ظلم کی رات کو ڈھلنا ہے

(Isha Naim, )

بچپن میں ہی پڑھا تھا کہ ہم اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم مسلمان گھر میں پیدا ہوئے۔
بڑے ہوتے گئے تو یہ شکر کروڑوں ،اربوں اور کھربوں بار سے سے بھی بڑھ گیا۔
کیونکہ ہم نے غیر مسلم اقوام کو انتہائی چالاک ،شاطر ، اور ظالم، دہشت گرد پایا ہے۔
کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ شاید یہ غیر مسلم انسان ہوتے ہی نہیں اور انسانیت ان کو چھو کر بھی نہیں گزری۔
اس وقت دنیا میں کشمیر، فلسطین ،برما ، عراق ،فلسطین اور جہاں بھی نظر دوڑائیں تو میرے اس نظریے کو تقویت ملتی ہے۔ ہر طرف خون مسلم نظر آئے گا ۔
ان ظالموں کا ظلم تو دیکھا بھی نہیں جاتا۔
اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ظلم کشمیر میں انڈیا کر رہا ہے ۔
27 اکتوبر 1947 کو انڈیا نے اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کی تھیں۔اس کے ساتھ ہی وہاں ظلم کا بازار گرم ہو گیا تھا
قتل و غارت بد امنی نے کشمیریوں کا جینا دوبھر کر دیا تھا۔
کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے تھے سو ان کی پاکستان کے ساتھ الحاق کی قراداد منظور ہوئی لیکن بھارت نے دھوکے سے راج سے ساز باز کر کے اپنے ساتھ الحاق کرلیا جسے کشمیریوں نے تسلیم نہیں کیا۔
4 نومبر کو کشمیریوں کو کہا گیا کہ ابھی ادھر حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ آپ پاکستان ہجرت کر جاؤ جب حالات ٹھیک یو جائیں گے تو آپ واپس آ جانا۔ چونکہ قیام پاکستان کے وقت بھی مسلمانوں نے ہجرت کی تھی سو کشمیری بھی ہجرت پہ تیار ہو گئے۔
لیکن مکار بنئے نے سپین کے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے دھوکے کی داستان یہاں اپنا کر اپنا مکروہ چہرہ دکھاتے ہوئے دہرائی اور ایک جگہ انھیں اکٹھا کر کے ان پہ حملہ کروا دیا اور سب کو شہید کر دیا۔اور اس کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔
پانچ نومبر 1947 کو پھر یہی اعلان کیا گیا کشمیریوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو پا کستان جانے کا لالچ دیا گیا۔ ستر ٹرک مسلمانوں کے ہجرت کی
غرض اور پاکستان کی محبت میں پا کستان کی طرف چل پڑے لیکن مکار بنیے نے ظلم کے پہاڑ توڑ دیے اور بہت سارے لوگوں کو شہید کر دیا اور جوان لڑکیوں کو اغوا کر لیا ۔
یہ ستم سات نومبر تک جاری رہا۔ کشمیری پاکستان کی چاہ میں پاکستان کے نام پہ کٹتے رہے۔
کشمیری اور پاکستان کبھی ان شہدا کو نہیں بھولے بلکہ ہر سال 6 نومبر کو یوم شہدا جموں و کشمیر پوری دنیا میں جہاں جہاں کشمیری ہیں اور پاکستان میں میں بھی اپنے لئے کٹنے والے شہدا کا دن منایا جاتا ہے۔
آج تک کشمیریوں نے نہ بھارت کو تسلیم کیا نہ پاکستان کو بھلایا ۔
بلکہ آئے دن وہاں پاکستان کا پرچم لہرا کر شہدا کو پاکستان کے پرچم کا کفن دے کر ، ان کی قبروں پر بھی پاکستان کا پرچم لہرا کر بھارت کو پیغام دیتے ہیں کہ وہ پاکستانی ہیں اور پاکستان ہر جگہ سیاسی اور سفارتی محاذ پر کشمیریوں کی حمایت کر کے ہمیشہ اسے اپنے ساتھ کا یقین دلاتا ہے۔
ان شا اللہ اب ظلم کا یہ بازار ختم ہونے والا ہے۔کشمیری جلد ہی اپنی منزل پا لیں گے اور کشمیر بنے گا پاکستان۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
06 Nov, 2018 Total Views: 173 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Isha Naim

Read More Articles by Isha Naim: 4 Articles with 559 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB