افف یہ مہنگائی کا رونا

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: انیلہ افضال، لاہور
ہائے ہائے! رمضان آتے ہی قیمتوں کو گویا پر لگ جاتے ہیں۔اﷲ اﷲ! یہ ہم مسلمان ہیں؟ رمضان شروع ہوتے ہی مسلمانی ختم ہو جاتی ہے ہماری۔خدا کا خوف ہی نہیں رہا، مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ باہر کے ملکوں میں جب کوئی تہوار آتا ہے تو لوگ چیزوں کی قیمتیں گھٹا دیتے ہیں کہ چلو غریب غربا بھی تہوار منا لیں اور ایک ہم ہیں مسلمان! رمضان ہو یا عید بقر عید اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کر دیتے ہیں اور دوکاندار کی ڈھٹائی تو دیکھو ، ’’باجی کیا ہم نے عید نہیں کمانی‘‘ توبہ استغفار! ارے بھائی غریبوں کا تو کچھ خیال کرو۔
یہ وہ مکالمے ہیں جو ہم ہر رمضان کے آغاز سے لے کر عید کے اختتام تک سنتے ہیں اور نا صرف سنتے ہیں کہ کئی تو سر بھی دھنتے ہیں۔ مگر بازاروں میں رش کبھی بھی کم نہیں ہوتا۔ کل کسی کام کے سلسلے میں رات دس بجے کے قریب گھر سے باہر جانا پڑا تو محو حیرت ہوں کہ ’’دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی‘‘ کے مصداق انگلیاں دانتوں میں داب لیں۔ تمام مارکیٹیں کھلی ہوئی تھیں اور رش اتنا کہ الامان والحفیظ۔

کپڑوں اور جوتوں کی دکانیں ہوں تو چلو کچھ سمجھ بھی آتی ہے کہ بھئی مذہبی تہوار آرہا ہے ۔ عید ہے بھائی ، عید کی تیاری بھی تو کرنی ہے۔ مگر میرے بھائی! ایک طرف برتنوں کی دکانیں ہیں تو دوسری طرف الیکٹرانکس کی اور تو اور ہارڈ وئیر کی دوکانیں بھی گاہکوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہیں۔ افطاری کے بعد ہوٹل ، ڈھابے اور ریستوران بھی لوگوں سے پر ہیں یعنی لوگ کھانے کے بعد کھانا کھانے آئے ہوئے ہیں اور تو اور آلو چھولے کی ریڑھیاں، بریانی کے اسٹال ،برگر اور شوارمے والے، غرض کوئی فارغ نا تھا ، دھڑا دھڑ گاہکوں کو بھگتا رہے تھے۔

یہ تو خیر افطاری کے بعد کا حال ہے، افطاری سے پہلے بھی کچھ کمی نہیں رہتی ۔ پکوڑے سموسے، فروٹ چاٹ اور دہی بڑے کے اسٹالز پر لوگوں کا ہجوم اس قدر ہوتا ہے کہ گویا یہ اشیاء یہاں بک نہیں رہیں ، بٹ رہی ہیں۔
ایک دلسوز خاتون کو مہنگائی کے نام پر آٹھ آٹھ آنسو روتے دیکھا ہے ’’ اے بہن! پچھلے سال ٹماٹروں نے کمر توڑ دی تھی اور اس سال چکن اسی ٹوٹی کمر پر چڑھ کر ناچ رہا ہے‘‘ بات دل کو لگی کہ حقیقت بھی یہی تھی ہمدردی کرتے ہوئے جو پوچھا کہ آج کھانے میں کیا بنایا ہے بہن؟ تو بولیں ’’چکن کڑاہی‘‘ ڈھیر سارے ٹماٹر ڈال کر بنائی ہے ، بچے شوق سے کھاتے ہیں نا!

تو جناب ہم اپنی ذات کے دائرے میں رہتے ہیں، ہمیں اپنے پیٹ سے آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ مہنگائی ہمارا کیا بگاڑ لے گی؟ اور مہنگائی ہے کہاں؟ ہر چیز ہماری پہنچ میں ہے، ہمارے بجٹ میں ہے۔ جبھی تو دکانیں اور بازار لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں۔ پکوڑوں سے لے کر ائیر کنڈیشنر تک ہر چیز خریدی جارہی ہے کیونکہ خریدی جا سکتی ہے۔ مہنگائی کا رونا تو ہم بطور فیشن کے روتے ہیں۔ اس لیے مہنگائی کا رونا ضرور رویے مگر استعمال میں کنجوسی نہیں تو فضول خرچی سے بھی بچیں۔

عید کی آمد ہے شاپنگ کے دوران یوں لگ رہا ہے کہ جیسے سب نے آج ہی پورا بازار خرید کر گھر لے جانا ہے تو جناب خیال سے، مہنگائی بہت ہے۔ اپنے پڑوسی کا بھی خیال رکھ لیں۔ کوئی بات نہیں مہنگائی بہت ہے تو جہاں 10ہزار کا اپنا سوٹ بنوایا ہے 12سو کا اپنی سامنے والی بہن کا بھی بنوا کر بھیجوا دیں۔ اگرچے مہنگائی بہت مگر یہ عمل آپ کے لیے اجر عظیم ثابت ہوگا۔ یاد رکھیں، رمضان میں اجر عظیم بھی بہت ہے۔
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
13 Jun, 2018 Total Views: 54 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 601 Articles with 142146 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB