مسعود احمد برکاتی ،پاکستان کے سینئر صحافی و مدیرسے مکالمہ

(Dr Rais Samdani, Karachi)

 سینئر ڈائریکٹر : پبلی کیشنز ڈویژن ، ہمدرد (وقف ) پاکستان
( مسعود برکاتی صاحب سے یہ مکالمہ ر اقم الحروف نے اپنی پی ایچ ڈی تحقیق کے حوالے سے ۲۳دسمبر ۲۰۰۴ء کوکیا یہ موضوع کی تحقیقی ضرورت تھا۔انٹر ویو مقالے میں شامل ہے۔ مقالے کا عنوان ہے ’’ پاکستان میں لائبریری تحریک کے فروغ اور کتب خانوں کی تر قی میں شہید حکیم محمد سعید کا کردار ‘‘ ۔ اس تحقیق پر راقم الحروف کو ۲۰۰۹ء میں جامعہ ہمدرد سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض ہوئی۔ برکاتی صاحب سے تحقیقی موضوع پر سیر حاصل گفتگو ہوئی ۔ برکاتی صاحب نے تمام سوالات کے تفصیلی جوابات دیئے۔ )

تعارف :
مسعواحمد بر کاتی صاحب ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔آپ کا تعلق ہندوستان کی ایک مردم خیز ریاست ٹونک سے ہے جس نے بے شمار نابغہ روزگار شخصیات کو جنم دیا۔ ادارہ ہمدرد سے وابستگی کی چھٹی دہائی میں ہیں یعنی نصف سینچری مکمل کر چکے ہیں۔ شہید حکیم محمد سعید کے انتہائی قریبی اور بہ اعتماد ساتھیوں میں آپ کا شمار ہو تاہے، آپ کو ۴۷ برس شہید پاکستان کی قربت کا شرف حاصل رہا۔ حکیم صاحب نے بر کاتی صاحب کے بارے میں تحریرفرمایا کہ ’’ ان کا علمی مزاج ہمدرد کے مزاج سے ہم آہنگ ہے اور ہمدرد کی علمی خدمات میں ان کی شرکت میرے لئے باعث مسرت و سہولت ہے‘‘۔

بچوں کے معروف رسالہ ’’ ہمدرد نونہال‘‘ کی ادارت ۱۹۵۳ء سے مسلسل کر رہے ہیں، ’ہمدرد صحت ‘کے مدیر منتظم بھی ہیں۔ آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ملک میں کو ئی ادیب مسلسل ۵۲ برس تک بچوں کے ادب سے وابستہ اور بچوں کے رسالے کا مدیر نہیں رہا۔ صحافیوں کی تنظیم APNSنے ۲ مارچ ۱۹۹۶ء میں آپ کو ’’نشان سپاس‘‘ سے نوازا۔ بر کاتی صاحب کے کرشماتِ قلم سے اب تک ۱۵ سے زیادہ کتب اور سینکڑوں مضامین منظر عام پر آچکے ہیں ، شہید پاکستان پر آپ کو بلا شبہ ایک مستند اور معتبر لکھاری ہونے کا درجہ حاصل ہے، شہید پاکستان پر آپ نے بہت کچھ لکھا مضا مین کے علاوہ آپ کی مختصر تصانیف ’انکل حکیم محمد سعید ‘، ’سعید پارے ‘ ، ’ وہ بھی کیا دن تھے ‘ کے علاوہ انگریزی میں حکیم صاحب کی ’پروفائل‘ شامل ہے۔

مختلف علمی و ادبی اور سماجی اداروں اور انجمنوں کے رکن ہو نے کے علاوہ ہمدرد وقف پاکستان کے ٹرسٹی اور پبلی کیشنز ڈویژن کے سینئر ڈائریکٹر ہیں۔ شہید پاکستان پر کی جا نے والی تحقیق کے لیے راقم الحروف نے بر کاتی صاحب سے تفصیلی مکالمہ(انٹر ویو ) کیا ، یہ مکالمہ کئی نششتوں میں مکمل ہوا ۔ مصروفیات کے با وجود بر کاتی صاحب نے تمام سوالات کے جوابات انتہائی تحمل سے دیے۔ انٹر ویو کی آخری نششت ۲۳دسمبر ۲۰۰۴ء کو آپ کے دفتر واقع ہمدرد سینٹر، ناظم آباد میں ہو ئی۔

۱ : کیا آپ اپنے پس منظر پر روشنی ڈالنا پسند کریں گے؟
ْج : میرا پس منظر کئی پشتوں سے علمی ہے۔ پردادا سے آج تک علم و ادب اوڑھنا بچھونا رہا ہے۔ پر دادا عالم اور حکیم، دادا عالم اور حکیم، والد عالم اور حکیم، بھائی عالم اور حکیم، میں عامی اور مریض۔پیدا ئشی صحافی ہوں ۱۴۔۱۵ سال کی عمر میں شوقیہ ایک قلمی رسالہ دادا علامہ حکیم برکات احمدکے نام پر’’ البرکات‘‘ نکالا تھا۔ ۱۹۵۲ء سے ادارۂ ہمدرد سے وابستہ ہوں۔ ۱۹۵۳ء سے ہمدرد نونہال کا مدیر ہوں اور اب کئی سال سے مدیرِ اعلیٰ ۔ اس کے علاوہ رسالہ ہمدرد صحت کا مدیرِ منتظم ہوں۔ پاکستان میں اس لحاظ سے سب سے سینئر ایڈیٹر ہوں کہ کوئی اور صاحب مسلسل اتنا عرصہ ایڈیٹر نہیں رہے۔اس کے علاوہ ہمدرد لیبارٹریز وقف کا ٹرسٹی (رکن مجلس امینان) ہوں۔ ہمدرد فاؤنڈیشن میں سینئر ڈائرکٹر پبلی کیشنز اور کوئ ۲۰ کتابوں کا مؤلف، مترجم اور مرتب ہوں۔

۲ : آپ حکیم محمدسعید کو کب سے جانتے ہیں اور ان سے آپ کے تعلقات کی نوعیت کیا تھی؟
ج: میں حکیم صاحب محترم کو جانتا تو پہلے سے تھا، لیکن ملاقات ۱۹۵۲ء میں ہوئی اور اسی سال میں ادارۂ ہمدرد سے منسلک ہوا۔
ان سے تعلقات کی نوعیت یہ تھی کہ وہ بزرگ تھے، میں خورد۔ وہ افسر تھے، میں ماتحت ۔ وہ رہنما تھے میں راہرو۔ حکیم صاحب کے ساتھ میں نے ۴۷ سال کام کیا ۔ سیکھنے کے علاوہ کام کرنے کا جذبہ اور دُھن بھی ان کی صحبت سے مجھ میں پیدا ہوئی۔ حکیم صاحب کام کرنے والے کی بڑی قدر کیا کرتے تھے،کام کرنے والے اور کام سے خلوص رکھنے والوں کی خامیاں اور کوتاہیاں بھی برداشت کرتے تھے۔ ان کی قدر دانی کا نتیجہ یہ تھا کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے دل سے کام کرتے تھے اور اپنی بہترین صلا حیتوں کو بروے کار لاتے تھے۔

۳ : آپ ہمدردسے کب اور کیسے منسلک ہوئے، ہمدرد سے آپ کا منسلک ہونا ایک مشن تھا یا محض روزگار؟
ج : اس سے پہلے سوال کے جواب میں کہہ چکا ہوں کہ میں ۱۹۵۲ء میں ہمدرد میں شامل ہوا اور آج تک شامل ہوں اور انشاء اﷲ رہوں گا۔ ہمدرد میں شمولیت کا محرک ہمدرد کی خدمات سے ذہنی تعلق تھا۔اسی کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے قوت ِلایموت کاذریعہ بھی ہمدرد بنا۔جیسے جیسے وقت گزرتا گیا میں ہمدرد کے مشن کا حصہ بنتا گیا اورہمدرد کی علمی، اشاعتی اور تحریری جدوجہد میں سرگرم ہوتا گیا۔ اب میری زندگی کا بہت بڑا حصہ ہمدرد سے متعلق ہے اورمجھے ہمدرد کا مؤرخ نظر انداز نہیں کرسکتا۔

۴ : حکیم صاحب آپ پر بھرپور اعتماد کیا کرتے تھے، کیا اس کی کوئی خاص وجہ تھی؟
ج: ویسے تو میں اس سوال کے جواب میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ اس کا جواب تو حکیم صاحب ہی دے سکتے تھے، اور میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ مجھے مخلص سمجھتے تھے اور میری صلاحیتیوں کے بارے میں بھی حسن ِ ظن رکھتے تھے۔حکیم صاحب کی عادت تھی کہ جب وہ تجربے سے کسی شخص کے متعلق یہ اندازہ کرلیتے کہ یہ شخص غیر مخلص نہیں ، خود غرض نہیں بلکہ باوفا ہے، یعنی ان سے تعلق خاطر رکھتا ہے۔ ان کی تحریک ، ان کے مشن کا سچائی کے ساتھ حامی ہے اور اپنی صلاحیتوں کو اس مشن کے لیے استعمال بھی کرتا ہے تو وہ اس کی قدر کرتے تھے، اس پر اعتماد کرتے تھے، اس کی خامیاں بھی بڑی حد تک برداشت کرتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ شہید حکیم محمد سعید مجھے بھی قابلِ اعتماد سمجھتے تھے۔

۵ : حکیم صاحب سے آپ کس حد تک فکری ہم آہنگی رکھتے تھے؟
ج : فکری ہم آہنگی اور آراء سے’’ کامل اتفاق‘‘ میں میرے نزدیک فرق ہے۔ دو افراد میں فکری ہم آہنگی ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ لازماً ہر مسئلے، ہر معاملے، ہر فیصلے میں ہم خیا ل اور ہم رائے ہوں۔ حکیم صاحب سے میں بڑی حد تک فکری ہم آہنگی رکھتا تھا۔ ملک و ملت کے بارے میں ان کی سوچ ، میری سوچ اور طرزِ فکر ایک تھی اور اس میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ یہ اور بات کہ تفصیلات میں یا بعض مسائل کی بابت حکیم صاحب سے مختلف رائے رکھتا تھا اور اس کا مناسب طریقے سے اظہا ر بھی کیا کرتا تھا۔

۶ : حکیم صاحب کی شخصی خصوصیات اور اوصاف کے بارے میں کچھ بتائیے۔
ج : شہید حکیم محمدسعید کے ذاتی اوصاف کو بہت کم الفاظ میں بیان کرنا چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ ذہانت اور محنت ان کی شخصیت اور کردار کے اہم ترین اوصاف تھے۔ حکیم صاحب کی زندگی محنت سے عبارت ہے۔ ان کو میں نے ان کی جوانی ہی سے لگن اور استقلال کے ساتھ کام کرتے دیکھا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی محنت کی عادت پختہ تر ہوتی گئی۔کام سے انتہائی دلچسپی اور یکسوئی کے ساتھ محنت ا نسان کے پوشیدہ جوہروں کو بروے کار لاتی ہے اور وہ اپنے کام میں نئی نئی باتیں اور نئی نئی راہیں تلاش کرلیتا ہے۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ایک فی صد ذہانت اور ۹ فی صد محنت کے ملنے سے ایک عبقری ( جینیس Ginius) بنتا ہے۔

۷ : کیا آپ حکیم صاحب کی فکر پر روشنی ڈالنا پسند کریں گے؟
ج : فکر پر روشنی ڈالنے سے آپ کی کیا مراد ہے۔ حکیم صاحب کی فکرتواُن کے کاموں سے، اُن کی خدمات سے ظاہر ہے۔ انسانوں کی بھلائی کے لیے سوچتے رہنا اُن کی فکر کا محور تھا۔ طب، تعلیم ، ادب، تحریر سب میں حکیم صاحب کی فکر اسی کے گرد گھومتی ہے۔

۸ : حکیم صاحب انتھک محنت کیا کرتے تھے، اس کا راز کیا تھا؟
ج : کیا واقعی اس کا راز آپ کو بتادوں ؟ آپ مجھ سے یہ راز اگلوانا ہی چاہتے ہیں تو لیجیے بتائے دیتا ہوں۔ غور سے سنیں اور یاد رکھیں ۔’’مقصدسے محبت، یکسوئی اور عزم‘‘ ،بس یہ تھا حکیم صاحب کی محنت اورانتھک محنت کا راز۔ یہ ایسا راز ہے جو ہم میں سے بہت سوں کو معلوم تو ہوگا، لیکن اس پر عمل اتنا آسان نہیں ۔ بعض لوگ عمل کرتے ہیں، مگر پوری طرح نہیں،محض نیم دلی سے اوربس۔ حکیم صاحب ’نیم دلی‘ کے لیے جو لفظ استعمال کرتے تھے وہ تھا ’’تھڑدلی‘‘۔ حکیم صاحب کوئی عمل تھڑ دلی سے نہیں بلکہ پورے انہماک، التزام اور استقلال سے کیا کرتے تھے۔

۹ : حکیم صاحب کی ہمہ جہت شخصیت کو مختصر الفاظ میں بیان فرمائیں!
ج : حکیم محمد سعید صاحب کی شخصیت کاخلاصہ چند لفظوں میں یہی ہوسکتا ہے: ذہانت، عزم، عمل، حوصلہ ،یقین، اعتماد۔ ان کی پوری وضاحت کے لیے توصفحات کے صفحات درکار ہیں۔ مختصراً میں کہہ سکتا ہوں کہ حکیم صاحب ایک نہایت ذہین، پُرعزم انسان تھے۔ انھوں نے اپنی ذہانت کو پوری طرح استعمال کیا اور عزم و اعتمادکے ساتھ زندگی کی جدوجہد شروع کی اور ایک کے بعد ایک کام یابی حاصل کرتے گئے۔

۱۰ : حکیم صاحب کی شخصیت کے خاص پہلو جنھوں نے آپ کو متاثر کیا؟
ج: حکیم صاحب محترم کی شخصیت کا خاص بہت خاص پہلو’’ عمل‘‘ تھا، مسلسل عمل، مستقل عمل، دوسرے تمام پہلو، اسی پہلو کی بنیاد پر قائم ہوئے۔

۱۱ : آپ کے خیال میں کیا حکیم صاحب کو اقبال کا مردِ مومن کہاجاسکتا ہے؟
ج : اس کا فیصلہ میں نہیں کرسکتا۔

۱۲ : حکیم صاحب نے بے شمار کارنامے انجام دیے آپ کے خیال میں سب سے بڑا یا اہم کارنامہ کسے قراردیا جاسکتا ہے؟
ج : یہ فیصلہ بھی بہت مشکل ہے کہ حکیم صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ کیا ہے۔ مختلف لوگوں کی رائے میں مختلف کارناموں کو اہمیت حاصل ہے۔ مثلاًمشہور ماہرِ قلب پروفیسر ڈاکٹر سیداسلم صاحب کہتے ہیں کہ حکیم محمد سعید صاحب کا سب سے اہم کارنامہ بچوں کے لیے رسالہ ہمدرد نونہال نکالنا ہے۔ ان کے خیال میں دوسرے نمبرپر ہمدرد صحت کا شائع کرنا ہے کہ جوتعلیم یافتہ طبقے میں صحت کے اصولوں کو مسلسل پھیلارہا ہے اور تعلیم صحت پر مفید معلومات کو عام کررہا ہے۔میرے نزدیک ان کے ساتھ تعلیم کی اشاعت کے لیے اداروں کا قیام بھی حکیم صاحب کا اہم ترین کام ہے، مثلاً ۱۹۵۸ء میں طبیہ کالج کا قیام ، جس نے اب تک ہزاروں مستند اطباء پیدا کیے اور طبِ مشرقی کو باقی رکھا ہے۔ اس کے علاوہ ہمدرد پبلک اسکول اور ہمدرد یونی ورسٹی قائم کرنا بھی معمولی کارنامہ نہیں۔ پھر کتب خانوں کے فروغ و ترقی کے لیے SPIL جیسے اداروں کے لیے مسلسل کام کرکے کتاب کلچر کو فروغ دینابھی بہت دور رس نتائج کا حامل ہے۔

۱۳ : حکیم صاحب کو کتاب اور کتب خانے سے عشق تھا، کیا آپ اس پر روشنی ڈالنا پسند کریں گے؟
ج : جی ہاں، حکیم صاحب کتاب کی اہمیت کو سمجھتے تھے۔ انھوں نے اپنا ذاتی کتب خانہ بھی ابتدا ہی سے بنانا شروع کردیا تھا۔ اس سے ۱۹۵۲ء سے تعلق رہا۔ دہلی سے کراچی ہجرت کرتے وقت ہی وہ خاصی کتابیں اپنے ساتھ لائے تھے اور وہ ان کے گھر(ہمدرد ہاؤس) میں ہی موجود رہیں۔ اس کی ترتیب و تنظیم میں، میں بھی شریک رہا۔ نئی کتابوں کی خریداری کے علاوہ کتب فروش جو پرانی کتابیں فروخت کرتے تھے وہ ہمدرد ہاؤس پر کتابوں کے ’’بنڈل‘‘ لاکر دے جاتے تھے۔ میں ان میں سے انتخاب کرتا اور ان کی قیمت طے کرتا۔ حکیم صاحب میرے انتخاب سے سو فی صد اتفاق کرتے ہوئے ان کی قیمت ادا کرنے کی منظوری دے دیتے۔ اس طرح بعض نادر کتابیں بھی حاصل ہوجاتیں اور ہمدرد کتب خانہ مالا مال ہوتا گیا پھر ساٹھ کی دہائی میں حکیم صاحب نے جناب جی اے مدنی (سابق کمشنرکراچی) کا مکان (نزد مزار قائداعظم) کرایے پر لیا اور حکیم صاحب سے متعلق (صدر ہمدرد کا سیکریٹریٹ) دفاتر اور کتب خانہ نئے مکان میں منتقل ہوگیا۔ یہاں چوں کہ گنجائش تھی، کتابوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ اب حکیم نعیم الدین زبیری صاحب کتب خانے سے متعلق ہوگئے۔ پھر ہم وہاں سے ہمدرد سنٹر ناظم آباد میں منتقل ہوگئے۔ یہاں کتب خانے کے لیے بہت کشادہ ہال بنایا گیا تھا۔ (حکیم زبیری صاحب کتب خانے کے سربراہ تھے۔) پھر یہاں سے کتب خانہ مدینتہ الحکمہ منتقل ہوگیا اور اب مستقلاً وہیں ہے اور ہمدرد یونی ورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ اس سے خوب استفادہ کررہے ہیں۔اسی دوران میں حکیم صاحب نے ایک انجمن کی بِنا ڈالی جس کا نام انجمن فروغ و ترقی کتب خانہ جات Society for the Promotion and Improvement of Libraries, SPIL) رکھا گیا۔اس انجمن نے لائبریری موومنٹ کے لیے بہت کام کیے۔ حکیم صاحب اس کام کے لیے بہت وقت دیتے تھے۔ اس انجمن میں مولانا عارف الدین صاحب سیکریٹری تھے اور بہت سرگرم اور فعال تھے وہ سائیکل پر انجمن کے کام کے لیے رابطے کرتے اور بہت محنت سے کام کرتے۔ عارف الدین صاحب نے اس انجمن میں کئی ممتاز لوگوں کو شامل کیا اور حکیم صاحب کی صدارت میں اس تحریک کو آگے بڑھایا۔ اس انجمن کے جملہ مصارف ’’ہمدرد‘‘ برداشت کرتاتھا۔ عارف صاحب کے علاوہ جناب عادل عثمانی بھی اس تحریک میں بہت مستعد اور معاون تھے۔

۱۴ : حکیم صاحب کے قائم کردہ شہرِ علم ’’مدینتہ الحکمہ‘‘کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ج : اس میں رائے کیا مسئلہ ہے! یہ منصوبہ شہید حکیم محمد سعید کے پُر عزم منصوبوں میں سے ہے اور اب اس میں ہمدرد پبلک اسکول، ہمدرد کالج برائے اعلیٰ تعلیم کے علاوہ ہمدرد یونی ورسٹی بھی پھل پھول رہی ہے اور اب مدینتہ الحکمہ ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کا مر کز بنا ہوا ہے۔ مجھے یہ مسرت اور فخر حاصل ہے کہ اس منصوبے میں میرے نام کا سنگِ بنیاد بھی نصب ہے۔

۱۵ : مدینتہ الحکمہ میں قائم ہونے والی پہلی عمارت بیت الحکمہ (لائبریری)ہے، نہ صرف عمارت بلکہ لائبریری اپنی موجودصورت میں سب سے پہلے تکمیل کو پہنچی اور یہ تمام ترسرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتی تھی۔ آپ کے خیال میں اس کی کیا وجہ تھی؟
ج : اس کی وجہ حکیم صاحب کی علم دوستی اورکتاب دوستی تھی، وہ اس بات کا ادراک رکھتے تھے کہ کتابوں کے بہترین ذخیرے یعنی اچھے کتب خانے کے بغیر کوئی علمی اور تحقیقی کام نہیں ہوسکتا۔

۱۶ : حکیم صاحب طبیب ہونے کے علاوہ مصنف ،مؤلف اور مدیر بھی تھے اور مختلف موضوعات پر بے شمار لکھا۔ آپ نے انکی تحریروں کا مطالعہ کیا ہوگا !کیسا پایا؟
ج : مجھے یہ فخر حاصل ہے کہ میں شہید حکیم محمد سعید کی تصانیف اور تالیفات اور تراجم میں ان کا شریک اورمعاون رہا ہوں۔ اس سے آپ خود اندازہ اور فیصلہ کرسکتے ہیں کہ حکیم صاحب کی تحریروں کے بارے میں میری کیا رائے ہوگی۔

۱۷ : حکیم صاحب نے طب و سائنس کے علاوہ تعلیم کے میدان کا انتخاب کیا اور اپنی بقیہ زندگی تعلیم کے فروغ میں لگادی۔ آپ کے خیال میں کیا یہ اقدام درست تھا؟
ج : شہید حکیم محمد سعید صاحب کا یہ اقدام درست بلکہ بہت صحیح، قابل قدر اور لائقِ تحسین تھا۔

۱۸ : بیت الحکمہ جسے ایشیا کا سب سے بڑا کتب خانہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے، کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ج : بیت الحکمہ دراصل حکیم محمد سعید شہید کی ذاتی لائبریری تھی۔ کچھ کتابیں وہ اپنے ساتھ ہندستان سے لے آئے ۔ اس کے بعدیہاں بھی مسلسل نئی اور پرانی کتابوں کی خریداری کاسلسلہ جاری رہا اور یہ لائبریری زیادہ مال دار ہوتی گئی۔ پھر جب مدینتہ الحکمہ کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے لائبریری کی عمارت بنوائی اور اب یہ کتب خانہ عام اہلِ علم کے علاوہ ہمدرد یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کے لیے بہت اچھا علمی خزانہ ہے۔

۱۹ : آپ کے خیال میں حکیم محمد سعیداورSPILنے پاکستان میں لائبریری تحریک کے فروغ اور کتب خانوں کی ترقی میں کیا کردار ادا کیا؟
ج : اس سوال کا تفصیلی جواب دینا تو میرے لیے مشکل ہے، بلکہ اس کا جواب تو آپ خود زیادہ صحت اور وضاحت کے ساتھ دے سکتے ہیں۔ بہرحال اس تحریک نے اپنے اثرات پیدا کیے۔ ایک فائدہ تو یہ بھی ہوا کہ اس ادارے (SPIL)کے طفیل حکیم محمد سعید صاحب اور ڈاکٹر محمود حسین صاحب جیسے ممتاز دانشوروں کی شرکت سے معاشرے میں خوش گوار اثرپڑا، پھر Library Scienceکی تعلیم پر بھی نوجوانوں کی توجہ بڑھی۔ حکومت کے متعلقہ محکموں پر اس تحریک نے اثر ڈالا اوروہ کتاب اور کتب خانوں کو اہمیت دینے لگے۔

۲۰ : حکیم صاحب سے آپ کی آخری ملاقات کب اور کہاں ہوئی؟
ج : حکیم صاحب سے میری آخری ملاقات دفتر (ہمدرد سنٹر) میں ہوئی۔ ہمدرد صحت اور ہمدرد نونہال کی ترتیب کے بارے میں مختلف امور پر مشورہ ہوا۔ دو سال پہلے میں نے حکیم صاحب کی ایک کتاب ’’حکیم محمد سعیدکے طبی مشورے‘‘ مرتب کی تھی۔یہ کتاب صحت کے مسائل کے بارے میں نونہالوں کے مختلف سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے، جو حکیم صاحب لکھا کرتے تھے اور ہر ماہ ہمدرد نونہال میں یہ سوال و جواب شائع ہوتے تھے۔یہ سلسلہ ۱۹۷۸ء سے جاری تھا۔ ۱۹۹۶ء میں، میں نے ۱۸ سال کے سوال و جواب کو جمع اور مرض وار مرتب کیا اور مناسب عنوانات قائم کیے۔ کتاب مرتب کرنے سے پہلے حکیم صاحب کو بتایا نہیں تھابلکہ جب کتاب طبع ہوکر آئی تو حکیم صاحب کو پیش کی۔ کتاب دیکھ کر حکیم صاحب حیرت و مسرت کے جذبات سے بے اختیار (کہا جاسکتا ہے کہ) اچھل پڑے۔ ۱۶؍ اکتوبر( ۱۹۹۸) کی اس آخری ملاقات میں بھی ا س کتاب کا ذکر آیاکہ یہ کتاب بہت مقبول ہوئی ہے اور دو ایڈیشن فروخت ہوچکے ہیں، اب تیسرا ایڈیشن تیار کیا جارہا ہے تو اس کتاب میں کچھ اضافوں کی بات ہوئی۔ حکیم صاحب نے اس کتاب کی مقبولیت پر بھی خوشی کااظہار فرمایا اور اضافوں کے سلسلے میں تبادلۂ خیال ہوا۔اس کے علاوہ بعض انتظامی اور دفتری امور پر مشورہ ہوا۔ میرے شعبے (ادارت) میں ایک نئے کارکن کا اضافہ حال میں ہوا تھا، ان کے معاوضے کی بات ہوئی۔ میری تجویز کو حکیم صاحب نے منظور فرمالیا، او ر یہ بھی فرمایا کہ’’ آپ ان کی درخواست پر نوٹ لکھ کر میرے دستخط بھی کروالیجیے گا۔ ‘‘یہ بات مجھے کچھ نئی سی لگی،کیوں کہ کافی عرصے سے حکیم صاحب نے اس قسم کے چھوٹے کاغذات پر دستخط کرنا چھوڑ دیے تھے، اور میں زبانی مشورے کی بنا پر خود دستخط کرکے انتظامیہ کو بھیج دیا کرتا تھا، لیکن اس روز انھوں نے یہ بات فرمائی کہ میرے دستخط بھی کروالیجیے گا، چنانچہ میں نے ہدایت کے مطابق نوٹ لکھ کر شام کو فائل ہمدرد ہاؤس معمول کے مطابق بھجوادی اور حکیم صاحب نے اسی دن اس پر اپنے دستخط کردیے یہ فائل مجھے اتوار ۱۹؍اکتوبر ۱۹۹۸ کو واپس ملی۔ میرے شعبے کے کسی کارکن کی تقرری کے کاغذ پر حکیم صاحب کے یہ آخری دستخط ہیں۔

۲۱ : حکیم صاحب کی عظمت کی دلیل میں کوئی واقعہ جو آپ کے ذہن میں ہو!
ج : حکیم صاحب، یعنی شہیدِ پاکستان حکیم حافظ محمد سعید دہلوی کی عظمت کے لیے کوئی ایک واقعہ بیان کرنا مناسب نہیں ہوگا، کیوں کہ ان کی پوری زندگی علم و عمل ، اخلاق، خدمتِ وطن، خدمت ِخلق سے عبارت ہے اور عمر بھر ان کا یہی نصب العین رہا۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے ان کی عظمت کا۔

۲۲ : آپ کو حکیم صاحب کی کس عادت نے سب سے زیادہ متاثر کیا؟
ج : مجھے حکیم صاحب کی کام کی عادت نے سب سے زیادہ متاثر کیا اوریہی عادت ان کی تمام کامیابیوں کی کلید ہے۔ حکیم صاحب نے اپنی یہ عادت اپنے رفقاے کارمیں بھی پیدا کی۔ جس رفیق نے ان کی یہ عادت زیادہ اپنائی وہ زیادہ آگے بڑھا اور خوب کامیاب ہوا، جس نے یہ عادت کم اختیار کی وہ تھوڑا کامیاب ہوا، جو یہ عادت اختیار نہ کرسکا وہ ناکام رہا اور حکیم صاحب کے ساتھ نہ چل سکا۔

۲۳ : شخصی اداروں کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ ادارے متعلقہ شخصیت کی وفات کے بعد انحطاط کا شکار ہوجاتے ہیں، اس تاثر کی روشنی میں آپ یہ فرمائیں کہ ہمدرد اور جملہ ذیلی اداروں کا مستقبل کیا ہے؟
ج : یہ عام تاثر غلط نہیں ہے ۔ اب تک زیادہ تر یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ ادارہ اپنے بانی کے ساتھ ہی اپنی زندگی کھونے لگتا ہے۔ کار پردازوں کے باہمی اختلافات یا خود غرضیاں یا اہلیت کی کمی ادارے کو کم زور کردیتی ہے اور پھر ادارہ اپنے مقاصد سے دور ہونے لگتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ مسلمان مزاجاً ادارہ سازنہیں، ادارہ شکن ہیں، چنانچہ آپ اپنے ملک میں ہر قسم کے اداروں کاجائزہ لے کر دیکھ لیں۔ سیاسی ادارے ہوں یا ثقافتی ، صنعتی و تجارتی ادارے ہوں یا تعلیمی، رفاہی ادارے ہوں یا فلاحی ۔ کچھ مدت کے بعد اختلافات و انتشار کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ جہاں تک ہمدرد اور اس کے مختلف اداروں کا تعلق ہے الحمدﷲ اب تک تو اپنی وضع پر قائم ہیں۔ حکیم صاحب کی جانشین محترمہ سعدیہ راشد میں’’ ٹیم ورک‘‘ کی رہنمائی کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ وہ کام کرنے والوں کی قدر اور احترام کاجذبہ رکھتی ہیں، اس لیے رفقاے کار ان سے دلی تعاون کررہے ہیں اور حکیم صاحب کے تربیت یافتہ اور تجربہ کار رفقا بھی موجود ہیں، اس لیے امید ہے کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا اور ہمدرد کے ادارے اپنی زندگی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے بانی شہید حکیم محمد سعید کے عزائم پورے کریں گے انشاء اﷲ۔

۲۴ : حکیم صاحب نے قریباً ۲۰۰سے زیادہ کتابیں لکھیں اور کئی رسائل کی ادارت کی۔ آپ کو حکیم صاحب کی تخلیقی کاوشوں کا ستون تصور کیا جاتا ہے ۔ کچھ اس کے بارے میں بتائیں کہ حکیم صاحب یہ سب کچھ کس طرح کیا کرتے تھے؟
ج : حکیم صاحب وقت کی بہترین تنظیم کے ماہر تھے ،وقت کی تنظیم اصل میں نام ہے ذہن کی تنظیم کا ۔ آپ کو اپنے دل و دماغ پر پورا عبور تھا، سیکھنے اور اخذ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت لے کر آئے تھے۔ وہ مشورے کے قائل تھے اور تعاون کے فوائد کو خوب جانتے تھے۔ ان کی خوبی یہ تھی کہ اچھے مشورے کو فوراً مانتے اور مشورہ دینے والے کی قدر اور عزت کرتے تھے۔حکیم صاحب مزاجاً شرمیلے واقع ہوئے تھے ابتداً زبان میں لکنت بھی تھی، لیکن اپنی مسلسل محنت سے انھوں نے اپنی ہر صلاحیت کو پروان چڑھایا اور اہلیت و مہارت میں تبدیل کیا۔ تصنیف و ادارت کے امور میں بھی یہی کیفیت تھی۔ میں ان کا معاون تھا اور ان کی متعدد کتابوں کی تدوین کا شرف مجھے حاصل ہے۔ بہت سی تحریریں ہم نے ساتھ بیٹھ کرمکمل کیں۔ تقریر میں بھی مشق و مزاولت سے حکیم صاحب نے بڑا اعتماد اور روانی حاصل کرلی تھی۔ ابتدا میں وہ لکھی ہوئی تقر یر پڑھتے تھے، لیکن بعد میں برجستہ اوربرمحل تقریر یں کرنے لگے ۔ رسائل کی ادارت میں، میں ان کا مزاج سمجھ گیا تھا اور ان کی معاونت کرتا تھا۔

۲۵ : حکیم صاحب کے قائم کردہ کتب خانوں میں صرف مدینتہ الحکمہ میں کتابوں کی تعداد چارلاکھ سے زیادہ ہے جب کہ مجلد رسائل اوراخبارات کے تراشاجات ہزاروں کی تعداد میں ہیں آپ کے خیال میں یہ ایک عظیم کارنامہ نہیں؟
ج : بے شک یہ ایک بڑاا ہم کارنامہ ہے۔

۲۶ : جس موضوع پر میں تحقیق کر رہا ہوں اس پر کچھ کہنا چا ہیں گے؟
ج : میں آپ کی اس خدمت کو بڑی وقعت دیتا ہوں۔ اس وجہ سے بھی کہ اس پہلو سے ابھی تک کسی نے حکیم صاحب کی خدمات پر کوئی اہم کام نہیں کیا۔ اس کام میں آپ کو بے شک محنت تو بہت ہورہی ہے۔ لیکن کتب خانوں کی تنظیم اور تحریک کے لیے یہ کام ایک مثال بن سکتا ہے۔ تجویز کیا ہے۔ صرف یہی کہوں گا کہ اپنی تحقیق میں کسی کم زور اور غیر متحقق بات کو راہ نہ دیجیے گا۔

(انٹر ویو مو رخہ ۲۳دسمبر ۲۰۰۴ء کو بر کاتی صاحب کے دفتر واقع ہمدرد سینٹر، المجید، ناظم آباد ، کراچی میں لیا گیا)
 
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
24 Oct, 2014 Total Views: 439 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 559 Articles with 340611 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB