ایسے پختہ نظریات جن کا حقیقت سے کوئی واسط نہیں

 

ہمارے معاشرے میں آج کے جدید دور میں بھی بہت سی ایسی باتیں گردش کر رہی ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں اور وہ صرف غلط فہمی سے زیادہ کچھ بھی نہیں- درحقیقت یہ باتیں یا معلومات صرف ایک دوسرے سے سن کر اور بغیر تصدیق کیے پھیلا دی گئی ہیں- لوگوں کے درمیان عام پائی جانے والی چند ایسی ہی غلط فہمیوں کا ذکر آج ہم اپنے اس آرٹیکل میں کریں گے جنہیں سائنس نے بالکل بےبنیاد قرار دیا ہے-
 

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ کتوں کو صرف سفید اور کالا رنگ دکھائی دیتا ہے لیکن یہ حقیقت نہیں- کتے بھی کئی رنگ دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں- البتہ انہیں انسانوں کے مقابلے میں کم رنگ دکھائی دیتے ہیں-
 
ہم ایک بات جو بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ “ اونٹ اپنے کوہان میں پانی ذخیرہ کرتا ہے“- آپ کو بتاتے چلیں کہ ماہرین نے اس نظریے کو بھی غلط قرار دیا ہے اور ان کے مطابق کوہان میں صرف چربی پائی جاتی ہے-
 
اکثر لوگوں کا ماننا ہے “ ایک ہی مقام پر آسمانی بجلی دو مرتبہ نہیں گرسکتی “- لیکن سائنسدانوں کے نزدیک یہ نظریہ بھی غلط ہے کیونکہ ایک ہی مقام پر دو بار آسمانی بجلی کا گرنا ناممکن نہیں-
 
1930 میں بعض سائنسدانوں نے مکھیوں کے بارے میں یہ انکشاف کیا تھا ان کے پرَ منجمد ہوتے ہیں اور وہ انہیں اڑنے میں مدد نہیں دیتے- تاہم بعد میں ماہرین نے مکھیوں کے طریقہِ پرواز کا راز جان لیا تھا- لیکن آج بھی اکثر لوگ یہی سمجھتے ہیں یہ بات آج بھی ایک راز ہے کہ مکھیاں کیسے اڑتی ہیں؟
 
ماہرین کے مطابق لوگوں میں پایا جانے والا یہ نظریہ انتہائی غلط ہے کہ جن کا دماغ بائیں جانب ہوتا ہے وہ دائیں جانب دماغ والوں سے زیادہ ذہین یا قابل ہوتے ہیں- ماہرین کے مطابق ان چیزوں کا انسان کی ذہانت اور شخصیت پر کوئی اثر نہیں ہوتا-
 
لوگوں کا عام خیال ہے کہ چمگادڑوں کو دکھائی نہیں دیتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنی آنکھوں کے ساتھ ساتھ آواز کی مدد سے سمت کا تعین کرنے کی صلاحیت کا بھی استعمال کرسکتے ہیں اور یہ اندھے نہیں ہوتے-
 
عموماً لوگ سمجھتے ہیں کہ جھوٹ بولنے والا شخص کبھی بھی آنکھیں ملا کر بات نہیں کرتا لیکن یہ بات خود جھوٹ ہے- آپ کبھی بھی بغیر تربیت کے کسی پختہ طریقے سے جھوٹ بولنے شخص کو پکڑ ہی نہیں سکتے-
 
یہ بھی ایک غلط نظریہ ہے کہ زبان کے مختلف حصے مختلف ذائقے پہچانتے ہیں کیونکہ زبان کا ہر حصہ ہر قسم کے ذائقے کی جانچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے-
 
ایشیائی باشندوں میں ایک غلط نظریہ انتہائی عام ہے کہ آپ کا بلڈ گروپ آپ کی شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے- ماہرین کے مطابق آپ کے خون کا گروپ چاہے جو بھی اس کے آپ کی شخصیت پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوتے-
 
اکثر لوگوں کا خیال ہے نپولین کا قد چھوٹا تھا لیکن حقیقت میں وہ ایک دراز قد شخصیت کا مالک تھا کہ اس وقت ایک شخص کا اوسطاً قد 5 فٹ 5 انچ ہوا کرتا تھا جبکہ نپولین کا قد 5 فٹ 7 انچ تھا- واضح رہے کہ وہ پیمائش فرانسیسی انچ میں کی گئی تھی جو کہ عالمی انچ سے مختلف ہے-
 
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
28 Feb, 2018 Total Views: 9520 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Do you believe in disproven myths? You may think you don’t but you might. As people, it can be hard to confront new information, especially when it challenges our preconceived notion of the world. For example, sugar makes kids hyper right? Science says otherwise. Of course, there are reasons that we believe what we do, but those reasons usually aren’t what we think they are.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB