پاکستان میں را کی دہشت گردی

(Naghma Habib, Peshawar)

ارتھ شاستر تقریباً تین سو سال قبل مسیح میں لکھی گئی کتاب ہے اسے موریہ خاندان کے وزیر سیاست کوٹلیہ عرف چانکیہ نے لکھا تھا جاسوسی کی یہ کتاب ہندو ذہنیت کا مکمل آئینہ ہے اس میں راجہ کو اپنی حکومت کو طول دینے کے لئے ہر ناجائز اور ظالمانہ فعل کو جائز قرار دیا گیا اور ہمسایہ ملکوں اور راجدھانیوں کو تباہ کرنے اور ان کے لئے امن و امان کے مسائل کھڑے کر کے انہیں کمزور کرنے اور اپنی حکومت اور ملک کے لئے فائدہ اٹھانے کے طریقے بتائے گئے تھے۔ ہندو ذہنیت ہمیشہ سے شاطر، چالباز اور تخریب کار رہی ہے صدیوں کے گزرنے نے اس پر کوئی اثر نہ ڈالا 1968 میں انہی اصولوں اور ضابطوں پر عمل کرنے کے لئے ارتھ شاستر کو چانکیہ سمیت پھر زندہ کر کے اسے ہندو ذہنیت نے را کا نام دیا۔ را کا بڑا مقصد بھی وہی ٹھہرا کہ ہمسایہ ممالک کو چین اور سکون سے نہ رہنے دیا جائے ان کے امن و امان کو تہہ و بالا کیا جاتا رہے ہوس ملک گیری میں انسانی جانوں سے کھیلا جاتا رہے اور انہیں امن اور سکون کو ترسا دیا جائے۔ را یہ کام چانکیہ جی کے متعدد چیلوں سے لیتی رہتی ہے وہ اپنے جاسوس بھی بھیجتی ہے اور ہمسایہ ممالک میں ضمیر فروشوں کو اچھے داموں خرید کر بھی یہ کام کرتی ہے۔ اپنے بے حساب بجٹ کی وجہ سے یہ کام اسکے لئے مشکل بھی نہیں ہوتا۔ را کے قیام کا سب سے بڑا مقصد پاکستان کو نشانہ بنانا تھا لیکن اس نے اپنے مذہب اور تاریخ کی تعلیمات کے عین مطابق اپنے دیگر پڑوسیوں کو بھی مسلسل نقصان پہنچایا جس کی بڑی مثال سری لنکا ہے جہاں تامل ٹائیگرز کو بے تحاشا اسلحہ اور پیسہ بھی دیا گیا اور تربیت بھی اور تقریباً تیس سال تک اس مکروہ فعل کو جاری رکھا گیا۔ سب سے پہلے ادھر ہی خودکش حملوں کے ذریعے فساد پھیلایا گیا لیکن تاملوں کے دل میں بغاوت بنام ’’آزادی‘‘ کا جو بیج بویا گیا پربھاکرن کی موت کے بعد آزادی کی یہی خواہش تامل ناڈو میں بھارتی تاملوں کی خواہش بننے لگی ہے۔ سری لنکا میں تو جو کیا گیا وہ کیا گیا پاکستان کو اپنے قیام سے لیکر اب تک کسی موقع پر بھارت نے معاف نہ کیا اور را نے اپنی اس ’’ڈیوٹی‘‘ کو بڑی تندھی سے انجام دیا ہے۔ مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسندوں اور مکتی باہنی جیسی تنظیموں کے ذریعے اس نے جو انسانیت سوز مظالم کئے وہ تو تاریخ کا حصہ ہیں لیکن بنگلہ دیش بننے کے بعد اس نے بنگلہ دیش کو بھی سکون سے نہ رہنے دیا اور آسام اور بنگال میں آزادی کی تحریکوں میں اسے ملوث قرار دے کر اپنی تخریبی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان دہشت گردی کی جس حالیہ لہر سے گزرا ہے اور گزر رہا ہے اس سے را کو کسی طرح بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنا مکروہ کھیل مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے سوات میں لوگوں کو دیکھ کر یہی خیال آتا رہا ہے کہ را نے کسطرح سالوں تک انکی زندگی اجیرن بنائے رکھی۔ سوات میں طالبان کے نام پر غیر مسلم لاشوں کا ملنا ہی اس بات کا ثبوت تھا کہ یہ لوگ نہ تو مقامی ہیں نہ کسی دوسرے مسلمان ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔ بھارتی ساختہ اسلحہ ان لوگوں کے عام استعمال میں رہا۔ را نے اپنے خزانوں کے منہ کھلے رکھے اور ایک رپورٹ کے مطابق سوات کے دہشت گردوں پر را نے تقریباً 650 ملین روپے خرچ کئے ورنہ اس قدر وافر اسلحہ، روپیہ اور دوسرے ذرائع یہ لوگ مقامی ذرائع میں کس طرح ممکن بناسکتے تھے۔ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ چندے سے ایسا کیا گیا تو کیا غریب عوام اتنا روپیہ جمع کر سکتے ہیں جس سے جدید اسلحہ خریدا جاسکے۔ جدید ترین انفارمیشن ٹیکنالوجی خریدی بھی جائے اور استعمال بھی کی جائے جبکہ سب ہی جانتے ہیں کہ ان تحریکوں کے لیڈران نہ تو اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے نہ ہی اعلیٰ تربیت یافتہ پھر وہ کیسے ان ٹیکنیکل معاملات کو سنبھالے ہوئے تھے۔

بلوچستان میں تو را کی مداخلت خیر اب ایک ایسی ثابت شدہ حقیقت بن چکی ہے جسے کسی طرح جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ براہمداغ سمیت بی ایل اے کی نام نہاد لیڈر شپ را کی مدد سے ہی لیڈر بنے ہیں۔ بالکل اسی طرح جسطرح طالبان میں عہدے تقسیم کئے گئے انہیں بڑے لیڈر بنا دیا گیا جبکہ وہ مکمل ان پڑھ اور دین سے بے خبر لوگ تھے۔ بیت اللہ محسود را کا ایک اور لاڈلا تھا جسے طلسماتی اور کرشماتی شخصیت بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔ بلوچستان ہی کی بات کو اگر آگے بڑھایا جائے تو جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکی ہوں کہ را اس وقت دنیا کی ناکام ترین خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا دست راست بنا ہوا ہے تاکہ پاکستان کے عدم استحکام کی اپنی خواہش بھی پوری کر سکے اور سی آئی اے سے بلوچستان کی معدنی دولت میں اپنا حصہ بھی وصول کر سکے۔ سی آئی اے کو میں نے ناکام اسلئے کہا کہ اب تک کوئی قابل ذکر کامیابی اس کے حصے میں نہیں آسکی۔ ویتنام سے لیکر عراق اور افغانستان تک ہر میدان میں اسے ناکامی کا ہی منہ دیکھنا پڑا نہ تو اس کی اطلاعات درست نکلی اور نہ اندازے۔

را خود تو پاکستان کے خلاف ہے ہی سرگرم عمل اب تو اس نے افغانستان کی خفیہ ایجنسی رام ﴿ریاست امانت ملیہ﴾ کو تربیت دینا شروع کی ہے تاکہ وہ پاکستان میں تخریبی کاروائیاں زیادہ مہارت سے کر سکے۔ افغانستان میں رام، سی آئی اے اور را مل کر منشیات سے اپنے فنڈز بناتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ تینوں ایجنسیاں جانتی ہیں کہ احمد ولی کرزئی منشیات کا کتنا بڑا اسمگلر ہے لیکن اسے حامد کرزئی کا بھائی ہونے کا فائدہ دیا جارہا ہے یہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور دیانت ہے۔

اگر اس بات کا تجزیہ کیا جائے کہ را کے پاکستان کے خلاف عزائم کیا ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے اس کا پہلا مقصد تو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے تاکہ پاکستان ترقی کی دوڑ میں سب سے پیچھے رہے۔ دوسرا مقصد جسے را کبھی پورا نہ کر سکے گا﴿انشاﺀ اللہ﴾ وہ ہے پاکستان کے خدانخواستہ ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور اسی مقصد کے لئے اس نے بلوچستان میں سی آئی اے کی مدد کا فیصلہ کیا جسکی نظر وہاں کے ان قیمتی معدنی ذخائر اور توانائی کے پوشیدہ ذرائع پر ہے جسے وہ برس ہا برس تک استعمال کر سکتا ہے۔ ایک اور بڑا مقصد را کی کاروائیوں کا یہ ہے کہ کسی طرح پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کر لیا جائے جو بھارت کا علاقے کی سپر پاور بننے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔1998 میں بھارت نے جب ایٹمی دھماکے کئے تو بزعم خود اس کا خیال تھا کہ اب وہ پاکستان اور ارد گرد کے دوسرے ممالک کو ہضم کر جائے گا یا طفیلی ممالک بنا دے گا۔ لیکن جب جواب میں پاکستان نے دھماکے کئے تو اس کا یہ خواب چکنا چور ہو گیا اور نہ صرف یہ کہ پاکستان ہندو جنونیت سے محفوظ ہوگیا بلکہ دوسرے ملک بھی اس کی دست برد سے بچ گئے۔

آجکل بھارت اور را ایک اور کام بڑی جانفشانی سے کر رہے ہیں اور وہ ہے ہمارے عسکری اداروں اور آئی ایس آئی کے خلاف زبردست پروپیگنڈا مہم یعنی دنیا میں ہونے والے ہر ناخوشگوار واقعے میں آئی ایس آئی کا ہاتھ ثابت کرنا اور یوں افواج پاکستان کو دہشت گرد ثابت کرنا اور ملک کے اندر اور باہر فوج کو بدنام کرنا۔ را نہ صرف یہ کہ مختلف علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرتا ہے بلکہ دیگر مختلف واقعات میں بھی ملوث رہتا ہے۔ کبھی اپنے ملک میں کبھی دوسرے ملک میں جیسے ممبئی بھی را کا ہی رچایا ہوا ڈرامہ تھا اور اسی طرز پر ایک ڈرامہ اس نے لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملے کی صورت میں رچایا۔ مناواں پولیس ٹریننگ سنٹر، میریٹ، پی سی پشاور اور ایسے دیگر واقعات میں را ملوث رہا۔ ڈیرہ بگٹی سے پکڑے جانے والے ایک دہشت گرد نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں بھارتی سپورٹ حاصل ہے۔

خفیہ ایجنسیاں جب اپنے ملکی مفادات کا تحفظ کریں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن جب دوسرے ملکوں کے معاملات میں مداخلت کریں تو یقیناً دہشت گرد بن جاتی ہیں اور بجا طور پر تخریبی ایجنسیاں کہلانے کی مستحق ہو جاتی ہیں۔ را ایسی ہی ایک تخریبی ایجنسی ہے جو اپنے لیڈروں کی خواہشات اور تصورات کے عین مطابق کام کرتی ہے۔ جواہر لال نہرو کوٹلیہ چانکیہ کا بہت بڑا مداح تھا اور اسکے جانشینوں نے انہی ظالمانہ اصولوں کو بنیاد بنا کر را کی بنیاد رکھی اور اسے دوسروں کے لئے وبال جان بنا دیا۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اس کی مکاریوں اور عیاریوں سے باخبر رہے تو ان کی کامیابی کے امکانات خود بخود ختم ہوتے جائیں گے۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
11 Oct, 2010 Total Views: 4137 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Naghma Habib

Read More Articles by Naghma Habib: 415 Articles with 218356 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ بلوچستان میں پاکستان نے انڈیا کا جاسوس کلبھوشن رنگے ہاتھوں پکڑا لیکن ابھی تک بھارت کو دہشت گرد ثابت نہیں کیا جاسکا جبکہ ممبئی حملہ کو بھارت کے اپنے افسروں نے خودساختہ قرار دے دیا ہے لیکن اس بنیاد پر وہ پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ہمارے ساتھ اب دو (۲) ویٹو ممالک چین اور روس ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اقوام متحدہ میں بھارت کو ابھی تک عالمی دہشت گرد ملک ثابت نہیں کر پاےؑ۔ ہماری خارجہ پالیسی میں اور وزارت خارجہ میں جو بھی کمزوریا ں ہیں وہ فی الفور دور کرنی چاہئے۔
By: عاصم لطیف, Lahore on Mar, 06 2018
Reply Reply
0 Like
اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ پاکستان کے حالات خراب کرنے میں بھارت کا ہاتھ ہے
By: Javed Iqbal, Karachi on Dec, 30 2010
Reply Reply
0 Like
اسلام علیکم محترمہ نغمہ حبیب صاحبہ آپ نے سو فی صد ٹھیک لکھا ہے را کا ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان میں گڑ بڑ پھیلایا جائے اور را کے ہی تربیت یافتہ لوگوں یہ کام کرا رہا ہے اور مزید یہ کہ را کی پشت پناہی موساد سی آئ اےاور افغان ایجنسیاں کر رہی ہے
By: Zahid Hussain Abid, Lahore, Pakistan on Dec, 20 2010
Reply Reply
0 Like
را انٹیلیجنس ایجنسی نہیں بلکہ ایک دہشتگرد تنظیم ہے جس نے جنوبی ایشیا کا امن تباہ کیا ہوا ہے اور اس کے پشت پر امریکہ اور موساد کا ہاتھ ہے
By: Anawar Hussain, Meran Shah on Dec, 11 2010
Reply Reply
0 Like
Great article....At this critical juncture in the history of Pakistan we need more writers like Naghma Habib who could bring a strong sense of awareness and unity in the general masses in order to cope with the internal as well as external threats to the national security of Pakistan.
By: waqar, lahore on Dec, 08 2010
Reply Reply
0 Like
read out good efforts..
By: syed sher shah, peshawar on Dec, 08 2010
Reply Reply
0 Like
its aN eye opening article , which is very much close to reality. an excelleNt research work . keep it up and find some time to write such topics . very very good.we as pakistanis rather than supporting these authors , why do we unnecessarily criticise.
By: arslan, rawalpindi on Nov, 29 2010
Reply Reply
0 Like
قارئین! آپ سب کا بہت شکریہ جنہوں نے میرے خیالات اور میری تحقیق سے اتفاق یا اختلاف کیا ۔ اختلاف سے مجھے آپ کے خیالات جاننے کا موقع ملا ۔ نوشکی سے میرے بھائی گور جین بلوچ صاحب نے اگرچہ بہت سخت الفاظ استعمال کیئے ہیں تاہم یہ ان کی اپنی رائے ہے جس کی مجھے سمجھ نا آسکی کہ انہوں نے مجھے ، پاک فوج کو یا پاکستانی عوام کو امریکہ کے ٹکڑوں پر پلنے والے کہا ہے۔ کیونکہ ہم میں سے کوئی بھی اس رائے پر پورا نہیں اترتا کیونکہ میں خود تو امریکہ کی سخت ناقد ہوں اور یہی حال باقی دو کا بھی ہے۔ مجھے عینی شاہدوں نے بتایا کہ انہوں نے غیر پختون طالبان کی لاشیں دیکھی ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ انتہائی غریب لوگ ایک دم سے پوری ذاتی فوج کو تنخواہ اور گاڑیاں دینے کے قابل کیسے ہو گئے ؟ ظاہر ہے پیسہ انہیں باہر سے مل رہا ہے اور مسلسل مل رہا ہے۔بلوچستان میں میرے بہت سارے جاننے والے ہیں جن کو میں نے اتنا ہی محب وطن پایا جتنی میں خود ہوں لیکن بلوچستان میں " را "کی مداخلت کے بارے میں تو اب کوئی شبہ بھی نہیں ہے آپ کو انٹرنیٹ پر بھی کچھ ایسے ایجنٹوں کے بیانات مل جائیں گے جنہوں نے بلوچستان میں گڑبڑ پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ ان ظالم لوگوں سے ہوشیار ضرور رہیے یہ ہمارے ملک اور قومی یکجہتی کے دشمن ہیں۔
By: Naghma Habib, Nowshera on Nov, 14 2010
Reply Reply
0 Like
WELL DONE , PLESASE WRITE MORE ARTILES ON THE CURRENT SITUATION OF PAKISTAN, AND SPECIALLY BALOCHISTAN PROVINCE. MORE AND MORE COMMON PEOPLE WILL COME TO KNOW ABOUT THE REALITY OF PAKISTAN AND SPECIALLY BALOCHISTAN
By: SYED TAUSEEF HAIDER, MSUCAT, OMAN on Nov, 09 2010
Reply Reply
0 Like
A fine article covering all aspects of any foreign country's wrong intentions to dent a particular neighbor. We should seek and find the ways and means to block and void such like attempts through public awareness from the very basic level that is our young generation who will hold the Pakistan's affairs. Please look into this aspect as a experienced writer. Thanks
By: zafar Masood, Nowshera. KPK on Oct, 27 2010
Reply Reply
0 Like
بہت اچھا اور حقیقت کی بالکل صحیح عکاسی ہے۔ آپ نے جو جواہر لال نہرو کی بات کی وہ بلکل صحیح ہے۔ ہندو زہنئیت پاکستان کے وجود کو ایک مضبوط قوم کے طور پر برداشت کرنے کو باکل تیار نہیں۔ مگر ہمارے حکمران اور ایجنسیاں کیا بھاڑ جھونک رہے ہیں انکو سازشوں کے ممبا کو پکڑنے میں کیا امر مانع ہے۔ آپ یقین کریں کہ مجھے اس ملک کے سیاست دانوں میں بھی جانے حب لاوطنی کا فقدان نظر آتا ہے۔
By: Mehmood Khan, Karachi on Oct, 26 2010
Reply Reply
0 Like
A good article.
By: Humayun, Islamabad on Oct, 23 2010
Reply Reply
0 Like
You have highlighted the facts "well done"
By: Farhan, Karachi on Oct, 21 2010
Reply Reply
1 Like
A fine article with the touch of information relating to history of Hindo mentality. We need to dig out more and fine tune the events to magnify and under stand the mechanics and chain of using our own people against us. Regards
By: zafar Masood, Nowshera. KPK on Oct, 21 2010
Reply Reply
0 Like
I really appreciate the efforts of Mrs Naghma Sahba for very correctly analyzing the prevailing situation and focusing on the Indian designs in the region.
By: Malik Nadeem akhtar, Islamabad on Oct, 19 2010
Reply Reply
0 Like
You Are Absolutly Right.keep it up.
By: sheraz, Athens on Oct, 16 2010
Reply Reply
0 Like
پاکستان زندہ باد

پاکستان زندہ باد

پاکستان زندہ باد

پاکستان زندہ باد
By: Habib Ullah Khan, Swat on Oct, 16 2010
Reply Reply
0 Like
زبر دست مضمون ہے، یہ وہ ظالم لوگ ہیں جو غیر ملکی ایجنسیوں سے پیسہ لے کر پاکستان میں قتل وغارت کر رہے ہیں اور فساد پھیلا رہے ہیں۔ لیکن غیر ملکی ایجنسیاں اتنی منظّم ہیں کہ شاید ان کو بھی پتہ نہیں کہ یہ کن لوگوں کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں۔ دراصل یہ وہ لوگ ہیں جنہیں معاشی سپورٹ چاہیئے۔ حتیٰ کہ ان کے نام نہاد لیڈر بھی کم مالی حیثیت کے لوگ تھے۔ بات تو یہ بھی باعث حیرت ہے کہ آخر ان کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے برس پڑا کہ انہوں نے اپنی تنخواہ دار فوج بھی رکھ لی۔ ظاہر ہے کہ یہ سب غیر ملکی ایجنسیوں کا کیا دھرا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کی حفاظت کرے۔پاکستان زندہ باد
By: Sameea Zeb, Quetta on Oct, 16 2010
Reply Reply
0 Like
امریکہ کے ٹکڑوں پے پلنے والے جب دوسروں کو امریکہ کے ایجنٹ کئے تو یہ بات انہیں زیب نہیں دیتی۔
آپ ہی اپنی اداؤں پے زرا غور کرئے
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
By: Gorgain Baloch, Nushki on Oct, 15 2010
Reply Reply
0 Like
Naghma Saheba, You have painted a true picture of the situation in Pakistan, all these people are foreign funded mostly form RAW, CIA and MOSSAD, they can not justify their source of income where as they are spending in billions for creating disturbance. Wonderful article and Pakistan Zindabad
By: Shaheer Ullah Khan, Pakistan on Oct, 14 2010
Reply Reply
0 Like
Displaying results 1-20 (of 24)
Page:1 - 2First « Back · Next » Last
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB