانتوں کے دیپارٹمنٹ کی کینٹین میں تشریف لے گیا. بیرے نے میرے التجائی حکم کا انتظار کئے بنا ہی چائے کا کپ میرے لئے بنانا شروع کردیا۔ اس کینٹین سے انسیت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہاں کا عملہ مجھے ایک حاضر سروس فوجی کی طرح ہی پروٹوکول دیتا تھا۔ مجھے اس بات پر اکثر ان سے شکایت رہتی کے میرے ساتھ امتیازی سلوک مت کیا کرو۔ میں اب بلکل سادہ زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ میں تم جیسا ہی تو ہوں، مجھے تم میں گھل مل جانے دو، اور وہ میری یہ بات سن کر جب وہ "جی میجر صاب " کہتے تو میں چڑ کر خاموشی اختیار کر لیتا۔ لیکن اب مجھے عملے کی اس رویے کی عادت ہوگئی تھی۔ چائے کی چسکی لیتے ہوئے میں دلشاد کے آپریٹنگ کمرے کی طرف نظریں جمائے ہوا تھا۔ میری اس حرکت کو کینٹین کا تمام عملہ دیکھ سن اور محسوس کر کے نظرانداز کر رہا تھا۔ میں خود ہی شرمندگی محسوس کرکے دوسری جانب دیکھتے ہوئے اپنے ماضی میں کھونے لگا۔ جب میں بارہویں جماعت کا طالبعلم تھا اور دلشاد مجھ سے ایک جماعت جونیئر ہوا کرتی تھی۔ سکول میں تو مجھے کبھی ہمت نہ ہوئی کہ دلشاد سے نظر ملا سکوں کیوں کہ محلے میں وہ میری پڑوسن بھی تھی، اور دلشاد کے والد کا حکم تھا، خیال رکھنا اسے کوئی تنگ نہ کرے۔
لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔ اس کے چاہنے والوں میں میرا نام سرفہرست رہا۔ لیکن اپنے خاندان یا پھر ابا کے ڈر سے کبھی ہمت نہ ہوئی کہ اسے بتا سکوں، لیکن پورا کالج یہ بات جانتا تھا کہ میں دلشاد کو پسند کرتا ہوں۔ اور اپنی اوباش طبیعت کی وجہ سے کسی کی ایسی مجال نہ ہوتی کہ دلشاد کے قریب آسکے، اور بل آخر بارہویں جماعت کے فائنل امتحان سے کچھ دن پہلے کی ہوئی بے وقوفی پر میں آج بھی شرمسار ہوتا رہتا ہوں۔ جب ایک کاغذ پر محبت نامہ درج کرکے پھول بوٹوں کے ساتھ شاعری لکھ کر اسے تھمایا۔
میری اس حرکت پر دلشاد تھوڑی جھلا گئی لیکن میں اس کے احسان تلے آج بھی دبا سا رہتا ہوں کہ اس نے میرے خلاف سنگین قدم نہیں اٹھایا۔
اس حرکت کے بعد دلشاد اور میرا کبھی آمنا سامنا نہیں ہوا اور پھر میں آرمی افسر بھرتی ہوگیا، میری ٹریننگ مکمل ہوئی تو وہ بھی ہاوس جاب کرنے لگی، میں اکثر محلے کی ایک خالہ سے ان کے گھر کی باتیں نکلوایا کرتا تھا، اور وہ خالہ رازداری سے یہ سب کام کرنے کے مجھ سے اچھی خاصی رقم بٹور لیا کرتی تھی۔ دلشاد کی اچانک شادی ہوگئی جس پر مجھے شدید صدمہ ہوا لیکن میں ایک فوجی افسر تھا۔
اور کسی بھی صورت میں اپنے جذبات کا کھل کر اظہار نہیں کرسکتا تھا. کیوں کہ اس کے دو پہلو تھے، پہلا تو کچھ یوں تھا کہ میں فوجی افسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سرکاری ملازم بھی تھا اور اس بات کے اظہار سے میری پیشہ ورانہ کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان بن سکتا تھا۔ اور دوسری بات یہ تھی کہ ہماری قوم نے فوجی کو ایک دیوہیکل انسان سمجھ رکھا ہوتا ہے اور کسی بھی صورت یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ فوجی کسی سے محبت میں ناکامی پر آنسو بہا سکتا ہے۔ تو کل ملا کر میری صورتحال بھی ایک عورت جیسی تھی۔ جو اپنے سو درد چھپا کر ہر دم مسکراتی رہتی ہے۔ میں پرانی باتیں یاد کرتا جا رہا تھا۔ اور اپنے ہاتھ زور سے کس رکھے تھے، میرا دل بہت تیز دھڑک رہا تھا جیسے کہ سینہ پھاڑ کر باہر آنے والا ہو، میری آنکھیں نم تو ہمیشہ سے تھی لیکن آج بھرتی جا رہی تھیں۔ مجھے ادھیڑ عمر میں بھی انیس سال پرانی محبت کی طلب چھوٹے بچنے کی طرح تلملانے پر مجبور کر رہی تھی۔ میں کسی بھی صورت اپنی ہار تسلیم کرنے کو آج بھی تیار نہیں تھا۔ دلشاد کے کلینک کا دروازہ پٹخنے کی آواز سے میرا خیالی بھنور ٹوٹنے پر مجھے احساس ہوا کہ کینٹین کا عملہ میری آنکھوں سے نکلے ایک آنسو سے ساری کہانی بھانپ چکے تھے۔
"صاب چائے دوبارہ گرم کر لاوں "
بیرے کی آواز پر میں نے اپنے آنسو چھپاتے ہوئے کہا کہ سورج کی روشنی بہت تیز ہے، آنکھوں میں انفیکشن ہوگیا ہے۔ میری بات مکمل ہونے پر بیرے نے مسکراتے ہوئے کہ
"صاب یہ انفیکشن نہیں اسے محبت کے جالے کہتے ہیں"
بوڑھے بیرے کی بات سنتے ہی میرا دل لرز گیا، جسم میں میں ایڈرنالین کی شرح بڑھ کر خون میں شامل ہونے لگی میرا دل چاہا کہ اسے گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دوں، لیکن میں اتنا ہی کہہ سکا کہ میرے لئے دوسری چائے لے آو۔
دلشاد بہت تیزی سے میرے پاس سے گزری جیسے بہت جلدی میں ہو، میں پلٹ کر اسے دیکھ رہا تھا کہ کاش یہ رک جائے، میرے پاس بیٹھ جائے۔ لیکن سر جھکا کر میں نے خود تسلی کر لی کہ میرا نہ ہی اس پر کوئی حق ہے اور نہ ہی کوئی اختیار اور سب سے ضروری بات یہ کہ وہ ایک شادی شدہ عورت ہے۔ اور میں کسی بھی صورت اپنے محبت کے اس مخمسے میں اس کی گھریلو زندگی پر اثر انداز ہونا انسانیت سے پرے ہے۔
یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ دلشاد پلٹ کر واپس میری ٹیبل پر آگئی
" فارغ تو تم ہو ہی آو تمہیں گھما لاوں "
" ہاں میں تیار ہوں، لیکن جانا کہاں ہے"
اپنی کار کی چابی تھماتے ہوئے اس نے بتایا کہ اسے اپنی بیٹی کے سکول جانا ہے۔ آج فیس جمع کروانے کا آخری دن ہے۔
ہم دونوں سیڑیوں سے کودتے پھاندتے پارکنگ میں پہنچے تو میں نے کار کی چابی تھماتے ہوئے کہا تم کار چلاو۔
جس پر اس نے بتایا کہ کار کی انشورنس ختم ہو گئی ہے ، اور ڈرئیونگ لائیسنس بھی گھر بھول آئی ہے۔
ڈرائیونگ سیٹ پر خاموشی سے بیٹھتے ہوئے میں یہی سوچ رہا تھا کہ مجھے تو کار چلانی آتی ہی نہیں۔ خیر یہ بات میں دلشاد کو بتا کر کسی بھی صورت ہاتھ آیا موقع جانے نہیں دے سکتا تھا۔ پارکنگ سے نکلتے ہی دلشاد اور میں آہستہ آہستہ جا رہے تھے اور ساتھ خوش گپیاں جاری تھیں، اور میں اس کو باتوں میں الجھائے جا رہا تھا تاکہ اس کا دھیان میری ڈرائیونگ پر کسی صورت نہ جائے۔
مرکزی شاہراہ پر جاتے ہی تیز گاڑیوں کے ریوڑ دیکھتے ہی میرے ہاتھ پاوں پھولنے لگے اور کچھ سوچنے سے پہلے ہی میں اپنی کار آگے جانے والی کار کے ساتھ ٹکرا چکا تھا۔ زیادہ نقصان تو نہیں ہوا تھا۔ لیکن معاشرے کے اصولوں کے مطابق بد مزگی ہونا لازم تھی، دلشاد کچھ کہتی اس سے پہلے ہی سامنے والے ڈرائیور نے شیشہ نیچے کرتے ہی مجھے کھری کھری سنانا شروع کردی۔
" وہ تمہیں بےعزت کر رہا ہے" دلشاد کی بات پر میں نے اسے جواب دیا کہ مجھے اس کی بےعزتی سے فرق نہیں پڑتا۔ میری بات سن کر ڈرائیور مزید تیش میں آگیا اور کچھ سنگین کلمات کہہ دئے لیکن میں بے حس ہو کر سنے جا رہا تھا۔
اور بل آخر اس شخص نے زوردار تھپر سے میری نکسیر پھوڑ ڈالی
" اب اور کس بات کا انتظار ہے ، اب تو تم پر اس نے حملہ بھی کر دیا ہے"
دلشاد کی اس بات پر میں بلکل نرم سے انداز میں کہہ گیا کہ چند قطرے خون ہی تو نکلا ہے کون سی موت آن پڑی ہے مجھ پر! خیر میں اپنی پینٹ کی پچھلی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کار سے نکلتے ہی جیب سے ہتھکڑی نکال کر اپنے ہاتھ کمر کے پیچھے لاک کرتے ہوئے کہا
" میجر ازفر علی" میرا نام سن کر اب سامنے والے شخص کے ہاتھ پاوں پھولنے لگے! لیکن وہ اپنے اوسان بحال کرتے ہوئے اپنے ڈر کو چھپاتے ہوئے بولنے لگا کہ
" میجر ہو تو کیا کسی کی بھی کار کو توڑ دو گے "
ہاں مجھ سے آپ کی کار کا نقصان ہوا، اور میں ہرجانے کو تیار ہوں، آپ پولیس کو بلا لیجئے تاکہ مزید کاروائی کی جا سکے۔ میری بات سنتے ہی اس نے کہا اسے جلدی میں کہیں جانا ہے۔ پیسے دے کر معاملہ یہیں ختم کیا جائے جس پر میں نے اسے کہا کہ میری جیب تو صرف چند سو روپے ہیں البتہ تم میرا نمبر پتہ لے لو، میں آسان اقساط پر تمہیں لوٹا دوں گا، لیکن وہ شخص جان چھڑاتے ہوئے مجھے معاف کر کے کار میں بیٹھ کر چلا گیا، اس کی اس حرکت پر مسکراتے ہوئے مجھے پہلی بار اپنی شناخت کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے خوشی ہو رہی تھی۔ مسکراتے ہوئے ناک سے بہتے خون کو صاف کرنے کے واسطے ہاتھوں کو ٹٹولا تو یاد آیا کہ ہاتھ تو ہتھکڑی میں لاک ہو چکے ہیں۔
کار میں واپس بیٹھتے ہوئے دلشاد سے ہاتھ آزاد کروانے کے بعد سب سے پہلے ڈرائیونگ سیٹ اس کے حوالے کی اور خاموشی اور شرمندگی کے ملے جلے تاثرات ذہن میں رکھتے ہوئے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔
" تم مجھے بتا سکتے تھے کہ تمہیں ڈرائیونگ نہیں آتی بلاوجہ کی افیشنسی دکھانے کی کیا ضرورت تھی تم بلکل نہیں بدلے تم آج بھی کالج کے دنوں والے بونگے لڑکے ہی ہو، بس صرف اتنا آیا کہ اب تم ایک بونگے میجر ہو، اور تمہارے روئیے سے کسی بھی صورت یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تم فوجی افسر ہو، اور یہ ہتھکڑی جیب میں رکھنے کی کیا تک بنتی ہے، اور عین لڑائی کے وقت ہی تم نے چوڑیاں پہن لی"
دلشاد کی بات کاٹ کر درستگی کرتے ہوئے، میں نے کہا کہ وہ جو میں پہن کر لڑائی میں اترا تھا وہ چوڑیاں نہیں اسے ہتھکڑی کہتے ہیں، اور وہ اس لئے نہیں تھیں کہ میں ڈر گیا تھا، بلکہ اس لئے کہ میری ذات سے اس شخص کو کوئی نقصان نہ ہو جائے، میرا ضبط جواب دے چکا تھا میری آنکھیں چھلک رہی تھیں، اور زبان قینچی کی طرح چل رہی تھی۔
" ڈرائیونگ کا اس لئے نہیں بتایا کہ کہیں تم مجھے ساتھ لے جانے سے انکار نہ کر دو، میں کسی بھی صورت تمہارے ساتھ ایک لمحہ گزرانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتا، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ تم شادی شدہ ہو اور تمہاری ایک فیملی ہے، میں تو بلاوجہ ہی تمہاری محبت میں مارا گیا۔ تمہیں تو بلکل بھی احساس نہیں تم تو بلکل ہی کاروباری ہو، تمہارے تو دل میں بھی دماغ ہے، میں تو بس یہ سوچ رہا ہوں کہ تم دل کو پمپ کی طرح استعمال کرنے کے باوجود تمہیں ابھی تک کوئی دل کا مرض لاحق کیوں نہیں ہوا، آنسوں سسکیوں میں بدلے اور سنگین خاموشی پھیل گئی۔ سکول پہنچ کر جیسے ہی وہ اندر گئی تو چپکے سے میں گاڑی سے نکل کر گھر آگیا۔
محبت کی یہ مایوسی اب مجھے نفسیاتی مرض کی جانب دھکیل رہی تھی۔ چالیس کی اس عمر میں جذبات کو قابو میں رکھنا آسان ہوتا ہے کیوں کہ انسان پریکٹیکل زندگی دیکھ چکا ہوتا ہے، لیکن میں تو آج تک کالج کے اس بچپنے سے نکل ہی نہیں سکا، میں تو بس بوڑھا ہوتا جا رہا تھا، بزرگی تو میرے نصیب میں ابھی تک آئی ہی نہیں تھی۔
کینٹٰین جانے کا تو اب سوال ہی نہیں بنتا تھا۔ تو اپنی بالکونی سے ہی ہسپتال کو دیکھ کر تسلی کر لیتا۔
مجھے جھٹکا اس وقت لگا جب میں نے دلشاد کو اپنی گلی سے گزر کر جاتے دیکھا کیوں کہ وہ شادی کے بعد دوسرے علاقے میں شفٹ ہو گئی تھی، میں نے وقت نوٹ کیا اور روزانہ اس وقت بالکونی سے اسے دیکھنا شروع کردیا اسے بھی اندازہ ہوگیا کہ میں اسے چھپ کر چائے اور ہوا خوری کے بہانے سے دیکھتا ہوں۔
لیکن سب عجیب ہو رہا تھا، نہ میں دیکھنے سے باز رہا نہ اس نے راستہ بدلا۔
جاگنگ پر جاتے ہوئے ایک دن صبح اچانک دلشاد کی آواز پر پلٹتے ہی میں نے جواب دیا کہ میں ہرگز تمہیں فالو نہیں کر رہا تھا۔ لیکن وہ اتنے غصے میں تھی کہ اس کے گالوں کو لالی کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اس کی آواز اس قدر تیز تھی۔ گلی میں تماشہ لگنے ہی والا تھا۔ میں نے زندگی بہت شرافت یا پھر یہ کہنا بہتر ہوگا کہ بہت ڈر کر گزاری تھی اور شائد اسی وجہ سے محبت کے میدان چت ہونے کے بعد طویل قید گزاری۔
اس کا غصہ کم کرنے کے واسطے میں نے اس اسے اپنے گھر چائے کی دعوت دی۔ جسے اس نے لال گالوں اور لمبی سانسوں کے ساتھ قبول کر لیا لیکن گھر میں داخل ہوتے،
اس کا لہجہ مزید تلخ ہوگیا، اور مشرقی ماحول کی وجہ سے میں کسی بھی الزام کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے شدید گھبراہٹ کا شکار تھا۔
"کیا کہا تھا تم نے میں کرپشن کرتی ہوں، اور ملنے والی فیس کا چالیس فیص حصہ لیتی ہوں۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تم کچھ بھی کہہ جاتے ہو اور تمہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ سامنے والے کے دل پر کیا گزر جاتی ہے۔ ہاں میں لیتی ہوں چالیس فیصد حصہ اور اس سے کم ایک ٹکہ بھی نہیں لوں گی، اور اگر میرے پاس اتنے مریض ہوتے تو پورا دن کینٹین بیٹھ کر تمہاری بے تکی کہانیاں کیوں سنتی، تمہیں شائد اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ ہمارے ملک میں بہت کم لوگ ہم جیسے ڈاکٹروں سے اپنے قیمتی دانتوں کا علاج کرواتے ہیں زیادہ تر لوگ تو صدر بازار میں خریداری کرتے ہوئے روڈ پر بیٹھے حجام نما دندان ساز سے کچھ پیسے دے کر دانت لگوا دیتے ہیں جس سے کسی بھی موضی مرض کا خدشہ رہتا ہے، اور جو تم کینسر پر راگ الاپ رہے تھے، تمہیں بتاتی چلوں کہ روڈ پر علاج سے بھی کینسر ہوتا ہے۔ اور تم میرے پیشے پر کیسے انگلی اٹھا سکتے ہو، تمہیں معلوم بھی ہے اس کا علاج کتنا قیمتی نازک اور مہنگا ہوتا ہے۔ میں نے حجام کی دکان نہیں کھول رکھی، اس کی قیمت تمہیں اس شخص سے پوچھنی چاہئے جس نے بڑھاپے میں ساری رقم دانت لگوانے میں خرچ کر دی، کیوں کہ وہ کھانا کھانے سے قاصر ہو چکا تھا،
یا پھر پوچھو کسی ڈاکٹر سے جس نے اپنی زندگی کا طویل عرصہ اور لامحدود سرمایہ اس علم و فن کو پیشہ بنانے میں صرف کر دیا،
اور کیا کہہ رہے تھے کہ تم نے میری محبت میں زندگی کا چرخہ کاٹا ہے، کیا تم نے میری شادی کے بعد کبھی جاننے کی کوشش کی ہے، کہ میں کس حال میں ہوں۔ میری شادی ناکام ہوئے پندرہ سال ہوگئے ہیں، لیکن میں نے اپنے سر پر دو بیٹیاں رکھ کر بھی تمہارا انتظار کیا، میں آج بھی اپنے ابا کے اسی پرانے گھر میں رہتی ہوں البتہ تم لوگوں نے اپنا گھر بیچ کر اگلی میں لے لیا ہے اور اس دن جو تم کہہ رہے تھے کہ تمہارے گھر پانی کا ٹینک نہیں ہے اور پرانی بائک رکھی ہے تو تم نے غور نہیں کیا میرے پاس بھی اپنے والد کی پرانی کار ہی ہے جس پر رنگ نیا ہے اور ہمارے گھر پانی کے زمین دوز ٹینک سے پانی رستہ ہے، جس کی وجہ سے ہم اسے خالی رکھتے ہیں کیوں کہ اس کی مرمت کا خرچہ میں برداشت نہیں کرسکتی میں اتنے دنوں سے ہسپتال میں تمہاری محبت میں ہی صرف ذاتی زندگی پر اتنی تنقید برداشت کرتی رہی۔ اور تمہارا مجھ پر تنقید کا حق کیسے ہو سکتا ہے۔ میں نے پندرہ سال ایمانداری سے تمہارے انتظار میں گزارے، معاشرے کی شدید تنقید کے باوجود تمہارا انتظار کیا جب کہ مجھے معلوم ہے، تم آج بھی ویسے ہی بونگے ہو، اور مجھے معلوم ہے تم اپنی نوکری کے دوران فلسفہ پڑھتے رہے ہو اسی وجہ سے تم دل پر اتنی گرفت پر بات کر رہے تھے، میں نے پندرہ سال تمہاری جاسوسی کی ہے تمہاری پچھلی گلی کے وحید انکل جو تمہاری کمانڈ میں فوجی تھے وہ مجھ سے دانتوں کا علاج کرواتے اکثر تمہاری ہر بات بتا دیا کرتے تھے، تم بہت آسانی سے کچھ بھی کہہ دیتے، لیکن میں تم سے صرف یہ کہوں گی، میں اور میرا گھرانہ جیسے جی رہا ہے، ایسے کوئی جی کر تو دکھائے۔"
کچن میں کھڑے دلشاد کے لئے چائے بناتے ہوئے یہ سب سن کر مجھ پر بجلیاں گر رہی تھیں۔ مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ اس پر کیا گزر رہی ہے، یہ بات تو بلکل سچ تھی کہ میں نے کبھی پلٹ کر اس کے دل کا حال جاننے کی کوشش کی ہی نہیں تھی۔ مجھے احساس ہوگیا تھا کہ کالج کے دنوں میں غلطی میں نے ہی کی تھی۔ مشرقی طرز کے معاشرے میں ایک بار کے لکھے محبت نامے سے کسی کے دل میں امید تو جگائی جا سکتی ہے۔ کیوں کہ جنونی معاشرے میں مرد کی محبت کے تلوار کے وار عورت کو بے تیغ ہوکر سنبھالنا ہوتا ہے۔ تو کیسے ایک بار کہنے پر دلشاد کیسے کوئی ردعمل دے سکتی تھی۔ یہ سب سوچتے ہوئے پلٹ کر چائے کا کپ دلشاد کو تھمانے لگا تو صرف میری نہیں اس کی بھی آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔ یہاں بھی صرف میں ہی غلط تھا کیوں کہ چائے بناتے ہوئے میں یہ محسوس کر رہا تھا کہ صرف مجھے ہی درد ہو رہا ہے،
خاموشی سے چائے کی چسکیاں ایسا سرور دے رہی تھیں، جیسے میدان جنگ میں بغیر کسی نتیجے پر پہنچے دو سپاہی تھک کر بیٹھنے کے بعد ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہو رہے ہوں۔ اس کا غصہ ختم ہونے کہ بعد میں دیکھ رہا تھا کہ اس کے چہرے پر مسکان پھیل رہی تھی۔ کیوں کہ میرے چہرے پر ڈر کی وجہ سے رنگ آ جا رہے تھے۔ اور یقیناً وہ آج بھی مجھے بونگا ہی سمجھ رہی تھی۔ لیکن مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ میں نے اس کی محبت پا لی تھی۔ میری آنکھیں اب دوبارہ بہنا شروع ہو رہے تھے۔ کیوں کہ مجھے نصیب کی اس وڈیو گیم کی کبھی بھی سمجھ نہیں آئی کہ مجھے میری محبت سے اتنا وقت کیوں دور رکھا۔ جبکہ ہم دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، لیکن جو بھی تھا محبت کی اس تاریخی لڑائی آج پہلی بار ایسا ہوا کہ لڑنے والے فریق شدید مزاحمت کے بعد دونوں ہی جیت گئے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
12 Oct, 2018 Total Views: 359 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Moiz Khan

Read More Articles by Moiz Khan: 2 Articles with 689 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB