نور لا الہ سے

(Atta Ur Rehman Chohan, )

دنیا کے بلند ترین محاذ پر ہماری آنکھوں کے تارے وطن عزیز کے حفاظت کرتے کرتے برف کی تہہ در تہہ سلیبوں تلے دب گئے۔ کئی دنوں کی کاوشوں کے باوجود وطن کے ان رکھوالوں کی زندہ موجودگی یا جنت الفردوس کی بہاروں کی طرف لوٹ جانے کی اطلاع نہیں مل سکی۔پاک فوج کے افسراور جوان سخت ترین سردی کا مقابلہ کرتے ہوئے وطن کے جگرگوشوں کی تلاش میں ہیں۔ حکمران اورسیاست دان اپنی، اپنی چالبازیوں میں مصروف ہیں، سینماؤں اور تھیٹروں میں قوم کو دین سے گمراہ کرنے کا قبیح فعل پوری آب و تاب سے جاری ہے۔ کمیشن مافیا اپنے مزموم کاروائیوں میں مشغول ہے۔ کیمیکل سکینڈل کی سماعت جاری ہے، ارباب اقتدار اپنے پیاروں کو بچانے میں مصروف ہیں۔ ذرائع ابلاغ اطلاعات کی فراہمی کی آڑ میں فحاشی و عریانی کو فروغ دے رہے ہیں۔ گلگت اور بلتستان میں فرقہ وارانہ قتل و غارت میں ڈوبا ہوا ہے، علماءکرام فرقہ واریت کی آگ کو بڑھکانے میں مگن ہیں۔ صوفیاءاپنی خانقاہوں کو اب یورپ اور امریکہ کے تعاون سے مزین و منور کر رہے ہیں۔ مبلغین اپنے گھر اور اردگرد سے آنکھیں چرائے بوریا بستر باندھ کر مساجد کی چار دیواری میں پناہ گزیں ہیں۔ کراچی اور کوئٹہ اغیار کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔پورا ملک سٹریٹ کرائم اور لوٹ مار کرنے والے مجرموں اور پولیس کے ہاتھوں بے بس اور لاچار ہے۔

مہنگائی ، بجلی اور گیس کی قلت نے معیشت کی پہیہ جام کر رکھا ہے۔ درس گاہیں فروغ علم کے بجائے مال کمانے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ سٹرکیں مسافروں کو منزل تک پہچانے کے بجائے جنت کی طرف لے جانے کا کام دے رہی ہیں۔بڑائی اور عظمت کا پیمانہ علم، حکمت، دانی اور کردار کے بجائے دولت اور ثروت سے عبارت ہو چکا ہے۔امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہاہے۔ والدین بچوں سے اور بچے والدین سے تنگ نظر آتے ہیں۔ پڑوسی اور رشتہ دار غیر ہو چکے ہیں۔ عزت و آبرو ، مال و متاع ہر طرف غیر محفوظ ہوتی جارہی ہے۔صدر مملکت اور وزیراعظم اپنے ایوانوں میں غیر محفوظ ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیاں اپنی بقاءکی جنگ لڑ رہی ہیں اور عوام کو حالات کی بے رحمیوں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے۔ کہیں بم دھماکہ ہو، کہیں ٹریفک حادثہ ہو، کہیں آگ لگی ہو، کہیں بھوک رقص کناں ہو، کہیں عصمتیں بے آبرو ہو رہیں ہوں، کہیں اخلاق کا جنازہ نکل رہا ہو، کہیں غیرت بک رہی ہو، انصاف جہاں برائے فروخت ہو، امن جہاں قصہ پارینہ ہو۔ ،مسجدیں اور عبادت گاہیں جہاں غیر محفوظ ہوں، ممتا جہاں نوحہ کناں ہو، سوہاگ جہاں لٹ رہا ہو۔ وہا ں لوگوں کی بے حسی اور بے بسی کو دیکھ کر میں حیرت زدہ ہوں۔ مبلغین ان حالات کو سدھارنے کا کام اللہ تعالیٰ کے سپرد کررہے ہیں۔ صوفیاءکرام بہتری کے لیے مقبروں کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ پس پردہ چھپے ہوئے حقیقی حکمران کب اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ علمائے کرام شکم سیری اور فرقہ واریت میں عافیت تلاش کر رہے ہیں۔سیاست دان کمیشن خوری ، منصب داری اور خفیہ ڈیلوں میں کامیابی کی کلید تلاش کر رہے ہیں۔ادارے اپنے، اپنے اختیارات اور وسائل کی فراہمی میں مسائل کا حل دیکھ رہے ہیں۔عوام ایک وقت کی روٹی، بچوں کی فیس، مریض کی آج کی دوائی اور شیر خور کے لیے ایک فیڈرکی فکر فردا میں مدہوش و محو ہیں۔اوپر سے نیچے تلک ہر ایک نے حالات کے جبر کے آگے ہاتھ باندھ لیے ہیں۔

کوئی تو ہو جو ان حالات سے بغاوت کرے، جو وطن عزیر کو ان سنگین حالات سے دوچار کرنے والوں کی گردنوں تک پہنچے، جو ان دکھوں کا مداوا کرے، جو ان جوانوں کے ساتھ کھڑا ہو جو سیاچین کی بلندیوں پر وطن پر قربان ہونے والوں کے لاشے تلاش کر رہے ہیں۔جو اس ظالمانہ نظام کی ایک، ایک سطر کو مٹا کر قرآن کریم کے عادلانہ نظام کی بناءرکھے۔ جو محروم کا بھائی بنے، جو بھوکے کے منہ میں نوالہ رکھے، جو مریض کی دہلیز پر ادویات کا ذریعہ بن سکے۔جو فرقہ واریت کو اسلامی بھائی چارے میں بدل دے۔ جو لسانیت کو وسیع تراسلامی تصور سے عبارت کرے۔ جو کراچی اور کوئٹہ کی خونچکاں گلیوں اور بازاروں کی رونقیں بحال کرے۔ جو درس گاہوں کو فروغ علم ، عدالتوں کو انصاف، عبادت گاہوں کومحفوظ اورپورے پاکستان کو امن و اخوت کا گہوارہ بنا سکے۔ ہاں.... ہم میں سے جو بھی قرآن کو ہاتھوں میں لے کر نکلے گا، حالات کوبدل دے گا۔ مسائل جو خاکستر کر دے گا۔ کیونکہ قرآن نے خود فرما دیا ہے کہ جب تم مجھے اپنا ہادی اور راہنما بنالو گے تو یہ زمین تمہارے لیے اپنے خزانے کھول دے گی، یہ آسمان تم پر رحمتیں برسائے گا، آپس میں قتل و غارت کرنے والے بھائی بھائی بن جائیں گے۔ صدیوں کی دشمنیاں دوستیوں اور بھائی چارے میں بدل جائیں گی۔انیس کروڑ انسانوں کے اس ملک میں کون ہے جو مصلحتوں اور مفادات کو پس پشت ڈال کر صر ف اللہ کے بھروسے پر اس ملک کی کایا پلٹنے کا عزم کرے گا۔ یقین جانیے، جو بھی اٹھے گا، اللہ تعالیٰ اس کا ہاتھ پکڑ لے گا، رکاوٹیں ریت کی دیوار ثابت ہوں گی۔ مایوسیوں اور لاچاریوں کے سیاہ بادل صبح نو میں بدل جائیں گے۔ ہاں یہ سب ممکن ہے جب اس ملک کی خاموش اکثریت قرآن کے علاوہ کسی بھی دستور کو ماننے سے انکار کردے گی اور اس ملک کا ہر باسی یہ گیت گائے گا کہ
یہ دیس جگمگائے گا نور لاالہ سے.... یہ شہر جگمگائے گا نور لا الہ سے
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
30 May, 2012 Total Views: 447 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Atta ur Rahman Chohan

عام شہری ہوں، لکھنے پڑھنے کا شوق ہے۔ روزنامہ جموں کشمیر مظفرآباد۔۔ اسلام آباد میں مستقل کالم لکھتا ہوں۔ مقصد صرف یہی ہے کہ ایک پاکیزہ معاشرے کی تشکیل .. View More

Read More Articles by Atta ur Rahman Chohan: 118 Articles with 41469 views »
Reviews & Comments
نقل کفر، کفر نہ باشد۔
یہ دیس جگمگائے گا نور لاالہ سے.... یہ شہر جگمگائے گا نور لا الہ سے ایک کفریہ جملہ ہے لا الہ کا مطلب ہے کہ کوئ رب نہیں۔ جبکہ ہماراعقیدہ ہے کہ کوئ رب نہیں اللہ کی سوا۔
By: Farhan, karachi on Jul, 12 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB