کیا ٹیکنالوجی ہمیں کند ذہن بنا رہی ہے؟

(Shadab Abbasi, Karachi)

آئن اسٹائن نے کہا تھا کہ ’’ ٹیکنالوجی انسان کو احمق بنا دے گی‘‘ پچھلے چند برسوں میں بڑھتی ٹیکنالوجی کا استعمال اپنے عروج کو پہنچ چکا ہے۔ٹیکنالوجی کو ہم سادہ زبان میں فنیات کا نام دے سکتے ہیں ٹیکنالوجی یا فنیات لفظ اپنے اندر وسیع معنی سمیٹے ہوئے ہے یعنی نوع انسان کا تعلق اس لفظ سے تب سے جڑا ہے جب اس نے قدرتی اسباب اور وسیلوں کو سادہ اوزاروں میں بدلنا سیکھا۔ زمانہ قبل میں انسان کا آگ لگانے کے طریقے کو ایجاد کرنا اور کسی وزنی چیز کو کسی گول پتھر کے زریعے سرکانہ ٹیکنالوجی کی ابتدائی مثالیں ہیں۔

آج کے دور میں نئی ٹیکنالوجیز کی ایجاد میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔جہاں بڑھتی ٹیکنالوجی آگے جا رہی ہے وہیں انسان کا فی پیچھے رہ گیا ہے جن کی وجہ سے دنیا کی شکل اور انسانوں کے نظریات بالکل بدل چکے ہیں ۔ اگر دیکھا جائے تو انسان نے تمام جدید ٹیکنالوجیز کو اپنی بھلائی کے لئے ہی ایجاد کیا مگر! اس کی کوشش میں چند ٹیکنالوجیز ایسی بھی ایجاد ہو گئیں جو پوری دنیا کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ پوری انسانیت کو مٹانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں ۔ بالکل اسی طرح ہر چھوٹی بڑی چیز میں نئی نئی ٹیکنالوجیز کا استعمال بہت عام ہو گیا ہے۔اور آج کا انسان ان ٹیکنالوجیز کا اس قدر عادی ہو گیا ہے کہ اسے اس کے بغیر زندگی کا تصور عجیب سا لگتا ہے۔

آج کے بچے اسمارٹ فونز، موبائل ، انٹر نیٹ اور ٹیکنالوجی کے دور میں پیدا ہوئے،1990کے بعد جو نسل پیدا ہوئی ہے وہ اس ٹیکنالوجی کی پیداوار ہے۔ جس نے انہیں سوچنے سے عاری کردیا ہے بل گیٹس کا کہنا ھے’’کمپیوٹر کا درست استعمال دنیا بھر میں 20 فیصد ہے۔ ‘‘اسٹیفن ہاگنگ کہتا ہے کہ ’’کمپیوٹر احمقوں کا ڈبہ ہے، اس کا اپنا دماغ کیڑے کے برابر نہیں، اس میں انسان ہی کا دماغ ہے، جو فیڈ کرے گا وہی فیڈ بیک ملے گا۔‘‘ چین کو دیکھیں یا کوریا پر نظر دوڑائیں تو وہ ترقی یافتہ صف میں کھڑے ہیں۔ پاکستان انسانی یا ٹیکنالوجیکل ترقی میں کہیں نہیں کھڑا، بس عام نسان ہی متاثر ہوتا نظر آتا ہے۔

ٹیکنالوجی کے اس دور میں انسان کہی پیچھے رہ گیا ہے، انسان کی بنیادی ضرورتیں روٹی، کپڑا، مکان کے بجائے ٹیکنالوجی کی ایڈوانئسمنٹ (فروغ) پر زور دیا جا رہا ھے، پاکستان ایٹمی طاقت رکھتا ھے لیکن پھر بھی یہاں غربت اس قدر ھے کہ ملک کی آدھی آبادی پسماندہ اور مسائل سے دوچار ھے، جنہیں بنیادی ضرورت ِزندگی بھی میسرنہیں، اور اب بھی ہماری توجہ کا محور عوام نہیں بلکہ میٹرو ٹرینز اور موٹرویز ہیں-

ضرورت اس امر کی ہے کہ بڑھتی ٹیکنالوجیز کے ساتھ ساتھ انسان اپنی محنت، لگن، صحت، مسائل اور وسائل کو مدِ نظر رکھے ، تاکہ دنیا کے کسی بھی حصے میں کامیاب انسان اپنا ایک اہم کردار ادا کرتے ہوئے معاشرے،ملک وقوم کو فائدہ پہنچا سکے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
20 Nov, 2017 Total Views: 965 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Shadab Abbasi

Read More Articles by Shadab Abbasi: 2 Articles with 1222 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Agreed with this post. Amazingly written by shadab abbasi 👍👍
By: Ayesha Abbasi, abbottabad on Dec, 12 2017
Reply Reply
1 Like
I m agree with shadab abbasi.it is right 100 %
By: Rehan ashiq, Rihyad on Dec, 11 2017
Reply Reply
6 Like
ديد کا يه بهی اک انداز نيا ....
By: رضوی, کراچی on Nov, 20 2017
Reply Reply
1 Like
buhat alaa
By: arbab , karachi on Nov, 20 2017
Reply Reply
2 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB