امریکہ: پراسرار ایریا 51 کی حقیقت کیا ہے؟

 

عام طور پر امریکہ کا یہ پراسرار علاقہ ایریا 51 لوگوں کے درمیان ایک ایسے ریسرچ سینٹر کے طور پر مشہور ہے جہاں اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق پر تحقیق کی جاتی ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ ایریا 51 ایک پراسرار راز ہے اور اس سے متعلق اب تک متعدد نظریات سامنے آچکے ہیں- لیکن ان تمام نظریات کے کوئی واضح ثبوت موجود نہیں- ہم یہاں ایریا 51 سے متعلق چند ایسے نظریات پیش کر رہے جن کی حکومت کی جانب سے تصدیق یا تردید نہیں کی جاتی- تاہم امریکی حکومت یہ بھی نہیں چاہتی کہ لوگوں اس علاقے کے بارے میں کچھ جانیں-
 

اس علاقے کو ایریا 51 کا نام اس لیے دیا گیا کہ یہ ان علاقوں کے نقشے میں شامل کیا جانے والا 51واں علاقہ تھا جہاں ایٹم بم کے تجربات کیے جاتے تھے-
 
ایریا 51 کے بارے میں امریکی صدر کو بھی صرف اتنی ہی معلومات ہوتی ہے جتنی اسے ضرورت کے تحت فراہم کی جاتی ہے- اس کے علاوہ وہ بھی اس بات سے واقف نہیں ہوتا کہ اس مقام پر کیا ہورہا ہے؟
 
باراک اوبامہ وہ پہلے امریکی صدر ہیں جنہوں نے کسی پروگرام کے دوران اس علاقے کے بارے میں کوئی تبصرہ کیا- تاہم یہ تبصرہ مزاح کے طور پر کیا گیا اور یہ پروگرام ایوارڈ کی تقریب تھی جو 8 دسمبر 2013 کو منعقد کی گئی-
 
ایریا 51 میں خفیہ طور پر سوویت مگ لڑاکا طیاروں کی طرز کے لڑاکا طیارے ڈیزائن کیے گئے- اور اس آپریشن کو HAVE DOUGHNUT کا نام دیا گیا-
 
ایریا 51 کی طرف جانے والی ہائی وے کو 1996 میں سرکاری سطح پر “Extraterrestrial Highway” کا نام دیا گیا- یہ نام اس مقام پر اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کو دیکھے جانے کی متعدد رپورٹس موصول ہونے کے بعد دیا گیا-
 
اس پراسرار علاقے اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حامل ڈرون RQ-170 Sentinel تیار کیے گئے- اس کے علاوہ ایک افواہ یہ بھی ہے کہ یہاں اسامہ بن لادن کی تلاش کے حوالے سے انٹیلیجنس اداروں کی میٹنگ ہوا کرتی تھیں-
 
ایریا 51 کے حوالے سے بعض نظریات میں یہ بھی کہا گیا ہے امریکی خلا باز چاند پر نہیں بلکہ ایریا 51 کے علاقے میں ہی اترے تھے جہاں انہوں نے کئی قسم کے تجربات کیے-
 
1995 میں امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے اس علاقے کو تمام قانونی تقاضوں سے مثتثنیٰ قرار دے دیا اور اس کے علاوہ اس بات کے بھی احکامات جاری کیے گئے کہ ایریا 51 میں کسی قسم کی تحقیقات نہیں کی جاسکتی-
 
مقامی افراد نے اس علاقے میں بہت سی مشکوک سرگرمیاں دیکھی ہیں- یہاں کا زیادہ اسٹاف روزانہ لاس ویگاس سے ہوائی سفر کر کے اس جگہ تک پہنچتا ہے- لاس ویگاس ایریا 51 سے 90 میل کے فاصلے پر واقع ہے-
 

ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ایریا 51 کے کمپیوٹروں سے کوئی معلوم چرائی نہیں جاسکتی اور نہ ہی انہیں ہیک کیا جاسکتا ہے کیونکہ انٹرنیٹ کا نظام ہی نہیں رکھا گیا-
 

Jimmy Kimmel کے لائیو پروگرام میں بطورِ مہمان شرکت کرنے والے امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے ایک مرتبہ اعلان کیا تھا کہ ایریا 51 میں صرف اسٹیلتھ ٹیکنالوجی تیار کی جارہی ہے اور یہاں کوئی خلائی مخلوق نہیں ہے-
 

امریکہ کے ایک صدر Dwight D. Eisenhower نے پہلی مرتبہ ایریا 51 کو اس وقت سی آئی اے کے کنٹرول میں دے دیا تھا جب جاسوسی طیارے U-2 تیار کیے جارہے تھے- ان جاسوسی طیاروں نے سوویت یونین کے خلاف آپریشن میں اہم کردار ادا کیا-
 

ایریا 51 کے سابق ملازمین کی ایک ایسوسی ایشن قائم ہے جو حاضر ملازمین کے ساتھ اپنے تجربات اور معلومات شئیر کرتی ہے- تاہم یہ معلومات بھی آج تک عام نہیں ہوسکی-
 

ایریا 51 کو Groom جھیل کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے- یہ ایک نمکین پانی کی جھیل تھی جو اب خشک ہوچکی ہے-
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
31 Jul, 2017 Total Views: 14404 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
yahan par shetani aimal sar anjam diye jate hain.
By: azeem, lahore on Aug, 12 2015
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Widely regarded as the research center for aliens and UFOs in popular culture and conspiracy theories, Area 51 is a mystery. Despite the theories, there’s little published evidence to prove Area 51 has extraterrestrial ties. Come find out more and delve into Area 51’s secrets with these 25 Demystifying Facts About Area 51 The Government Probably Doesn’t Want You To Know.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB