حقائق تو یہ ہیں

(Saleem Ullah Shaikh, Karachi)

ہم نے جب سے اس ویب سائٹ پر ماضی کی ایک محب وطن تنظیم البدر کے حوالے سے کچھ باتیں کی تو بہت سے لوگوں کو یہ بات ناگوار گزری، بالخصوص نام نہاد حق پرستوں کے ایک سرگرم حامی جناب فرقان خان صاحب کو تو یہ بات انتہائی بری لگی ہے۔ اور اس کےب عد سے وقتاً فوقتاً وہ اس حوالے سے گوہر افشانیاں کرتے رہتے ہیں اور قائد تحریک کے جھوٹے پروپیگنڈے کو دہراتے رہتے ہیں۔ ویسے ایک دلچسپ حقیقت جو ہمارے سامنے آئی کہ فرقان صاحب کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ کونسی تنظیم کیا ہے؟ اس کی تاریخ کیا ہے؟۔ بلکہ ان کو صرف اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ کوئی متحدہ کے خلاف بات کرے تو وہ ایک محاذ کھول دیں۔ پہلے جب ہم نے نواز شریف کے خلاف لکھے گئے آرٹیکلز کا جواب دیا تھا تو ان کو غلط فہمی پیدا ہوئی کہ شائد ہمارا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے اسی بناء پر اسوقت وہ ہمارے ہر کالم کے جواب میں میاں نواز شریف، مسلم لیگ ن اور پنجاب کو لتاڑتے رہتے تھے ( یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ اس وقت ہمارے کالمز پر کچھ مخصوص انداز کے تبصرے بھی ہوتے تھے اور وہ بھی سارے نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے خلاف ہوتے تھے )۔ پھر یہ ہوا کہ ان کو پتہ چلا کہ ہمارا تعلق جماعت اسلامی سے ہے تو اب یہ ہوتا ہے کہ ہمارے ہر کالم کے جواب میں بلا وجہ جماعت اسلامی کو نشانہ بنایا جاتا ہے( حیرت انگیز طور پر اب اگر اس مخصوص انداز کے تبصرے ہوتے بھی ہیں تو وہ بھی جماعت اسلامی کے خلاف ہوتے ہیں نواز شریف کے خلاف نہیں)۔ جبکہ ان کے کالمز اٹھا کر دیکھے جاسکتے ہیں کہ پہلے ان کے کالمز نواز شریف کے خلاف ہوتے تھے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ان کا مقصد حق بات کہنا نہیں ہے بلکہ ہر وہ گروہ، وہ فرد جو متحدہ کا اصل چہرہ دکھائے اس کی کردارکشی کرنا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر ہمارا تعلق کسی اور تنظیم سے ہوتا تو اب تک موصوف اس کی عزت افزائی کرچکے ہوتے۔ بہر حال انہوں نے الزامات لگائے کہ جماعت اسلامی نے ملک توڑنے کی سازش کی۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کی حمایت کی۔ اور مشرقی پاکستان میں البدر اور جماعت اسلامی نے قتل عام میں حصہ لیا۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ انکا جواب دے سکیں

سب سے پہلے اس سوال کا جواب کہ جماعت اسلامی اور جمعیت نے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کی حمایت کیوں کی؟ یہ احمقانہ الزام ہے اور تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے کہ جماعت اسلامی اور جمعیت نے مشرقی پاکستان میں اپنے ہی عوام کے خلاف فوجی آپریشن کی حمایت کی تھی۔ جماعت اسلامی وہ پہلی سیاسی جماعت تھی جس نے 1970ء کے انتخابات کے نتائج اور اپنی بدترین شکست کو کھلے دل سے تسلیم کر کے اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اسلامی جمعیت طلبہ، مشرقی پاکستان کی صوبائی شوریٰ نے 14مارچ 1971ء کو ایک متفقہ قرارداد منظور کی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس فوری طلب کیا جائے اور منتخب نمائندوں کو اقتدار منتقل کیا جائے۔ (روزنامہ اتفاق، ڈھاکا،15مارچ 1971ء)

جنوری 1971ء سے عوامی لیگ، پیپلز پارٹی اور برسراقتدار فوجی ٹولے کے درمیان اقتدار کی کشمکش عروج کو پہنچ گئی تھی۔ ملک خصوصاً اکثریتی مشرقی صوبہ عوامی لیگ اور مکتی باہنی کی متشدد سرگرمیوں کی وجہ سے خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔ یکم مارچ 1971ء سے غیربنگالیوں یعنی بہاریوں، دیگر زبانیں بولنے والے پاکستانیوں اور محب وطن بنگالیوں کا قتل عام شروع ہوگیا تھا۔ اس صورت حال میں اسلام پسند نوجوانوں خصوصاً اسلامی جمعیت طلبہ (چھاترو شنگھو) کے وابستگان کے سامنے تین راستے تھے: 1۔ حالات کے رُخ پر بہتے ہوئے کھل کر علیحدگی پسندوں یعنی پاکستان توڑنے والوں کا ساتھ دیا جائے۔ 2۔حالات کو اپنے رُخ پر بہنے دیا جائے اور خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا جائے، یا 3۔ حالات کا رُخ موڑنے، پاکستان کی سالمیت اور مظلوم عوام کے تحفظ کے لیے میدانِ عمل میں اُتر کر اپنی ذمہ داری ادا کی جائے۔ 10تا 14مارچ کو چار روز تک جاری رہنے والے جمعیت کی صوبائی شوریٰ کے اجلاس میں طویل غوروخوض اور بحث و مباحثہ کے بعد جمعیت نے تیسرے آپشن کو اپنانے اور اس ملک کو بچانے کے لیے عظیم الشان قربانیاں دینے کا فیصلہ کیا جس کو بنانے کے لیے صرف 24 سال قبل ان کے آباؤ اجداد نے قربانی دی تھی اور انگریزوں اور ہندوﺅں کے تسلط سے آزاد کروایا تھا۔ اس فیصلے کے 2 ماہ بعد تک البدر نامی تنظیم وجود میں نہیں آئی تھی۔ البدر اُس وقت تشکیل دی گئی جب مشرقی پاکستان کی سرحدوں پر بھارت کی یلغار شروع ہوچکی تھی اور پاکستانی فوج کی رجمنٹیں بغاوت پر اتر آئی تھیں۔ اس صورت ِحال میں مشرقی پاکستان کی حفاظت کے لیے پاکستانی فوج کو ایک قابل اعتماد اور محب وطن فورس کی ضرورت تھی۔ اس ضرورت اور اسلامی چھاترو شنگھو کے فیصلے کے نتیجے میں البدر کا قیام عمل میں آیا۔

یہ بالکل وہی بات ہے جو کہ فرقان صاحب نے خود بائیس جولائی کو اپنے آرٹیکلَ َ عام حالات میں جہاد (فرض کفایہ) - حصہ ٣ میں بیان فرمایا ہے اور لکھا ہے کہ َ َ جہاد کی مہمات میں سے ایک کام اسلامی سرحدات کو دشمن کی یلغار سے محفوظ رکھنے کا ہے جس کو قرآن و حدیث کی اصطلاح میں '' رباط '' کہا جاتا ہے ۔ اور جہاد کی طرح اس کی بھی بڑے فضائل قرآن وحدیث میں مذکور ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ (عنہم) کی ایک جماعت نے اس کو دوسرے کاموں پر ترجیح دے کر اسلامی سرحدات پر قیام اختیار فرمایا تھا۔َ َ اور َ َ جہاں دشمن کے حملے کا خطرہ ہو ان حفاظت کا ہر قدم رباط کے حکم میں ہے۔ یہ ایسا جہاد ہے جس میں ہر شہری اپنے گھر میں بیٹھا ہوا بھی رباط کا ثواب لے سکتا ہے،َ َ
( جاری ہے) 
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
24 Jul, 2009 Total Views: 1759 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Saleem Ullah Shaikh

سادہ انسان ، سادہ سوچ، سادہ مشن
رب کی دھرتی پر رب کا نظام
.. View More

Read More Articles by Saleem Ullah Shaikh: 484 Articles with 729837 views »
Reviews & Comments
i am an ordinary citizen of karachi i have least interset in politics but i swear on God that MQM is a curse on the name of politics, muhajir and politics. i can still remember how that devils of apmso used to to torture students and teachers of our college, i am a muhajir but i think that MQM has abused and arranted muhajirs in such a way that no one can imagine , ie if some muhajir has to go to other part of pakistan , people of that place hate him because of mqm and its very difficult for him to make them under stand that every muhajir is not in mqm rather only few criminal elements of mujahir , baloch, punjabi and even pathans are in it, once people come to know that u r muhajir but not in mqm but a pakistan loving muhajir then they treat u in a different way , of respect love and honour , plz luzman sahab mehanat kernay say insan moot say tu nahi bach sakta lekin jahanum say zaror bach sak ta hai so kitni zindagi ho ge ap zeyada say zeyada 50 sal aur kofay khuda keray aur Allah ko hazir nazir jan ker quran per hath rak ker article lekay k mqm kasi taanzim hai
By: tariq haider, karachi on Dec, 28 2013
Reply Reply
0 Like
محترم سیف علی صاحب السلام علیکم : معذرت کےساتھ عرض کروں کہ یہ الگ بحث ہے کہ جماعت اسلامی نے قائد اعظم کی مخالفت کی یا نہیں۔ فی الحال آپ مجھے اس بات کا جواب دیدیں کہ جو جملے آپ مجھ سے منسوب کررہے ہیں یعنی in this article you have wrote that Jamat-e-Islami has done struggle in getting freedom from Britan وہ اس آرٹیکل میں کہاں لکھے ہیں تاکہ میں بھی دیکھ لوں۔ گزارش ہے تنقید برائے تنقید کرنے کے بجائے تنقید برائے اصلاح کی کوشش کریں۔ جو بات کہی ہی نہ جائے اس پر اعتراض نہ کریں
By: Saleem Ullah Shaikh , karachi on Aug, 21 2009
Reply Reply
0 Like
Dear Mr. Saleem,

I have read your article regarding AL-BADR, in this article you have wrote that Jamat-e-Islami has done struggle in getting freedom from Britan is totally WRONG. It is the part of history that JAMAAT was in opposition of Mr. Muhammad Ali Jinnah.

Kindly check history.
By: Saif Ali, Karachi on Aug, 19 2009
Reply Reply
0 Like
محترم سلیم اللہ شیخ صاحب اور محترم فرقان خان صاحب، آپ دونوں سے مؤدبانہ التماس ہے کہ لڑائی لڑائی معاف کرو اللہ کا گھر صاف کرو۔ شکریہ
By: Najeeb Ur Rehman, Lahore on Jul, 27 2009
Reply Reply
0 Like
اپنے ایک کالم “رنگ بدلتی سیاسی صورتحال “ ٣ مارچ ٢٠٠٩ کو اپنے ایک کالم میں آپ نے ن لیگ پر کچھ اسطرح اظہار خیال کیا تھا

“ ۔۔۔۔۔۔ تو ایک بات نظر آتی ہے کہ اگرچہ شریف برادران کا ماضی عدلیہ اور مخالفین کو دیوار سے لگانے کے حوالے سے واقعی داغدار ہے اور ان کی ماضی کی غلط بیانیاں بھی سب کے سامنے ہیں لیکن اب انہوں نے اپنے ماضی کی غلطیاں نہ دھرانے کا عہد کیا ہے اور وہ اس مؤقف پر قائم ہیں کہ پاکستان کو مستحکم کرنے لے لیے عدلیہ کا آزاد ہونا ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔“

تو بھائی میں کس طرح آپ کو ن لیگ کا سمجھ سکتا تھا یہ تو آپ ہی بہتر جانیں دوسرے اسی کالم میں آپ نے عرض کیا تھا کہ

“۔۔۔۔یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ اسوقت موجودہ سیاسی پارٹیوں میں صرف جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ ہی وہ دو پارٹیاں ہیں جو کہ اسٹریٹ پاور رکھتی ہیں۔۔۔۔۔ “

ایک بات تو ظاہر ہے کہ آپ کا ایم کیو ایم کے ساتھ تو کسی قسم کا ہمدردانہ تعلق نہیں ہے رہ جاتی ہے جماعت اسلامی تو آپ کے کالم میں کوئی بات بھی جماعتیوں کے خلاف نہ ہونے سے یہ بات اس وقت ثابت ہوجانی تھی کہ آپ بھی ایک جماعتی ہیں۔
By: M. Furqan Khan, Karachi on Jul, 25 2009
Reply Reply
0 Like
اور دیکھ لیجیے گا کہ انشاﺀ اللہ میں یہ بات اچھی طرح جاننے کے بعد کہ آپ بھی جماعتی ہیں میں دوسری پارٹیوں کے حق اور خلاف بھی انشاﺀ اللہ لکھتا رہوں گا اور جماعتیوں کو جتنا ان کا حصہ ہوگا اتنا ہی نشانہ بناؤں گا اصل میں معاف کیجیے گا پاکستان کی سیاست میں جماعتیوں کا کردار ہی کچھ اس طرح کا ہے کہ ان کے خلاف جو کچھ لکھا جاسکے کم ہے۔

میرا سوال ایک یہ تھا کہ کیا وجہ ہے کہ جماعتی اکیلے جماعت کی صورت میں الیکشن لڑنے کا حوصلہ کیوں نہیں کرتے میری بات لکھ کر رکھ لیں کہ انشاﺀ اللہ جماعت پھر کسی نئے اتحاد کو بنانے اور اس میں شامل ہو کر سیاست کرنے کی کوشش کرے گی
By: M. Furqan Khan, Karachi on Jul, 25 2009
Reply Reply
0 Like
مزید آپ کے کالم مثلاً البدر حصہ اول، البدر حصہ دوم، مفتی صاحب کی شہادت - تصویر کا دوسرا رخ، سوات کی مظلوم لڑکی اور ڈاکٹر عافیہ، پھر طالبان ہی تو بنتے ہیں، میاں طفیل محمد ایک تعارف اور محترم مودودی صاحب کی باتیں ان کے مقولے اور بہت سی چیزیں تو بھائی یہ چیز تو بہت پہلے ہی آپ کے جماعتی ہونے کو ثابت کرچکیں تھیں اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ آپ کے جماعتی ہونے کی وجہ سے میں جماعتیوں کے خلاف لکھنے لگا ہوں اور پہلے آپ کو ن لیگ کا سمجھھ کر ن لیگ کے خلاف لکھتا تھا تو بھائی بڑی شدید قسم کی غلط فہمی کا شکار آپ رہے ہیں۔ میرے جہاد سے متعلق کالمز سے پہلے کے کالمز اٹھا کر دیکھ لیں کہ پیپلز پارٹی، ن لیگ اور جماعیتوں کے متعلق میرے کالم بڑے واضع اور بڑے تسلسل سے آتے رہے ہیں وگرنہ میں دوسروں کو چھوڑ کر صرف جماعتیوں کے پیچھے ہی نہیں لگا رہتا۔
By: M. Furqan Khan, Karachi on Jul, 25 2009
Reply Reply
0 Like
بھائی سلیم اللہ شیخ صاحب آداب۔ بھیا مجھے کوئی آج کل میں پتہ نہیں چلا کہ آپ جماعتیوں میں سے ہیں بلکہ یہ بات تو بھائی آپ کے کوئی دو چار مہینے پہلے کے کالمز سے ہی ثابت ہو گئی تھی اور رہی بات کہ میں نے ن لیگ کا پیچھا چھوڑ دیا ہے تو بھیا جہاد کےمتعلق کالم کے لیے مواد جمع کرنے اور ان کو پوسٹ کرنے سے پہلے کے میرے آٹھ دس کالمز ہی اٹھا کر دیکھ لیے جائیں تو الحمداللہ ن لیگ، جماعت، اور پیپلز پارٹی میں سے کسی کو نہیں چھوڑا اپنی سوچ اپنی سمجھ کے متعلق اور رہی بات متحدہ قومی موومنٹ کی تو جب مجھے علم ہو گا کہ ایم کیو ایم بھی جماعتیوں ن لیگیوں اور پیپلز پارٹی جیسی واہیات جماعت ہے تو حق کی بات مان کر اس کی طرف داری کرنا چھوڑ دیں گے انشاﺀ اللہ
By: M. Furqan Khan, Karachi on Jul, 25 2009
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB