امتِ مسلمہ میں شرک

(Abdullah Amanat Muhammadi, Kasur)

معاشرے میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ : ’’ مسلمان جو چاہیں کریں شرک سے بچے رہیں گے ‘‘ ۔ لوگ نیکی سمجھ کر قبروں پر ماتھا ٹیکتے ، ملنگوں کے پاؤں چومتے ، درباروں پر مجاور بن کر بیٹھتے اور غیر اﷲ سے مدد طلب کرتے ہیں ۔ کیونکہ انہیں سبق پڑھایا گیا ہے کہ : ’’ مسلم امہ میں شرک نہیں ہو گا ‘‘ ۔ جبکہ قرآن و حدیث اور ائمہ دین کے اقوال سے روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ : ’’ مسلمان بھی پہلی قوموں کی طرح شرک کریں گے ۔ ‘‘

کتاب اﷲ میں ہے کہ اکثر لوگ ایمان لانے کے با وجود بھی مشرک ہیں ۔ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُھُمْ بِاللّٰہِ اِلَّا وَھُمْ مُّشْرِکُوْنَ : ان میں سے اکثر لوگ باوجود اﷲ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں ‘‘ ، (یوسف : ۱۰۶ ) ۔ عصر رواں کے قبر پرستوں کا بھی یہی حال ہے کہ وہ اﷲ پر ایمان تو لاتے ہیں لیکن مدد کے لیے قبروں میں مدفون بزرگوں کو بھی پکارتے ہیں ۔

آئیے ! ہم اس مسئلے کا فیصلہ احادیث مصطفی ﷺ سے کروا لیتے ہیں ۔ حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : ’’ میری امت کے کچھ قبیلے بتوں کی پرستش کرنے لگیں گے اور (بت پرستی میں ) مشرکوں سے جاملیں گے ‘‘ ، (ابن ماجہ :۳۹۵۲ ) ۔سیدنا ابوذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ : ’’ میرے پاس میرے رب کا ایک آنے والا (فرشتہ )آیا ۔ اس نے مجھے خوشخبری دی کہ میری امت سے جو کوئی اس حال میں مرے کہ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ اس نے کوئی شریک نہ ٹھہرایا ہوتو وہ جنت میں جائے گا ‘‘ ، (بخاری : ۱۲۳۷ ) ۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : ’’ ہر نبی کی ایک دعا قبول کی جاتی ہے ، ہر نبی نے اپنی دعا میں جلدی کی اور میں نے اپنی دعا اپنی امت کی شفاعت کے لیے قیامت والے دن کے لیے چھپا رکھی ہے اور میری دعا ’’ان شاء اﷲ‘‘ ، میری امت میں سے ہر اس آدمی کو پہنچے گی جو اس حالت میں فوت ہوا کہ وہ اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا ‘‘ ، (مسلم:۴۹۱) ۔ سیدنا انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ : ’’ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ۔۔۔اے ابن آدم ! اگر تو روئے زمین کے برابر بھی گناہ لے کر آئے پھر مجھ سے اس حالت میں ملاقات کرے کہ تو میرے ساتھ کچھ بھی شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں روئے زمین کے برابر ہی تجھے مغفرت عطا کر دوں گا‘‘ ، (ترمذی : ۳۳۱۰) ۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اسلام لائے پھر شرک کرے اسلام کے بعد اﷲ تعالیٰ اس کا کوئی عمل قبول نہیں فرماتے یہاں تک کہ شرک کرنے والوں کو چھوڑ کر مسلمانوں میں شامل ہوجائے ‘‘ ، (ابنِ ماجہ :۲۵۳۶ ) ۔ اور سیدنا عبداﷲ بن مسعودؓ سے مروی ہے ، جب سورۃ الانعام کی یہ آیت اتری جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں گناہوں (ظلم ) کی آمیزش نہیں کی ، تو آپ ﷺ کے اصحاب نے کہا یا رسول اﷲ ! ﷺ یہ تو بہت ہی مشکل ہے ۔ ہم میں کون ایسا ہے جس نے گناہ (ظلم ) نہیں کیا ۔ تب ا ﷲ پاک نے سورۃ لقمان کی یہ آیت اتاری ’’ ان الشرک لظلم عظیم ‘‘ ، کہ بیشک شرک بڑا ظلم ہے ‘‘ ، (بخاری :۳۲) ۔نبی پاک ﷺ سے کثیر التعداد احادیث مروی ہیں جن سے واضح ہے کہ : ’’ مسلمان بھی شرک کریں گئے ۔ ‘‘

سلف صالحین کا بھی عقیدہ یہی ہے کہ : ’’ مسلمان مشرک ہو سکتے ہیں ‘‘ ۔ جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ : ’’ جو لوگ انبیا ؑ اور نیک لوگوں کی قبور کی زیارت کرنے آتے ہیں اور انہیں پکارنے اور ان سے سوال کرنے کی غرض سے آتے ہیں یا اس لیے آتے ہیں کہ ان کی عبادت کریں اور انہیں اﷲ کے علاوہ پکاریں تو ایسے لوگ مشرک ہیں ‘‘ ، (الرد علی الاخنائی :۵۲ ) ، (کلمہ گو مشرک ، ص : ۹۲ )۔ امام مالک ؒ کے دور میں بھی مسلمانوں کے بہت سے فرقے ہوچکے تھے ، اس وقت کے قدریہ ، جو تقدیر کے منکر تھے جب ان کے ساتھ شادی کے بارے میں امام مالک ؒ سے پوچھا گیا تو انہوں نے قرآن پاک کی یہ آیت پڑھی : ’’ ایمان والا غلام ، آزاد مشرک سے بہتر ہے ، گو مشرک تمہیں اچھا لگے ‘‘ ، (البقرۃ : ۲۲۱) ، (کلمہ گو مشرک ، ص : ۹۱ )۔ ائمہ و محدثین ؒ کے فتاویٰ جات سے نمایاں ( Clear) ہے کہ مسلمانوں میں بھی مشرک ہیں ۔

میرے ذہن میں مولانا الطاف حسین حالی ؒ کے وہ اشعار ہتھوڑے کی طرح ٹکرا رہے ہیں جن میں وہ فرماتے ہیں :
کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر
جھکے آگ پر بہر سجدہ تو کافر کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر
مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں
پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں
نبی کو چاہیں خدا کر دکھائیں اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں
مزاروں پہ دن رات نذریں چڑھائیں شہیدوں سے جاجا کے مانگیں دُعائیں
نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے
نہ اِسلام بگڑے نہ ایمان جائے
وہ دین جس سے توحید پھیلی جہاں میں ہوا جلوہ گر حق زمین و زماں میں
رہا شرک باقی نہ وہم و گماں میں وہ بدلہ گیا آکے ہندوستان میں
ہمیشہ سے اسلام تھا جس پہ نازاں
وہ دولت بھی کھو بیٹھے آخر مسلماں

حضرت ابوبکر صدیقؓ سے روایت ہے کہ سید المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ تم میں شرک چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہوگا اور میں تمھیں ایک ایسی دعا بتاتا ہوں کہ اگر تم اسے پڑھتے رہے تو اﷲ تعالیٰ تم سے چھوٹے بڑے شرک کو دور کردے گا ۔ تم یہ دعا پڑھنا : اللّھمّ انّی أعوذبؤ أن أشرأ بأ وأنا أعلم ، وأستغفرأ لما لا أعلم ‘‘ ، (صحیح الجامع للالبانی : ۳۷۳۱ ) (زاد الخطیب ، جلد : ۲ ، صفحہ : ۵۱ ) ۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ :’’ تم میں شرک چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہوگا‘‘ ، مسلمان سمجھتے ہیں امت مسلمہ جو چاہیے کرے شرک کی مرتکب ہی نہیں ہو سکتی ۔ہم لوگ جو زنا کرے اسے بدکار ، جو چوری کرے اسے چور ، جو جھگڑا کرے اور لڑاکا اور جو ہلاک کرے اسے قاتل کہتے ہیں ؟ جب کوئی شرک کرے تو کہتے ہو نیک اعمال کرنے والا یا مسلمان مشرک نہیں ہو سکتا ۔

سماج ( Society ) میں لوگ دن بہ دن توحید و سنت سے دوراور شرک و بدعت سے تعلق جوڑ رہے ہیں کیونکہ وہ کتاب و سنت کا علم حاصل ہی نہیں کرتے ۔ عوام الناس ، اﷲ تعالیٰ کی ذات ، صفات اور عبادات میں غیروں کو شریک ، اجر عظیم سمجھ کر کرتے ہیں ۔ جبکہ اﷲ پاک فرماتے ہیں کہ : ’’ یقیناًاﷲ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اﷲ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا ‘‘ ، ( النساء : ۴۸ ) ۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
18 May, 2015 Total Views: 575 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Abdullah Amanat Muhammadi

I am a Google certified digital marketing expert and CEO at AAM Consultants. I have more than three years’ experience in the field of content writing .. View More

Read More Articles by Abdullah Amanat Muhammadi: 61 Articles with 30881 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB