مویشی منڈی شہر سے باہر منتقل۔۔ شہریوں کو فائدہ یا نقصان؟

image
 
بکرا عید پر شہری کرینگے جانور قربان یا ڈاکوؤں سے بچائیں گے اپنی جان ۔۔ مویشی منڈی شہر سے باہر منتقل ہونے سے عوام کو ہوگا فائدہ یا نقصان۔۔۔ اسٹریٹ کرائم زون میں منڈی لگانے سے پولیس اور انتظامیہ کتنی ہے پریشان؟
 
جی ہاں ہر سال کی طرح اس سال بھی کراچی کے شہریوں کیلئے عید قرباں سے پہلے مویشی منڈی سج گئی ہے۔ نادرن بائی پاس پر 700 ایکڑ پر ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی میں وی وی آئی، وی آئی پی اور جنرل بلاکس بنائے گئے ہیں۔ گائے،اونٹ بیل اور بکروں کے الگ الگ بلاک بنائے جارہے ہیں- مویشی منڈی میں کھانے، پینے کے اسٹال مساجد اور عارضی بیت الخلاء کے علاوہ تمام ضروری سہولیات مہیا کی جائینگی۔
 
 
مویشی منڈی کے ترجمان یاور رضا چاؤلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ نادرن بائی پاس اسکیم 45 ایم ڈی اے چوک نئی مویشی منڈی کے قیام کا فیصلہ سوسائیٹیز بڑھنے کی وجہ سے کیا گیا۔ یاور چاؤلہ کہتے ہیں کہ لوگ اسے مویشی منڈی اور ہم فیسٹول کا نام دیتے ہیں ۔ لیکن ۔۔ انتظامیہ نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکو اس مویشی منڈی کو کیا کہتے ہیں؟
 
یاور چاؤلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ نئی مویشی منڈی کے اطراف پولیس کی 8 پکٹس لگانے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں جبکہ نادرن بائی پاس پر موٹرسائیکل سوار رینجرز اہلکار تعینات ہوں گے اور اس حوالے سے اخبارات میں کچھ تصاویر بھی شائع ہوئی ہیں۔
 
لیکن رکو زرا صبر کرو۔۔۔ کیونکہ۔۔ یہ اطلاعات بھی میڈیا ذرائع سے ہی مل رہی ہیں کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق مویشی منڈی کیلئے نادرن بائی پاس پر قائم 7 سو ایکڑ رقبے پر مقرر جگہ 3 تھانوں کی حدود میں آتی ہے جبکہ یہ ان تمام علاقوں میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کی بہتات ہے۔
 
کراچی میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی خریداری کیلئے 10 لاکھ سے زائد شہری مویشی منڈی کا رخ کرتے ہیں جن کو لوٹنے کیلئے مویشی منڈی لگتے ہی جرائم پیشہ گروہ سرگرم ہوچکے ہیں۔
 
image
 
نیو مویشی منڈی نادرن بائی پاس کو سجانے کے لیے کوئی پیشگی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ منڈی کے اطراف آباد گوٹھوں میں مقیم جرائم پیشہ افراد نے منڈی کو نرغے میں لے لیا ہے۔
 
کراچی میں مویشی منڈی کی جگہ تبدیل کرکے اسٹریٹ کرائم زون میں لگانے پر پولیس انتظامیہ کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
 
نادرن بائی پاس اور اطراف میں اسٹریٹ لائٹس نہ ہونے کی وجہ سے اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوچکا ہے جبکہ حالیہ دنوں میں ڈکیتی کی متعدد وارداتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔
 
اس لئے آپ بھی اگر جانور خریدنے جارہے ہیں تو اپنی حفاظت کا انتظام بھی ضرور کرکے جائیں ورنہ نقصان کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔
YOU MAY ALSO LIKE: