سوتیلی ماں یا بیٹی

(Khawaja Mussadiq Rafiq, Karachi)

گلی میں پھیری والے کی صدا جیسے ہی سنائی دی محلے کے بچے شور مچاتے ہوئے گھروں سے نکلے اور پھیری والے کی طرف لپکے..زیادہ تعداد 12,10سال کے بچیوں کی تھی..
چھلے, جھمکے, چوڑیاں,پراندے..جن پہ لڑکیاں ٹوٹ ٹوٹ پڑ رہی تھیں..
وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اور بھی زور و شور سے برتن رگڑ رگڑ کر دھونے لگی شاید گلی سے آنے والی قلقاریوں کو سنی ان سنی کرنے کیلیے..آنکھوں سے آنسو گالوں پہ آنے لگے جسے وہ اپنی میلی آستین سے صاف کرتی جاتی تھی..اس کا بہت دل چاہتا کہ کاش وہ بھی کبھی ان بچوں کے ساتھ شامل ہوکر پھیری والے سے جھمکے اور چھلے خریدے..وہ بے آواز روئے اور سوچی جارہی تھی..
وہ تین سال کی تھی جب اس کی ماں مرگئی تھی..ماں کی محبت اور ممتا تو اس نے دیکھی ہی نہیں..کچھ عرصے بعد والد نے دوسری شادی کی..سوتیلی ماں کو پہلے دن سے اس ننھی معصوم لڑکی سے خدا واسطے کا بیر تھا..حالانکہ سات سال ہونے کو آئے تھے مگر اس کی اپنی گود بھی خالی ہی تھی کوئی بچہ نہیں تھا..
بات بات پر اسے ڈانٹتی اور زودوکوب کرتی..سارے گھر کا کام اس سے لیتی..والد صبح کا نکلا شام کو آتا اسے پتہ ہی نہیں تھا کہ اس کی بیٹی کے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے.ان تمام باتوں نے اسے چھوٹی عمر سے ہی خاموش,الگ تھلگ اور باقی بچیوں سے مختلف بنادیا تھا..پتہ نہیں سوتیلی ماں اس سے کس بات کا بدلہ لے رہی تھی..
اس دن وہ صحن میں جھاڑو لگارہی تھی ماں اندر کمرے میں آرام فرمارہی تھی کہ اچانک پرانے زمانے کی مٹی اور گارے سے بنی چھت زمیں بوس ہوگئی..اس نے جھاڑو پھینکا دیوانہ وار بھاگتی ہوئی گردوعبار میں گھس کر ماں کو ڈھونڈنے کے لیۓ اپنے چھوٹے چھوٹے کمزور ہاتھوں سے مٹی ہٹانے لگ گئی..ایک جگہ سے اسے ماں کی چنری نظر آگئی وہ جلدی جلدی مٹی ہٹانے لگی تو ماں کا خون آلود چہرہ نظر آنے لگا..ماں کی کراہیں سن کر اس کے ننھے ہاتھ اور بھی تیزی سے چلنے لگے..ماں کے زخمی وجود کو زور لگا کر باہر کھینچا..پتہ نہیں اس وقت اس کے اندر اتنی طاقت کہاں سے آگئی تھی..باہر بھاگ کر مٹکے سے پانی کا گلاس بھرکر لائی..ماں کا سر گود میں رکھ کر پانی پلانے لگی..ساتھ میں روتی بھی جارہی تھی اور ماں کی پیشانی سے اپنے دوپٹے سے خون بھی صاف کرتی رہی..اتنے میں پاس پڑوس سے لوگ پہنچ گئے..ماں کو ہسپتال لے گئے..جہاں سے وہ پیشانی پہ پٹی اور ایک ہاتھ پہ پلستر چڑھا کرگھر آگئی......
اگلی صبح پھیری والا آیا تو یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ آج اس گھر سے بھی ایک بھولی بھالی خوبصورت لڑکی نکلی اور بہت ساری چیزوں کی خریداری کرنے لگی اس کے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی..
پیچھے دروازے میں ایک عورت کا پرشفقت چہرہ نظر آرہا تھا جس کی پیشانی پہ پٹی بندھی ہوئی تھی اور ایک بازو پہ پلستر چڑھا ہوا تھا..!!

(فیس بک پوسٹ)

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
13 Sep, 2018 Total Views: 1826 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB