اقبال کا نور بصیرت

(Muhammad Naeem Shehzad, )

تحریر #عبدالرحمن
علامہ محمد اقبال کسی تعارف کے محتاج نہیں صرف اہل پاکستان نہیں بلکہ دنیا ۓ ادب و انقلاب سے منسلک ہر انسان ان کی کے زور قلم اور انداز فکر کا معترف ہے-

اردو ادب میں یوں تو بہت سے شعراء کرام گذرے ہیں مگر اہل فکر و دانش میں جتنی پذیرائی شاعر مشرق کو ملی وہ اپنی مثال آپ ہے اور یے مقبولیت و مرتبہ انہیں کیونکر نہ ملتا کہ عام شعراء کی طرح ان کی شاعری تصوراتی دنیا اور عشق مجازی کی بجاۓ ایک حقیقت اور فطری و نظریاتی سوچ کی علمبردار ہے
برصغیر میں جب ہرسوں مسلمانان ہند پر ظلم و ستم کے پہاڑ تو ڑے جارہے تھے اور مسلمان فرنگی عفریت سے نجات پانے کے لیے مصروف عمل تو تھے مگر ان کی یہ مزاحمت صرف ظلم و جبر سے خود کو بچانے کی حد تک تھی اس میں ابھی نظریاتی روح نہیں تھی اور مسلمان جس وجہ سے اتنے مغلوب و محکوم ہوۓ تھے اس بنیادی نقطہ سے وہ بالکل غافل تھے ان حالات میں مسلمانوں کی راہنمائی کے لیے جہاں سیاسی قیادت کے ساتھ مل کر سیاسی محاذ پر لڑنے کی ضرورت تھی وہیں اس بات کی کہیں زیادہ ضرورت تھی کہ مسلمانوں کو ایک ایسی نظریاتی راہ پر گامزن کیا جاۓ جو کہ ان کی اس تحریک کی کامیابی میں بھی اہم کردار ادا کرے اور اس کی کامیابی کے بعد بھی اسے مضبوط و مستحکم اور دیرپا ثابت کرے-

علامہ اقبال نے مسلمانوں کی بے عملی اور دین سے دوری کو ختم کرنے لیے جو انداز اپنا یا وہ نہایت منفرد اور پر اثر تھا گو کہ اس کوشش میں اس وقت کی سیاسی قیادت نامور خطباء و علماء بھی شامل تھے لیکن علامہ اقبال نے جس بے باکی سے اس کام کو انجام دیا وہ لائق تحسین ہے

علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو ذاتی علاقائی مفادات سے بالاتر ہوکر ایک امت ہونے کادرس دیا کہ
فرد قائم ہے ربط ملت سے تنہا کچھ بگی نہیں
موج ہے دریا میں بیرون دنیا کچھ بھی نہیں

ذات پات اور گروہوں میں بٹے ہوۓ مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہو کہا کہ
یوں تو مرزا بھی ہو سید بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

شاعر مشرق نے اپنی شاعری میں قرآن کے ان احکامت کو بھی بڑی خوش اسلوبی سے بیان کیا ہے کہ جن کا تعلق مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اور معاشرت سے ہے کہیں وہ سورہ محمد میں بیان کی گئی صحابہ کی صفت کو بیان کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم ہے
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مؤمن

اور کہیں مسلمانوں کی عزت و وقار کو جلا بخشنے والے اسلاف کا تذکرہ یوں کرتے ہیں کہ
قوم اپنی جو ذرو مال جہاں پہ مرتی
بت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتی

دور حاضر کی طرح اس وقت بھی ایسے عناصر موجود تھے جو دین کو صرف یہ سمجھتے تھے کہ دین دنیا سے کٹ کر رہبانیت اختیار کرنے اور غاروں میں رہ کر اللہ ہو کا ورد کرنے کا نام ہے جن عرف عام میں صفی کہا جاتا ہے اور علامہ اقبال کو بھی بعض لوگ صوفیت سے جوڑتے مگر علامہ اقبال نے ان کی اس باطل سوچ کا رد کرتے ہوۓ صوفیوں کو خوب لتاڑا ہے کہتے ہیں۔۔
نہ مؤمن ہے نہ مؤمن کی امیری
رہا صوفی گئی روشن ضمیری
ایک اور جگہ یوں گویا ہوتے ہیں۔
کچھ اور چیز ہے شاید تیری مسلمانی
تیری نگاہ میں ہے اک فقرو رہبانی
سکوں پرستیِ راہب سے فقر ہے بیزار
فقیر کا ہے سفینہ ہمیشہ طوفانی

علامہ اقبال ایک مجاہدانہ سوچ کے حامل انسان تھے انہوں مسلمانو ں کو جہاد کی طرف رغبت دلانے کے لیے بھی اپنے قلم سے کاوش کی اور حقیقت میں مسلمانوں کے زوال کی وجہ بھی ترک جہاد ہی ہے مسلمانوں کو صف شکن ہونے کی ترغیب دیتے ہوۓ کہتے ہیں کہ
یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محراب مسجد پر
کہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا
ایک اور جگہ کہتے ہیں کہ
میں تجھ کو بتاتا ہوں کہ تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سنا ں اول طاؤس و رباب آخر

اور اسی سوچ میں شہید و شہادت کے مقام کو یوں بیان کرتے ہیں کہ
میرے خاک و خون سے تونے یہ جہاں پیدا کیا
صلہ شہید کیا ہے تب و تاب جاودانہ

علامہ اقبال کی شاعری کا بنیادی نقطہ "خودی" ہے وہ اپنے دین اور پنی تہذیب پر فخر کرتے تھے اور یہی درس انہوں نے مسلمانوں کو دیا جب انہوں نے یورپ کو دیکھا تو ان کی ترقی اور شان و شوکت سے مرعوب نہ ہوۓ اور کہا
خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف

مادیت پرست اور ظاہری وسائل پر بھروسہ کرنے کی بجاۓ وتوکل علی اللہ کا درس دیتے ہوۓ کہتے ہیں کہ
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مؤمن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم شکوہ اور جواب شکوہ کو اگر ان کی شاعری کا خلاصہ کہا جاۓ تو بے جا نہ ہوگا جس میں اقبال نے مسلمانوں کو ان کی خامیوں کوتاہیوں اور بے عملی سے ایک منفرد انداز میں آگاہ کرتے ہوۓ ماضی اور حال کو بیان کرکے مسلمانوں کو دوبارہ اپنے اسلاف کی راہوں پر چلنے کا درس دیا
اور آج بھی وقت کی اہم ضرورت ہے کہ اقبال کے افکار کا مطالعہ کیا جاۓ اور اپنی منزل کا تعین کیا جاۓ ان کے نور بصیرت کو عام کیا جاۓ
اور اقبال کی بھی یہی خواہش تھی بقول ان کے
خدایا آرزو میری یہی ہے
میرا نور بصیرت عام کردے

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
09 Nov, 2018 Total Views: 77 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Muhammad Naeem Shehzad

Read More Articles by Muhammad Naeem Shehzad: 44 Articles with 5784 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB