چونکا دینے والے سمندری حقائق٬ کچھ دلچسپ تو کچھ خوفناک

 

مشہور مصنف H.P. Lovecraft نے ایک بار کہا تھا کہ “ سمندر پہاڑوں سے بھی زیادہ قدیم ہیں اور یادداشتوں اور وقت کے خوابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں“- لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ زمین کا تو ایک بہت بڑا حصہ دریافت کیا جاچکا ہے جبکہ اب تک سمندر کا جتنا بھی حصہ دریافت کیا گیا ہے وہ 5 فیصد سے بھی کم ہے- ہم آج آپ کو سمندر کے حوالے سے چند ایسے حقائق بتائیں گے جن میں سے کچھ دلچسپ بھی ہیں اور کچھ خوفناک بھی-
 

دنیا کا سب سے بڑا سد مرجان یا سمندری مرجان ( Great Barrier Reef ) کا سلسلہ شمال مشرقی آسٹریلیا کے کوئںزلینڈ کے ساحل پر واقع ہے اور یہ 1600 میل کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے- یہ دنیا کا سب سے بڑا حیات اسٹرکچر ہے- اور اسے سمندر کے اوپر سے بھی دیکھا جاسکتا ہے-
 
اس عجیب و غریب چٹان کو Rockall کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ چٹان برطانیہ کے سمندری ساحل سے 290 میل کے فاصلے پر واقع ہے اور سمندر سے باہر نکلی ہوئی ہے- اس چٹان کی چوڑائی 30 میٹر ہے-
 
ماہرین کے نزدیک سمندری دیوہیکل جانوروں کا وجود ممکن ہے کیونکہ سمندر کے ایک بہت بڑے حصے میں موجود رازوں سے آج تک پردہ اٹھایا ہی نہیں جاسکا جبکہ زمین پر پائی جانے والی 86 فیصد مخلوق کو دریافت کیا جاچکا ہے-
 
امریکہ کا 50 فیصد علاقہ سطحِ سمندر سے نیچے ہے-
 
بحرِ اوقیانوس کے ایک مقام کو “ وائٹ شارک کیفے “ کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ وہ جگہ ہے جہاں یہ خطرناک شارک بڑی تعداد میں اکھٹی ہوتی ہیں-
 
شارک کی 99 فیصد اقسام کا خاتمہ ہوچکا ہے-
 
ہماری اس سرزمین کا سب سے طویل ترین پہاڑی سلسلہ درحقیقت سمندر کے نیچے ہے- یہ سلسلہ بحراوقیانوس کے نیچے ہے 23000 میل کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے- اس پہاڑی سلسلے میں بلند و بالا چوٹیاں بھی موجود ہیں -
 
ہماری زمین کو زیادہ تر آکسیجن سمندر میں پائے جانے والے مائیکرو سکوپک جانوروں سے حاصل ہوتی ہے- ان جانوروں کو phytoplankton کہا جاتا ہے-
 
سمندر اوسطاً گہرائی 12400 فٹ ہے جبکہ روشنی 330 فٹ کی گہرائی تک جاسکتی ہے- اس طرح ہمارے سیارے کا زیادہ تر حصہ مسلسل اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے-
 

جیلی فش شارک کے مقابلے میں 15 سے 30 گنا زائد لوگوں کو اپنا شکار بناتی ہے-
 

ماہرین کے اندازے کے مطابق 20 ملین ٹن سونا اب تک سمندروں کی تہہ میں موجود ہے-
 

ایک ملی لیٹر سمندری پانی ایک ملین جرثوموں اور 10 ملین وائرس پر مشتمل ہوتا ہے- تاہم اس میں سے بیشتر نقصان کا باعث نہیں بنتے-
 

انسانی تاریخ کے زیادہ تر نمونے سمندروں کی تہہ میں موجود ہیں اور ان کی تعداد دنیا کے تمام میوزیم میں رکھے جانے والے نمونوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے-

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
20 Jun, 2017 Total Views: 9260 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
behtreen post and article,
By: azeem, paklahore on May, 12 2016
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Sci-fi writer H.P. Lovecraft once said that the ocean "is more ancient than the mountains, and freighted with the memories and the dreams of Time." We land-dwellers can sometimes take the ocean for granted, but we really shouldn't, since the Earth's surface is 70% water. When you think of it that way, this is the ocean's planet, and we're just guests.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB