مظفریات

(Shaikh Wali Khan Al Muzaffar, )

ازمعروف کالم نویس جناب محمد فاروق قریشی: خوش جمال وخوش خصال شیخ ولی خان المظفر جدید عربی ادب کے افق کا روشن ستارہ ہے۔ خیر سے ابھی جواں سال ہیں، لیکن ان کے علمی وادبی کمالات کے بارے میں سن کر آدمی حیران ہوجاتا ہے۔ ان کے ذوق علمی کا اصل میدان عربی زبان وادب ہے ، علماء کے بقول اس قلمرو میں ان کا سکہ رواں دواں ہے۔ عربی کا جدید لہجہ، طرزتکلم اور انداز تخاطب ایسا کہ ’’علی میاں‘‘ کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔

شیخ ولی خان کی مادر علمی جامعہ فاروقیہ کراچی ہے۔ بقیۃ السلف مولانا سلیم اﷲ خان مدظلہ کی گوہر شناس نگاہوں نے پوت کے پاؤں ’’پالنے‘‘ میں ہی دیکھ لیے اور جامعہ میں شعبہ عربی کی تدریس کے علاوہ ماہنامہ ’’الفاروق‘‘ عربی کی ادارت میں شامل کرلیا۔ مولانا سلیم اﷲ خان مدظلہ سے اکتساب فیض نے انہیں صیقل اور کم و بیش 23برس کی عربی تدریس اور مجلے کے لیے قلمی جواہر پاروں کی مشقِ مسلسل نے کندن بنادیا۔

مولانا سے تعلق خاطر انس ومحبت کے مراحل طے کرتا عشق کی منزل کو پہنچ گیا، ایسا کہ کسی طور فرقت گوارانہ ہوتی۔ مجھے یاد ہے کہ افغانستان پر امریکی حملے کے دور میں الجزیرہ ٹی وی نے ولی خان صاحب کو انتہائی پرکشش پیکیج کی پیشکش کی ،لیکن احباب کے مشورہ کے باوجود انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ میں اپنے حضرت کو نہیں چھوڑسکتا۔ استاذ ومربی حضرت مولانا سلیم اﷲ خان مدظلہ نے بھی شفقت وعنایت ارزانی میں کوئی کمی نہ کی۔ انہوں نے وفاق المدارس کے انتظامی معاملات میں بھی قابل قدر خدمات انجام دیں۔ ماہنامہ ’’وفاق‘‘ ملتان میں مدارس سے متعلقہ موضوعات پر عموماً مضامین لکھتے رہے، روزنامہ اسلام میں بھی ان کے کالم ’’مظفریات‘‘ کے عنوان سے ادارتی صفحہ کی زینت بن رہے ہیں۔

شیخ ولی خان صاحب کے علمی جواہر پارے مختلف جرائد اور روزنامہ اسلام میں بکھرے ہوئے تھے کہ ان کے محبین نے ’’مظفریات‘‘ کے نام سے یکجا کردیا ہے، جس پر وہ یقینا ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں۔ کتاب کی ترتیب وتبویب بقول مرتب یوں ہے:
’’ان کے مضامین مختلف رسائل واخبارات میں چھپتے رہے لیکن ان کو جمع کرنے کی کوئی منظم صورت نہ تھی، بلکہ زیادہ موزوں الفاظ میں صاحبِ مضامین کی اس طرف توجہ نہ تھی۔ اس لیے امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ کچھ تو تلف ہوگئے، جو بہم پہنچے ان کو قارئین کے استفادے کی خاطر کتابی صورت میں شائع کیا جارہا ہے۔ مضامین کی ترتیب تاریخ کے اعتبار سے الاوّل فالاول کی بنیاد پر رکھی گئی۔‘‘

چالیس سے زائد عنوانات پر خوبصورت مضامین کا مجموعہ ’’مظفریات‘‘ کے نام سے مکتبہ لدھیانوی نے اپنے حسن معیار کے مطابق شائع کیا ہے، جو اہلِ فکر ونظر کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں۔

مفکراسلام مولانا مفتی محمود کے افکار ونظریات کی تدوین وترویج کے لیے قائم ادارہ مفتی محمود اکیڈمی کے زیراہتمام پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کراچی میں ’’مفتی محمود بحیثیت قومی راہنما‘‘ کے عنوان سے 25اکتوبر 98ء کو تاریخی سیمینار منعقد ہوا تھا، جس میں پیش کیے گئے مقالات وخطبات کو اسی عنوان سے مرتب کرکے خاکسار نے کتاب کی صورت میں شائع کرایا تھا۔ مذکورہ کتاب کی تقریب رونمائی 15نومبر 2000ء کو کراچی میں ہوئی، جس میں مولانا سعیداحمد جلال پوری، مفتی محمد جمیل خان، پروفیسر این ڈی خان اور شیخ ولی خان نے شرکت کی۔ مولانا سعیداحمد جلال پوری اور شیخ ولی خان صاحب کے ذمے مقالات تھے، جبکہ پروفیسر این ڈی خان صاحب نے تقریر کرنی تھی۔ انہوں نے موضوع کی مناسبت اور کتاب کے حوالے سے عرب مبصرین کے طرز پر مفصل انداز میں مقالہ تحریر کیا تھا۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ مولانا نے وہ قیمتی مقالہ ’’مظفریات‘‘ میں شامل کرکے محفوظ کردیا ہے، اس لیے مفتی محمود اکیڈمی ان کا شکرگزار ہے۔

شیخ سے ہمارا تعلق جامعہ فاروقیہ کراچی کی تدریس کے دور سے ہے۔ گاہے بگاہے جامعہ فاروقیہ جانا ہوتا ،تو اس حسین آدمی سے ملاقات کے بغیر واپسی ناممکن ہوتی۔ تعلقات کے بارے میں ہم جوش ملیح آبادی کے مقلد ہیں، جن کے نزدیک ’’آدمی حسین ہو یا ذہین‘‘ اور جہاں دونوں خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہوں، وہاں آدمی کیسے صرف نظر کرسکتا ہے؟ ولی خان صاحب حسن صورت وسیرت کے علاوہ علم وادب کے عرفان سے بھی مالامال ہیں۔ ان کے نام کے ساتھ ہی دماغ میں حسن وذہانت کا مرقع متشکل ہوجاتا ہے۔ چہرے پربشاشت، ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرتے عربی لہجے میں اہلاً وسہلاً کہتے ملتے ہیں، تو آدمی نہال ہوجاتا ہے۔
ایک مدت تک جامعہ فاروقیہ میں تدریسی وانتظامی خدمات کے بعد اپنا علیحدہ ادارہ ’’المظفرٹرسٹ انٹرنیشنل‘‘ کے نام سے قائم کرکے ’’افضل الاشغال خدمۃ الناس‘‘ کی عملی تصویر بن گئے ہیں۔ عوامی خدمت کے میدان میں نبردآزمائی کے ساتھ ساتھ جدید عربی زبان وادب کی منفرد انداز میں تعلیم وتدریس میں جُتے ہوئے ہیں۔ ان کے تربیت یافتہ طلبہ عالم عرب کی معیاری یونیورسٹیوں اور جامعات میں مزید تعلیم وتحقیق کے اہل قرار پاتے ہیں۔ اس طرح شیخ ولی خان عالم اسلام میں علمی رابطے کا اہم فریضہ انجام دے رہے ہیں۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
14 May, 2013 Total Views: 682 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 312940 views »
Reviews & Comments
g haan naam ki had tak hasan zai sab
By: shaikh wali khan almuzaffar, Karachi on May, 16 2013
Reply Reply
2 Like
يه أصمعيات كي طرح مُظَفَّرِيَّات هي
By: صديق الحسن زئي, karachi on May, 14 2013
Reply Reply
3 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB