السلام علیکم

(Abdullah Amanat Muhammadi, Kasur)

دنیا کے ہر مذہب کے لوگ جب آپس میں ملتے ہیں تو کچھ مخصوص الفاظ ادا کرتے ہیں ۔ ہندو ملاقات کے وقت رام رام ، نمسکار یا نمستے ، سکھ جئے گرو اور انگریز گڈ مورننگ ، گڈ ایوننگ یا گڈ نائٹ وغیرہ کہتے ہیں ۔ جبکہ مسلمان ایک ، دوسرے سے ملتے ہوئے السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہتے ہیں ۔ یہ ایک عمدہ ( Excellent ) اور جامع دعا ہے ، جس کی اہمیت قرآن و حدیث سے واضح ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے سلام کہنے اور اسکا جواب دینے کی تاکید کی ہے ۔ رب رحمن فرماتے ہیں : ’’ اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا انہی الفاظ کو لوٹا دو ، بے شبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے ‘‘ ، ( النساء : ۸۶ ) ۔ اور فرمایا: ’’ پس جب تم گھروں میں جاؤ ، تو اپنے گھر والوں کو سلام کر لیا کرو، دعائے خیر ہے جو بابرکت اور پاکیزہ ہے اللہ تعالیٰ کی طر ف سے نازل شدہ ، یوں ہی اللہ تعالیٰ کھول کھول کر تم سے اپنے احکام بیان فرما رہا ہے تاکہ تم سمجھ لو ‘‘ ، ( النور : ۶۱ ) ۔ اور مزید فرمایا : اے ایمان والو ! اپنے گھروں کے سو ا پرائے گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کر لو ، یہی تمہارے لیے سراسر بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو ‘‘ ، ( النور : ۲۷ ) ۔ سلام کرنے سے اخوت و ہمدردی اور محبت و مروت بڑھتی ہے ۔

سید المر سلین ﷺ نے بھی سلام کرنے کی بہت اہمیت و فضیلت بیان فرمائی ہے ۔ سید نا عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے ، ایک آدمی نے نبی پاک ﷺ سے سوال کیا کہ : ’’ اسلام کی کون سی خصلت بہتر ہے ؟ ‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم کھانا کھلاؤ اور سب کو سلام کرو ( چاہے ) تم اسے پہچانتے ہو یا نہیں پہچانتے ہو ‘‘ ، ( بخاری : ۱۲ ) ۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں ‘‘ ، پوچھا گیا : ’’ اے اللہ کے رسول ﷺ وہ کون سے حقوق ہیں ؟ ‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم کسی مسلمان سے ملو تو اس کو سلام کرو ۔ جب وہ تم کو دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرو ۔ جب وہ تم سے نصیحت ( یعنی مشورہ ) طلب کرے تو اس کو اچھی نصیحت کرو ۔ جب وہ چھینک کے بعد الحمداللہ کہے تو اس کی چھینک کا جواب یر حمک اللہ کہو ۔ اور جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو ۔ اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کی نماز جنازہ میں جاؤ ‘‘ ، ( مسلم : ۵۳۷۹ ) ۔ اور سیدنا ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ لوگوں میں اللہ کے ہاں سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو انہیں سلام کہنے میں پہل کرے ‘‘ ، ( ابو داؤد : ۵۱۹۷ ) ۔ سلام میں پہل کرنے والا غرور و تکبر سے پاک ہوتا ہے ۔

ہر مسلمان کو سلام کے احکام و مسائل کا علم ہونا چاہیے ۔ چھوٹا ، بڑے کو ، گزرنے والا بیٹھے ہوئے کو ، تھوڑے آدمی زیادہ آدمیوں کو ، سوار پیدل کو اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کرے ۔ اگر ایک مرتبہ ملنے کے بعد درمیان میں کوئی دیوار ، پتھر یا درخت آ جائے تو دوبارہ ملاقات کے وقت سلام کرنا چاہیے ۔ کسی مجلس میں جاتے اور رخصت ہوتے وقت سلام کرنا چاہیے ۔ غائبانہ سلام کے جواب میں : ’’ علیک و علیہ السلام و رحمۃ اللہ و بر کاتہ ‘‘ ، کہہ دینا چاہیے۔ گھر میں داخل ہوتے ہوئے اور دوران ملاقات گفتگو سے پہلے سلام کرنا چاہیے ۔ پیشاب کرنے والا کسی کے سلام کا جواب نہ دے ۔ شرابی کو سلام نہیں کرنا چاہیے ۔ صرف ہاتھ کے اشارے سے سلام کرنا جائز نہیں ۔ جب غیر مسلم سلام کہیں تو جواب میں و علیکم کہہ دینا چاہیے ۔ کوئی بھی مسلمان جب اپنی زندگی کتاب و سنت کے مطابق گزارے گا تو اسے ایمان کی حلاوت نصیب ہو گی ۔

ہمیں چاہیے کہ : ’’ ہیلو ، ہائے ، بائے بائے ، گڈ بائے اور ٹا ٹا کی بجائے السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ جیسی عظیم سنت عام کریں ‘‘ ۔ جو ہمیں پالنے والے کا حکم اور سید المرسلین ﷺ کا طریقہ بھی ہے ۔ سلام ایسی دعا ہے جس سے محبت و بھائی چارہ بڑھتا ہے ، جو صدقہ اور مسلمان کا حق بھی ہے ۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
07 Jul, 2015 Total Views: 436 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Abdullah Amanat Muhammadi

I am a Google certified digital marketing expert and CEO at AAM Consultants. I have more than three years’ experience in the field of content writing .. View More

Read More Articles by Abdullah Amanat Muhammadi: 61 Articles with 30878 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB