متنازعہ ایجاد: ایمسٹرڈم میں ’خودکشی کی مشین‘ کی عوامی نمائش

ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈم میں گزشتہ ویک اینڈ پر ایک ایسی متنازعہ ایجاد کی پہلی بار عوامی نمائش کی گئی، جو ایک ایسی مشین ہے، جس کے ذریعے اپنی زندگی سے تنگ آیا ہوا کوئی بھی انسان محض ایک بٹن دبا کر خود کشی کر سکتا ہے۔
 

image


ایمسٹرڈم سے پیر سولہ اپریل کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس مشین کی نمائش اسی ڈچ شہر میں منعقدہ ایک ’جنازہ شو‘ میں ہفتہ چودہ اپریل کو کی گئی اور اسے دیکھنے والے عام شائقین نے بہت بڑی تعداد میں اس میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

اس مشین کا نام ’سارکو‘ ہے، جو انگریزی زبان کے لفظ ’سارکوفیگس‘ کا مخفف ہے اور جس کا مطلب تابوت ہوتا ہے۔ تھری دی پرنٹنگ کی مدد سے تیار کی گئی اس مشین کو آسٹریلیا کے ایک شہری اور قتلِ رحم کے ایک بہت بڑے حامی فیلپ نیچکے نے ڈچ ڈیزائنر الیکسانڈر بانِنک کی مدد سے تیار کیا ہے اور اس کے ساتھ ایک ایسا تابوت بھی لگا ہے، جسے بوقت ضرورت اس مشین سے علیحدہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

’سارکو‘ ایک ایسی مشین ہے، جس کے ساتھ لگے ہوئے اسٹینڈ پر نائٹروجن گیس کا ایک سلنڈر نصب ہوتا ہے اور خود کشی کا فیصلہ کر لینے والا کوئی بھی انسان اس کے اندر بیٹھ کر محض ایک بٹن دبا کر چند ہی لمحوں میں اپنی زندگی کا خاتمہ کر سکتا ہے۔
 

image


آسٹریلیا کے فیلپ نیچکے، جو قتلِ رحم کو قانونی قرار دینے کے لیے اپنی برسوں پر محیط کوششوں کی وجہ سے عرف عام میں ’ڈاکٹر ڈیتھ‘ بھی کہلاتے ہیں، کہتے ہیں، ’’جو کوئی بھی خود موت کو گلے لگانا چاہے، اسے اس مشین کے اندر بیٹھ کر صرف ایک بٹن دبانا ہوتا ہے، جس کے بعد یہ کیپسول نما مشین نائٹروجن گیس سے بھر جاتی ہے۔ اس گیس کی وجہ سے پہلے تو مشین کے اندر بیٹھا ہوا انسان کچھ غنودگی محسوس کرتا ہے، پھر وہ جلد ہی بے ہوش ہو جاتا ہے اور یوں بغیر کسی تکلیف کے اسی بے ہوشی کی حالت میں کچھ ہی دیر میں اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ ‘‘

’ڈاکٹر ڈیٹھ‘ نے اس بارے میں اے ایف پی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا، ’’سارکو ایک ایسی مشین ہے، جس کی مدد سے کسی بھی انسان کے لیے، جو اپنی خوشی سے مرنا چاہتا ہو، بڑی پرسکون موت بہت آسان ہو جاتی ہے۔‘‘

ایمسٹرڈم میں ’بہت متنازعہ’ قرار دی جانے والی اس مشین کی نمائش اس کے ایک ایسے ماڈل کے طور پر کی گئی، جس کے ساتھ ورچوئل ریئلیٹی والی عینکیں بھی لگی ہوئی تھیں۔ عام شائقین تقریباﹰ حقیقی حالات میں لیکن ورچوئل سطح پر یہ محسوس کر سکتے تھے کہ اس مشین میں بیٹھ کر خود کشی کیسے کی جا سکتی ہے۔
 

image

فیلپ نیچکے کے بقول وہ ایسی پہلی اور مکمل طور پر کام کر سکنے والی مشین اس سال کے آخر تک بنا لینے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کے بعد اس کا ڈیزائن انٹرنیٹ پر بھی ریلیز کر دیا جائے گا، تاکہ جو کوئی بھی اس طرح خود کشی کرنا چاہے، وہ اگر پسند کرے تو اپنے لیے خود اپنے ہی گھر پر ایسی مشین خود بھی تیار کر سکے۔

اس مشین کے ڈچ ڈیزائنر الیکسانڈر بانِنک کا کہنا ہے کہ اگر آپ کے پاس اس مشین کا ڈیزائن موجود ہو، تو اسے تیار کرنے کے لیے صرف ایک تھری ڈی پرنٹر کی ضرورت ہوگی۔


Partner Content: DW

YOU MAY ALSO LIKE:

A controversial suicide pod that enables its occupant to kill themselves at the press of a button went on display at an Amsterdam funeral show on Saturday. Called the “Sarco”, short for sarcophagus, the 3D-printed machine invented by Australian euthanasia activist Philip Nitschke and Dutch designer Alexander Bannink comes with a detachable coffin, mounted on a stand that contains a nitrogen canister.