اپنے بچے کو ڈاکٹر انجینئیر کے بجائے کاروباری بنائيں، بھارت کی انوکھی یونیورسٹی جہاں بچوں کو نوکری کے بجائے کاروبار کرنا سکھایا جاتا ہے

image
 
ایک عام کہاوت ہے کہ نوکری انسان کو ساری عمر غریب رکھتی ہے جب کہ کاروبار انسان کو امیر بناتا ہے لیکن حالیہ زمانے میں کاروباری افراد کی غیر یقینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے زيادہ تر افراد کاروبار کرنے سے زيادہ نوکری کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
 
والدین بچوں کو ہمیشہ نوکری کو خواب دکھاتے ہیں
عام طور پر جب بچے کو والدین پہلے دن اسکول بھیجتے ہیں اسی دن سے وہ بچے کی آنکھوں میں مستقبل کے خواب پرونے شروع کر دیتے ہیں۔ زيادہ تر والدین کا یہی خواب ہوتا ہے کہ ان کا بچہ فوج میں جائے ورنہ دوسری صورت میں وہ اس کو ڈاکٹر انجینئر بنانے کے خواب دکھاتے ہیں یا پھر حالیہ دور میں والدین بچوں کو ایم بی اے کرنے کے خواب دکھاتے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو یہ تمام پیشے ایسے ہیں جس میں ان کا بچہ کہیں نہ کہیں نوکری کرے گا یعنی دوسرے لفظوں میں والدین بچے کو ابتدا ہی سے نوکر بنانے کا سبق دے رہے ہوتے ہیں-
 
بچوں کو نوکر بنانے کے بجائے کاروباری بنانے والی یونی ورسٹی
پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ ہماری نفرت جتنی بھی ہو مگر دشمن کے بھی اچھے عمل کی تعریف کر کے اس کو اپنانا ایک اچھا عمل ہوتا ہے۔ ایسے ہی ایک عمل کا آغاز بھارت میں 2015 میں ہوا جب ان کے 45 بڑے کاروباری حضرات سر جوڑ کر بیٹھے اور انہوں نے اس بات پر غور کیا کہ اس وقت ہر تعلیمی ادارہ اور یونی ورسٹی صرف اور صرف ایسے افراد کو تعلیم دے کر نکال رہی ہیں جو نوکری کر سکتے ہیں۔
 
image
 
اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ملک کی معیشت پر سخت بوجھ پڑ جائے گا نوکری کرنے والے افراد تو ہوں گے مگر نوکری فراہم کرنے والے ادارے کم پڑ جائيں گے- لہٰذا ایسا ادارہ بنانا چاہیے جو کاروباری حضرات تیار کرے تاکہ کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہو سکیں اور اس طرح سے ملازمتوں کے مواقع پیدا کیا جا سکیں-
 
کاروباری تعلیم دینے والی پلکشا یونیورسٹی
چھ سال تک مشورے اور بڑی سرمایہ کاری کے بعد ان کاروباری حضرات نے ملک کی پہلی کاروباری یونیورسٹی کی بنیاد رکھی۔ یہ یونیورسٹی بھارت کے صوبے پنجاب کے علاقے موہالی میں قائم کی گئی۔ یہ ایک پرائيویٹ یونی ورسٹی ہے جس میں بنیادی طور پر 60 بزنس گروپ نے سرمایہ کاری کی اس یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ طالبات کو اس بات کی تعلیم دی جا سکتی ہے کہ کس طرح سے نت نئے کاروبار کے آئیڈیاز پیدا کیے جائيں اور ان کو کیسے شروع کیا جا سکتا ہے اور ان کو کامیاب کیسے بنایا جا سکتا ہے-
 
اس یونیورسٹی کا ٹارگٹ ہے کہ 2031 تک بھارت میں 10000 نئے اسٹارٹ اپس شروع کیے جائيں گے۔ جن کو آغاز کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ اسی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طالب علم ہوں
 

اسٹارٹ اپس

اسٹارٹ اپس سے مراد روائتی کاروبار کے بجائے انوکھے اور اچھوتے آئيڈياز کے ساتھ کاروبار کو شروع کرنا۔ یہ کاروبار جدید ڈيجیٹل طریقہ کار کا استعمال کر کے شروع کیا جاتا ہے جس میں روائتی طریقوں کے برخلاف انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے کاروبار کو ترقی دی جاتی ہے-

 
دنیا کے بہترین افراد سے مدد
پلکشا یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اس یونیورسٹی کے طالب علموں کو بڑے مواقع فراہم کرنے اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لیے دنیا کے بہترین اور ٹیکنالوجی کے سرکردہ افراد سے رابطہ کیا ہے ان میں گوگل اور آئی بی ایم اس یونیورسٹی کو آئی ٹی سپورٹ فراہم کر رہے ہیں-
 
image
 
کاروباری یونیورسٹی کی اہمیت
اس وقت دنیا بھر میں اسٹارٹ اپس قائم کرنے والے ممالک میں بھارت کا نام سر فہرست ہے۔ جب کہ اس وقت ہمارے ملک میں اس قسم کے کسی عمل کے بارے میں سوچنا بھی گوارہ نہیں کیا جا رہا ہے-
 
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں بھی وقت کی رفتار کے ساتھ اپنی نئی نسل کو چلانا ہے جو ان کی کامیابی کے لیے ضروری ہے اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہم وقت اور ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔
 
یہ سبق والدین کے لیے بھی ہے کہ نوکری کے بجائے اب بچوں کو کاروباری بنانے پر زور دیں اور ان کو اس بات کی تربیت دیں کہ وہ والدین کے کاروبار یا زراعت کے شعبے کو ہی جدید انداز میں استوار کریں تاکہ کامیاب ہو سکیں-
YOU MAY ALSO LIKE: