دنیا کے 10 گنجان آباد شہر٬ کراچی اور سال 2030 حیران کن؟

 

ہر سال 11 جولائی کو اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی آبادی کا دن منایا جاتا ہے اور اس دن آبادی کے مسائل کے حوالے سے آگہی پیدا کی جاتی ہے- دنیا بھر میں آبادی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے- اسی مناسبت سے ہم یہاں دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے شہروں کا ذکر کر رہے ہیں- ان شہروں کی سال 2030 کی آبادی کے حوالے سے بھی آپ کو یہاں بتایا جائے گا-
 

New York-Newark
امریکی شہر نیویارک کی آبادی سال 2016 میں 1 کروڑ 86 لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل تھی اور اندازہ ہے کہ سال 2030 تک یہ آبادی 1 کروڑ 99 لاکھ افراد تک جا پہنچے گی- سب سے زیادہ گنجان آباد شہروں میں نیویارک 10 ویں نمبر پر ہے-


Cairo
سال 2016 کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت مصر کے شہر قاہرہ کی 1 کروڑ 91 لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ سال 2030 تک 2 کروڑ 45 لاکھ سے زائد افراد تک جا پہنچے گی- قاہرہ کو اس فہرست میں نواں نمبر حاصل ہے-


Osaka
جاپانی شہر اوساکا دنیا کا آٹھواں سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے - سال 2016 کے اعداد و شمار کے مطابق اس شہر کی آبادی تقریباً 2 کروڑ 4 لاکھ افراد پر مشتمل ہے جبکہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ سال 2030 تک یہاں بسنے والے افراد کی تعداد کم ہو کر 1 کروڑ 99 لاکھ رہ جائے گی- اس کمی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں-


Mexico City
دنیا کا ساتواں گنجان آباد شہر میکسیکو ملک کا شہر میکسیکو ہے جس کی آبادی 2 کروڑ 11 لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل ہے- یہ اعداد و شمار بھی سال 2016 کے ہیں جبکہ سال 2030 تک یہاں کی آبادی 2 کروڑ 38 لاکھ سے زائد افراد تک پہنچ سکتی ہے-


Beijing
سال 2016 کے اعداد و شمار کے مطابق چین کے شہر بیجنگ کی آبادی 2 کروڑ 12 لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل ہے اور یہ اس وقت دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے- سال 2030 تک اس شہر کی آبادی 2 کروڑ 77 لاکھ افراد سے تجاوز کرسکتی ہے-


São Paulo
فہرست پانچویں نمبر پر موجود برازیل کے شہر ساؤ پولو کی آبادی سال 2016 کے اعداد و شمار کے مطابق 2 کروڑ 13 لاکھ افراد پر مشتمل ہے جبکہ سال 2030 تک یہ آبادی 2 کروڑ 34 لاکھ سے زائد افراد تک جا پہنچے گی-


Mumbai
دنیا کا چوتھا سب سے زیادہ آبادی والا شہر بھارت کا شہر ممبئی ہے اور سال 2016 کے اعداد و شمار کے مطابق اس شہر کی آبادی 2 کروڑ 14 لاکھ افراد پر مشتمل ہے- ماہرین کا کہنا ہے کہ سال 2030 تک لوگوں کی یہ تعداد 2 کروڑ 78 لاکھ تک بھی پہنچ سکتی ہے-


Shanghai
سال 2016 میں چین کے شہر شنگھائی کی آبادی تقریباً 2 کروڑ 45 لاکھ افراد پر مشتمل تھی اور اسی مناسبت سے یہ دنیا تیسرا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے- سال 2030 تک یہاں کی آبادی 3 کروڑ سے زائد افراد تک پہنچ سکتی ہے-


Delhi
دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا شہر بھارت کا شہر دہلی ہے- سال 2016 کے اعداد و شمار کے مطابق اس شہر کی آبادی 2 کروڑ 64 لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل ہے جبکہ سال 2030 تک 3 کروڑ 60 لاکھ سے بھی تجاوز کرسکتی ہے-


Tokyo
دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہونے کا اعزاز جاپان کے شہر ٹوکیو کے پاس ہے- پہلے نمبر پر آنے والے اس شہر کی آبادی سال 2016 کے اعداد و شمار کے مطابق 3 کروڑ 81 لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل ہے جبکہ سال 2030 میں یہ آبادی 3 کروڑ 71 لاکھ پر مشتمل ہوگی- یعنی اس شہر کی آبادی میں بھی کمی واقع ہوسکتی ہے-


Karachi
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور یہ سال 2016 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کا 12واں سب سے زیادہ آبادی والا شہر بھی ہے- سال 2016 کے اعداد و شمار کے مطابق اس شہر کی آبادی 1 کروڑ 71 لاکھ افراد سے زائد پر مشتمل تھی جو کہ سال 2030 تک بڑھ کر 2 کروڑ 48 لاکھ افراد تک پہنچ سکتی ہے-

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
11 Jul, 2018 Total Views: 5687 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
United Nations World Population Day, observed on July 11 annually, seeks to raise awareness about population issues worldwide. With population levels across the world growing at alarming rates, we look at 31 megacities (defined as cities with populations of 10 million or more) listed in the United Nations World's Cities in 2016 report.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB