عید کی خوشی

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: ام کلثوم، لاڑکانہ
احمد آج بہت اداس تھا کیونکہ اس کے سب سے پیارے دوست وقاص نے عید کے لیے نئے کپڑے نہیں بنوائے تھے ۔ احمد وقاص کو ایسے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔اس نے سوچا کہ وہ گھر جا کر ابو سے بات کرے گا۔ گھر جا کر وہ اپنے ابو کا انتظار کرنے لگا۔ اﷲ اﷲ کر کہ ابو بھی آگئے۔ احمد بھاگ کر ان کے پاس گیا ۔ سلام کر کے ان کے فریش ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ ’’ابو جی ! کب سے آپ کا انتظار کر رہا تھا‘‘۔ابو کے بیٹھتے ہی احمد بولا۔
ارے! بیٹا سب خیریت تو ہے۔ جی ابو سب خیریت ہی ہے۔ آپ نے مجھے وہ حدیث سنائی تھی نہ جس کا مطلب یہ تھا کہ ’’مومن ایک جسم کی طرح ہوتے ہیں اگر اس کے سر میں درد ہوتا ہے تو پورے جسم میں درد ہوتا ہے اگر اس کی آنکھ میں درد ہوتا ہے تو اس کے پورے جسم میں درد ہوتا ہے‘‘،احمد جلدی جلدی بولا۔ جی بیٹا سنائی تھی۔ پر اب کیا ہوا؟ احمد کے ابو نے پوچھا۔

’’ابو جی میرا دوست ہے نہ وقاص، آپ کو پتا ہے نہ وہ بہت غریب ہے، آج سب لوگ نئے کپڑوں کی باتیں کر رہے تھے اور وہ کونے میں اداس بیٹھا تھا، اور اس کو اداس دیکھ کہ میں بھی اداس ہو گیا‘‘ احمد نے رونی صورت بنا کر کہا۔

’’ اچھا جی اس وجہ سے میرا مومن بچہ اداس ہے‘‘، ابو جی نے کہا۔’’ جی ابو ۔ عید تو خوشی کا نام ہے نا جب سب خوش ہوں گے تب مزہ آئے گا ۔میں نئے کپڑے پہن کر جاؤں گا اور وقاص اداس ہوگا تو کتنا برا لگے ۔

احمد کی معصومانہ باتیں سن کر ابو کو احمد پر بہت پیار آیا۔ انہوں نے کہا ’’اچھا جی تو اب ہمیں وقاص کو خوش کرنا ہے۔ ہممم! چلو ٹھیک ہے ہم رات کے کھانے کے بعد وقاص کے لیے عید کے کپڑے لے کر آئیں گے۔ اب خوش؟ ابو جی نے پیار سے احمد کو کہا۔ سچ۔۔ احمد کے مارے خوشی کے اچھل پڑا۔

رات کو احمد اپنے ابو کے ساتھ مارکیٹ سے وقاص کے لیے کپڑے خرید کر لے آیا۔ صبح ہوتے ہی احمد نے امی کے ساتھ وقاص کے گھر کا رخ کیا۔ جیسے ہی احمد وقاص کے گھر پہنچا۔۔ وقاص اپنی ماما سے کہہ رہا تھا کہ مجھے کپڑے نہیں ملیں گے تو میں گھر سے باہر نہیں نکلوں گا۔ وقاص کی ماما نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولیں، بیٹا اﷲ ہے نا، وہ ہماری ضرورت کو پورا کرے گا۔

احمد یہ سب باتیں دروازے کے پاس ہی سن لی تھیں۔ احمد نے دروازہ کھٹکھٹایا تو وقاص نے دروازہ کھولا۔ جیسے ہی وقاص نے کپڑے دیکھے خوش سی احمد کو گلے لگالیا۔ وقاص کی امی اپنی آنکھوں میں آنسو چھپا نہ پائی، اﷲ نے اس کی دعا قبول کی تھی۔

ادھر احمد کو ایسے لگا جیسے اس بار اس کی عید حقیقی عید ہے۔ ابو نہ کہا تھا، عید کا مطلب ہوتا خوشی اور آج احمد بہت خوش تھا۔
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
13 Jun, 2018 Total Views: 177 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 601 Articles with 142147 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB