مِیلو کا جادو

(Prof Mujeeb Zafar Anwar Hamini, Karachi)

سیکھئے نئے سال 2013 میں

بقول ابّا!”سعد میاں سردیوں میں سُرخ سوئٹر ، ٹوپے ،جاگرز میں کسی اور ہی سیّارے کی حسین مخلوق لگاکرتے ہیں اور حسن کی مارکیٹ ویلیو ڈاؤن کردیتے ہیں !“ یہ بات حسن اور سعد میاں کے تو سروں پر سے گزر جاتی لیکن ابّا سمیت گھر بھر کے تمام افراد اس بات سے خُوب مزے لیتے اور نتیجتاً پیار حسن میاں اور سعد میاں ، دونوں ہی کو ملتا۔اب چونکہ سعد میاں بھی ہوشیار ہونے کی کوششوں میں مصروف تھے تو اِن دنوں اُن کا پسندیدہ موضوع تھا ” میجک ، جادو، اَنتر ، مَنتر ، چُھو ، کَلنتر !“ کوئی بھولا بھٹکا مہمان آجائے بس اُس کی خیر نہ ہوتی ،سعد میاں باورچی خانے یا فریج میں سے کوئی نہ کوئی لیمو (نِیبو) لے آتے اور اسے مہمانوں کے سامنے اُن کی نظروں سے غائب کرنے کی اداکاری کرکے خوب خوش ہوتے ۔

اُس روز شاید سعد میاں کی جادوئی قسمت نے وفا نہ کی کیونکہ ہوا یوں کہ سردیوں کی ایک شام میں ابّا مقامی کالج سے پڑھا کر آئے ۔وہ بُری طرح تھک چکے تھے۔حسن اور سعد نے اُن کو دیکھ کر ادب سے سلام کیا اور حسن ہاتھ دھو کر اُن کے لیے پانی لانے چلے گئے۔سعد میاں سمجھ چکے تھے کہ ابّا تھکے ہوئے ہیں اور اس وقت اُن کے لیے ”میجک یعنی جادو “ سے بہتر کوئی چیز تو ہو ہی نہیں سکتی جو اُن کی تھکن اُتار سکے چنانچہ فوراً سبزیوں کی ٹوکری سے ایک ننھا سا لیمو (نیبو) لے آئے اور اُسے اپنی ننھی سی مُٹھی میں دبا کر ابّا کو دکھایا :”ابّا دیکھیں مِیلو !!!“

ابّا چونکے :”مِیلو ؟؟؟“

”ہاں ابّا مِیلو !“ سعد میاں خوب ہنسے ،غالباً انھوں نے لفظ ”لیمو“ کو اپنے ”توتلائی اِملے “کی آسان ادائیگی کے لیے ”مِیلو“ کرلیا تھا ۔ابّا کا ابھی زار زار ہنسنے کاکوئی پروگرام نہ تھا اس لیے کہا : ”تو ہوگا ، ہم کیا کریں !“

سعد میاں کی مُسکراہٹ میں کوئی کمی نہ آئی ، بولے : ”ابّا میجک ، میلو غائب ، وہاں !“(یعنی ابّا اب میں جادو دکھاؤں گا ،لیمو کو وہاں دُور غائب کردوں گا )۔اتنا کہہ کر سعد میاں نے لیمو اپنی دوسری مُٹھی میں دابا اور پہلی خالی مُٹھّی ابّا کے سامنے کردی ”ابّا جے میلو نئیں !“(ابّا یہ دیکھیں لیمو نھیں ہے )

اب تو ابّا چونکے اور غور سے سعد میاں کو دیکھا جو خوب خوش ہو رہے تھے ۔ اس کے بعد سعد میاں نے لیمو اپنی پہلی مُٹھّی میں چُھپا کر ہاتھ پیچھے کرلیا اور دوسرا ہاتھ سامنے کھولا اور خالی ہاتھ داد طلب نظروں سے ابّا کو دکھایا ۔اب تو ابّا کو خوب مزا آیا۔سوچ کر بولے :” ہر چند اسلام میں جادو ٹونا بہت سخت گناہ ہے اور اللہ تعالیٰ کو ناپسند بھی ہے لیکن کیا کریں کہ ہمیں تو اس سے بھی بڑا والا میجک آتا ہے ۔۔جاؤ ایک ٹماٹر لے کر آؤ،صاف سُتھرا ، دُھلا دُھلایا ، اُسے کوئی گندا مند انہ کرے اور رکابی (پلیٹ ) میں رکھ کر لائے ، پھر ہم بتادیں گے تم لوگوں کو یہ میجک ویجک کیا ہوتا ہے ،ہاہاہاہا،ٹھا ٹھا ٹھا ٹھا ، ہو ہوہوہو،ہی ہی ہی ہی ،خی خی خی خی ، !!!“ حسن میاں آچکے تھے اور پوری بات بھی سُن چکے تھے ،پانی کا گلاس ابّا کو دے کر وہی پلیٹ لے کر بھاگے اور ماما سے دو تین ٹماٹر لے کر آگئے۔تینوں ٹماٹر سائز میں ایک دوسرے سے مختلف تھے ،کوئی چھوٹا تو کوئی بڑا اور کوئی بہت ہی بڑا ۔اب تو سعد اور حسن میاں کے مزے آگئے ۔”ابّا جے والا میجک !“ سعد میاں نے لپک کر ایک بڑا سا ٹماٹر اپنی مٹھّیوں میں جکڑنے کی کوشش کی ۔ ابّا نے کہا :” بھئی ہم ہاتھ سے تو جادو کرتے نھیں ہیں ، تم لوگ کسی طرح یہ ٹماٹر ہمارے منھ میں فِٹ کردو ، پھر دیکھو جادو !“اتنا کہہ کر ابّا نے اپنا منھ کھول دیا ۔”پھاہ ہ ہ ۔۔۔“اب تو محمد حسن نوید اور محمد سعد نوید میاں خوب ہنسے اور سعد میاں نے ایک ننھا سا سُرخ رنگ کا پکا ہوا ٹماٹر ابّا میاں کے منھ کے اوپر رکھ دیا ۔سردیوں کی وجہ سے ٹماٹر اچھے کڑک کڑک سُرخ سُرخ آئے تھے اور ابّا کتنے ہی دن سے حسن اور سعد سے کہہ رہے تھے کہ تم لوگ دوپہر کے کھانے میں کچّے ٹماٹر ماما سے کٹوا کر نمک پِسی ہوئی کالی مرچ چھڑک کر کھایا کرو ،اس سے گورے چِٹّے ، سُرخ سفید ہوجاؤ گے مگر امّاں کہا کرتیں کہ کوئی ضرورت نہیں ہے ،میرے شاہ زادے اسی طرح سے گورے چٹے ہیں ۔سعد میاں ٹماٹر ابّا کے منھ کے اوپر رکھ کر ڈر کر دُور جاکھڑے ہوئے تھے اور اب کسی تماشے کے منتظر تھے ۔ابّا نے اپنا منہ آسمان کی جانب اُٹھایا ہوا تھا اور ٹماٹر آدھا اُن کے منہ میں اور آدھا باہر حسن اور سعد میاں کے سامنے تھا ۔ابّا نے اپنے ہاتھ کسی جادوگر کی طرح خوب فضا میں ادھر اُدھر چلائے اور یکدم لپک کر ٹماٹر نگل لیااور پلک جھپکتے میں کھا لیا ۔۔۔اوہو کمال ہوگیا ، بھئی واہ ، مزا آگیا ۔۔۔۔سعداور حسن میاں تو خوشی سے اُچھلنے لگے اور خوب خوب تالیاں بجیں ۔اوہو ابّا نے کمال کردیا تھا ۔

”ابّا ایک اور ، میں بھی کروں گا پھر میجک !“ حسن میاں نے ہنستے ہوئے التجا کی ۔ابّا نے کچھ سمجھانا چاہا مگر ابھی وقت نہیں آیا تھا ، لہٰذا کچھ سوچ کر خاموش ہوگئے اور منہ کھولتے ہوئے کہا :” چلو بھئی اب کون آئے گا ٹماٹر رکھنے ؟“ حسن اور سعد میاں دونوں کی بھرپور کوشش تھی کہ یہ ”سعادت “ اُن کے حصہ میں آئے لیکن چونکہ سعد میاں پہلے ٹماٹر رکھ چکے تھے چنانچہ قرعہ حسن میاں کے نام کُھلا اور حسن میاں نے ہنستے ہوئے خوب بڑا سا ٹماٹر ابّا کے کُھلے ہوئے منھ کے اوپر رکھ دیا ۔حسن میاں نے دیکھا کہ بوڑھے ہوجانے کے باوجود ابّا کے سارے دانت ٹھیک تھے ، کوئی بھی نہیں ٹوٹا تھا اور سارے کے سارے دانت صاف سُتھرے چمکتے ہوئے تھے اور ابّا کے منہ سے بد بو بھی نہیں آرہی تھی ۔حسن کو اپنے ابّا بہت ہی اچھے لگے اور خود اُن کے اور سعد کے دانت بھی تو صاف سُتھرے تھے نا۔اچانک حسن میاں اُچھلتے ہوئے ابّا کے پاس آئے اور بولے :”ابّا ،ابّا آپ بندوق کی طرح فائر کریں نا ٹماٹر سے ،ٹھاہ کرکے تو جھوٹ موٹ کا ٹماٹر والا خون نکلے گا ۔۔یو(جو) ۔۔۔یو(جو)۔۔۔وہ ٹی وی پر دکھا رہے تھے نا کہ بم پھٹ گیا !“ ابّا نے ایک نظر اپنے روشن مستقبل پوتے کو دیکھا اور بڑے افسوس ناک لہجہ میں خود سے کہا:”افسوس یہ قوم ننھے کچّے ذہنوں کو کیا تعلیم دی رہی ہے ،ہمارا ٹی وی اور اخبار، تمام میڈیا، ننھے ذہنوں کی کیسی تربیت کررہا ہے ؟یہ کیسا دور ہے کہ بچّے کتابوں قلم سے دُور اور اسلحہ سے کھیلنا پسند کررہے ہیں، اُن کی نفسیات میں یہ انتہائی گندی چیز اچھی بن کر سما گئی ہے ،توبہ ہے الٰہی توبہ۔۔۔توبہ !!!“ بے خیالی میں ابّا نے زور زور سے توبہ کی تو حسن میاں سہم گئے کہ یقیناً انہوں نے غلط بات کی ہے ۔انھیں پتا تھا کہ ابّا کو گولی ، گالی اور بندوق کس قدر ناپسند ہے اور ابّا کہتے ہیں دنیا کی سب سے بُری ایجاد بندوق اور موبائل فُون ہے اگر ان کا صحیح استعمال نہ کیا جائے تو ۔میں نے ابّا کو ناراض کردیا ،یہ سوچ کر حسن میاں اُداس ہونے لگے کہ ابّا نے معاملہ بھانپ لیا اور کہا :” لو بھئی گولی اور فائرنگ کی باتیں تو چھوڑو ،اللہ ہم سب کو نئے سال میں اور آنے والے ہر سال میں ان بلاؤں سے محفوظ اور دُور رکھے ، آمین ! ٹماٹر کا کھیل دیکھو !“ اتنا کہہ کر ابّا ذرا خاموش ہوئے اور حسن اور سعد میاں نے اُن کے منھ کے اوپر ٹماٹر دیکھنا چاہا مگر یہ کیا؟؟اوہو!!! ابّا میاں وہ بڑا سا سالم سموچا ٹماٹر بھی نگل چکے تھے ،ارے واہ ، کمال ہوگیا ، یہ تو جادو ہوگیا ، اے ون میجک ہوگیا ،مگر ابّا تو کہتے ہیں کہ جادو اسلام میں گناہ ہے ، گندی بات ہے ، اللہ تعالیٰ کو پسند نھیں پھر ، پھر ابّا نے یہ جادو کہاں سے سیکھا ۔۔۔ارے کما ل ہوگیا ، غضب ہوگیا ۔ ابّا بیٹھے بٹھائے دو سالم سموچے ٹماٹر غائب کرچکے تھے ،ایک سعد میاں کا اور دوسرا حسن دھو دُھلا کر لائے تھے ۔افوہ !!!اب تو امّاں اور ماما اور بابا کے لیے گرما گرم رپورٹ تیار کرنا تھی ۔سعد تو قَہقَہے لگا رہے تھے لیکن حسن میاں کو ایک بات سوجھی ،وہ ابّا کی جانب بڑھے لیکن ابّا میاں پہلے ہی کسی گہری سوچ میں گُم تھے ۔محمد حسن نوید میاں ڈر گئے کہ کہیں ابّا کی شوگر کم نہ ہورہی ہو ۔کل سے کم نھیں ہورہی تھی نا !یہ سوچ کر وہ ابّا کی طرف بڑھتے ہوئے بولے :
حسن: ابّا آپ کیا سوش(سوچ)رہے ہیں؟
ابّا(چونکتے ہوئے ) آں ۔۔۔ہاں ۔۔کک۔۔کچھ نھیں ۔۔ہاں ہاں ۔۔۔یہ سو چ رہا ہوں کہ ابھی جو مزے دار واقعہ ہوا ہے اور جو تم جا کر اپنے بابا،ماما اور امّاں کو سُناؤ گے اور میں تمہارے پسندیدہ ترین رسالے میں اسے کس نام سے لکھوں اور اور اس میں بچوں کو کیا سبق دوں؟مجھے تو اس بے کار سے فضول واقعہ میں کوئی سبق ڈھونڈے نھیں ملتا ۔یہی سوچ رہا ہوں ۔۔۔اور تم تو جانتے ہو کہ فِکر سے میری شوگر۔۔۔۔“اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوئے لیکن سعد میاں اور حسن میاں اُچھل پڑے کہ اب پھر ابّا کی ڈاڑھی چُبھے گی۔اوہو۔۔۔۔اچانک حسن بلبلا کر بولے :”نئیں نئیں (نھیں نھیں ) ابّا ۔۔۔یہ ۔۔یہ تو بہت مزے کا ہوا ہے ابھی نا ۔۔۔آپ اس کا نام تعلیم و تربیت میں مِیلو کا جادو رکھ دیں اور یو یو (جوجو) بابا بھی لاتے ہیں ہمارے اسکول کی لائبریری میں بھی آتا ہے نا ، وہ والا ،اس میں مِیلو کا جادو لکھ دیں اور سارے بچوں کو سبق دیں کہ جادو گندی چیز ہے ،لیکن ٹماٹر غائب کرنے والا اچھا ہے ۔اس سے تو اچھا ہے کہ ہم ٹماٹر دھو دھو کر کاٹ کاٹ کر نمک کالی مرچ لگا کر کھائیں ،تاکہ ہم لوگ گورے گورے ہوجائیں اور خوب خون بن جائے ۔۔۔آپ بچوں کو یہ سبق بھی دے دیں کہ بچّے صرف گوشت نھیں کھایا کریں ،سبزی ،ٹماٹر اور آلو بھی کھایا کریں اور سعد بھی قیمہ آلو کھایا کرے ۔۔۔ابّا ۔۔۔۔!!!“ابھی حسن میاں فرار ہونے کا سوچ ہی رہے تھے اور اُن کی تجاویز اور فرمائشوں کا سلسلہ جاری تھا کہ اچانک فائرنگ شروع ہوگئی !”ٹھا ٹھا ٹھا ٹھا ۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔ہی ہی ہی ۔۔۔خی خی خی۔۔۔ہوہوہو۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔!!!“ارے بھئی بچو! شاید ابّا کو محمد حسن نوید میاں کی باتیں اچھی لگ چکی ہیں کیونکہ قہقہوں کی فائرنگ نئے سال کی خوشی میں شروع ہوچکی ہے ۔ ہم بھی بھاگنے کی سو چ رہے ہیں کہ ابّا کی قہقہی گولی ہمیں بھی گدگدی نہ کرے ، جاتے جاتے ایک بات اور کہ ہم مسلمانوں کا نیا سال تو پچھلے ماہ ”محرم الحرام “ سے شروع ہوچکا ہے ،ہے نا !!! تو بس ”ہیپی نیو ایئر !!!“ سالنامہ بھی مبارک ہو !
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
26 Nov, 2012 Total Views: 1298 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Prof Mujeeb Zafar Anwar Hamini

Read More Articles by Prof Mujeeb Zafar Anwar Hamini: 10 Articles with 11669 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
پروفیسر مجیب ظفر انوار حمیدی بچوں کے اردو ادب کا بہت معتبر نام ہے ، ان کے انٹرویو پڑھ کر پروفیسر صاحب کی اردو سے محبت اور بچوں کے ادب کی خدمات کا اندازہ ہوتا ہے ۔۔میرا ارباب حل و عقد سے یہ سوال ہے کہ کیا واقعی پاکستان میں ادب اور ادیبوں کی ۔۔۔ بالخصوص بچوں کے ادب کی کوئی قدر ہے یا کی جارہی ہے ؟؟ اگر نھیں تو یہ قوم اپنی ثقافت سے محروم ہو رہی ہے۔
ڈاکٹر میمونہ برکت علی ، لندن
By: Dr Memona Barkat Ali, London on Jun, 29 2013
Reply Reply
0 Like
بچوں کے اُردو ادب میں پروفیسر مجیب ظفر انوار حمیدی صاحب ایک مسلمہ سند کی سی حیثیت رکھتے ہیں ۔ بچوں کے پاکستانی ادب میں ہراول دستے کے طور پر مانے جاتے ہیں ۔’’میلو کا جادو‘‘ تکنیکی اعتبار سے اس قدر بہترین کہانی ہے کہ اس پائے کی کہانیاں ادب اطفال میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں ، بہت نوازش محترم پروفیسر صاحب !!!
پروفیسر اعتبار ساجد ، لاہور
By: Prpf Aitbar Sajid, Lahore(Pakistan) on May, 01 2013
Reply Reply
0 Like
بچوں کے ذہنی معیار کے مطابق ایسی منفرد اور اچھوتی کہانی لکھنا بہت ہی مشکل عمل ہے اور جو افراد بچوں کے لیے ایسا اس پائے کا اعلیٰ ادب تخلیق کررہے ہیں وہ یقیناً قابلِ ستائش ہیں۔ہم تو بچپن سے محترم پروفیسر مجیب ظفر انوار صاحب کی کہانیاں پڑھتے بڑے ہوئے ہیں
By: Dr. Nasir Sajjad, Islamabad on Apr, 07 2013
Reply Reply
0 Like
Bohat achi kahani hey...maza aa gaya.meri age 14 saal hey meri raaey itney barey barey logon k beech kahan chapey gi magar mujhey Mujeeb Zafar Anwar Hameedi sahab ki kahanian bahat pasand hain.wo merey uncle hotey Kaash ya phir urdu k Sir hotey kion k aap ki urdu bhi bahat achi hey.Mein Sir Mujeeb Zafar sey urdu seekhta..
By: Muhammad Sajid , Steel Town(Karachi) on Mar, 08 2013
Reply Reply
0 Like
بچوں کے ذہنی معیار کے مطابق ایسی منفرد اور اچھوتی کہانی لکھنا بہت ہی مشکل عمل ہے اور جو افراد بچوں کے لیے ایسا اس پائے کا اعلیٰ ادب ٹکیلق کررہے ہیں وہ یقیناً قابلِ ستائش ہیں۔ہم تو بچپن سے محترم پروفیسر مجیب ظفر انوار صاحب کی کہانیاں پڑھتے بڑے ہوئے ہیں ، آپ کی کہانیاں دل چسپ بھی ہوتی ہیں اور اُن میں کوئی نہ کوئی اخلاقی سبق بھی بڑے پیارے انداز میں دیا جاتا ہے کہ بچوں کو کھلتا نھیں ہے اور بچے بہ رضا و رغبت پروفیسر مجیب ظفر حمیدی کے دیے گئے سبق پر عمل کرتے ہیں۔مثال کے طور پر اسی کہانی ’’میلو کا جادو‘‘ میں دیکھیئے کہ پروفیسر ڈاکٹر مجیب ظفر انوار حمیدی نے بچوں کو یہ بھی بتادیا کہ اسلام میں جادو حرام ہے اور ساتھ ساتھ جادو کو محض دل چسپی کی چیز بنادیا تاکہ بچے بڑے ہوھر جادو ٹونے کو محض ایک کھیل یا تفریح کے طور پر لیں اور اس بے کار بات میں نہ پڑیں۔کاش پروفیسر مجیب ظفر انوار حمیدی جیسے دانش ور ہر قوم میں پیدا ہوں تو ملک و ملت کی تقدیریں سنور جائیں ۔پاکستان کس قدر خوش قسمت ہے کہ یہاں پروفیسر مجیب ظفر موجود ہیں ، اللہ انھیں تا دیر سلامت رکھے اور وہ ہمارے لیے مزے دار دل چسپ کہانیاں لکھتے رہیں ، آمین !
ڈاکٹر جلیل فوق ۔جامعی ملیہ ۔ دہلی
By: Dr Fouq , Dehli on Mar, 02 2013
Reply Reply
0 Like
پروفیسر مجیب ظفر انوار حمیدی ’’بچوں کے ادب‘‘ کے علاوہ اردو شعر و ادب کا نہایت معتبر اور وقیع حوالہ ہیں ، ہم تو اپنے بچپن سے ادھیڑ عمری تک محترم ڈاکٹر مجیب حمیدی صاحب کی رنگا رنگ تحریروں کو پڑھتے اور اُن سے محظوظ ہوتے آرہے ہیں ۔پاکستان پر اللہ پاک کا خصوصی کرم ہے کہ یہاں ایسے ایسے لعل و جواہر موجود ہیں جن سے اس پاک سر زمین کی شان و وقعت میں اضافہ ہوتا ہے، میرے خیال میں بلکہ آپ سب کے خیال میں محترم پروفیسر مجیب ظفر انوار حمیدی صاحب کی شخصیت میں علم و ادب کے تمام روشن پہلو بدرجۂ اتم موجود ہیں ۔ اللہ تعالیٰ پروفیسر صاحب کو طویل عمر مع صحت دے ،آپ کے اہل خانہ کو شاد و آباد رکھے ، آمین ! ہم قارئین بھلا سوائے دعا کے تحفوں کے پروفیسر صاحب کی خدمت میں کونسا نذرانہ پیش کر سکتے ہیں ، اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ ، آپ کا وقیع خطاب ’’بابائے ادب اطفال ‘‘ ہے جو پوری دنیا کے قارئین بچوں اور بڑوں کے دلوں کی آواز ہے۔
By: پروفیسر شجاع الدین عباسی ، ہانگ کانگ , Hong Kong on Feb, 21 2013
Reply Reply
0 Like
-بچوں کی بہترین کہانی ہے۔بہت خوب۔۔ بچوں کی بہترین کہانی ہے
By: Rafique Wajid, Lahore(Pakistan) on Feb, 17 2013
Reply Reply
0 Like
ماشاء اللہ بہت ہی رواں اور شستہ انسان زبان میں بچوں کی بہترین کہانی ہے۔بہت خوب۔۔
By: Akhter Ali, Lahore on Jan, 25 2013
Reply Reply
0 Like
ماشاء اللہ بہت ہی رواں اور شستہ انسان زبان میں بچوں کی بہترین کہانی ہے۔بہت خوب۔۔۔اللہ پروفیسر حمیدی کو سلامت رکھے آمین ، ڈاکٹر مجیب ظفر انوار بچوں کے ادب کا ایک سرمایہ ہیں ۔آپ کی ہزاروں کی تعداد میں کہانیاں ، ڈرامے ، نظمیں موجود ہیں ۔ پاکستان میں بچوں کے ادب کی تاریخ میں پروفیسر مجیب ظفر انوار حمیدی بہت بڑا قابل فخر نام ہے ۔ہم پروفیسر صاحب کی ہر کہانی کو غیر ملکی ادیبوں کے شاہ پاروں کے سامنے فخریہ رکھ سکتے ہیں ۔ماشاء اللہ
By: Farkhanda Lodhi, Lahore on Jan, 15 2013
Reply Reply
0 Like
اس صدی کے سب سے مقبول شاعر ، جس کی شاعری دلوں کو چھولیتی ہے اور دل اس کی شاعری ، بولوں ، مصرعوں کی تال پر لب کشا ہوجاتے ہیں ، بے شک مجیب ظفر انوار حمیدی ہے کہ جو بہت برا انسان اور بہت بڑا شاعر ادیب اور معلم ہے۔ہم للہ کے شکر گذار ہیں کہ دورِ مجیب حمیدی ہمارا متنفس بھی ہے ، سلمان فاروقی ، دہلی ،گھٹا مسجد روڈ
By: Dr Salman Farooqi, Dehli India on Jan, 04 2013
Reply Reply
0 Like
Best Children Story.Thanx Proff sb thanx Hamariweb!!
By: Shama Zaidi, Islamabad on Dec, 23 2012
Reply Reply
0 Like
Very Nice.Mujeeb Zafar Hameedi Uncle aap boht saari kahanian likhen...Baadsha aur Malka aur shehzaadi ki kahani likhen Aap Sir
Saba Zaidi
By: Saba Zaidi, London on Dec, 11 2012
Reply Reply
0 Like
Ha ha ha ha....Excellent.Sir Assalam Alykum>sir Allah aap ko salamat ta qayamat rakhey.Sir...Sir....
Dr Rafiq Ahmed Rajpoot
Dehli
By: Dr Rafiq Ahmed, New Dehli on Dec, 09 2012
Reply Reply
0 Like
پروفیسر محترم ڈاکٹر سیّد مجیب ظفر انوار حمیدی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بچوں کی تعلیم و تربیت کا جو اعلیٰ وصف بخشا ہے ،وہ ’’صوری‘‘ اور ’’معنوی ‘‘ ہر دو اعتبار سے ’’امر‘‘ ہو چکا ہے۔پروفیسر مجیب ظفر حمیدی ایسا علمی سرمایہ ہے جس کی قدر اس دنیا میں ہو ہی نہیں سکتی۔کئی نسلیں مجیب ظفر انوار کے نام کو دُنیا بھر میں جانتی اور پہچانتی ہیں ۔پاکستان کس قدر خوش قسمت ملک ہے کہ یہاں کی خاک سے محترم پروفیسر مجیب انوار حسین حمیدی صاحب کی اعلیٰ شخصیت کا خمیر اُٹھا۔اللہ تعالیٰ محترم پروفیسر مجیب ظفر انوار حمیدی اور اُن کے اہل خانہ کو ہمیشہ سلامت رکھے۔آمین !
اختر عباسی ،لاہور (پاکستان)
By: اختر عباسی ،لاہور (پاکستان), Lahore on Dec, 07 2012
Reply Reply
0 Like
Akhtar Assalam Alykum
Arey bhai bus karo haha...log kahen gey paisey dey k likhwaya hey.Bhai Urdu Digest Dec k 3 shumaarey miley hain.Kehti hey meri nazar shukria :)Altaf Qureshi sb ko salaam e aqeedat !
By: Dr Mujeeb Zafar Anwar Hameedi, Islamabad on Dec, 09 2012
0 Like
Excellent story Meelo Ka Jadoo.A one skill for children.pls translate into english also.Thanks.
By: Dr Elbert Smitth, London on Dec, 04 2012
Reply Reply
0 Like
Thanks Dear Dr
I wil try in english also , otherwise could u pls translate into Eng?
By: Proff Dr Mujeeb Zafar Anwar Hameedi, Islamabad on Dec, 07 2012
0 Like
Oh my Go what an interesting story friends...
Rani
XII Sc P/E
Nice one.Thanks Prof Mr Mujeeb Zafar Anwar Hameedi sb
By: Dr Ehtesham, Hoston on Dec, 04 2012
Reply Reply
0 Like
بہت شکریہ رانی بیٹا ۔۔اللہ آپ سب کو سلامت رکھے ۔۔۔آمین
مزید کہانیاں بھی ہماری ویب کے تعاون اور محبتوں کے سہارے پیش کی جائیں گی
By: Dr Mujeeb Hameedi, Islamabad on Dec, 06 2012
0 Like
ha ha ha lolz:P
Nice one.....Thanks Hamari web>>proff sb Allah bless u always Sir ..
Nadia
Karachi
By: yusuf Ali , Masqat(City) on Dec, 02 2012
Reply Reply
0 Like
Boht umda...Thankx Proffessor Mujeeb Hameedi uncle.......plz mazeed kahanian dijey na uncle..boht mazey mazey ki hon...
aap ka beta
Yusuf Ali
By: Syed Yusuf Ali, Lahore(Pak) on Dec, 02 2012
Reply Reply
0 Like
Excellent children story....very nice workout :)
By: Drmurtazamughal, Covina,California on Dec, 01 2012
Reply Reply
0 Like
Thans Dr sb...KHeryat sey hain sir?aap tak rasai ka mushtaaq tha...Allah Hamariweb.com ko khush rakhey Dr sb.
By: Dr Mujeeb Z A Hameedi, Islamabad on Dec, 02 2012
0 Like
Zabardast ha sir mashALLAH sa aj k doar k mutabiq tehreer kirda ha.. :)
By: Raza Hasan, Karachi on Nov, 30 2012
Reply Reply
0 Like
Displaying results 1-20 (of 24)
Page:1 - 2First « Back · Next » Last
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB