موسا پولا کے بالشتیے

(Rafi Abbasi, Karachi)

مختصر جسامت والے بونے، شکار کے شوقین ہوتے ہیں، شتر مرغ کی کمر پر بیٹھ کر ہاتھی کا شکار کرتے ہیں دلہنوں کی خوب صورتی میں اضافےکے لیے ، اگلے دانت ریتی سے گھس کر نوکیلے بنائے جاتے ہیں اور جس لڑکی کے دانت جتنے نوکیلے ہوتے ہیں وہ اتنی ہی حسین ہوتی ہے

بونے یا مختصر قامت کے لوگ ساری دنیا میں موجود ہیں جنہیں بونے (dwarfs people)کہا جاتا ہے۔ چین اور جاپان میں یہ ملکی آبادی کا بڑا حصہ ہیں لیکن پاکستان اور بھارت میں بھی ان کا وجود پایا جاتا ہے۔ سائنسی ترقی اور کمپیوٹرٹیکنالوجی کی آمد سے قبل عوام کی تفریح کے لیے ہر علاقے میں سرکس لگتے جن میں بونوں کے کرتب بھی دکھائے جاتے تھے۔ بچے چھوٹے قد کے لوگوں کے بڑے کارنامے دیکھ کر خوف زدہ ہوجاتے تھے جب کہ بڑے ان کے کرتبوں سے محظوظ ہوتے تھے۔ آج بھی اکثر فلموں میں مختصر قامت کے لوگوں کے لیے کردارمخصوص کیے جاتے ہیں۔
 


 لیکن افریقہ میں انہیں بالشتیہ (pygmy)کا خطاب دیا گیا ہے۔ بالشتیوں کا ذکر قصے کہانیوں میں سنا تھا جن کی جسامت ایک بالشت سے زیادہ نہیں ہوتی تھی لیکن افریقہ کے بونوں کی قامت تین فٹ سے کسی طرح بھی کم نہیں ہے لیکن نہ جانے کیوں ان کے بارے اتنی بے رحمانہ اصطلاح رائج کی گئی ہے۔ وسطی افریقہ میں زانگا سنگھا کےاستوائی خطے میں انتہائی گھنے جنگلات ہیں جہاں بلند و بالا درخت ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہوتے ہیں کہ جن کی وجہ سے سورج کی روشنی کا گزر نہیں ہوتا، اس لیے یہاں دن کے اوقات میں بھی گہری تاریکی چھائی رہتی ہے۔ یہ جنگل ایک ہزار سات سو میل کے رقبے میں پھیلا ہوا ہے ، اسی میں درختوں کے جھنڈ میں موسا پولا نامی گاؤں واقع ہے جہاں دنیا کے انتہائی مختصر الوجود انسانوں کی جھونپڑیاں بنی ہوئی ہیں ۔ بونوں کی یہ رہائش گاہیں درختوں کے پتوں، لکڑی اور مٹی کے گارے سے بنائی جاتی ہیں اور ایک ہی جھونپڑی میں کئی خاندان شہد کی مکھی کے چھتے کی طرح رہتے ہیں۔ ان کی جنگلی زندگی اتحاد ، یکجہتی اور بھائی چارے کے عملی مظاہرے پر مبنی ہے۔ یہ جنگل خوں خوار درندوں، چوپایوں اور دیگر چرند پرند کا مسکن ہے لیکن اس کے علاوہ یہ دنیا بھر میں مشہور مختصر الوجود انسانوں کی جنہیں بالشتیے کہا جاتا ہے، جائے پیدائش اور رہائشی علاقہ بھی یہی ہے۔ یہ جنگلی جانوروں اور درندوں کے درمیان بے خوف زندگی گزارتے ہیں۔ جھونپڑیوں کے باہر گھنے درختوں کے جھنڈ میں ان کے بچے ٹولیوں کی شکل میں کھیلتے کودتے نظر آتے ہیں جب کہ مرد اور عورتیں اپنے روزمرہ کے معمولات میں مصروف رہتے ہیں۔
 


یہ جنگل براعظم افریقہ کا سب سے بڑا شکاری علاقہ ہے جہاں دنیا بھر سے شکاری حضرات اپنے لاؤ لشکر اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہوکر شکار کی غرض سے آتے ہیں اور جنگلی حیات کا قتل عام کرتے ہیں۔ گھنے جنگلات میں رہنمائی کے لیے وہ افریقی بونوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں جن کی گزر اوقات کا ذریعہ ہی شکار کیے ہوئے گوشت پر ہے۔ لیکن ان کے شکار کا طریقہ کار شہروں سے آئے ہوئے شکاریوں سےجداگانہ ہوتا ہے۔ان کے پاس نہ تو آتشیں ہتھیار ہوتے ہیں اور نہ ہی جیپیں اور مچان بنانے کا سامان۔ وہ بانس اور شہتیروں سے بنائے گئے نوکیلے تیروں اور نیزوں کو زہر میں بجھا کر جتھوں کی صورت میں جنگل کے اندر دور تک پھیل جاتے ہیں اور جانوروں کو گھیر کر ان کا شکار کرتے ہیں، بعد میں یہ شکار کا گوشت آپس مل بانٹ کر کھاتے ہیں۔ بعض بونے شتر مرغ کی کمر پر سوار ہوکر ہاتھی جیسے عظیم الجثہ جانور کو اپنے نیزوں اور تیروں سے مار گراتے ہیں۔موسا پولا قبیلے کے بونے بونے شکار کے دیوانے ہیں اور چھوٹے ہرن بارہ سنگھے کا شکار ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ یہ انہیں پکڑنے کے لیے جال لگاتے ہیں ، یہ جال انگور کی بیلوں سے بنائے جاتے ہیں۔ پھر شور و غل مچا کر جانوروں کو ہانک کر مذکورہ جال تک پہنچاتے ہیں۔ جب یہ ان کے شکار، مذکورہ جال میں پھنس جاتے ہیں تو انہیں نکال کر ذبح کرکے ان کے ٹکڑے کرکے آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں۔ یہ جنگل میں بہت اندر جا کر اس کی گہرائی میں اتر جاتے ہیں۔ وہاں گھنے درختوں کے سبب ہر طرف تاریکی ہوتی ہے لیکن یہ بونے زبردست قسم کے کھوجی بھی ہیں۔ الجھی ہوئی بیلوں، گھنی جھاڑیوں، گھاس پھونس اور کیچڑ میں بآسانی اپنا راستہ بناتے ہوئے دور تک نکل جاتے ہیں۔ یہ قدموں کے نشانات اور مخصوص بو سے شناخت کرلیتے ہیں کہ اس علاقے سے کچھ دیر قبل کون سا جانور گزرا ہے۔ جو بونا سب سے زیادہ ماہر اور تجربہ کار شکاری اور کھوجی ثابت ہوتا ہے، اس گاؤں کے تمام افراد اسے سردار بنا کر ، اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ جال کے ذریعے جانوروں کا شکار آسان نہیں ہوتا کیوں کہ چھوٹے ہرن اور دوسرے جانور جب شکاریوں کے شور کی آوازیں سنتے ہیں تو فوراً جھاڑیوں اور درختوں کی آڑ میں چھپ جاتے ہیں۔ شکاری انھیں خوف زدہ کرنے کے لیے خوب شور مچاتے اور انھیں جال کی طرف بھاگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ جب کوئی جانور جال میں پھنس جاتا ہے تو یہ ان کے لیے جشن کا سماں ہوتا ہے اور وہ خوب اچھلتے کودتے اور ناچتے گاتے ہیں۔

یہ بونے جو ہزاروں برس سے براعظم افریقا کے جنگلات کے مالک سمجھے جاتے تھے آ رہے ہیں، اب ان کی نسل معدومیت کے خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔ افریقہ کے ان پستہ قامت شکاریوں کی تعداد صرف ایک لاکھ نفوس پر مشتمل رہ گئی ہے۔ افریقہ کے تاریک براعظم میں شہری زندگی غالب آتی جارہی ہے، جنگلات کا خاتمہ کرکے ان پر کنکریٹ کے بلند وبالا پلازہ تعمیر کیے جارہے ہیں جب کہ زیادہ تر رقبے کو سبززاروں (Savannas)میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ صرف جنگل کا یہی علاقہ باقی بچا ہے لیکن انھیں اپنے پڑوسیوں کی طرف سے بھی خطرات لاحق ہیں۔ اس علاقے میں شہری زندگی کے بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور گاؤں کے لوگ پڑوسی علاقوں میں بارٹر سسٹم کے تحت زرعی اشیاء کی تجارت کرتے ہیں۔موساپولا گاؤں میں طبی سہولتیں نایاب ہیں جس کی وجہ سے گلہڑ سمیت کئی معتدی بیماریاں عام ہیں جن کی وجہ سے ہر پانچ بچوں میں سے ایک نومولود بچہ ایک سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔اس گاؤں میں مچھروں کی بہتات اور پینے کے صاف پانی کی نایابی کی وجہ سے ملیریا ، اسہال اور دیگر امراض کا بھی سامنا ہے۔ اس گاؤں کے باشندوں کا معیار زندگی انتہائی غیر انسانی ماحول پر مبنی ہے لیکن وہ اس زندگی کے عادی ہیں۔ شکار کے علاوہ ان کی گزر اوقات کا ذریعہ کاشت کاری بھی ہے ۔ برسات کے دنوں میں جنگلی جانور اپنی کمیں گاہوں میں پناہ لیتے ہیں، اس وقت انہیں وافر مقدار میں شکار کے مواقع میسر ہوتے ہیں لیکن موسا پولا کے باشندے اس دوران زمین نرم ہونے کی وجہ سے فصلیں اگانے میں مصروف ہوتے ہیں۔ چار سو سال قبل خوردنی تیل کے کچھ پودے برازیل سے افریقا میں لائے گئے تھے، جن کی مذکورہ جنگلات میں بڑے پیمانے پرکاشت کی جاتی ہے۔ یہ بونے جنگل سے باہر بانٹو نسل کے کسانوں سے مال کے بدلے مال کے طریقے پر تجارت کرتے ہیں۔ برازیلین تیل ، سبزیا، گوشت ، کھمبیوں اور شہدکے بدلے یہ ان سےاناج، کپڑے اور دیگر اشیائے ضرورت لیتے ہیں۔ بانٹو قبائل ان کے مقابلے میں طویل القامت ہیں۔ جب صدیوں قبل موساپولا قبائل کے لوگ پہلی مرتبہ ان کے پاس آئے تو بانٹو لوگوں کو انہیں دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ افریقہ کے جنگلات میں اتنی چھوٹی مخلوق بھی رہتی ہے، طویل عرصے تک بانٹوکا زمینں دار طبقہ ان بونوں کو اپنا موروثی غلام سمجھتا رہا۔ان سے جانوروں کی طرح مشقت لی جاتی تھی جب کہ انہیں نہ تو وافر مقدارمیں کھانے پینے کے لیے خوراک دی جاتی تھی اور نہ ہی کسی قسم کی اجرت دی جاتی تھی۔ ان کے درمیان تعصب کی دیوار اب تک کھڑی ہے۔ مغرور اور اونچے دماغ والے بانٹو بونوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔بعد میں ان کے آپس میں کاروباری رشتے استوار ہوئے۔ انہوں نے ان بونوں کو مکمل طور سے بے ضرر ، شرمیلا اور اپنے خول میں بند رہنے والا پایا۔ بونوں کے لیے مذکورہ قبائل کے پاس موجود اشیاء انوکھی اور دل چسپی کا سامان رکھتی ہیں جن میں لوہے اور دیگر دھاتوں سے بنے ہوئے تیر، نیزے، خنجر،کھانا پکانے کے برتن شامل ہیں۔ موساپولا لوگ ان چیزوں کے حصول کے لیے جنگل کی رہائش ترک کرکے بانٹو قبائل کے غلاموں کی حیثیت سے کام کرتے ہیں ، ان کے مویشیوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، کھیتوں میں ہل چلاتے اور کئی ماہ کی محنت مشقت اور اپتےعزیز و اقارب سے دور رہنے کے بعد انہیں بہ طور اجرت مذکورہ اشیاء دی جاتی ہیں۔ صدیوں تک بانٹو زمین دار ان بونوں کو اپنے موروثی زرعی غلام سمجھتے رہے۔ وہ آج بھی متعصبانہ ذہنیت کے مالک ہیں اور ان بونوں کے ساتھ تحقیر آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں۔ بالشتیے کی اصطلاح انہی کے ذہن کی اختراع ہے جو بعد میں ساری دنیا میں معروف ہوگئی۔
 


ان میں قدیم رسم و رواج رائج ہیں خاص طور سے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کرنے کے لیے ایک میلے کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں موساپولا گاؤں کے تمام لوگ جمع ہوکر ناچ رنگ کی محفل کا انعقاد کرتے ہیں، گیت گائے جاتے ہیں۔اس موقع پر یہاں حقیقتاً جنگل میں منگل کا سماں ہوتا ہے۔ گھنے درختوں کے جھنڈ میں مٹی کے دئیے اورچراغوں کی ٹمٹاتی روشنی میں ان کا وحشیانہ رقص ایک آسیب زدہ ماحول پیش کرتا ہے۔ موسیقی کے پروگرام ختم ہونے کے بعد، مرد و خواتین اپنی زندگی کے ساتھیوں کا چناؤ کرتے ہیں، جس کے بعد شادی کی تاریخیں طے کی جاتی ہیں۔ شادی کے موقع پر تمام قبیلے کی دعوت کی جاتی ہے، دلہنوں کی خوب صورتی میں اضافےکے لیے ، ان کے اگلے دانت ریتی سے گھس کر نوکیلے بنائے جاتے ہیں اور جس لڑکی کے دانت جتنے نوکیلے ہوتے ہیں وہ حسن کے مطلوبہ معیار کے مطابق اتنی ہی حسین تصور کی جاتی ہے۔ موسا پولا قبائل کے لوگ اپنے آباء اجداد کے مذہب پر سختی سے کاربند ہیں اور اپنے تئیں ایک عظیم ہستی کے سامنے سر بہ سجود ہوکر عبادت کرتے ہیں۔ وہ جنگلوں میں بھٹکنے والی ’’موکنڈی‘‘ یعنی مقدس ارواح پر بھی یقین رکھتے ہیں اور ان سے خائف رہتے ہیں۔۔ ان میں سب سے طاقتور موکونڈی ’’ایجنگی‘‘ ہے۔ یہ مخصوص راتوں میں اس جنگل میں نازل ہوتی ہے۔ جب اس کے نزول کا وقت ہوتا ہے ، تو ہرطرف سکوت طاری ہوجاتا ہے۔ سوخاموشی چھا جاتی ہے۔ سب لوگ نیم دائرہ بنا کر چپ چاپ کھڑے ہو کر جنگل کی طرف نظریں جمائے رہتے ہیں۔ پھر درجن بھر بونے ایک ایسی مخلوق کو اپنے درمیان لیے جنگل سے نمودار ہوتے ہیں جو سرتاپا لمبے لمبے تنکوں کے پیراہن میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس کے جسمانی خدوخال اور اعضا نہیں ہوتے۔ یہی ’’ایجنگی‘‘ ہے۔ اس کے نمودار ہوتے ہی سب لوگ خوف ہ ہراس کے علام میں وہاں سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔لیکن اسے لے کر آنے والے بونے انہیں آواز دے کر روکتے ہیں اور انہیں مذکورہ ’’موکنڈی‘‘ کے سامنے سجدہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ’’ایجنگی‘‘ اپنے منہ سے کچھ نہیں بولتی۔ اس کے ہمراہ آنے والے بونے، اس کی طرف سے ترجمانی کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ وہ سب اسے لے کر جنگل سے باہر ایک کھلے میدان میں آجاتے ہیں جہاں پہنچ کر ’’ایجنگی‘‘ ناچنے کودنے لگتی ہے۔ ساتھ ہی ڈھول بجنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ڈھولوں کی تھاپ میں تیزی آنے کے ساتھ ایجنگی کا رقص بھی وحشیانہ ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ تمام بونے بھی ہیجانی انداز میں ناچنے لگتے ہیں۔ یہ رقص ساری رات جاری رہتا ہے۔ صبح ہوتے ہی ’’ایجنگی‘‘ اپنے ہمراہ آنے والے افراد کے ساتھ جنگل میں غائب ہو جاتی ہے۔مذکورہ بونے جب ان جنگلات سے نکل کر باہر کی دنیا کا رخ کرتے ہیں تو انہیں نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انہیں عجیب و غریب مخلوق سمجھ کر ان سے غیر انسانی اور بے رحمانہ سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ ان سے جانوروں کی طرح مشقت لی جاتی ہے لیکن ان کی محنت کا خاطر خواہ معاوضہ نہیں ملتا۔ اسی وجہ سے بونے جنگل کی زندگی ترک کرنے کو تیار نہیں لیکن شہری ماحول نے ان کی زندگی میں بھی خاطر خواہ تیدیلیاں پیدا کی ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو حصول علم کے لیے اسکول بھیجنا پسند کرتے ہیں۔ اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی نئی نسل کو قدیم اور جدید ماحول میں زندگی گزارنے کے اسرار رموز سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔۔بچوں کی تعلیم زیادہ تر پرائمری کی سطح تک ہی محدود رہتی ہے۔ چند ایک ہی ثانوی اسکولوں میں پہنچتے ہیں۔ موساپولا سے تیس میل کے فاصلے پر موناسائو کے علاقے میں ایک کیتھولک مشن میں ایک ہزار کے قریب بونے ، بانٹو قبائل کی پابندیوں سے آزاد رہ مونگ پھلی اور دیگر نقد آور اجناس کی کاشت کاری میں مصروف ہیں۔ اس محنت کے بدلے انھیں اشیائے ضرورت دینے کے ساتھ ہی مسیحیت قبول کرنے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے ، لیکن اپنے آباؤ اجداد کے قدیم مذہب کو خیرباد کہنا ان کے لیے ناممکن امر ہے۔

افریقہ کے ان بالشتیوں کی شہرت سن کرکئی سائنسی تحقیق کے اداروں نے مذکورہ گاؤں کے نزدیک اپنی تجربہ گاہیں بناکر یہاں کے باشندوں کی کوتاہ قامتی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیق کی ۔ ن بونوں کے بچے دس بارہ سال کی عمر تک نارمل قد وقامت کے ہوتے ہیں۔ پھر ان کے قد نہیں بڑھ پاتے۔سائنس دان اب تک نہیں جان سکے کہ ان کی بڑھوتری ایک ہی سطح پر رکنے کا راز کیا ہے؟ بعض محققین کی رائے ہے کہ ان جسمانی نشونما رکنے کا سبب ہزاروں برس سے جنگلوں کی رہائش اختیار کرنے میں ہے، جہاں گھنے جنگلات کے سبب سورج کی روشنی کا گزر نہیں ہوتا جس کی وجہ سے انہیں الٹراوائیلٹ شعاؤں کے ذریعے جسمانی ضرورت پوری کرنے کے لیے کیلشئیم اور وٹامن ڈی نہیں مل پاتا۔ یہ درست ہے جنگلات کے باسی پستہ قد ہی ہوا کرتے ہیں مگر ان بونوں جیسے نہیں… ایک اوسط بونے کا قد چار فٹ تک ہوتا ہے۔ جبکہ عورت اس سے ڈیڑھ فٹ چھوٹی ہوتی ہے۔

 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
09 Oct, 2018 Total Views: 3390 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Pygmies are the world's best-known nationality of dwarfs. At the same time, they are also one of the most primitive types. They are hunters and gatherers, which means that they don't grow anything. Pygmies live in primitive huts made of leaves and sticks.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB