ممتاز نقاد‘ ادیب‘ محقق‘ شاعر‘ مترجم اور استاد ڈاکٹر تحسین فراقی

(Aslam Lodhi, Lahore)

ڈاکٹر تحسین فراقی بہت ہی شفیق‘ نیک سیرت اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔ مجھے ان سے ملاقات کا بارہا مرتبہ شرف حاصل ہوا لیکن ہر ملاقات مجھ پر ایک عجیب روحانی کیفیت طاری کر دیتی ہے۔ ادب میں وہ محقق‘ نقاد‘ شاعر‘ مترجم کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں لیکن ان سب خوبیوں اورعلمی کامیابیوں کے باوجود وہ خود کو کچھ بھی نہیں سمجھتے۔ میں سمجھتا ہوں یہی خوبی انہیں دیگر علمی و ادبی شخصیات سے ممتاز کرتی ہے۔ مجھے وہ دن بھی یاد ہیں جب وہ ایک عام آدمی کی طرح اپنے بیمار بیٹے کی تیمار داری کے لئے میو ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر سردیوں کی راتوں میں سویا کرتے تھے۔ ٹھنڈے فرش پر عام لوگوں کی طرح کھیس لے کر سوتا ہوا دیکھ کر کوئی شخص نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی ڈاکٹر تحسین فراقی ہیں جو پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہیں جن کا شمار پاکستان کی عظیم ادبی و علمی شخصیات میں ہوتا ہے۔ پھر انہوں نے ایک صابر وشاکر انسان کی حیثیت سے اپنے جواں سال بیٹے عمر فاروق کی موت کا صدمہ بھی برداشت کیا۔

مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ وہ اکثر ایوان ادب اردو بازار میں پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب کے پاس تشریف لایا کرتے تھے جہاں پروفیسر جعفر بلوچ‘ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی‘ پروفیسر آسی ضیائی‘ پروفیسر طاہر شادانی جیسی شخصیات ہر روز نہیں تو ہر دوسرے تیسرے دن ضرور آیا کرتی تھیں۔ اس دانش کدہ میں‘ میں بھی ایک ناظر اور معاون کی حیثیت سے موجود ہوتا۔ جب اہل علم ودانش کی گفتگو میں قہقہوں کا سیلاب آتا تو محظوظ ہونے والوں میں‘ میں بھی شامل ہوجاتا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ وہ ایسے شفیق اور ہمدرد انسان ہیں جن سے جتنی بار بھی ملا جائے پھر ملنے کو دل چاہتا ہے ۔
ڈاکٹرتحسین فراقی کا تعلق دیپالپورکے نواحی قصبے بصیر پور سے ہے۔ ان کی پیدائش 17ستمبر1950ء کو پتوکی میں اپنے ننھیال کے ہاں ہوئی۔ان کے والدشیخ محمود اختر بصیر پورمیں اسکول ٹیچر تھے۔ادب کا نہایت عمدہ ذوق رکھتے تھے۔فارسی ادب اور اقبال سے ان کو محبت تھی۔تحسین فراقی نے میٹرک تک کے تعلیمی مدارج بصیر پور ہی میں طے کیے۔ اساتذہ میں، علامہ ولی محمد اور حافظ بصیر پوری کا آپ کی شخصیت پر گہرا اثر رہا۔ موخر الذکر سے بی اے میں آپ نے گلستان اور بوستان سبقاً سبقاً پڑھی۔ فارسی ادب سے ڈاکٹر تحسین فراقی کا ذوق اسی ابتدائی ماحول کی وجہ قرار دیاجاسکتا ہے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد،پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکے ایم اے اوکالج میں لیکچرار تعینات ہوگئے۔ادھرآٹھ برس رہنے کے بعد، پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے شعبہ اردوسے وابستہ ہوئے ۔ یہاں پروفیسر بنے۔ صدر شعبہ بھی رہے ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد پنجاب یونیورسٹی نے اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے لیے بطور پروفیسر آپ کی خدمات حاصل کرلیں ۔

1975ء میں آپ رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے۔طیبہ تحسین اور حمیرا تحسین ان کی بیٹیاں ہیں۔عثمان نوید بیٹا ہے۔ ڈھائی برس قبل انہیں سب سے بڑے بیٹے عمر فاروق ،جو پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کرچکا تھا ، کی حادثاتی موت کا دکھ جھیلنا پڑا۔جواں سال بیٹے کی موت پر ان کیا گزری انہوں نے اپنے دکھ کا تخلیقی سطح پر اظہار شاعری میں بھی کیا ہے جو ان کے شعری مجموعے "شاخ زریاب (2012)" میں شائع ہوچکا ہے ۔

سرزمین پاکستان میں موجود گنے چنے افراد میں سے آپ ایک ہیں جو اردو، فارسی ، عربی اور انگریزی زبان پر دسترس رکھتا ہے اور اس نے ان زبانوں کے ادب کاگہرا مطالعہ بھی کررکھا ہے۔اردو دنیا میں یہ شخص ڈاکٹر تحسین فراقی کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ تدریس، تنقید، تحقیق، شاعری اور ترجمہ نگاری میں ڈاکٹر تحسین فراقی کا کام ان کی شخصیت کے پہلو دار ہونے کا غماز ہے ۔

آپ کی تحریروں میں جو علمیت ہے ، اس سے ذہن میں، ان کے متبحر عالم ہونے کا جو تاثر ابھرتا ہے وہ اس وقت اور بھی گہرا ہو جاتا ہے جب کوئی ان سے ملتا ہے ۔ ’’جستجو ‘‘ آپ کے تنقیدی مضامین کا پہلا مجموعہ ہے۔ سلیم احمد کے بقول ’’ یہ پہلا مجموعہ بہت سوں کے آخری مجموعوں پر بھاری ہے۔’’معاصر اردو ادب ‘‘’’افادات ‘‘بھی ان کے تنقیدی مجموعے ہیں۔ حال ہی میں ن م راشد پر آپ کی کتاب ’’حسن کوزہ گر ‘‘کے نام سے شائع ہوئی ہے۔تحقیق کے میدان میں ان کا ایک علمی کارنامہ مولانا عبد الماجددریا بادی پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ ہے جس کو علمی حلقوں میں بہت زیادہ پذیرائی کا مستحق گردانا گیا۔ یوسف خاں کمبل پوش کے قدیم ترین سفر نامے’’ عجائبات فرنگ ‘‘کی تدوین و ترتیب کا جوکھم بھی انہیں نے اٹھایا۔ چند برس قبل ’’ فکریات ‘‘کے نام سے ان کی فکر افروز کتاب سامنے آئی ، جس میں انہوں دور جدید کی قابل قدرعلمی شخصیات کے اہم ترین مضمون کو اردو کے قالب میں ڈھالا ۔کتاب کا عالمانہ مقدمہ قلمبند کیا اور ہر تحریر کے آغاز میں تعارفی مضمون لکھا۔ اس کتاب میں آپ کی ملاقات جن صاحبان فکر و نظر سے ہوتی ہے ان میں ایڈورڈ سعید، میلان کنڈیرا، این میری شمل ، حسین نصر، آرتیگا ای گاست، الفریڈ گیوم، گائی ایٹن، سید علی اشرف اور سید محمد حسینی شامل ہیں۔

غالب و اقبال بھی ڈاکٹر تحسین فراقی کی تنقید کا اہم حوالہ ہے۔غالب نے شعر ونثر میں اردو میں جو لکھا ہے، اس پر اردو میں بہت خامہ فرسائی کی گئی ہے، اس لیے نثار احمد فاروقی کو یہ لکھنا پڑا’’ہمارے نقادوں اور محققوں کا غالب پر کچھ نہ کچھ لکھنا ایسا ہی ضروری ہوگیا ہے جیسے مناسک حج میں میدان عرفات کا قیام کہ اس کے بغیر حج ہی نہیں ہوتا۔‘‘ڈاکٹر تحسین فراقی نے اردو کے نقاد ہونے کے باوجود، غالب کی فارسی تخلیقات پرجم کر لکھا ہے ۔اس موضوع پر ان کے متفرق مضامین کا مجموعہ’’ غالب ۔فکروفرہنگ ‘‘کے نام سے چھپا ۔ حال ہی میں یہ مجموعہ مکمل نظر ثانی اور اضافوں کے ساتھ غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی نے بھی بڑے اہتمام سے شائع کیاہے ۔

’’دیوان غالب، نسخہ خواجہ‘ اصل حقائق‘‘ آپ کا ایک اور تحقیقی کارنامہ ہے۔اقبال پران کے مضامین پر مشتمل کتابیں ’’جہات اقبال‘‘اور ’’اقبال ،چند نئے مباحث‘‘کے نام سے ہیں۔علامہ اقبال کی شخصیت و فن پر ان مضامین کوجو علامہ اقبال کی زندگی میں ہی منصہ شہود پر آئے آپ’’ نقد اقبال ، حیات اقبال میں‘‘ کے نام سے ترتیب دے چکے ہیں۔ڈاکٹر تحسین فراقی اس بات کے پرزور حامی ہیں کہ ادب میں کسی بھی تخلیق کار کا مطالعہ کلیت میں کیے بغیر درست نتائج تک نہیں پہنچا جاسکتا۔آپ کا موقف ہے کہ غالب اور اقبال کی نگارشات کا معتدبہ حصہ فارسی میں ہے جس سے اعتنا کیے بغیر اقبال اور غالب شناسی کے تقاضے پورے ہی نہیں ہوسکتے۔بیدل بھی آپ کے محبوب شاعر ہیں ۔اقبال کی انگریزی تحریر’’Bedil in the light of Bergson‘‘کا اردو میں یہ ’’مطالعہ بیدل، فکربرگساں کی روشنی میں‘‘کے عنوان سے ترجمہ کرچکے ہیں۔ بیدل ایک بہت مشکل شاعر ہے، وہ اس سے اتفاق نہیں کرتے ۔آپ کا کہنا ہے کہ بیدل کے بہت سے اشعار نہایت آسان ہیں۔ یہ سہل بیدل کے نام سے ایک انتخاب بھی کررہے ہیں ۔’’نقش اول‘‘ کے نام سے بھی آپ کا شعری مجموعہ چھپ چکا ہے۔دوسرا شعری مجموعہ "شاخ زریاب"کے نام سے اسی سال (2012) الحمد پبلی کیشنز کے زیر اہتمام شائع ہوچکا ہے ۔

ایران کے مہدی آزریزدی بچوں پر ادب تخلیق کرنے والے ادیبوں میں ایران اور بیرون ملک ایک مقبول عام شخصیت ہیں۔ڈاکٹر تحسین فراقی نے ان کی تحریر کردہ پندرہ کہانیوں کو’’بے زبانوں کی زبانی ‘‘کے نام سے ترجمہ کیا ہے۔’’مرزبان نامہ ‘‘ایران کی قدیم اور مشہور کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کا انگریزی ، عربی اور ترکی زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ مہدی آزریزی نے مرزبان نامہ کی ستر حکایات میں سے اکیس کو منتخب کرکے انہیں جدید فارسی روزمرے میں اور آسان اسلوب میں بچوں کے لیے ڈھالا جسے ایران میں بے پناہ مقبولیت ملی ۔ ڈاکٹر تحسین فراقی نے اس کتاب کا ’’اچھے بچوں کے لیے اچھی کہانیاں‘‘ کے نام سے ترجمہ کیا ہے۔ان دنوں وہ اپنے نامکمل اور ادھورے علمی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے سرگرم ہیں۔

اردو ادب میں شاعری کی تنقید پر زور اور فکشن کی تنقید نظر انداز کیے جانے کے سوال پر ڈاکٹرتحسین فراقی کا موقف ہے کہ ’’گوئٹے نے کہا ہے کہ روح انسانی کا بہترین اظہارشاعری میں ہوتا ہے۔ میں اس سے اتفاق کرتا ہوں ۔شاعری میں ایسی خوبیاں ہیں جو نثر میں نہیں ۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ شاعری پوری طرح حافظے کا حصہ بن جاتی ہے۔نفسیاتی طور پر انسان میں شاعری کو قبول کرنے کی صلاحیت سب سے زیادہ ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ تمام فنون میں جس چیز کا سب سے پہلے اظہار ہوا ، وہ شاعری ہے۔اس لیے اردوتنقید میں شاعری پر زیادہ لکھا گیا ہے تو یہ زیادہ تعجب کی بات نہیں۔

بدقسمتی سے فکشن کی تنقید کی طرف ہمارا میلان کم رہا۔ شاید اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ یہ مشکل کام ہے۔نثر میں مشکل یہ ہے کہ پہلے تو آپ پوری کتاب پڑھیے ۔اگر ناول ہے تو آپ نے یہ دیکھنا ہے کہ کیا اس نے ناول کے تقاضے پورے کیے۔کیا کردار نگاری کی وہ صورت سامنے آئی، جس کا ایک اچھا ناول تقاضا کرتا ہے۔کیا معاصر فکشن میں ناول کا کوئی مقام بنتا ہے ۔ کتنی ہی چیزیں ہیں جن کے مقام کانقاد کو تعین کرنا ہوتا ہے۔سادہ لفظوں میں یہ کہ ناول کامیاب ہے کہ ناکام۔ کامیاب ہے تو اس کے خصائص کیا ہیں اور اگر ناکام ہے تو اس میں کیاخامیاں ہیں۔یہ تجزیہ ایک گہرا مطالعہ مانگتا ہے۔ناول چونکہ مغرب سے آیا ہے اس لیے اس کا محاکمہ کرنے کے لیے مغربی ادب سے گہری واقفیت ضروری ہے۔ سارا نہیں تو جو وہاں کا نمائندہ ادب ہے وہ تو آپ کی نظر سے گزرا ہونا چاہیے۔ شاعری پر تنقید فکشن کی نسبت آسان ہے۔شاعری پر بہت زیادہ لکھا گیا ہے۔آپ کچھ بھی نہ کیجیے، آپ کو اتنے مضمون مل جائیں گے جن کو سامنے رکھ کر آپ ایک چیتھڑا بنا سکتے ہیں۔فکشن کی تنقید میں ایسا ممکن نہیں۔

آپ کی رائے میں علامہ اقبال کے بعد اہم شاعر ضرور آئے لیکن بڑا شاعر کوئی نہیں آیا۔بڑا شاعر زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ان حقائق کو بیان کرتا ہے جو ابدی ہیں۔ اہم شاعر وہ ہے جو زندگی کے حقائق تو بیان کرے لیکن اس بیان میں وہ جامعیت نہ ہو اور زبان پروہ غیر معمولی قدرت نہ ہو، جو بڑے شاعروں میں ہوتی ہے۔ بڑی شاعر ی میں لفظ و معانی غیرمعمولی وحدت میں ڈھل جاتے ہیں۔ اردو میں غالب اور میر اس کی بڑی مثال ہیں ۔ ن م راشد اہم شاعر ہیں۔انہیں زبان پر بلاشبہ بہت عبور حاصل ہے لیکن لسانی ناہمواریاں بھی بہت ہیں۔بعض جگہ غلطیاں بھی ہیں ۔ تاج محل میں ایک غیر معمولی کرافٹ اور غیر معمولی جمال یوں یکجا ہوئے ہیں کہ تعمیر کا ایک معجزہ وجود میں آیا ہے۔ایسے معجزے آپ کو اقبال کے ہاں ملیں گے۔مثلاًان کی نظم ’’مسجد قرطبہ‘‘ ہے ۔میرا نہیں خیال کہ اقبال ’’مسجد قرطبہ ‘‘سے کوئی بڑی نظم لکھ سکے ہیں۔ راشد کی نظم ’’ حسن کوزہ گر ‘‘کو بہت اہم نظم سمجھتا ہوں لیکن اگر کوئی کہے کہ کیا یہ اس پائے کی ہے جس پائے کی نظم ’’ مسجد قرطبہ‘‘ ہے تو میرا جواب نفی میں ہوگا۔ اہم شاعر میں ایک آنچ کی کسررہ جاتی ہے۔بڑے شاعر میں کسر نہیں رہتی وہاں خالص سونا ہوتا ہے۔ن م راشد ، فیض احمد فیض، مجید امجد، اخترالایمان، منیر نیازی اور وزیر آغا کو میں اہم شعرا میں شمار کرتا ہوں۔ فیض کو باقی شعرا پر یہ برتری ہے کہ وہ نظم و غز ل دونوں کے یکساں طور پر اہم شاعر ہیں۔‘‘

’’ محمد حسن عسکری اردو تنقید کا وہ قطبی ستارہ ہے جن سے اردو کے نقاد اپنی سمت سفر کا تعین کرسکتے ہیں اور کرتے رہے ہیں۔ ہمارے ایک نقاد نے کہا کہ فراقی صاحب اچھے نقاد ہیں اگر یہ عسکری صاحب کے اثر سے نکل آئیں۔ عسکری صاحب سے اثر لینا ناگزیر ہے۔ ان کی وفات کو جونتیس برس ہوگئے ۔کیا کوئی دن ایسا گیا ہے جس میں عسکری صاحب کا ذکر نہ آیا ہو۔ ۔ آخر کیا وجہ ہے؟ نقاد کے پلے کچھ نہ ہو تو وہ اتنی دیر نہیں نکالتے۔ عسکری صاحب سے بچا اس لیے نہیں جاسکتا کہ اردو ادب میں وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے ہمیں بتایا کہ ادب پڑھا کیسے جائے۔ ہماری بدقسمتی اور بدبختی یہ ہے کہ ابھی تک ہمارے نقادوں کو یہی نہیں پتا چلا کہ ادب پڑھتے کیسے ہیں۔دوسروں کو کیا بتائیں گے اور قاری کی کیا تربیت کریں گے ۔ ‘‘

ایران میں اچھی نثر بھی لکھی جا رہی ہے اور شاعری بھی بہت اچھی ہورہی ہے لیکن اگر کہیں کہ بہت غیر معمولی ادب تخلیق ہورہا ہے تو میرا جواب نفی میں ہوگا۔اور نقادوں کے بارے میں میرا نہیں خیال کہ پورے ایران میں آپ کو ہمارے عسکری صاحب کے پائے کا کوئی نقاد ملے گا۔

آپ بلاشبہ زندگی سے مطمئن ہیں۔ عدم اطمینان کا ایک پہلو بس یہ ہے کہ جتنا علمی کام کرنا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا۔اس ضمن میں ان کا کہناہے کہ ان کی تکمیلیت پسندی کا بھی اس میں دخل ہے ۔ تنقید میں کوشش کرتے ہیں کہ پامال موضوعات سے گریز کیا جائے اور تحقیق میں یہ اصول ہے کہ پوری چھان پھٹک سے کام لیا جائے ۔

آپ جدید اسلامی فکر پر لکھنے والوں میں حسین نصر، رینے گینوں،گائی ایٹن اور ہسٹن سمتھ کی فکر سے متاثر ہیں۔مولانا شبلی نعمانی ان کی پسندیدہ علمی شخصیات میں شامل ہیں۔علامہ اقبال کو وہ اپنی آئیڈیل شخصیت قرار دیتے ہیں۔کلیات اقبال اردو و فارسی مسلسل ان کے زیر مطالعہ رہتی ہیں۔زندگی میں جو حوادث آپ کو درپیش آئے ان کو سہارنے کا حوصلہ اقبال سے ملا۔اقبال کے علاوہ تین شاعر جو انہیں بہت پسند ہیں اور ان کو بار بار پڑھتے ہیں۔ وہ رومی ،بیدل اور غالب ہیں۔ وہ اس بات پر بھی دل گرفتہ ہیں کہ قرآن پاک ہماری زندگیوں سے خارج ہوتا جارہا ہے اور اس کو پڑھنے میں پہلے والے ذوق و شوق میں کمی آرہی ہے۔مغربی تاریخ نقد میں، انہیں ایلیٹ، جارج سٹائنر ٗ ٹیری ایگلٹن ٗ نارتھ روپ فرائی اور ایف آر لیوس کا تنقیدی انداز پسند ہے۔ان کی شدید خواہش ہے کہ اﷲ تعالیٰ انہیں علم اور حقیقت اشیاء کی تہہ تک پہنچنے کی توفیق دے۔وہ اپنی زندگی کو اقبال کے اس شعر کے مصداق پاتے ہیں ؂
اک اضطراب مسلسل غیاب ہو کہ حضور
میں خود کہوں تو مری داستاں دراز نہیں

خالد بہزاد ہاشمی‘ ڈاکٹر تحسین فراقی کی شاعری اور فن پرروشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر تحسین فراقی (پرائیڈ آف پارفارمنس) تنقید‘ تحقیق اور تخلیق کا ایسا نام ہے جو گزشتہ چار دہائیوں سے علم وادب کے ایوانوں کو اپنے منفرد اور قابل ذکر کام سے معطر کر رہا ہے۔

غالب اور اقبال ڈاکٹر تحسین فراقی کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ ان دونوں موضوعات پر غالب فکر وفرہنگ‘ اقبال چند نئے مباحث (وزیراعظم ادبی ایوارڈ‘ قومی صدارتی اقبال ایوارڈ) مطالعہ بیدل فکر برگساں کی روشنی میں جہات اقبال اور نقد اقبال حیات اقبال پر غالب اور اقبال شناسوں سے بہت پذیرائی حاصل کی۔ ان کی اب تک اکتیس تنقیدی‘ تحقیقی اور علمی کتب شائع ہو چکی ہیں۔

ڈاکٹر تحسین فراقی آج کل اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی میں بطور پروفیسر کام کر رہے ہیں۔ بقول امیرؔ
ایک ہی رنگ ہماری سحر و شام میں ہے

سو تحسین فراقی جہاں بھی ہوں اپنا رنگ خوش جمال خوب جماتے ہیں۔ ان کا نقش ثانی ہمیشہ نقش اول سے دو قدم آگے ہی دکھائی دیتا ہے۔ ماہ وسال کی تھکن‘ مسافت اور گرد نے ان کے تخلیقی جوہر کو مزید جلا بخشی ہے۔

کم گو اور سنجیدہ مزاج تحسین فراقی شرافت کا مرقع ہیں۔ ان پر کلاسیکل ادب کی ایسی شخصیت کا گمان گزرتا ہے جو اجڑے دیار کی کسی گلی میں روپوشی کے بعد یکلخت کوچہ ادب میں نمودار ہو کر اپنے حیران اور چونکا دینے والا کام ادب کی دہلیز پر خاموشی سے رکھنے کے بعد پھر جذبہ صدق ووفا کے ساتھ نیا جوگ دھار لیتی ہے۔

انہیں نہ تقاریب پذیرائی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی خبروں کی۔ وہ اپنا اعلیٰ سے اعلیٰ تخلیقی فن پارہ اس عاجزی اور مروت سے پیش کرتے ہیں کہ یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ جھینپ رہے ہوں۔ مخصوص اور بے تکلف احباب میں ان کی خوش گفتاری بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ گزشتہ دنوں یکے بعد دیگرے ان کے دو تخلیقی و تدوینی کارنامے ’’شاخ زریاب‘‘ شعری مجموعہ اور 554 صفحات پر مشتمل ششماہی ’’مباحث‘‘ کتابی سلسلہ نمبر 1 جنوری تا جون 2012ء منصۂ شہود پر آئے۔ ان دونوں پر بیک وقت کچھ لکھنا خاصا دشوار لگ رہا ہے۔ اگر ایک جانب ’’شاخ زریاب‘‘ کی حسن وخوبی سے مرصع دل گداز غزلیں اور نظمیں دامن دل کو چھوتی ہیں تو دوسری جانب ’’مباحث‘‘ کے تمام غیرمطبوعہ مضامین قدموں کو جکڑ لیتے ہیں اور قاری حیرانی وتذبذب کا شکار ہو جاتا ہے کہ دونوں میں سے پہلے کس کا انتخاب کرے۔

ڈاکٹر تحسین فراقی نے شاعری کا باقاعدہ آغاز 1970ء سے کیا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ نقش اول 1992ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعے کی بعض نظموں اور غزلوں کے شعر مقبول ہوئے جیسے مثلاً قریہ سبز سے فاختاؤں کی ہجرت اور غزل کے شعروں میں اس طرح کے شعر:
وہ میرے پاس نہیں میرے دل کے پاس تو ہے
چراغ ایک ہے اور دو گھروں میں جلتا ہے
آنکھ بولتی ہے اس کے بھی لب ہوتے ہیں
گفتگو کرنے کے سو طرح کے ڈھب ہوتے ہیں

اب ٹھیک بیس برس بعد دوسرا مجموعہ ’’شاخ زریاب‘‘ یعنی Golden Bough…… اس مجموعے کے بعض شعر بھی مقبول ہوئے۔
مجھ سا انجان کسی موڑ پر کھو سکتا ہے
حادثہ کوئی بھی اس شہر میں ہو سکتا ہے
تجھے خبر ہی نہیں قونیہ کی دوری سے
تمام عمر مرا کس قدر زیاں ہوا ہے

علاوہ ازیں کئی نظمیں مثلاً ’’خبر وحشت اثر تھی‘ قیامت آ لگی ہے‘ الٰہی بخش یہ پل دشمنی کیوں کر رہے ہو‘ کیمبرج کی ایک صبح‘ ہفت یا قوت اور انتظار‘‘ بہت پسند کی گئیں۔ ’’انتظار‘‘ کا تو کئی برس پہلے عربی میں ترجمہ بھی ہوا جو ایک ممتاز مصری ادیب ابراہیم محمد ابراہیم المصری نے کیا اور جامعہ ازہر قاہرہ کے مجلے میں شائع ہوا۔

"شاخ زریاب"سرورق پر پروفیسر سیف اﷲ خالد رقم طراز ہیں کہ اس صحیفے کا حرف حرف نیرنگ تجربوں کی چھلکتی چھاگل ہے۔ فلیپ پر میرزا ادیب اور جعفر بلوچ کی آراء بھی شامل ہیں۔ ’’شاخ زریاب‘‘ کا تخلیقی مزاج کے عنوان سے خالد علیم لکھتے ہیں۔ ڈاکٹر تحسین فراقی کے باطن سے پھوٹنے والے احساس اور شعری جمالیات نے معجزہ فن ضرور کر دکھایا ہے اور ان کی باطنی کیفیات کا پرتو ان کی شاعری میں اپنی پوری تب وتاب سے عکس فگن ہے۔ ’’شاخ زریاب‘‘ میں کلاسیکی اور جدید ادب کا امتزاج‘ فارسی آمیز تراکیب کی چاشنی اپنے بھرپور رچاؤ اور آہنگ کے ساتھ موجود ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جوان لخت جگر عمر کی یاد میں کہے اشعار کسی بھی صاحب اولاد کے کلیجے کو دہلا دیتے ہیں:
رات آتی ہے تو بے سدھ ہو کے اے جان پدر
خاک کے بستر پہ تیرے ساتھ سو جاتے ہیں ہم
باری تو تھی میری‘ تجھے جلدی تھی کس لئے
اے خوب رو جواں تیرے جانے کے دن نہ تھے
وقت مرہم ہے‘ یہ سنتا ہوں تو کانپ اٹھتا ہوں
کیا میرے دل سے کبھی غم ترا جاتا رہے گا؟

160 صفحات پر مشتمل اس شعری مجموعے کو الحمد پبلی کیشنز‘ رانا چیمبرز‘ سیکنڈ فلور چوک پرانی انار کلی لیک روڈ‘ لاہور نے شائع کیا ہے۔

’’مباحث‘‘ کے مدیر تحسین فراقی ہیں جبکہ معاون مدیران میں ڈاکٹر رفاقت شاہد‘ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک‘ امجد طفیل شامل ہیں جبکہ اس کی مجلس مشاورت میں شمس الرحمن فاروقی (الٰہ آباد) ڈاکٹر شفیعی کدکنی (تہران)‘ ڈاکٹر شمیم حنفی (دہلی)‘ ڈاکٹر عبدالحق (دہلی)‘ ڈاکٹر اصغر عباس (علی گڑھ)‘ ڈاکٹر قاضی افضال حسین (علی گڑھ)‘ ڈاکٹر ابو الکلام قاسمی (علی گڑھ)‘ ڈاکٹر ظفر احمد صدیقی (علی گڑھ)‘ ڈاکٹر محمد کیو مرثی (تہران)‘ ڈاکٹر علی بیات (تہران)‘ انتظار حسین‘محمد سلیم الرحمن‘ افتخار عارف‘ ڈاکٹر ممتاز احمد‘ ڈاکٹر خورشید رضوی‘ ڈاکٹر معین الدین عقیل‘ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی‘ افضل حق قرشی‘ ڈاکٹر رؤف پاریکھ‘ مبین مرزا اور محمد حمید شاہد شامل ہیں۔

مشفق خواجہ کے تحریر کردہ ڈاکٹر تحسین فراقی کے نام 41 خطوط بھی اس میں شامل ہیں۔ قبل ازیں تحسین فراقی کے نام مشفق خواجہ کے 91 خطوط ’’مکالمہ‘‘ کراچی کے شمارہ نمبر 15 میں شائع ہو چکے ہیں جبکہ این میری شمل بحیثیت غالب شناس میں ڈاکٹر تحسین فراقی نے جس طرح ثبوت اور دلائل کے ساتھ این میری شمل کی اغلاط بشمول ترجمہ اور تحقیق کی نشاندہی کی ہے وہ تحسین فراقی کی ہی تحقیق اور تحسین ہو سکتی ہے۔ مباحث کے ضخیم شمارے میں سے یہ ایک مثال ہی اس کے تعارف کی دلیل ہے۔

اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بارہا مقامات پر فرمایا کہ آخر تم غور وفکر کیوں نہیں کرتے؟ اور دیکھیے کہ اغیار نے اپنے اذہان پر غور وفکر کے دریچے وا کئے اور عالم پر چھا گئے اور ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ ’’مباحث‘‘ بھی علم وادب میں غور وفکر کے انہی دریچوں کو وا کرنے کی ایسی شروعات ہے جو آگاہی اور وجدان کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔
 
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
03 Apr, 2015 Total Views: 766 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 380 Articles with 132196 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB