عمران خان کی حکومت کی ناکامی کی پیشین گوئی

(Muhammad Qasim, Lahore)

حضور سید کائنات ﷺ فرماتے ہیں ’’بشارتوں کے سوا نبوت میں کوئی چیز باقی نہیں رہی‘‘۔ صحابہ کرامؓ نے دریافت کیا کہ بشارتوں سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فر مایا ’’سچا خواب‘‘۔ ( رواہ البخاری۶۹۹۰ )

اِس حدیث سے ثابت ہوا کہ اب خواب کے سوا اہل ایمان کے پاس کوئی ایسی چیز باقی نہیں رہی جس سے مستقبل کے حالات منکشف ہو سکیں۔ غرض جس طرح اَبر وجودِ باران پر دلالت کرتا ہے، اِسی طرح سچے خواب مستقبل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ سچے خواب کی اہمیت اِس حقیقت سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وحی الہی میں سب سے پہلی چیز جس سے حضور سرورِدوجہاںﷺ کو واسطہ پڑا وہ سچے خواب تھے۔ اُن ایام میں حضورﷺ جو بھی خواب دیکھتے اُس کی تعبیر صبح صادق کی مانند بالکل آشکارہ ہوتی تھی۔ سچے خواب کی فضیلت اِس امر سے بھی ظاہر ہے کہ اِسے جُزو نبوت کہا گیا ہے، چنانچہ مروی ہے۔
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ِصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ الرُّویَا الصَّالِحَۃُ جُزْءُ ٗ مِّنْ سِتَّۃٍ وَ اَرْبَعِیْنَ جُزْءً مِّنَ النُّبُوَّۃ ِ (رواہ البخاری۶۴۷۲ ،مسلم۴۲۰۱) آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ سچا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔

اِس حدیث سے معلوم ہوا کہ رویائے صالحہ علوم نبوت کا ایک جزو ہے۔ اور علم نبوت باقی ہے اگرچہ نبوت جاری نہیں۔ دوسرے لفظوں میں سچا خواب نبوت کا عکس ہے، گو خواب دیکھنے والا نبی نہ ہو۔ جیسا کہ بعض دوسری روایات میں آیا ہے کہ نیک روش، حِلم اور میانہ روی نبوت میں سے ہے۔

ایک حدیث میں آپﷺ نے فرمایا کہ خواب کی تین قسمیں ہیں۔ ایک قِسم شیطانی ہے جس میں شیطان کی طرف سے کچھ صورتیں ذہن میں آتی ہیں۔ دوسرے وہ جو انسان بیداری میں دیکھتا ہے وہی صورتیں خواب میں سامنے آ جاتی ہیں۔ تیسری قسم جو صحیح اور حق ہے وہ نبوت کے اجزا میں سے چھیالیسواں جُزو ہے یعنی اللہﷻ کی طرف سے الہام ہے۔ یہ بات بھی قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ سچے خواب بعض اوقات فاسق فاجر بلکہ کافر کو بھی آ سکتے ہیں۔ سورۃ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کے جیل کے دو ساتھیوں کے خواب اور اُن کا سچا ہونا، اِسی طرح بادشاہ مصر کا خواب اور اُس کا سچا ہونا قرآن میں مذکور ہے، حالانکہ یہ تینوں مسلمان نہ تھے۔ حدیث میں کِسرٰی کا خواب بھی مذکور ہے جو اُس نے رسول کریمﷺ کی بعثت سے متعلق دیکھا تھا۔ وہ خواب صحیح ہوا حالانکہ کِسرٰی مسلمان نہ تھا۔ رسول کریمﷺ کی پھوپھی عاتکہ نے بحالت کفر آپﷺ کے بارے میں سچا خواب دیکھا تھا۔ نیز کافر بادشاہ بخت نصر کے جس خواب کی تعبیر حضرت دانیال علیہ السلام نے دی وہ بھی سچا خواب تھا۔ یاد رہے کہ شیطان وحشت ناک خواب دکھا کر مومن کو ہر طرح پریشان کر سکتا ہے، مگر یہ بات اُس کی قدرت سے باہر ہے کہ حضرت خاتم المرسلینﷺ کا حلیہ اختیار کر کے کسی مومن کو خواب میں دھوکہ دے۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہے:
مَنْ رَّاٰنِیْ فِی الْمَنَامِ فَقَدْ رَاٰنِیْ فَاِنَّ الشَیْطَانَ لَا یَتَمَثَّلُ فِیْ صُوْرَتِیْ۔ (رواہ البخاری و مسلم ) جس نے مجھے خواب میں دیکھا اُس نے فی الواقع مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان کی یہ مجال نہیں کہ کسی کے خواب کے اندر میری شکل میں ظاہر ہو۔

رزق حلال اور راست گوئی کو سچے خواب میں بڑا دخل ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں مروی ہے کہ جو شخص سب سے زیادہ راست گو (سچا) ہے، اس کا خواب بھی سب سے زیادہ سچا ہے۔سمرہ بن جندب سے مروی ہے کہ حضرت رسول اکرمﷺ نماز صبح کے بعد عموماً صحابہ سے دریافت فرماتے کہ تم میں سے کس کس نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ بیان کرتا اور حضرت محمدﷺ اُس کی تعبیر بیان فرماتے۔ ( رواہ البخاری)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب سرورِ دوعالمﷺ نے فرمایا ہے کہ خواب بھی ایک قسم کی وحی ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالی خواب دیکھنے والے کو اُس بھلائی یا بُرائی سے مطلع کر دیتا ہے جو اُس کو پہنچنے والی ہوتی ہے۔ تاکہ وہ شحص دنیا میں مغرور نہ ہو جائے اور خدائے ذوالجلال کے حکم سے غافل نہ رہے۔ اِس حدیث سے ثابت ہوا کہ خواب ایسی ہی اعلیٰ چیز ہے جیسا کہ وحی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ بیمار ہوئے تو صحابہ کرام غمگین ہو کر حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ آپﷺ ہم کو کارخیر سے مطلع فرمایا کرتے تھے۔ اگر اب خدانخواستہ آپﷺ کی اجل پہنچی تو ہم کو کون مطلع کیا کرے گا؟ اور دینی و دنیاوی امور کی خیرو بھلائی ہمیں کس طرح معلوم ہو ا کرے گی؟ حضورﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ ’’بَعْدوَفَاتِی یَنْقَطِعُ الْوَحْیُ وَلاَ یَنْقَطِعُ الْمُبَشِّرَاتُ‘‘۔ یعنی میری وفات کے بعد وحی تو ختم ہو جائے گی لیکن مبشرات بند نہیں ہوں گے۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ مبشرات کیا ہیں؟ تو حضورﷺ نے فرمایا ’’اَلرُّؤیاَ الْصَالِحۃُ الَّتِی یَرَاھَا الْمَرْأ الصَّالِحُ‘‘۔ یعنی مبشرات وہ اچھے خواب ہیں جو نیک بندوں کو دکھائی دیتے ہیں۔ اِس حدیث سے ثابت ہوا کہ اچھے خواب نبوت کے قائم مقام ہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ جو چیز کسی اعلیٰ و افضل چیز کی قائم مقام ہو وہ بھی اعلیٰ و افضل ہوا کرتی ہے، تو ثابت ہوا کہ خواب ایک اعلیٰ وافضل چیز ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ سب سے پہلی نعمت جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو عطا فرمائی وہ یہ تھی کہ آپ نے خواب میں ایک مقرب فرشتے کو دیکھا، جوآپ سے اِس طرح ہم کلام ہو اکہ ’’اے محمد! میں آپ کو خوشخبری دیتا ہوں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے گروہ میں ممتاز فرمایا ہے اور آپ کو خاتم الانبیاء (آخری نبی) بنایا ہے اور آپ کے حق میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے ’’وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّنَ‘‘ یعنی آپﷺ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔ جب حضورﷺ بیدار ہوئے تو آپ نے اِس کی تعبیر خواب نبوت سے فرمائی۔ حضرت ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ اُنھوں (عروہؓ) نے فرمایا کہ قرآن مجید میں جو یہ مذکور ہے کہ ’’لَھُمُ الْبُشْرَیٰ فَی الْحَیوٰۃِ الْدُنْیَا‘‘ یعنی اِن نیک بندوں کے لیے اِس دنیا کی زندگی میں بشارت ہے۔ اِس آیت میں بشارت سے مراد نیک بندوں کا خواب ہی ہے ۔ اِس قول صحابی سے ثابت ہوا کہ خواب ایسی اعلیٰ وافضل چیز ہے جس کو قرآن میں بُشریٰ (خوشخبری) سے تعبیر کیا گیا ہے۔

میرا نام محمد قاسم ہے۔ میری عمر ۴۱ سال ہے اور میرا تعلق پاکستان سے ہے ۔ میرا ایمان ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ مجھے آپﷺ کا امتی ہونے پہ فخر ہے۔

میں گزشتہ ۲۹ سالوں سے تواتر کے ساتھ پاکستان، اسلام اور قرب قیامت سے متعلق خواب دیکھ رہا ہوں۔ الحمدلللہ اپنے ان خوابوں میں۵۳۰ سے زائد مرتبہ اللہ سے ہم کلام ہو چکا ہوں اور ۳۰۰ سے زائد مرتبہ حضور سرور کائنات ﷺ سے ملاقات کا شرف حاصل کر چکا ہوں۔ میں نے اپنے خوابوں میں اللہ کی طرف نہیں دیکھتا، بلکہ جیسے ہم نمازمیں سر کو جھکا کر کھڑے ہوتے ہیں، میں بھی اُسی طرح اپنے آپ کو اللہ کے عرش کے سامنے کھڑا پاتا ہوں اور اللہ کو سر اُٹھا کر دیکھنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی۔ اللہ اپنے عرش پہ ہوتا ہے اور اللہ کی آواز عرش سے آتی ہے، یا پِھر اللہ کا نُور ہوتا ہے اور اللہ کی آواز اُس نُور میں سے آتی ہے یا پِھر اللہ آسمان سے میرے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے۔ اِسی طرح میں حضرت محمدﷺ کے سامنے بھی خود کوسر جُھکا ئے کھڑا پاتا ہوں اور آپﷺ کے سامنے سر اُٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ میں آج تک آپﷺ کا چہرا مبارک نہیں دیکھ سکا۔ البتہ میں نے آپﷺ کا چہرہ دور سے دیکھا ہے، مگر اتنی دور سے کہ آپﷺ کے چہرے کے نُقوش واضح نظر نہیں آتے۔ ایک خواب میں حضرت محمدﷺ سے میں گلے ملا تو میرا پورا جسم گواہی دے رہا تھا کہ میں آپﷺ سے گلے مل رہا ہوں۔ اِسی طرح میں اپنے کئی خوابوں میں آپﷺ سے ہاتھ مِلا چکا ہوں اور میرا ہاتھ گواہی دے رہا تھا کہ میں آپﷺ سے ہاتھ مِلا رہا ہوں۔

اللہ اور حضرت محمدﷺ نے مجھے خوابوں کے ذریعے سے حکم دیا ہے کہ میں اپنے خواب لوگوں سے بیان کروں۔ اِس لیے میری آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ مجھے ملامت نہ کریں، کیونکہ میں صرف اللہ اور حضرت محمدﷺ کے حکم پر عمل کر رہا ہوں۔ اللہ کی رحمت سب کےلیے ہے۔ میرا اِن خوابوں کو بیان کرنے کا مقصد سوائے اِس کے اور کچھ نہیں ہے کہ میں اللہﷻ کا دوست بن جاؤں۔ اِس لیے میں صرف اللہ ہی پہ بھروسہ کرتا ہوں اور وہی میرا کارساز ہے۔

میں اُسوقت تقریبا ۱۲ یا ۱۳ سال کا تھا جب اللہ اورحضرت محمدﷺ پہلی مرتبہ میرے خواب میں ایک ساتھ آئے۔ اُس کے بعد ۱۹۹۳ میں جب میں ۱۷ سال کا تھا تو اللہ اور محمدﷺ تواتر کے ساتھ میرے خوابوں میں آنا شروع ہو گئے اور تا حال آ رہے ہیں۔ اِن خوابوں میں اللہ اور حضرت محمدﷺ نے مجھے پاکستان سے متعلق کئی بشارتیں بھی دی ہیں۔ ایک خواب میں اللہ نے مجھے بتایا کہ قاسم میں پاکستان کا دفاع اور اِس کی حفاظت کروں گا۔ ایک دوسرے خواب میں حضرت محمدﷺ نے مجھے بتایا کہ ایک وقت آئے گا جب پاکستان دنیا کی ہرچیزخود بنائے گا حتیٰ کہ خلائی جہاز بھی۔

25 اگست، 2018 کےخواب میں میں نے دیکھا کہ میں ایک کھلے میدان میں ہوتا ہوں۔ اور بھی کافی لوگ وہاں پہ موجود ہوتے ہیں جیسے گشت کر رہے ہوں۔ زمین بہت بڑی ہوتی ہے اور سب کچھ ٹھیک ہوتا ہے۔ مگر اچانک کچھ ہوتا ہے اور زمین ایک دریا کی مانند بہت گہری دھنس جاتی ہے اور اس سے کافی لوگوں کا نقصان ہوتا ہے۔ میں یہ سب دیکھ کر کہتا ہوں کہ یہ کیا ہوا۔۔سب ٹھیک ہی تو تھا، اتنی ساری زمین کیسے دھنس گئی؟ لوگ تھوڑا انتظار کرتے ہیں کہ شاید یہ ٹھیک ہو جائے مگر کچھ ٹھیک نہیں ہوتا۔ میں کہتا ہو ں کہ عمران خان کو تو ذرا دیکھوں کہ کیا کر رہے ہیں ۔ پھر میں وہاں جاتا ہوں جہاں عمران خان ہوتے ہیں تو وہ اور انکے ساتھ کچھ اور لوگ کہیں جا رہے ہوتے ہیں۔ عمران خان اسی طرح غصّے میں چل رہے ہوتے ہیں جیسے وہ اکثر چلتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا مصیبت ہے۔۔ ہمیں کا م کیوں نہیں کرنے دے رہے لوگ؟ یہ جو حادثہ ہوا ہے یہ سب کیسے ٹھیک ہو گا؟

25 جولائی 2018 کو خواب میں دیکھا کہ وزیرِاعظم عمران خان کو بہت مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔ یعنی جو وہ کرنا چاہتے ہیں اس طرح سے نہیں کر پاتے اور اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو پاتے اور ناکام ہو جاتے ہیں اور پھر وہ بہت تنگ آجاتے ہیں ۔ میں ایک کمرے میں بیٹھا یہ سب دیکھ رہا ہوتا ہوں۔ پھر وہ اس کمرے میں آتے ہیں جہاں میں پہلے سے ہی بیٹھا ہوتا ہوں۔ جب عمران خان اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہیں تو کچھ بول رہے ہوتے ہیں جو مجھے صحیح طرح سے یاد نہیں ہے۔

میں ان سے کہتا ہوں کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللہ آپ کی مدد کرے تو آپکو ہر طرح کے شرک سے اپنے آپ کو بچانا ہو گا۔ آپ نے جو دربار میں سجدہ کیا وہ شرکِ اکبر میں سے ہےاور آپ اپنے اس عمل کے لیے توبہ اور استغفار کرنی چاہیےاور اسی طرح اللہ کے ہاں سجدہ کرنا چاہیے۔آپ کو یہ عہد کرنا ہو گا کہ آپ دوبارہ اللہ کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکیں گے۔ میں ان سے یہ بھی کہتا ہوں کہ آپ ہی تو کہا کرتے تھے کہ 'عمران خان اللہ کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکتا' تو پھر آپ نے ایسا کیوں کیا؟ توعمران خان کو اپنی غلطی کا احساس ہو تا ہے اور کہتے ہیں کہ 'ہاں میں یہ کہا کرتا تھا'۔

پھر عمران خان کہتے ہیں کہ میں اللہ کے ہی آگے جھکا کرتا تھابس میرے ارد گرد لوگ ایسے آگئے اور میں غلط راستے پہ چل پڑا۔پھر میں ان سے کہتا ہوں کہ جو مر گیا وہ مر گیااس کا قصہ ختم (اور ہم اسکو مدد کے لیے نہیں پکار سکتے؟) ۔عمران خان میری باتیں بہت غور سے سن رہے ہوتے ہیں میں کہتا ہوں ۔ میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی کسی کی قبر پہ جا کر منتیں مانگے تو وہ بھی شرک کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر کوئی کسی آدمی کے سامنے بھی جھکے تو(یعنی جیسے جاپان کے لوگ جھکتے ہیں) تو وہ بھی شرک کے زمرے میں آتا ہے، اسی طرح شرک کی اور بھی بہت سی اقسام ہیں۔، اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللہ آپ کی مدد کرے اور آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں تو آپکو ہر طرح کے شرک سے اپنے آپ کو بچانا ہوگا ورنہ آپ کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔

عمران خان میری باتیں نہایت ہی انہماک سے سن رہے ہوتے ہیں جیسے کسی کو بہت بڑی امید نظر آرہی ہو ۔اور عمران خان کو یہ امید شرک اور اسکی اقسام سے بچنے میں نظر آتی ہے کیوں کہ اس سے پہلے انکو کسی نے بھی یہ باتیں نہیں بتا ئی ہوتی۔


 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
18 Oct, 2018 Total Views: 746 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Muhammad Qasim


Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Alhamdulilah indeed all of his dreams will come to pass he is truthful.
By: Nafeis a, Dover on Oct, 25 2018
Reply Reply
0 Like
mashAllah...its true
By: Mitanur, Dhaka,bangladesh on Oct, 24 2018
Reply Reply
0 Like
MashaALLAH
By: Khady, Montréal on Oct, 24 2018
Reply Reply
0 Like
MashaAllah... InshaAllah soon theses divine dreams will come true by the special mercy of Allah.
By: Sania butt, Karachi on Oct, 24 2018
Reply Reply
0 Like
Alhamdulillah muhammad qasim dreams
true
By: Ismail hossain, Oman on Oct, 24 2018
Reply Reply
0 Like
Muhammad Qasim dreams true i believe his dreams i know his dreams true support from India
By: Arif mondal, kalkata on Oct, 24 2018
Reply Reply
0 Like
I've just read the post and after reading this post in speechless ivhave no words except Allah Hu Akbar. Samee things are happening and no doubts that the rest going to happen

May Allah bless Mohammad Qasim Ameen . Your dreams are light for people in this dark world
By: Sabeen, Lahore Pakistan on Oct, 24 2018
Reply Reply
0 Like
SubhanAllah
By: Muminun, Chicago on Oct, 24 2018
Reply Reply
0 Like
Subhaan'ALLAH !

it is true indeed that the dreams of Mohammed Qasim is true and all ummat-e-muslima need to reunite once again

Our beloved prophet (peace be blessings upon him) said :

He said: O people, there remained nothing that gives good tidings from prophethood except a true dream which a Muslim has himself or which another Muslim has for him. I have been prohibited to recite the Qur’an while bowing or prostration. As regards owing, exalt the Lord in it, and as to prostration, make supplication with exertion in it, that is worthy of being accepted.
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَشَفَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا الرَّبَّ فِيهِ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏
Grade : Sahih (Al-Albani) صحيح (الألباني) حكم :
Reference : Sunan Abi Dawud 876
In-book reference : Book 2, Hadith 486
English translation : Book 2, Hadith 875

May ALLAH SWT bless Mohammed Qasim and the ummat-e-muslima with his great blessings

Ameen
By: SAMAA, Lahore on Oct, 24 2018
Reply Reply
0 Like
Wonderful article! Ma Shaa Allah
By: Osama, Jeddah on Oct, 24 2018
Reply Reply
0 Like
SubhanAllah
By: Has, Malaysia on Oct, 24 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB