یہ نشانی ‘ یہ علامت ‘ محفوظ رہے گی

(Munir Bin Bashir, Karachi)

12 ستمبر 1976 - فرانس میں پت جھڑ کا موسم
شہر پیرس کا نواحی ہوا ئی اڈے لی لور گیٹ کا منظر -- فضا میں ایک پر اسراریت سی چھائی ہوئی تھی -
ایسے لگتا تھا کچھ ہوا ہے یا کچھ ہونے والا ہے
میں نہیں کہہ سکتا کہ واقعی ایسا تھا یا یا لوگوں کو ایسا محسوس ہو رہا تھا --
کچھ افراد ٹکٹکی باندھے -آسمان کی جانب نگاہ کئے ہوئے تھے - آخر ایک جہاز نمودار ہوا --پہلے ایک نقطے کی مانند اور پھر بڑا ہوتا گیا - لوگوں کی نظریں ایک دوسرے کی جانب اٹھیں اور پھر جھک گئیں- وہ شاید اسی کا انتظار کر رہے تھے - جہاز نے رن وے پر دوڑنا شروع کیا اور بالآ خر اپنی مخصوص جگہ پر پہنچ کر رک گیا -
فرانسیسی حکومت کے اعلی فوجی و سرکاری افسران آگے بڑھے - ایک فوج کا چاق و چوبند دستہ بھی موجود تھا - یہ سب مصر کے ایک سابق حکمران کے جسد خاکی کا پورے اعزاز کے ساتھ استقبال کرنے پہنچے تھے - لاش اتاری گئی - فوجی دستے کے ایک نوجوان نے بگل بجائی دوسرے نوجوانوں نے استقبال کے لئے اپنی بندوقوں کا رخ خاص انداز میں موڑا - ان کے داہنے پیر ایک ساتھ اوپر ہوئے اور دھمک پیدا کرتے ہوئے ایک ساتھ زمیں پر لگے اور انہوں نے تابوت کو سلامی دی - دی
یہ ماضی قریب کے کسی حکمران کا جسد خاکی نہیں تھا بلکہ یہ ساڑھے تین ہزار سال قبل کے ایک حکمران کا جسد خاکی تھا -
اس سابق حکمران کا نام 'رمسیس دوم ' تھا لیکن اس کا جسد خاکی اب ایک ممی کی صورت میں تھا -
ممی کو پھپھوندی لگ رہی تھی - اس کا تدارک کرنے کے لئے یہ فرانس لائی گئی تھی
رمسیس دوم اس 1200 قبل مسیح یعنی 3200 سال قبل کے اس حکمران کا نام تھا جسے مسلمان فرعون کے نام سے جانتے ہیں اور یہی وہ حکمران تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بر سر پیکار تھا اور اس کی موت سمندر میں ڈوبنے سے ہوئی - قران مجید کی سورۃ یونس میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے 'اے فرعون ہم تیرے جسم کو محفوظ کر لیں گے تاکہ بعد میں آنے والے زمانے میں ایک نشانی کی علامت بنو "
اور اس روز فرانس میں اللہ تعالیٰ اس حکمران کی لاش کو مزید محفوظ کر نے کا انتظام کر رہا تھا -
1975 میں مصر میں اپنے قیام کے دوران مجھے اس دور کی ممیوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا -
مصر کے شہر قاہرہ میں واقع عجائب گھر دنیا میں ایک مقام رکھتا ہے دنیا کے شاید کسی بھی عجائب گھر میں اس قدر حیرت انگیز -تاریخی - نادر اور قیمتی اشیا موجود نہیں جو اس میں ہیں - -یہ عجائب گھر اتنا بڑا ہے کہ اگر اس میں موجود ہر چیز کو دیکھنے پر ایک منٹ بھی لگایا جائے تب بھی اس پورے عجائب گھر کو دیکھنے کے لئے آٹھ مہینے درکار ہوں گے - ۔ دنیا کے سات عجائبات ہیں - ان میں ایک مصر کےاہرام اور اس کی ممیاں ہیں -

ممی کیاہوتی ہے - یہ انسانی حنوط شدہ لاشیں ہیں جو تین ہزار برس قبل مصر میں محفوظ کی گئی تھیں - اب یہ سوال اٹھے گا یہ حنوط شدہ سے کیا مراد ہے - ہزاروں سال قبل مصریوں کے پاس ایک ہنر تھا جس کے تحت وہ خاص قسم کا مرکب لگا کر لاشوں کو سلامت رکھ سکتے تھے - یہ مرکب یاکیمیکل کیا تھے اس سے کوئی پردہ نہیں اٹھا سکا -
میں نے مصر کے کئی سفر نامے پڑھے لیکن ان میں سے اکثر میں انسانی اجسام کی حنوط شدہ لاشوں کو تو تذکرہ ہے لیکن جانوروں وغیرہ کا نہیں جب کہ میں وہاں بکری ' کتے ' بلی 'مچھلی ' مگر مچھ وغیرہ کی حنوط شدہ لاشیں بھی دیکھی تھیں - بکری کا بچہ بالکل صحیح حالت میں لیٹا ہوا تھا - اس کے جسم پر اس کی سفید کھال بالکل زندہ بکری کے بچے کی طرح لگ رہی تھی اور اس میں وہ چمک بھی باقی تھی جو بکری کے بچے کے جسم پر موجود بالوں میں ہوتی ہے - دل چاہتا تھا کہ اس کے ریشمی پشم کی طرح ملائم کھال کو ہاتھ لگا کر دیکھوں -لیکن درمیان میں موٹا سا شیشہ حائل تھا - یہی حال مچھلی کے جسم کا تھا - اس کے کے جسم پر موجود کھپریل کی طرح چھال تک سلامت تھی - تین ہزار سال پہلے لوگوں کا عقیدہ تھا کہ وہ دوبارہ زندہ ہوں گے تو انہیں روز مرہ کے استعمال کی اشیا بھی درکار ہوں گی اسی لئے یہ تمام سامان بھی ان کے ساتھ ہی دفن کیا گیا تھا - بالوں میں لگانے والا تیل جو کہ ساڑھے تین ہزار سال پرانا ہے وہ بھی نظر آیا -ایک جگہ ایک چراغ پر نظر پڑی - ایسے لگتا تھا کہ ابھی ابھی گُل کیا گیا ہے - میرے منہ سے بے ساختہ نکلا کیا یہ حقیقی ہے - دربان نے کہا 'ہاں -- ہاں -- بالکل حقیقی - ساڑھے تین ہزار سال قبل کا ' میں ششدر رہ گیا -اس چراغ کی ہر چیز بالکل واضح نظر آرہی تھی -
میں نے فقرہ عربی میں کہا تھا اور اس نے عربی میں ہی جوابدیا تھا - لیکن مصری 'ق' کا حرف نہیں بولتےسو اس نے حقیقی کی جگہ کہا " حئیئی حئیئی "
میں ممیوں کی تعداد تو نہیں گن سکا لیکن مبشر نذیر کے ایک بلاگ کے مطابق 'کم از کم تیس چالیس ممیاں تو ہوں گی۔
یہ تمام ممیاں ایک خاص قسم کے تابوت میں بند کی جاتی تھیں - انسانی ممی کے سر کے نیچے ایک پلیٹ رکھی جاتی تھی جس پر دیوتاؤں وغیرہ کی تصاویر ہوتی تھیں - چمڑے کے تسموں سے لپیٹا جاتا تھا -ان باریک تسموں پر بھی نہایت یہ نفیس انداز میں دعائیہ کلمات لکھے ہوتے تھے اور دیوتاؤں کی تصاویر بھی بنائی جاتی تھیں - بلاشبہ یہ نہایت ہی باریک بینی کا کام تھا لیکن ان کے اس باریک نازک کام میں مہارت دیکھ کر آدمی تو انگشت بدنداں ہی رہ جاتا ہے محاورتاً نہیں حقیقتاً -
یہ ممیاں جب دریافت ہوئیں - اور دریافت کرنے کے بعد ان کی پٹیوں کو کھولا گیا تو ان کے اجسام بالکل تازہ انسانی جسم کی مانند تھے - ایک سائسدان کے منہ سے تو بے اختیار نکلا بھی تھا “اوہ -- ایسے لگتا ہے جیسے اس نے ابھی چند لمحے قبل آخری سانس لی ہو " - لیکن بعد میں کھلی حالت میں رہنے کے سبب ان ممیوں کے اجسام کے جلدکی رنگت اور ہیئیت تبدیل ہو گئی ہے - ان کے چہروں سے گوشت وغیرہ کب کا سوکھ چکا تھا البتہ ڈھانچہ پورے کا پورا صحیح سلامت موجود تھا جس پر کھال منڈھی ہوئی تھی -

ایک ممی جس نے متاثر کیا وہ ایک دوشیزہ کی ممی تھی اس ممی کی وہ حالت نہیں تھی جو دیگر ممیوں کی تھی - -اس دوشیزہ کی عمر اکیس بائیس برس کی ہوگی - میں نے اس دوشیزہ کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا - وہ نسوانی حسن کی تمام تر رعنائیوں اور جمال آفرینیوں کا دلکش مرقع تھی - - اس کی دل آویز بھنویں --نہ موٹی نہ پتلی -- ایسی کہ کہ نظر پڑے تو نظر ہی جم جائے - اعضا انتہائی مناسب -- گردن نہ تو بہت ہی صراحی دار اور نہ ہی بہت کم ‘ بالکل جسم کی شان کے مطابق - بالوں میں ہلکی ہلکی سی لہریں ایسی کہ نظر پڑے تو دل میں بھی لہریں سی چل پڑیں - پلکیں کیا تھیں بس جھالریں سی تھیں جو اس کے مہوش چہرے پر جلوہ گر ہو کر اس کے جمال کو نیا رنگ دے رہی تھیں - اس کےبھرے بھرے ہونٹ ہلکی سی سنجیدگی کے عالم میں تھے اور اس کے وقار میں اضافہ کر رہے تھے کہ اس حالت میں بھی کوئی غلط بات کہنے کی جرات نہ کرے -
اس کا چہرہ بہت ہی پرسکون لگ رہا تھااور لگتا تھا کہ موت کے فرشتے نے اسے نہایت ہی ملائم انداز میں جھولے د یتے ہوئے ' خوبصورت سے بادلوں اور شفق میں سے گزار تے ہوئے دوسرے جہاں میں پہنچا یا ہوگا -

یہ ممی باقی ممیوں سے ہٹا کر ایک کوریڈور یا برآمدے ٹائپ کی راہ گزر میں رکھی ہوئی تھی - کسی شہزادی کی ممی نہیں لگ رہی تھی - ہو سکتا ہے کوئی خادمہ ہو یا کنیز ہو -- - شاید اس کائنات کے خالق نے اس کا حسن تخلیق کر نے کے بعد ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ یہ حسن کامل--- لا فنا -- رہے گا - یہ کسی مٹی کا رزق نہیں بنے گا - کسی پانی کے سپرد نہیں ہو گا -کسی آگ کے حوالے نہیں ہو گا - نہ فضا میں بکھیرا جائے گا -
یہ اکمل حسن کا نمونہ سلامت رہے گا -

یہ جان بہاراں کسی شاعر کا خواب نہیں ہو سکتی تھی کہ کسی شاعر کا تخیل اور پہنچ اس معراج کو چھو بھی نہیں سکتا تھا تھا جس پر اللہ رب کریم نے اسے بٹھایا تھا - میں اس حسن کی دیوی سے ایک فٹ کے فاصلے پر کھڑا ہواتھا - میری اسی قسم کی سوچوں کی اڑان نہ جانے مجھے کہاں لئے جارہی تھی - کوریڈور میں سناٹا تھا- دور دور تک کوئی نہیں تھا - اچانک میں نے جھر جھری سی لی -
“ یہ ایک لاش ہے - فقط لاش - ساڑھے تین ہزار سال پرانی - تو اس کے سامنے کھڑا ہے " نہ جانے یہ الفاظ کیسے میرے شعور میں آئے -
میری سوچوں کا ہیولا جس نے مجھے اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا اور اس میں ہر دم اضافہ ہی ہوتا جارہا تھا ٹوٹ گیا - نہ جانے اس کے حسن میں کیا طلسم تھا جیسے ہی یہ طلسم ٹوٹا اور میں آزاد ہوا - میں نے جسم کو جھٹکا دیا اور سر زور سے ہلایا - سکتہ زدہ آنکھیں صحیح حالت میں آئیں - میں نے تیز تیز قدم اٹھائے اور چلتا ہی چلا گیا - رکا ہی نہیں اور نہ ہی مڑ کر دیکھا -

اور میں دوبارہ اسی ہال میں پہنچ گیا جہاں فراعین کی ممیاں رکھی ہوئی تھیں -

مجھے پھر قران پاک کی آیت یاد آئی " اے فرعون ہم تیرے جسم کو محفوظ کر لیں گے تاکہ بعد میں آنے والے زمانے میں ایک نشانی کی علامت بنو "
یہ نشانی ‘ یہ علامت ‘ مصر کے اہرام میں محفوظ تھی لیکن مسلمان علما اس سے لا علم رہے حتّیٰ کہ مصری علما بھی نا واقف رہے کہ ان کے قدموں میں واقع اہرام مصر میں یہ علامت محفوظ ہے - کوئی مسلمان عالم اس راز سے پردہ اٹھا کر قران پاک کی یہ نشانی دریافت نہیں کر سکا - یہ شرف ایک عیسائی کو حاصل ہوا - اس کانام تھا پروفیسر لورٹ - اس فرانسیسی تحقیق نگار نے 1898 عیسوی یعنی تقریباً ایک سو بیس سال قبل یہ جسم دریافت کیا - جولائی 1907میں اس ممی کا غلاف کھولا گیا -
اس کے بعد ایک فرانسیسی عالم ڈاکٹر مورس نے جون 1975 میں قاہرہ کا رخ کیا - اس نے عربی زبان پر عبور حاصل کیا اور پھر قران مجید کی مختلف تفاسیر کا مطالعہ کیا -ممی میں لگی ہوئی مختلف چیزیں دیکھیں اور پھر اپنی مشہور زمانہ کتاب تحریر کی - جن باتوں کا سراغ اسے دیگرالہامی کتابوں میں نہیں مل سکا تھا اسے قران پاک میں ملا - ڈاکٹر مورس نے لکھا "جو لوگ کتاب مقدس قران مجید کی صداقت آزمانے کے لئے جدید ثبوت چاہتے ہیں تو وہ قاہرہ میں واقع ممیوں کو دیکھ لیں - "
بائی دا وے بعد میں اس ممی کو پھپھوند لگنے لگا تو اسے محفوظ کر نے کام بھی اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں سے لیا - فرانس کی حکومت کے قوانیں کے مطابق کسی غیر ملکی کی لاش کو انکے ملک میں لانا ہو تو اس کا پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے سو فرعون کی ممی کا بھی پاسپورٹ جاری کیا گیا تھا -
---------------------------------------------------

اس مضمون کی تیاری میں درج ذیل کتب اور ویب سائٹس سے بھی مدد حاصل کی گئی
(الف ) جناب مولانا وحید الدین کی کتاب ‘ فکر اسلامی --- صفحہ 70 --71
(ب) mubashirnazir
(ج) vintag


 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
25 Oct, 2018 Total Views: 572 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Munir Bin Bashir

B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 97 Articles with 111455 views »
Reviews & Comments
پرانی نسل محلے میں قائم ‘آنہ لائبریریوں ‘ کو نہیں بھول سکتی - ابرایم جمالی صاحب نے سچل کالج نواب شاہ سے تعلیم حاصل کی - کتابوں کا شوق ہے اسی جذبے بے کے تحت اسی قسم کی ایک لائبریری قائم کی ہے جہاں سینکڑون کی تعداد میں کتابیں موجود ہیں - ان میں ادبی -تاریخی - سیاسی - معاشرتی - رومانی -جاسوسی سب ہی قسم کی کتب شامل ہیں -- فرعون اور اہرام کے بارے میں بھی کچھ کتب ہیں - مشہور محقق عقیل عباس جعفری بھی ان کی لائبریری کا وزٹ کیا ہے -ابرایم جمالی صاحب نے اور ان کے ایک ساتھی نے اس مضمون کو پڑھنے کے بعد لکھا کہ “ بہت اعلی،،،، زبردست کالم،،، “
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Nov, 02 2018
Reply Reply
0 Like
جناب عثمان قاضی کوئٹہ سے تعلق رکھتے ہیں اور کئی زبانوں پر دسترس رکھتے ہیں اور اس سے زیادہ تاریخ پر ان کی گہری نظر ہے - انہوں نے فیس بک پر لکھا
=== قران میں اس فرعون کا نام مذکور نہیں ہے جس کے غرق ہونے کا تذکرہ ہے۔---- اکثر تاریخ دان اس پر متفق ہیں کہ اس کا نام "ثُت موسے" تھا۔ ------ اور وہ پندرھویں صدی قبل مسیح میں گزرا تھا۔ رعمسیس کا تعلق تیرھویں صدی قبل مسیح سے بتایا جاتا ہے =
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Oct, 28 2018
Reply Reply
0 Like
There is Janab Ansari Abdul Aziz who is on Face book --- I found some informative material about pharaohs in one of his posts -- which gave me an inspiration to develop this write up
i sent the article to him with reference of the material that i had found on his face book
In his reply he wrote as under
<<
Thanks Munir Ahmed Sahab, for all your dedication and hard work on research to produce such an informative papers pharaohs of Egypt..
I am simply impressed on details and deep study that you cared to take.
May Allah (SWT) keep you and your loved ones blessed with best of health and longevity of years in life.>>
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Oct, 28 2018
Reply Reply
0 Like
سلیم جاوید صاحب ایک انجینئر ہیں لیکن اسلامی تاریخ اور تحقیق سے بھی انکا لگاؤ ہے - صاحب کتب بھی ہیں - یہ کتب کئی ایسے دروازے کھول کر ہمارے خیالات کو ایک نیا رخ دیتے ہیں - فیس بک پر اس مضمون پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے ہماری توجہ اس جانب کروائی جہاں ہماری نگاہ نہیں جاتی - وہ لکھتے ہیں
“ ماشاء اللہ بہت خوبصورت لکھا ہے- سوچنے کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی بجائے عیسائیوں نے یہ سب دریافت کرکے قرآن کے معجزے کی تصدیق کی----------------- میرا خیال ہے کہ اس میں خدائ حکمت یہ ہے ------- کہ اگر مسلمان یہ دریافت کرلیتے تو مولوی بیزار ملحدین نے اسے گھڑا ہوا افسانہ سمجھنا تھا “
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Oct, 26 2018
Reply Reply
0 Like
بہت خوب ۔۔۔ عمدہ تحریر ۔۔۔ معلومات اور تاریخ سے مزین ہے یہ تحریر ۔۔۔
By: adeel murtaza, kot adu on Oct, 26 2018
Reply Reply
0 Like
جناب ممشاد صاحب -- سابق جنرل مینیجر پاکستان اسٹیل نے فیس بک پر پڑھ کر تاثرات میں لکھا
“ بہت ہی عمدہ اور معلومات سے مزین تحریر. مجھے بھی ماسکو میں لینن کی ممی دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا “
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Oct, 25 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB