Society and Culture Articles

Society and Culture Articles - Culture is the sum of socially transmitted actions patterns, arts, beliefs, institutions, and all other products of human effort and thought. Learn about diverse culture.. Read more

Society and Culture Articles - Culture is the sum of socially transmitted actions patterns, arts, beliefs, institutions, and all other products of human effort and thought. Learn about diverse cultures of the different societies. Get complete information about lots of cultures exists in our World.

LATEST REVIEWS

پانی
Good effort 💞
By: Kainat Latif, Narowal on Jul, 16 2018

The culture practice of Vani/Swara
Wow, very profound work my sir , 100% work whatever struggle u need to extirpate and decimate this social evil from society i (ur friend) will do utmost struggle in your favour......
And expect more from u to delivere for society...
By: Tufail ahmad, battagram on Jul, 14 2018

پانی
Bht acha likha ha lakin Pakistan ma sirf water problem ni ha wasa,electricity,gas or b bht sari problems hain .
Vote kis k haq ma diya hain to sary crupt chahy PTI ka koi ho ya PMLN ka.
Ap jis ko apni demand btay ga wo apsy bht wady krain ga k ham ye krway ga wo krway ga lakin jab ap usy vote da do ga us k bd usny apki koi problem ni hal krni.
Hamari main parties e ghalat hain jinhy bolna hi ni ata Imran Khan ko Bolny ki tameez ni direct galiyan deta ha PMLN ko Or PMLN waly hain jo khty hain k Nawaz Sharif Ka istaqbal Hajj Sa Bhtar ha asy logo par to lanat ha jinhy apny deen ka hi ni pta.
Sari Parties ko support krny sa bhtr ha k ap chief of supreme court ko support kro ku k us na mulaq k bht halat change kr diye hain or jis pani ka ap kh rhy ho us k liye b kala bagh dame bnany ki manzori da di ha or kam start ho gya ha .
By: Mian Ali, Lahore on Jul, 14 2018

پانی
Keep it up Larki 👍👍👍
My all support with 😎
By: SHEHZAD, Lahore on Jul, 14 2018

پانی
Kamal😍😍
By: Areeba naveed, Lahore on Jul, 13 2018

پانی
Very well written!
Much needed awareness!
We all need to understand the importance of our Vote.
Our vote matters for our future generation!
And we need to take stand for them.
By: Hania , Lahore on Jul, 13 2018

نور لا الہ سے
نقل کفر، کفر نہ باشد۔
یہ دیس جگمگائے گا نور لاالہ سے.... یہ شہر جگمگائے گا نور لا الہ سے ایک کفریہ جملہ ہے لا الہ کا مطلب ہے کہ کوئ رب نہیں۔ جبکہ ہماراعقیدہ ہے کہ کوئ رب نہیں اللہ کی سوا۔
By: Farhan, karachi on Jul, 12 2018

ہمارے اعمال اور ظالم حکمران
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آمین، آپ کے اس تجزیہ کو صدیوں پہلے ایک امام نے کچھ اسطرح تحریر کیا، اس کا عربی ترجمہ:

حاکم اور محکوم

امام ابن القیم رحمہ اللہ (المتوفی 751ھ) نے اپنی کتاب میں ایک مضمون کی صورت میں تحریر فرمایا، یہ اقتباس میری نظر میں ایک شہکار ہے جو حاکم اور محکوم (عوام) کے متعلق ہے، اسکا اردو ترجمہ و مفہوم مندرجہ ذیل ہے، بریکٹ کے الفاظ میں نے اسکو صحیح سمجھنے کے لیے ڈالے ہیں:

محکوم (عوام، جن پر حکومت کی جاۓ) کے اعمال کی حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے ان اعمال سے جو ان کے حکام کرتے ہیں، اور یہ خداداد حکمت ہے (یعنی جیسا عمل محکوم (عوام) کا ہوگا ویسا ہی عمل حکام کا ہوگا) اگر وہ (محکوم اور عوام) دیانتدار رہیں، تو ان کے بادشاہ دیانتدار رہیں گے، اور اگر وہ ہٹ جائیں گے (دیانتداری سے)، تو وہ (بادشاہ) بھی ہٹ جائیں گے دیانتداری سے. اور اگر وہ (عوام) ظلم کریں گے (اپنے اپر اور دوسروں پر) تو ان کے بادشاہ اور حکام ان پر (عوام پر) ظلم کریں گے، اور اگر ایسا لگے کے کہ وہ (عوام) سازش اور دغا بازی کریں گے، تو ان کے حکام بھی (عوام کے ساتھ) ایسا طرز عمل کریں گے اور اگر عوام اللہ کے حقوق پامال کریں گے جو ان کے مابین ہیں اور کنجوس اور بخیل ہو جائیں گے (ایک دوسرے کے حقوق میں) تو پھر ان کے بادشاہ اور حکام ان کے حقوق روک لیں گے جیسے وہ (عوام) ایک دوسرے پر بخیل ہوگۓ اور ایک دوسرے کے حقوق روک لیے. اور اگر وہ (عوام) لیں گے اس سے جو کمزور گردانا جاتا ہے، وہ جو اس سے لینے کے حق دار نہیں اپنے کاروبار میں (یعنی کاروبار یا لین دین میں خورد برد کریں گے)، تو پھر ان کے بادشاہ (حکام) ان سے لیں گے وہ جو وہ (حکام) ان سے لینے کے حقدار نہیں اور لاگو کریں گے تکلیف دینے والا محصول (ٹیکس). اور ہر وہ چیز جو انہوں نے (عوام نے) کمزور سے لی تو بادشاہ (حکام) ان سے بزور طاقت لیں گے.

تو ان کے اعمال (عوام کے اعمال) ان میں ظاہر ہوتے ہیں (یعنی بادشاہ اور حکام کے اعمال میں) .اور یہ حکمت خداداد نہیں کہ برے اعمال اور گناہ گاروں پر حکومت ہو (کسی کی) مگر ان (حکام کی) جو ویسے ہی ہیں (مراد یہ ہے کیونکہ عوام میں برائ چھوٹے پیمانے پر موجود ہے اس لیے ان کے حکام بھی ویسے ہیں ورنہ اللہ کی خواہش نہیں کہ برے لوگ ہی حکام بنیں) واللہ اعلم.

اور جب سب سے پہلا گروہ (اسلام کی) بہترین نسل میں تھا، اور سب سے تقوی دار، تو اس کے حکام بھی ویسے ہی تھے. اور جب وہ آلودہ ہوگۓ (بد اخلاق، اسلام سے دور) تو ان کے حکام بھی ویسے ہی ہوگۓ. تو نتیجہ میں، الله کی حکمت نے اس بات کا انکار کیا کہ معاویه رضی الله عنه اور عمر بن عبدالعزیز رحمه الله جیسے حکام ہم پر آئیں (آٹھویں صدی ہجری میں) کجا کہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی الله عنھما جیسے حکام.

بلکہ ہمارے حکام ہماری (فطرت کے) مطابق ھیں اور ہم سے پہلے حکام اسی طرح تھے جس طرح وہ لوگ (یعنی جیسے پہلے لوگوں کی فطرت)

(حوالہ: مفتاح دار السعادۃ ،دار ابن عفان پبلیشینگ، جلد 2 صفحہ 177)

اگر چہ یہ اقتباس ابن القیم رحمہ اللہ نے 8ویں صدی ہجری کے حوالہ سے تحریر فرمایا مگر یہ اقوال آج کی 14ویں صدی میں بھی ثابت آتے ہیں، اللہ ھمیں ان کو سمجھنے اور ھم عوام کو شریعت کی طرف بدلنے کی توفیق عطا فرماۓ، آمین

عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ حاکم صحیح ہو گا تو عوام صحیح ہوگی، یہ غلط ہے، بلکہ صحیح تو یہ کہ جیسا کہ ابن القیم رحمہ اللہ نے بھی فرمایا کہ جیسی عوام ہوگی تو ویسے حکام ہوں گے اور اللہ نے فرمایا، مفہوم:

"حقیقت یہ ہے کہ اللہ نہیں بدلتا حالت کسی قوم کی جب تک کہ (نہ) بدلے وہ ان (اوصاف) کو جو اس میں ہیں.."
(سورۃ الرعد:11)
By: Manhaj As salaf, Peshawar on Jul, 10 2018

ہمارے اعمال اور ظالم حکمران
بلکل درست فرمایا آپ نے۔۔
By: Rabi, Varanasi on Jun, 30 2018

پاکستان: کچھ پرانی تصویریں اور یادیں
Its really nice to see such unique pictures
By: Roshni Tariq, Lahore on Jun, 30 2018

MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB