انٹر آرٹس کے پوزیشن ہولڈرز سے دلچسپ سوال و جواب

 

آج ہمارے معاشرے میں آرٹس کے مضامین کے حوالے سے ایک سوچ جو تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے وہ یہ ہے کہ ان مضامین کو پڑھ کر حصولِ زر کے معاملے میں تیزی اور ترقی حاصل نہیں کی جاسکتی اور یہی وجہ ہے کہ ان مضامین کا انتخاب کرنے والے طلبا کی تعداد میں روز بروز کمی واقع ہوتی جارہی ہے- لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی آرٹس کے مضامین انسان کو زندگی گزارنے کا سلیقہ اور قرینہ سکھاتے ہیں اور ساتھ ہی اسے اپنی تاریخ اور ادب سے واقفیت بھی فراہم کرتے ہیں- اس لیے آرٹس کے مضامین کو کسی طور بھی دوسرے مضامین کے مقابلے میں کم درجہ نہیں تصور کیا جاسکتا- گزشتہ روز کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ نے آرٹس ریگولر گروپ کے سالانہ امتحانات برائے 2017 کے نتائج کا اعلان کیا- اس موقع پر پوزیشن ہولڈر طلبا کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا-ان امتحانات میں ٹاپ تھری پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا کو بالترتیب 30 ہزار٬ 20 ہزار اور 10 ہزار روپے کے انعامی چیک سے بھی نوازا گیا- ان نتائج میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا سے ہماری ویب نے خصوصی بات چیت کی جنہوں نے تمام انتشار٬ افتراق٬ لسانیت اور فرقہ بندیوں کو بھلا کر صرف کتاب سے رشتہ جوڑا اور کامیابیاں سمیٹیں-

سب سے پہلے ہم بات کریں گے انٹر آرٹس ریگولر گروپ کے سالانہ امتحانات برائے 2017 میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی خوش نصیب طالبہ حریم صدیقی سے- حریم نے ان امتحانات میں 1100 میں سے 940 نمبر حاصل کیے-

ہماری ویب: کالج کا نام؟
حریم صدیقی= اقراﺀ حفاظ گرلز کالج-
 


ہماری ویب: پوزیشن حاصل کرنے پر کیا احساسات ہیں؟
حریم صدیقی= اچھا محسوس کر رہی ہوں اور اﷲ کا شکر ادا کر رہی ہوں کہ اس نے ہمیں اپنے فضل سے نوازا-

ہماری ویب: کالج روزانہ جاتی تھیں؟
حریم صدیقی= جی ہاں روزانہ جاتی تھی-

ہماری ویب: کوچنگ بھی جوائن کیا؟
حریم صدیقی= جی اس کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ کالج کے اساتذہ ہی بہت محنت سے پڑھاتے تھے-

ہماری ویب: آپ نے آرٹس کا انتخاب کیا٬ اس کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
حریم صدیقی= عالمہ بننے کا شوق تھا٬ دین ہمارا مقصد ہے جبکہ دنیا ہماری ضرورت- عالمہ کے ساتھ صرف آرٹس کا ہی انتخاب کیا جاسکتا ہے-

ہماری ویب: آپ کا پسندیدہ مضمون کونسا تھا؟ اور ناپسندیدہ کونسا؟
حریم صدیقی= میرا پسندیدہ مضمون عربی تھا جبکہ ناپسندیدہ کوئی بھی نہیں-

ہماری ویب: آپ کی نظر میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
حریم صدیقی= پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اتحاد کی کمی ہے- لوگ مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں- تمام لوگ یکجا ہوجائیں اور وطن کی خدمت کریں- ملک و قوم کی ترقی کا انحصار اتحاد میں ہے-

ہماری ویب: آپ کیا سمجھتی ہیں کہ لڑکیوں کو اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کس طرح کرنا چاہیے؟
حریم صدیقی= بہترین تعلیم حاصل کر کے بھی لڑکیاں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرسکتی ہیں-

ہماری ویب: آپ انٹرنیٹ کے استعمال کو طالبعلموں کے لیے کیسا سمجھتی ہیں؟
حریم صدیقی= اس کے منفی اور مثبت دونوں ہی اثرات ہیں لیکن منفی اثرات زیادہ ہے-

ہماری ویب: کوئی ایسی خاص بات٬ جو تعلیم میں کامیابی کے حوالے سے دوسرے طلبا کو کیا پیغام دیں گی؟
حریم صدیقی= کامیابی کے لیے محنت شرط ہے- اور علم حاصل کرنے کے لیے ادب نہایت ضروری ہے-

اب ہم بات کریں گے سیکنڈ پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ رمشا محسن سے- رمشا نے ان امتحانات میں 1100 میں سے 939 نمبر حاصل کی اور اس پوزیشن کی حقدار ٹھہریں-

ہماری ویب: کالج کا نام؟
رمشا محسن= بی اے ایم پی ای سی ایچ ایس گورنمنٹ گرلز کالج-
 


ہماری ویب: پوزیشن حاصل کرنے پر کیا احساسات ہیں؟
رمشا محسن= بہت خوش ہوں اور اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے٬ سب کی دعائیں میرے ساتھ تھیں-

ہماری ویب: کوچنگ بھی جوائن کیا؟
رمشا محسن= میں نے کوچنگ جوائن نہیں کیا-

ہماری ویب: آپ نے آرٹس کا انتخاب کیا٬ اس کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
رمشا محسن= میری دلچسپی اسلامی مضامین کی جانب تھی اسی لیے آرٹس کا انتخاب کیا-

ہماری ویب: کوئی ایسے عوامل جو پڑھائی میں رکاوٹ کا باعث بنے؟
رمشا محسن= لوڈشیڈنگ اور رمضان المبارک میں امتحانات کے انعقاد نے کسی حد تک پڑھائی کو ضرور متاثر کیا-

ہماری ویب: لڑکیوں کم از کم کتنی تعلیم ضرور حاصل کرنی چاہیے؟
رمشا محسن= لڑکیوں کو کم سے کم انٹر تک تو ضرور تعلیم حاصل کرنی چاہیے-

ہماری ویب: نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں کا کتنا عمل دخل ہونا چاہیے؟
رمشا محسن= طلبا کو چاہیے کہ دونوں چیزوں کو ایک ساتھ لے کر چلیں- نصابی سرگرمیوں کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی ضرور حصہ لیں-

ہماری ویب: آپ آئندہ زندگی میں کیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں؟
رمشا محسن= میں آئندہ بھی اسلامی مضامین کا ہی انتخاب کروں گی-

آخر میں ہم بات کریں گے تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ ربکہ انعام سے جنہوں نے 1100 میں سے 921 نمبر حاصل کیے-

ہماری ویب: کالج کا نام؟
ربکہ انعام= اقراﺀ حفاظ ڈگری کالج-
 


ہماری ویب: پوزیشن حاصل کرنے پر کیا احساسات ہیں؟
ربکہ انعام= بہت اچھا محسوس کر رہی ہوں اور اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے اس اعزاز سے نوازا ورنہ میں اس قابل نہیں تھی-

ہماری ویب: کالج روزانہ جاتی تھیں؟
ربکہ انعام= جی ہاں روزانہ جاتی تھی-

ہماری ویب: کوچنگ بھی جوائن کیا؟
ربکہ انعام= نہیں کوچنگ جوائن نہیں کیا-

ہماری ویب: آپ کا پسندیدہ مضمون کونسا تھا؟ اور ناپسندیدہ کونسا؟
ربکہ انعام= میرا پسندیدہ مضمون اردو تھا جبکہ ناپسند تو کوئی بھی مضمون نہیں تھا-

ہماری ویب: کوئی ایسے عوامل جو پڑھائی میں رکاوٹ کا باعث بنے؟
ربکہ انعام= میری اپنی محنت کم تھی اور توجہ بھی ورنہ میں اس سے بھی اچھی پوزیشن حاصل کرسکتی تھی-

ہماری ویب: آپ انٹرنیٹ کے استعمال کو طالبعلموں کے لیے کیسا سمجھتی ہیں؟
ربکہ انعام= میں اچھا نہیں سمجھتی کیونکہ اس کا فائدہ کم ہے اور نقصان زیادہ-

ہماری ویب: لڑکیوں کم از کم کتنی تعلیم ضرور حاصل کرنی چاہیے؟
ربکہ انعام= تعلیم جتنی بھی ہو لڑکیوں کو اپنی ذمہ داریوں اور اپنے فرائض کا علم ضرور ہونا چاہیے اور ساتھ ہی اپنے بارے میں آگہی بھی-
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
01 Nov, 2017 Total Views: 2222 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
congratulations to all candidates and position holders.
By: zai,, karachi, on Jan, 07 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Hamariweb conducted special interviews of Position holders students of Inter Arts Group of Board of Intermediate Education Karachi (BIEK) 2017. Hareem Siddiqui, Rimsha Mohsin and Rabka Inam are the brilliant students as first, second and third position respectively. Position holders share their feeling on success, about their teachers, education system, parents and their time table.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB