“چاہ“ - قسط دوئم

(Zeena, Lahore)

ہم جنہیں دیکھنا نہیں چاہتے قدرت ہمٰیں انکے سامنے لا کھڑا کرتی ہے ، چاہے وہ کھڑا ہونا نفرت ہو یا محبت۔

میں اپنا تعارف کروانا تو بھول ہی گئی ۔ میں ظہور گھر میں سب سے چھوٹی اور لاڈلی ہونے کی وجہ سے تھوڑا ضدی کہا جائے تو غلط نا ہوگا مجھ میں سب اچھا تھا پر دو بری عادتیں تھی ایک بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی بول دینا، دوسری ہر ایک کو بس اچھا سمجھنا مجھے ایموشنل فول کہا جائے تو غلط نہٰیں ہوگا۔ خیر ہم تین بہینں اور تین ہی بھائی تھے۔ میری سب سے بڑی آپی آور بڑے بھائی شادی شدہ تھے۔ ایمن بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھی اور میں لاسٹ پر ، میری سب سے زیادہ دوستی بھی ایمن سے تھی۔
شیزا کے چار دیور تھے ، زین بھائی دوسرے نمبر پر تھے اور شرجیل تیسرے پر ۔ شیزا کے ساس سسر بھی حیات تھے جو کہ پورا خاندان ایک ہی محلے کی صورت وہاں پایا جاتا تھا ۔ مجھے ایسی فیلملیز بہت پسند تھی جو سب ایک ہی جگہ پر اکٹھے رہتے ہوں ۔
اب کہانی کی طرف بڑھتے ہیں۔
کھانا کافی اچھے ماحول مین کھایا گیا، مجھے ساری فیملی کا ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا جانا بہت اچھا لگتا تھا۔ اس دوران میں شیزا سے سٹڈیز کے مطلق باتیں کرتی رہی۔
کھانے کے بد اسکی سانس ہمیں گھر دکھانے کا کہنے لگی اور پھر ہم سب گھر دیکھتے ہوئے چھت پر آ گئے۔ ہم لوگ باتیں ہی کر رہے تھے کہ وہ اسکا چھوٹا دیور بھی اوپر ہی آگیا مجھے پرا ہی عجیب لگا۔
“ دیکھو تو “ میں نے اپنی بہن کو کہا۔
“ کیا ؟ “ اسنے کہا
“ شیزا کا دیور دیکھو سامنے بھائی بیٹھے ہیں پھر بھی ادھر ہی دیکھ رہا ہے چھیچھوڑا ۔ “ میں نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو کہ مسکرا رہا تھا مجھے اس وقت وہ بہت برا لگا۔
“ دفع کرو ایسے لڑکوں پر دھیان نہیں دیتے۔ “
“ سہی کہ رہی چلو اب نیچے چلتے ہیں “ میں یہ کہ کر نیچے چلی گئی۔
کچھ دیر بعد ہم لوگ نے اجازت چاہی۔ مجھے یہ دیکھ کر پھر بہت حیرت ہوئی کہ وہ لوگ ہمیں گلی کے آخر یعنی گاڑی تک چھوڑنے آئے یہ ایک پلس پوئنٹ تھا، جس نے مجھے کافی ایمپریس کیا۔ پھر ہم لوگ گھر کے لئے روانہ ہو گئے۔
گھر آئے تو آپی اور برے بھائی نے بابا اور میرے چھوٹے بھائی سے بات کی دونوں بہنوں کے رشتے کی، نتیجہ یہ نکلا کہ بری کا کرو ابھی چھوٹی کا دیکھے گے ۔ یہ فیصلہ سننا تھا کہ میں خوشی سے جھوم اٹھی اور اپنی بہن کو زین بھائی کہ حوالہ سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگی۔ وہ کبھی مجھے غصے سے دیکھتی کبھی ڈانتی میں کہا ماننے والی تھی ایک نمبر کی ڈھیٹ تھی۔
دیکھتے دیکھتے بات پکی ہو گئی، منگنی کی تیاریاں شروع ہوگئی ،،، پھر پتہ چلا کہ منگنی نہیں نکاح کرنا ہے۔ کچھ ایشوز تھے ، جن کی بنا پر نکاح کی ڈیٹ فکس کردی گئی۔ رخصتی ایک سال بعد طے پائی۔
نکاح کے دن قریب تھے، ہم سب تیاریوں میں لگے ہوئے تھے۔ میں بہت خوش تھی، میری دوست وقفہ وقفہ سے اپنے دیور شرجیل کے بارے میں کچھ نہ کچھ ایسا بتاتی رہتی کہ میرا دل اس سے بدظن ہونے لگا ساتھ ساتھ مجھے یہ بھی پوچھتی رہتی کہ کیا مائنڈ ہے تمھارا ایمن کے بعد تمہارا ہی پوچھنا ان لوگوں نے،،،، میں کہتی میری طرف سے پکا انکار سمجو تو وہ ہس دیتی پھر ہم دوسری باتیں کر کے کال کٹ کر دیتے۔
آج ان لوگوں نے ایمن کا ناپ لینے آنا تھا۔ مجھے اچانک سے ان لوگوں کے آنے کی اطلاع ملی۔ میں بہت ایکسائیٹڈ تھی۔ جب مجھے پتہ چلا ساتھ شرجیل آ رہا ہے میرا موڈ آف ہوگیا “ لو جی اب میں کمرے میں نہیں جا سکو گی، حد ہے۔ “ میںنے دل میں سوچا۔
وہ لوگ آئے تو میں سلام لے کر کمرے میں آگئی، میری ایک عادت تھی میں جس کو اہمیت نہیں دیتی تھی اسکی طرف نہیں دیکھتی تھی۔ اسنے کیا پہنا تھا کیسا دکھ رہا تھا مجھے یاد نہیں۔ خیر میں شیزا کو لے کر دوسرے کمرے میں آگئی وہی بڑی آپی اور ایمن بھی آگئی۔ کچھ دیر بعد بڑی آپی اپنے بچوں کو ٹیوشن سے لینے چلی گئی تو انکی چھوٹی بیٹی جو کہ اڑھائی سال کی تھی انکے پیچھے چلی گئی، تب ہم باتوں میں لگی تھی جب اسکا خیال آیاتو میں اسے دیکھنے کے لئے گیٹ کی طرف بھاگی۔ گیراج میں گاڑی کا آئل گرا ہوا تھا جس پر سے میں سلپ ہو کر دھرام سے نیچے جا گری، سامنے وہ بیٹھا مجھے دیکھ رہا تھا میں جلدی سے اٹھی اور اندر بھاگ گئی۔ شرمندگی اتنی تھی کہ بتا نہیں سکتی گری بھی تو کس کہ سامنے ،،،،،
پھر مجھے آپی کو چھوٹی پر بہت غصہ آیا وہ شرجیل کے پاس کھڑی تھی جب وہ کمرے میں آئی میں نے اسکے ایک دھموکہ جڑ دیاوہ چھوٹی سی گڑیا حیرانی سے مجھے دیکھنے لگی۔۔

“ اسے کیوں مار رہی ہو ؟ “ آیمن نے جلدی سے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ وہ ابھی بھی اپنی چھوٹی چھوٹی گول گول آنکھوں سے مجھے دیکھ رہی تھی مجھے اس پر بے اختیار پیار آیا۔ میں اسے پکرنے ہی لگی تھی کہ بڑی آپی آگئی۔
“ آپی کم از کم آئل تو صاف کر لیا کرے حد ہے۔ “ اسے چھوڑ کر میں نے غصے سے کہا۔
“ ہوا کیا ہے؟ “ آپی بچوں کے بیگ اتاڑتے ہوئے پوچھنے لگی۔
“ میں گر گئی “ میں نے آہستگی سے کہا۔
“ کیا ؟ “ ایمن نے پوچھا ۔
“ میں گر گئی ۔ “ میں نے پھر آہستگی سے کہا۔
“ کیا بول رہی اونچا بولو ، “ اس بار شیزا نے کہا ۔
“ میں شرجیل کے سامنے گیراج میں گر گئی جو دروازہ گیراج کی طرف نکلتا بالکل اسکے سامنے گری، “ میں ابھی کچھ اور بھی کہنا تھا اتنا ہی کہ پائی تھی ابھی ، کہ تینوں کی ہسی چھوٹ گئی۔ میں کچھ دیر انکو دیکھتی رہی پھر میں بھی انکے ساتھ ہنسنے لگ گئی۔اسکے بعد میں اسکے سامنے نہیں گئی۔
“ اسے کہنا گھر جا کر کسی کو کچھ نا بتائے پلیز “ وہ جب ناپ لے کر واپس جانے لگی تب میں نے اسے اکیلے میں کہا۔
“ اچھا میں کہ دو گی تم فکر نہیں کرو ۔ ویسے ایسا ہو نہیں سکتا کہ وہ نہ بتائے پر پھر بھی میں اسکو بول دوگی۔
پھر وہ لوگ چلے گئے چاہتے ہوئے بھی میں اسے گیٹ تک سی آف کرنے نہیں گئی کیونکہ میں اسکی اپنا مزاق آاڑاتی نظریں دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔( جاری ہے )
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
24 Oct, 2018 Total Views: 1263 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Zeena

I Am ZeeNa
https://zeenastories456.blogspot.com
.. View More

Read More Articles by Zeena: 92 Articles with 87252 views »
Reviews & Comments
Very nice ...
By: Ali Raza, Rawalpindi on Oct, 26 2018
Reply Reply
0 Like
May ALLAH bless you with health, respect and success #Amen
By: ACE, khushab on Oct, 26 2018
Reply Reply
0 Like
Pehly Part ki Tarah Ye Episode Bhe Kamaal. Boht Khushi Ho Rhe Hai Apni Behna Ki Is Behtreen Kawish par. Be Happy Always
By: Abdul Kabeer, Okara on Oct, 25 2018
Reply Reply
0 Like
Very nice,,,,is bar likhny ka andaz phly sy bhot munfarid aur acha hai...
By: Mini, mandi bhauddin on Oct, 25 2018
Reply Reply
0 Like
کہانی عمدہ لکھی گئی ہے ماضی کی طرح اس میں بھی تلخ زندگی کی حقیقتوں کو بیان کیا گیا ہے۔خوشی ہوئی ہے کہ آپ نے پھر سے قلم کو تھام لیا ہے۔خوش رہیں۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Oct, 25 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB